This is an automatically generated PDF version of the online resource pakistan.mom-rsf.org/en/ retrieved on 2019/12/05 at 18:07
Reporters Without Borders (RSF) & Freedom Network - all rights reserved, published under Creative Commons Attribution-NoDerivatives 4.0 International License.
Freedom Network LOGO
Reporters without borders

میڈیا اجتماعیت کے خطرات کے اشارے


میڈیا صارفین ارتکاز

نتیجہ: بڑا خطرہ

یہ انڈیکیٹر صارفین اور قارئین کے پاکستان بھر میں میڈیا پلیٹ فارمز کے صارفین کے حصے کی بنیاد پر ارتکاز کا جائزہ لیتا ہے۔ عمومی طور پر میڈیا مارکیٹ میں چار بڑے مالکان کے ارتکاز کو ناپ کر لیا جاتا ہے۔

کیوں؟

ٹیلیویژن مارکیٹ میں سرفہرست چار مالکان صارفین کا 55 فیصد حصہ رکھتے ہیں جو میڈیا صارفین کے ارتکاز کا بڑا خطرہ ہیں، کیونکہ آدھے سے زیادہ ناظرین کا خبروں کے چار مہیا کرنے والوں پر انحصار ہے۔  ٹیلیویژن مارکیٹ میں ان چار اہم عناصر میر خاندان کا جنگ گروپ (24 فیصد)، اے آر وائی خاندان کا اے آر وائی خاندان (12 فیصد)، حکومت کی ملکیت والا پی ٹی وی سی (11 فیصد) اور بلال صدیقی کی ملکیت کا سماء گروپ (7 فیصد) شامل ہیں۔

ارتکاز ٹیلی ویژن ناظرین %55
میڈیا گروپٹی وی صارفین کا حصہ
جنگ گروپجیو نیوز24.50%
اے آر وائی گروپاے آر وائی نیوز12.27%
حکومتپی ٹی وی نیوز11.24%
سماء گروپسماء ٹی وی6.99%
ٹوٹل چار54.99%

سرفہرست 10 ٹی وی چینلز، بقول گیلپ پاکستان، 80 فیصد صارفین کی نمائندگی کرتے ہیں جس میں سے 55 فیصد ان چار بڑے چینلز کا ہے۔ ان کا اثر اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے کیونکہ ان کی ان کے دیگر چینلز کے ذریعے رسائی جو پہلے 10 میں شامل نہیں ہیں کا معلومات نہ ہونے کی وجہ سے شمار نہیں کیا جاسکا ہے۔

ریڈیو

ریڈیو کے شعبے میں تصویر تبدیل ہو جاتی ہے جب ہم سرفہرست چار مالکان کا ذکر کرتے ہیں۔ ایف ایم 100 پاکستان کے سٹیشنز کا نیٹ ورک آڈینس (صارفین) کے حصے کی وجہ سے سب سے بڑا ہے جبکہ ایف ایم 100 لاہور 6 فیصد، ایف ایم 100 اسلام آباد ساڑھے چار فیصد اور ایف ایم 100 کراچی 1 فیصد – 12 فیصد بنتے ہیں۔ سرکاری ریڈیو سٹیشن ایف ایم 101 (5 فیصد) اور ریڈیو پاکستان (3 فیصد) کا مل کر 8 فیصد صارفین کا حصہ بنتا ہے۔

ارتکاز ریڈیو سامعین %35.6 %48.2 میں
میڈیا گروپریڈیو صارفین کا حصہ
ایف ایم 100 پارکستان گروپFM 100 Lahore 6.2%; FM 100 Islamabad 4.5%
FM 100 Karachi 1.3%
11.9%
فیچر ٹیک انجینرنگ سروس Radio Awaz 9.3%9.3%
حکومت FM 101 5.1%; Radio Pakistan 3.3%8.4%
ٹریڈ سرو انٹرنیشنل پرائیویٹ لیمٹڈMast FM103 6%6%
ٹوٹل چار35.6%

