This is an automatically generated PDF version of the online resource pakistan.mom-rsf.org/en/ retrieved on 2019/12/05 at 22:42
Reporters Without Borders (RSF) & Freedom Network - all rights reserved, published under Creative Commons Attribution-NoDerivatives 4.0 International License.
Freedom Network LOGO
Reporters without borders

ملکیت کی ساخت

پاکستانی نیوز میڈیا کئی طریقوں سے روایتی سوچ سمجھ کے مطابق نہیں چلتا۔ سمجھنے کے لیے مندرجہ ذیل پر غور فرمائیں: حکومت اس ملک کے ہزاروں میڈیا مالکان میں سے واحد ہے تاہم  نجی نیوز ذرائع اکثر حکومت سے ان کی پالسیوں کے بارے میں بغیر خوف و خطر پوچھنے سے کتراتے ہیں۔ ملک میں کافی اخبارات، ٹیلی ویثرن اور ریڈیو سٹیشن موجود ہیں جو علاقائی زبانوں میں نشریات کر رہے ہیں لیکن ان کی پہنچ ملک کے بڑے شہر جن میں کراچی اور لاہور شامل ہیں میں کم ہے۔اردو نیوز اداروں میں طاقتور سیاسی اور غیرسیاسی مفادات کے گروپس کو کافی نشریاتی ٹائم اور پرنٹ میں جگہ مل جاتی ہے (جو اپنے طور پر نیوز صارفین کی مجموعی تعداد کا بہت چھوٹا حصہ ہے) اور اس طرح بے آواز اور بے بس لوگوں جن کی تعداد لاکھوں میں ہے کی کوئی نہیں سنتا ہے۔  
ان تضادات کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اخبارات شائع کرنا اور نشریات کرنا یا ڈیجٹل تنظیم چلانا ایک مہنگا کام ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کی میڈیا کی مالکیت چند امیر اور با اثر لوگوں کے ہاتھوں میں ہے۔ ان طرح کے نظام کو چلانے کے لیے ان گنت پیسوں کی ضرورت ہے جس کے لیے یہ میڈیا کے ادارے حکومتی اشتہارات سے آنے والی آمدنی اور ٹیکس میں چھوٹ پر انحصار کرتے ہیں۔ اس کی بدولت حکومت کے مختلف ادارے جن میں سکیورٹی اور انٹیلی جینس شامل ہیں میڈیا تنظیموں سے سکیورٹی، خارجہ پالیسی، مذہبی انتہا پسندی، صوبوں کی طرف سے آنے والی خود مختاری اور یہاں تک کہ معیشت کے معاملات میں بھی ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جبر اور زبردستی سے کام نہ کروانے کے لیے  نجی اشتہار دینے والے بھی حکومت کی جانب دیکھتے ہیں جس کی بدولت میڈیا ادارے اوپر دیئے گئے مسائل پر ریاستی بیانیے آگے بڑھاتے ہیں۔  
اس کے علاوہ یہ بات بھی اہم ہے کہ پڑھنے اور دیکھنے والے نیوز اداروں کی خبروں کی تیاری پر آنے والی لاگت  کی بہت معمولی سی قیمت ادا کرتے ہیں۔ ٹی وی، ریڈیو اور انٹرنٹ تک رسائی کافی آسان ہے اور اخبارات کی قیمت سے ان پر آنے والے اخراجات کا بہت چھوٹا صحہ مل پاتا ہے۔ اس لیے یہ بات حیران کن ثابت نہیں ہوتی جب یہ نیوز چینلز معاشرے کے طاقتور طبقوں کی عکاسی کرتے ہیں جو انہیں اثرو رسوخ اور معالی فائدہ دیتے ہیں۔ یہ اس بات کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ کیوں چھوٹے شہروں میں مقامی زبانوں میں نشر ہونے والے چینلز کامیاب نہیں ہوتے۔ کیونکہ وہ بڑے تجارتی اور معاشی مراکز سے دور ہوتے ہیں اس لیے ان کی بڑے پیسے تک رسائی نہیں ہوتی اور ان کے سامعین کی تعداد بھی کم ہوتی ہے(مقامی زبانوں میں پڑھنے لکھنے کی صلاحیت کا کم ہونا بھی ایک پہلو ہے)۔ پاکستان میں میڈیا کی ملکیت شفاف ہے تاہم حکومت اور میڈیا اداروں کے درمیان مالی و کاروباری تعلقات ایک جانب اور نیوز اداروں اور نجی کاروبار کے درمیان غیرہموار ہیں۔ اکثر میڈیا ہاوسز نے  جو اس ڈیٹا بیس میں شامل ہیں ملکیت کو چھپانے کی کوشش نہیں کی ہے ماسوائے ایک یا دو مقامات پر جہاں دو اخبارات کو اس بات پر پکڑا گیا کہ ان کا فرضی مالک اسی کمپنی میں بطور اکاونٹینٹ کام کرتا تھا۔ اس شفافیت کے باوجود میڈیا میں نا تو آزادی رائے کو، مختلف آوازوں کو اور نہ ہی حکومت کی پالسیوں پر جائز اور آذادانہ طریقے سے تنقید کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔ 
اس سب سے بارے میں مزید پڑھنے کے لیے، ڈیٹا بیس دیکھیں۔

  • منصوبہ از
    Logo Freedom Network
  •  
    Reporters without borders
  • فنڈ دیئے
    BMZ