یہ اہم ہے کہ ایف ایم 100 پاکستان کوئی باضابطہ گروپ نہیں ہے، تاہم ویب سائٹ واحد ریڈیو سٹیشن جسے ایف ایم 100 کہا جاتا ہے کی تصویر دیتی ہے جو مختلف شہروں جن میں کراچی، اسلام آباد اور لاہور شامل ہیں خدمات مہیا کرتا ہے۔ اس نیٹ ورک کی رسائی کافی زیادہ ہے تاہم پاکستان کے دیگر شہروں میں ایف ایم 100 سٹیشن سرفہرست 10 ریڈیو سٹیشنوں میں یہ شامل نہیں ہے۔ اس کا ملکیت کا ماڈل بھی دلچسپ ہے کیونکہ مختلف شہروں میں مختلف کمپنیاں ایف ایم 100 کی فریکیونسی لائسنس کے تحت نشریات کرتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ کوئی ایک کمپنی ایف ایم 100 ریڈیو سٹیشنوں کی ملکیت نہیں رکھتی ہے۔ مثال کے طور پر ایف ایم 100 اسلام آباد مصطفی میمن خاندان  اور شاہین فاونڈیشن (جوکہ پاکستان فضائیہ کا حصہ ہے) کی ملکیت میں کیپٹل یف ایم پرائیویٹ چلاتی ہے، لاہور میں ایف ایم 100 سٹیشن پیرّادہ خاندان لاہور براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے ذریعے چلاتی ہے، کراچی میں ایف ایم 100 کی فریکیونسی فرسٹ میڈیا سروسز پرائیویٹ لیمٹڈ کے پاس رجسٹرڈ ہے، تاہم اس کپمنی کا کوئی عوامی سطح پر ریکارڈ نہیں ہے اور اس ریڈیو سٹیشن کی ملکیت نامعلوم ہے۔ کئی ایم ایف 100 ریڈیو سٹیشنوں میں امان احمد سی ای او ہیں لیکن ان کے بارے میں مزید کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
گیلپ پاکستان کے ڈیٹا کے مطابق سرفہرست 10 ریڈیو سٹیشنوں کا صارفین کا مجموعی حصہ 48 فیصد سے زیادہ بنتا ہے جو کہ مارکیٹ کا نصف بھی نہیں ہے۔ لیکن ان میں سے ٹاپ چار مالکان صارفین کی 35 فیصد حصے تک رسائی رکھتے ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ کیوں ٹاپ 10 ریڈیو سٹیشن محض آدھی مارکیٹ رکھتے ہیں اور گیلپ نے اس کی مزید وضاحت مہیا نہیں کی ہے۔ لیکن اگر یہ تصور کیا جائے کہ 48 فیصد مارکیٹ ہی تمام ہے تو پھر ٹاپ چار پلیرز 74 فیصد آڈینس رکھتے ہوں گے جوکہ میڈیا صارفین کے ایک جگہ ارتکاز کا بڑا خطرہ رکھتے ہیں۔ یہ بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ ریڈیو کے شعبے میں اکٹھا کیا گیا ڈیٹا بہت مشکل تھا اور اداراتی ٹیموں کے بارے میں بھی معلومات دستیاب نہیں تھیں جو شفافیت کے نہ ہونے اور ارتکاز کے زیادہ بڑے خطرے کی وجہ ہے۔

اخبارات

پاکستان میں پرنٹ مارکیٹ بظاہر انتہائی ایک جگہ مرکوز ہے جیسے کہ سرفہرست چار مالکان 70 فیصد مارکیٹ شیئر رکھتے ہیں۔ پاکستان میں پڑھنے والوں کا ڈیٹا تمام اشاعتوں کے لیے دستیاب نہیں ہے۔ مثال کے طور پر میر خاندان کی ملکیت جنگ گروپ اخبار جہاں، میگ، آواز، دی نیوز اور پاکستان ٹائمز شائع کرتا ہے لیکن پڑھنے والوں کی معلومات روزنامہ جنگ کے لیے دستیاب نہیں تھا جو مجموعی صارفین کا ایک تھائی یا 27 فیصد حصہ رکھتا ہے۔ اس گروپ کی دیگر شائع ہونے والے کئی جرائد معلوم نہیں ہے اور یہی صورتحال دیگر گروپوں کے ساتھ بھی ہے۔ باقی ماندہ تین گروپس میں لاکھانی خاندان کی ملکیت میں ایکسپریس گروپ (18 فیصد)، رمیزہ مجید نظامی کی ملکیت میں نوائے وقت (14 فیصد) اور ضیا شاہد خاندان کی ملکیت خبریں گروپ (11 فیصد) ہیں۔    

 ارتکاز اخبار قاری %70 %86  میں

میڈیا گروپ

اخبار

صارفین کی شرح

جنگ گروپ

جنگ %27; اخبار جہاں (ایک ڈی - مواد موجود نہیں); میگ (ایک ڈی - مواد موجود نہیں); آواز(ایک ڈی - مواد موجود نہیں);  دی نیوز  (ایک ڈی - مواد موجود نہیں);  پاکستان ٹائمز (ایک ڈی - مواد موجود نہیں)

27%

ایکسپریس گروپ

ایکپریس %18; ایکپریس ٹرائبیون (ایم ڈی - مواد موجود نہیں)؛ سندھ ایکپریس (ایم ڈی - مواد موجود نہیں)

18%

نوائے وقت گروپ

نوائے وقت 14%؛ دی نیشن(ایم ڈی)؛ پھول (ایم ڈی)؛ فیملی(ایم ڈی)؛ ندائے ملت(ایم ڈی)

14%

خبریں گروپ

خبریں 11%؛ خبروں(ایم ڈی)؛ خبراں (ایم ڈی)؛ دی پوسٹ (ایم ڈی)

11%

ٹوٹل چار

70%

گیلپ پاکستان کے ڈیٹا کے مطابق ٹاپ 10 اخبارات کا صارفین کا مجموعی حصہ 86 فیصد ہے جس میں سے 70 فیصد ٹاپ چار کا ہے۔

آن لائن نیوز میڈیا

آن لائن نیوز سائٹس سے متعلق صارفین کا ڈیٹا گیلپ نے مہیا کیا تاہم گیلپ نے ان کے مطابق یہ معلومات سیمیلر ویب سے خریدا ہے۔ ٹاپ 10 آن لائن نیوز ویب سائٹس 26 فیصد صارفین کا حصہ رکھتی ہیں۔ ان میں سے سرفہرست چار مالکان تقریبا 25 فیصد حصہ رکھتے ہیں 93 فیصد میں سے۔ یہاں بھی پرنٹ اور ٹی وی کی طرح بڑا حصہ انہیں گروپس کے پاس ہے: میر خاندان کی ملکیت جنگ گروپ (تقریبا 10 فیصد)، لاکھانی گروپ کا ایکسپریس گروپ (8 فیصد)، ہارون سیہگل خاندان کی ملکیت ڈان گروپ (تقریبا 5 فیصد) اور مجیب الرحمان شامی کی ملکیت روزنامہ پاکستان گروپ (2 فیصد)۔

آن لائن صارفین کا ارتکاز 26۔52% میں سے 24۔84%
میڈیا گروپویب سائٹصارفین کے حصے کی جمع
جنگ گروپJang.com.pk 4.22%; thenews.com.pk 3.15%; geo.tv 2.47%9.84%
ایکسپریس گروپExpress.pk 2.72; express.com.pk 2.72%; tribune.com.pk 2.59%8.03%
ڈان گروپDawn.com 4.96%4.96%
روزنامہ ہاکستانdailypakistan.com.pk 2.01%2.01%
ٹوٹل چار24.84%
کمدرمیانہ بڑا 

ٹیلی ویژن سامعین کا ارتکاز

55% فیصد

اگر ملک کے اندر 4 اہم مالکان کے پاس سامعین کا حصہ 25% سے کم ہےاگر ملک کے اندر 4 اہم مالکان کے پاس سامعین کا حصہ 25% سے  49 % کے درمیان ہےاگر ملک کے اندر 4 اہم مالکان کے پاس سامعین کا حصہ 50% سے زیادہ ہے

ریڈیو سامعین کا ارتکاز (افقی)

  فیصد %74.3

اگر ملک کے اندر 4 اہم مالکان کے پاس سامعین کا حصہ 25% سے کم ہےاگر ملک کے اندر 4 اہم مالکان کے پاس سامعین کا حصہ 25% سے  49 % کے درمیان ہےاگر ملک کے اندر 4 اہم مالکان کے پاس سامعین کا حصہ 50% سے زیادہ ہے

ارتکاز  قاری اخبار (افقی)

فیصد %70

اگر ملک کے اندر 4 اہم مالکان کے پاس سامعین کا حصہ 25% سے کم ہےاگر ملک کے اندر 4 اہم مالکان کے پاس سامعین کا حصہ 25% سے  49 % کے درمیان ہےاگر ملک کے اندر 4 اہم مالکان کے پاس سامعین کا حصہ 50% سے زیادہ ہے

آن لائن میڈیا صارفین کا ارتکاز

فیصد %93.4

اگر ملک کے اندر 4 اہم مالکان کے پاس سامعین کا حصہ 25% سے کم ہےاگر ملک کے اندر 4 اہم مالکان کے پاس سامعین کا حصہ 25% سے  49 % کے درمیان ہےاگر ملک کے اندر 4 اہم مالکان کے پاس سامعین کا حصہ 50% سے زیادہ ہے

ٹی وی صارفین کا شیئر 2017-18، گیلپ سروے
ریڈیو سامعین کا شیئر، 2017-18 گیلپ سروے
Print Readership Data 2018, Gallup Pakistan
News Websites Audience Data 2017-2018, Gallup Pakistan

میڈیا مارکیٹ کا ارتکاز

نتیجہ: نامعلوم

اس اشاریے کا مقصد مارکیٹ کے حصہ کی بنیاد پر افقی ملکیت کے ارتکاز کا جائزہ لینا ہے جو کمپنیوں یا گروپوں کی معاشی طاقت بیان کرتا ہے۔ ہرمیڈیا سیکٹر کیلئے ارتکاز کا اندازہ اس سیکٹر کے 4 بڑے مالکان کےمارکیٹ کے حصص کوشامل کرکے لگایاگیاہے۔  

 

 

جب سے مالی ڈیٹا پوری مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہے، پاکستان میں اس اشاریہ کو پاکستان میں شمار نہیں کیاگیا۔ تمام میڈیا کمپنیں نے ایس ای سی پی جیسے سرکاری اداروں کو اپنی حالیہ مالی رپورٹس جمع نہیں کرائیں، اس لئے کمپنیوں کے مارکیٹ کا حصہ اب بھی نامعلوم ہے اور مارکیٹ کے حصہ کی بنیاد پر میڈیا ملکیت کے ارتکاز کو شمار نہیں کیا جاسکتا۔ ایم او ایم کے طریقہ کار کے مطابق اگر ایک ملک سامعین وناظرین اورقارئین کے بارے میں ڈیٹا پیش کرتا ہے لیکن ان کی آمدن یا مارکیٹ کے حصہ کو نہیں بتاتا تومارکیٹ حصہ کا ڈیٹا تجزیہ سے نکال دیاگیا ہے، یعنی نتائج اکیلے سامعین وناظرین اور قارئین کے ڈیٹا کی بنیاد پرہوںگے اور آمدن کے ڈیٹا کو اختیاری سمجھا گیا ہے۔ 

 

سکور: کوئی ڈیٹانہیں 

کمدرمیانہ انتہائی 
                                                                                                      ٹیلی وژن میں ملکیت کا ارتکاز( افقی): اس اشاریے کا مقصد ٹی وی میڈیا کے سیکٹر کے اندر ملکیت کے ارتکاز کا جائزہ لینا ہے۔            
                                                                                                                                                      تناسب: اندازہ نہیں کیاگیا 
اگر ایک ملک میں چوٹی کے 4 مالکان کا مارکیٹ کا حصہ 25% سے کم ہے۔ اگرایک ملک میں چوٹی کے4 مالکان کا مارکیٹ کا حصہ 25%  اور49% کے درمیان ہے۔ اگرایک ملک میں چوٹی کے4 مالکان کا مارکیٹ کا حصہ 50% سے زائد ہے۔ 
ریڈیو میں ملکیت کا ارتکاز(افقی): اس اشاریے کا مقصد ریڈیو میڈیا کے اندر ملکیت کے ارتکاز کا جائزہ لینا ہے۔ 
تناسب: اندازہ نہیں کیاگیا 
اگر ایک ملک میں چوٹی کے 4 مالکان کا مارکیٹ کا حصہ 25% سے کم ہے۔ اگرایک ملک میں چوٹی کے4 مالکان کا مارکیٹ کا حصہ 25%  اور49% کے درمیان ہے۔ اگرایک ملک میں چوٹی کے4 مالکان کا مارکیٹ کا حصہ 50% سے زائد ہے۔ 
اخبارات میں ملکیت کا ارتکاز(افقی): اس اشاریے کا مقصد پرنٹ میڈیاسیکٹرکے اندر ملکیت کے ارتکاز کا جائزہ لینا ہے۔ 
تناسب: اندازہ نہیں کیاگیا 
اگر ایک ملک میں چوٹی کے 4 مالکان کا مارکیٹ کا حصہ 25% سے کم ہے۔ اگرایک ملک میں چوٹی کے4 مالکان کا مارکیٹ کا حصہ 25%  اور49% کے درمیان ہے۔ اگرایک ملک میں چوٹی کے4 مالکان کا مارکیٹ کا حصہ 50% سے زائد ہے۔ 
انٹرنیٹ کنٹینٹ فراہم کرنے والوں میں ملکیت کا ارتکاز: 
تناسب: اندازہ نہیں کیاگیا     
اگر ایک ملک میں چوٹی کے 4 مالکان کا مارکیٹ کا حصہ 25% سے کم ہے۔ اگرایک ملک میں چوٹی کے4 مالکان کا مارکیٹ کا حصہ 25%  اور49% کے درمیان ہے۔ اگرایک ملک میں چوٹی کے4 مالکان کا مارکیٹ کا حصہ 50% سے زائد ہے۔   

ضابطہ کاری کے اقدامات، میڈٰیا ملکیت کے ارتکاز کی عمومی صورتحال

نتیجہ: انتہائی خطرناک

اس اشاریے کامقصد میڈیا کے مختلف اداروں میں اعلیٰ سطح پرملکیت کے ارتکاز یا کنٹرول کے خلاف (متعلقہ شعبہ کے حوالے سے مخصوص/مقابلہ جاتی قانون) ضابطہ کاری کے اقدامات کی موجودگی اور ان پرموثرعملدرآمد کاجائزہ لینا ہے۔

کیوں؟

ٹیلی وژن اور ریڈیو پر مشتمل نجی شعبہ کے الیکٹرانک میڈیا کو چلانے والے موجودہ قانونی دائرہ کار میں میڈیا ملکیت کے ارتکاز کی کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے ذریعہ پیمرا ترمیمی آرڈیننس2007 نے نشری ذرائع ابلاغ (ٹیلی وژن اور ریڈیو) یا کسی فرد واحد یا کسی دوسرے براڈکاسٹ ادارے کے اشتراک سے چلائے جانے والے کیبل ٹی وی (CTV) اسٹیشن کی ملکیت پر قانونی قدغن ہٹادی تاہم پیمرا قواعد 2009 کے قاعدہ 13 میں کسی ایک کمپنی یا فرم کی جانب سے ایف ایم اسٹیشن اور لینڈنگ حقوق رکھنے کی تعدادکا تعین کیاگیاہے، یہ قواعد کسی دوسرے تقسیم کار سروس لائسنس اوراس کے برعکس کے مالکان، کنٹرولر یا آپریٹرز کو بالواسطہ یا بلاواسطہ لینڈنگ حقوق کی اجازت دینے یا نشری ذرائع ابلاغ لائسنس کے اجراسے بھی روکتے ہیں۔اس کے ساتھ پیمرا قوانین میں ایسی کوئی شق موجود نہیں ہے کہ جو سامعین وناظرین کے حصہ، سرکولیشن، سرمایہ کے حصص کی تقسیم یا ووٹنگ کے حقوق اور آؐمدن پر مخصوص حدود کے حوالے سے ہوں تاکہ اس شعبہ میں ملکیت یا کنٹرول کےاعلیٰ سطح پر ارتکازسے بچا جاسکے۔ سرکاری نشری ذرائع ابلاغ پیمرا قانون کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔

پریس، نیوز پیپرز، نیوز ایجنسیز اینڈبکس رجسٹریشن آرڈیننس 2002 اخبار کی رجسٹریشن کااختیارضلع کی سطح پر دیتا ہے جوصوبہ کی ذٰیلی انتظامی اکائی ہوتاہے۔ یہ قانون ماسوائے اخبارکی غیرملکی ملکیت کی پابندیوں کے میڈٰیاکی ملکیت پرقدغن سے متعلق خاموش ہے، کسی شخص کی جانب سے متعدد اخبارات کا مالک ہونے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ اس طرح سامعین وناظرین کے حصہ، سرکولیشن، سرمایہ کے حصص کی تقسیم یا ووٹنگ کے حقوق اور آؐمدن سے متعلق بھی اس قانون میں کوئی ذکرنہیں ہے تاکہ اس شعبہ میں ملکیت یا کنٹرول کےاعلیٰ سطح پر ارتکازسے بچا جاسکے۔ دوسری جانب پریس کونسل آف پاکستان کو طباعتی ذرائع ابلاغ کیلئے اخلاقی معیارات پر عملدرآمد کرانے اور اس کی نگرانی کااختیارحاصل ہے تاہم اخبارات کی رجسٹریشن میں پریس کونسل کا کوئی کردار نہیں ہے۔

ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی ملکیت کیلئے بھی کوئی قانونی پابندی نہیں ہے، نشری یا طباعتی ذرائع ابلاغ کا مالک کوئی بھی شخص حسب المقدو جتنی چاہے ویب سائٹس اورسوشل میڈیا اکائونٹس بناسکتاہے۔ درحقیقت تمام نشری ذرائع ابلاغ اوراخبار مالکان ویب سائٹ کی بنیاد پرمیڈیا پلیٹ فارم بناسکتے ہیں۔ ملک میں لائسنسوں کی تعداد،سامعین و ناظرین کے حصہ، سرکولیشن، سرمایہ کے حصص کی تقسیم یا ووٹنگ کے حقوق اورآؐمدن سے متعلق سوالات آن لائن میڈیا کیلئے غیرموذوں سمجھے جاتے ہیں۔

مقابلہ جاتی کمیشن آف پاکستان (CCP) کی بنیادی ذؐمہ داری ہے کہ وہ تمام قسم کی تجارتی اوراقتصادی سرگرمیوں کیلئے آزادانہ مقابلی جاتی ماحول فراہم کرے۔ یہ کمیشن پارلیمنٹ کے ایکٹ (Act No XIX of 2010) کے نتیجہ میں تشکیل دیا گیا جوبعد میں مقابلہ جاتی ایکٹ 2010 کہلایا۔ کمیشن کو ایک اعلیٰ ضابطہ کار کے طور پر سمجھا اور جاناجاتاہے جبکہ پاکستان میں دوسرے تمام ضابطہ کار اداروں کو لائسنسوں کے اجرا کیلئے مخصوص تناسب سے فیس اور اخراجات کی مد میں رقم ادا کرنا ہوتی ہے تاہم مقابلہ جاتی قانون 2010 میں میڈیا مالکان کے لائسنسوں کی تعداد، سامعین وناظرین کے حصہ، سرکولیشن، سرمایہ کے حصص کی تقسیم یا ووٹنگ کے حقوق اور آؐمدن سے متعلق کوئی شق مخصوص نہیں ہے تاکہ ہے تاکہ اس شعبہ میں ملکیت یا کنٹرول کےاعلیٰ سطح پر ارتکازسے بچا جاسکے۔

مختصراً پیمرا قانون میں ملکیت کے مجموعی ارتکاز یا ایک سے زیادہ میڈٰیا ادارے کی ملکیت کے حوالے سے کوئی پابندی نہیں ہے۔اسی طرح پریس رجسٹریشن بھی میڈٰا کی ملکیت کے حوالے سے خاموش ہے،مزید یہ کہ ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ملکیت کی بھی کوئی حد نہیں ہے۔ مقابلہ جاتی ایکٹ 2010 میں میڈٰیا مالکان کی لائسنسوں کی تعداد، سامعین وناظرین کے حصہ، سرکولیشن، سرمایہ کے حصص کی تقسیم یا ووٹنگ کے حقوق اور آؐمدن کی بھی کوئی مخصوص حد مقرر نہیں کی گئی ہے تاکہ اس شعبہ میں ملکیت یا کنٹرول کےاعلیٰ سطح پر ارتکازسے بچا جاسکے۔

پیمرا میڈیا کے شعبہ میں ملکیت کے اعلیٰ سطح پرمجموعی ارتکازسے بچنے کیلئے انضمام پرقابوپانے اور مقابلہ جاتی قواعد فراہم کرتاہے، پیمرا قواعد 2009 کے قاعدہ 16 میں درج ہے کہ ایک لائسنس مجازحکام کی منظوری کے بغیر کسی دوسرے شخص کو منتقل یا انضمام نہیں کیاجاسکے گا۔ مزید برآں پیمرا کے قاعدہ 16 ((2 میں لائسنس کے مالک یا کمپنی مالک کی جانب سے منتقلی یا حصص کی تقسیم کیلئے بھی پیمرا کی اجازت درکار ہے۔ اس کے علاوہ مقابلہ جاتی کمیشن آف پاکستان کا مارکیٹ میں آزادانہ مقابلہ جاتی ماحول کوفروغ دینے کیلئے عمومی طور پر ایک کلیدی کردار ہے۔ پیمرا اور مقابلہ جای کمیشن آف پاکستان نجی الیکٹرانک میڈٰیا میں صحت مندانہ مقابلہ جاتی ماحول کو فروغ دینے اور میڈیا کے ذریعہ کی جانے والی دھوکہ دہی پرمبنی مارکیٹنگ کی روک تھام کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون پر اتفاق کیا۔ اسی طرح مقابلہ جاتی کمیشن آف پاکستان نے ملک کے ٹیلی موصلات شعبہ کے دو اداروں موبی لنک اور وارد کے انضمام کا حتمی فیصلہ دیا۔

ضابطہ کاری کے اقدامات کاتناسب: 45 فیصد

ٹی وی: 3، اخبارات:0، ریڈیو:3د، انٹرنیٹ:0

انضمام والے ادارے:3، کل: 20 میں سے 9

انتہائی خطرہ: 45 فیصد

میڈیاسے متعلق ضابطہ کاری کے ادارے:1

مقابلہ جاتی ماحول سے متعلق ادارے: 0.5

اہم نتائج:

پاکستان میں ضابطہ کاری کے اقدامات کا مقصدصرف ٹی وی اور ریڈیو میں ملکیت کی اجارہ داری کو محدود کرنا ہے لیکن سامعین وناظرین یا مارکیٹ کے حصص کی اجارہ داریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہرگزنہیں ہے۔

ضابطہ کاری کے اقداماتتبصرہٹی وی اخباراتریڈیوآئی ایس پی
کیامیڈٰیا قانون سازی مطلوبہ طریقہ کار(لائسنسوں کی تعداد، سامعین وناظرین کاحصہ، سرکولیشن،سرمایہ کے حصص کی تقسیم یا ووٹنگ کے حقوق اور آؐمدن) پرمبنی مخصوص حدود کی حامل ہے تاکہ ملکیت یا کنٹرول کے اعلیٰ سطح پر ارتکاز سے بچا جاسکے؟
اس سوال کا مقصد ٹی وی، ریڈیو، اخبارات اور آن لائن سیکٹرز میں ملکیت یا کنٹرول کے مجموعی ارتکاز کے خلاف ضابطہ کاری اقدامات کاجائزہ لینا ہے۔

ٹی وی اور ریڈیو کے لائسنسوں کی تعداد کی ایک حدہے۔
اخبارات کو نہ تو مرکزی سطح پر ضابطہ کاری کے تحت لایاجاتاہے اور نہ ہی پرنٹ میڈیا قوانین ایک یا ایک سے زائد میڈیا اداروں کی ملکیت سے روکتے ہیں۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی(PTA)،ٹیلی مواصلات ،آئی ایس پی بزنس اورآن لائن مواد کو دیکھتی ہے لیکن ویب سائٹس کی رجسٹریشن کو نہیں دیکھتی، یہ اتھارٹی   کسی ٹیلی کام کمپنی، آئی ایس پی یا دیگرپرنٹ والیکٹرانک میڈیا کونہ تو ویب سائٹس چلانے سے روکتی ہے اور نہ ہی آئی ایس پی کو کسی ٹی وی، ویڈیو چینل یااخبارات چلاتے سے منع کرتی ہے۔

 0.5

  0

0.5 

0

کیا کوئی انتظامی یا عدالتی ادارہ ٹی وی ریڈیو کے شعبہ میں حدود پر عملدرآمد کی موثر نگرانی اور شکایات کے ازالہ کیلئے سماعت کرتاہے؟
اس سوال کا مقصد اس بات کا جائزہ لینا ہے کہ قانون یا ضابطہ کاری کا ادارہ سمعی وبصری ذرائع ابلاغ کے ارتکاز کو ضابطہ کے مطابق بنانے کیلئے مطلوبہ نگرانی اور پابندی کا نظام فراہم کرتاہے۔

یمرا ٹی وی ریڈیومیڈیا کیلئے انتظامی ادارہ ہے،اخبارات کو دیکھنے والا ادارہ پریس کونسل آف پاکستان نہ تولائسنسوں کے اجرا یا منسوخی کاذمہ دار ہے اور نہ ہی اس کادائرہ اختیار ہے۔آن لائن سیکٹر میں پی ٹی اے کو بھی ایسا اختیار حاصل نہیں ہے۔

 

 1

1

0

کیاقانون حدود کی خلاف ورزی کی صورت میں رویے یا ڈھانچہ جاتی تدابیر کے نفاذ کیلئے اس ادارے کو اختیارات تفویض کرتاہے؟
اس سوال کا مقصداس بات کا جائزہ لینا ہے کہ اگر قانون شعبہ کو ضابطہ کے مطابق بنانے کے حوالہ سے مطلوبہ نظام فراہم کر رہاہے جیسے:
.اضافی لائسنسوں سے انکار
.انضمام کو روکنا
.تیسرے فریق کو پروگرام بنانے کیلئے ونڈوزمختص کرنے کی ذمہ داری
.دوسرے میڈٰیا شعبوں میں لائسنس یا سرگرمیاں ترک کرنے کی ذؐمہ داری
جی ہاں، پیمرا ٹی وی ریڈیو کے شعبہ میں مذخورہ تمام پابندیاں نافذ کرنے کااختیار رکھتاہے۔ اخبارات کے شعبہ میں پریس کونسل آف پاکستان جبکہ آن لائن سیکٹر میں پی ٹی اے کے پاس ایسے اختیارات نہیں ہیں۔

 

1

  0

 

0

کیا سونپے گئے اختیارت کا موثر استعمال کیاگیا؟
اس سوال کامقصد ٹی وی ریڈیو میڈیا میں ملکیت یا کنٹرول کے ارتکاز کے خلاف شعبہ کے حوالہ سے مخصوص اقدامات پر موثر عملدرآمد کا جائزہ لینا ہے۔
پیمرا عمومی طور پرٹی وی اور ریڈیو کے حوالے سے ملکیت کے ارتکاز پر پابندی نافذ کرتاہے۔

0.5

0

0.5

0

کل63030
میڈیا انضمامتبصرہہاںنہیںدستیاب نہیں اقدامات کی موجودگی
کیا میڈٰیا کے شعبہ میں ملکیت یا کنٹرول کے اعلیٰ سطح پر ارتکاز سے انضمام پر قابو پانے یا مقابلہ جاتی قواعد کے ذریعہ بچا جا سکتاہے؟
اس سوال مقصدضابطہ کاری کے ان اقدامات کاجائزہ لیناہے جو انضمام کے ذریعہ ملکیت کے اعلیٰ سطح پرارتکاز کیخلاف شعبہ کے حوالہ سے مخصوص یا مقابلہ جاتی قانون سے متعلق ہیں۔ مثال کے طورپر انضمام کی کوششوں کے دوران قانون کوارتکازکوتحفظ دینا چاہیے:
. میڈیاسے متعلق ایسی مخصوص شقوں کے ذریعہ جو دوسرے شعبوں کی نسبت سخت حدود نافذ کریں۔
. انضام کی صورتوں میں پیمرا کی مداخلت(مثال کے طور پر،یہ پی ٹی اے کی ذؐمہ داری ہے کہ وہ پیمرا کونصحیت کرے)
. میڈٰیا تکثیریت کی وجوہات کی بنا پرپی ٹی اے کی جانب سے (عمومی طورپر مفاد عامہ میں) ارتکاز کی اجازت نہ دینے کا امکان، اگرچہ قوانین میں میڈیا کے حوالے سے مخصوص شقیں نہیں ہیں لیکن میڈیا کے شعبہ کو ان کے دائرہ اختیار سے نکالا نہیں جاسکتا۔
مجموعی طور پرپیمرا اور مقابلہ جاتی کمیشن آف پاکستان کے حوالے سے ہاں

1

  

 

کیا انضمام کے بارے میں قواعدپر عملدرآمد یا شکایات کے ازالہ کیلئے کوئی انتظامی یا عدالتی ادارہ موثر طور پر نگرانی کررہاہے؟
اس سوال کامقصدیہ ہے کہ کیا قانون یا قواعدوضوابط نگرانی اور اختیارات کاموزوں نظام فراہم کررہے ہیں۔
مجموعی طور پرپیمرا اور مقابلہ جاتی کمیشن آف پاکستان کے حوالے سے ہاں

1

کیاقانون حدود کی خلاف ورزی کی صورت میں رویے یا ڈھانچہ جاتی تدابیر کے نفاذ کیلئے اس ادارے کو اختیارات تفویض کرتا ہے؟
اس سوال کامقصداس بات پر جائزہ لیناہے کہ اگر قانون شعبہ کے حوالہ سے مخصوص ضابطہ کاری کیلئے اختیارات کا مطلوبہ نظام فراہم کررہاہے، جیسے:
. انضام کو روکنا
.تیسرے فریق کو پروگرام بنانے کیلئے ونڈوزمختص کرنے کی ذمہ داری
.دوسرے میڈٰیا شعبوں میں لائسنس یا سرگرمیاں ترک کرنے کی ذؐمہ داری
مجموعی طور پرپیمرا اور مقابلہ جاتی کمیشن آف پاکستان کے حوالے سے ہاں

1

  

  

کیا تفویض کئے گئے اختیارات کا موثر طور پر استعمال کیاگیا؟
اس سوال کامقصدٹی وی میڈیا میں ملکیت یا کنٹرول کے اعلیٰ سطح پرارتکاز کے خلاف شعبہ کے حوالے سے مخصوص اقدامات پر موثر عملدرآمد کاجائزہ لینا ہے۔
میڈٰیا کمپنی کے انضمام کی کوششوں اورایسی کسی پابندی جولگائی جاسکے، سے متعلق ناکافی معلومات ہیں۔0

کل

 3

[Translate to Urdu:] Legal Assessment MOM Pakistan (2019) by Muhammad Aftab Alam [Translate to Urdu:] Contextualisation for Media Ownership Monitor - Pakistan 2019
[Translate to Urdu:] CCP, PEMRA to promote healthy competition in electronic media [Translate to Urdu:] Retrieved on 11 June 2019
[Translate to Urdu:] PEMRA Ordinance 2002 [Translate to Urdu:] Accessed in April 2019
[Translate to Urdu:] PEMRA Rules 2009, Ministry of Information and Broadcasting [Translate to Urdu:] Accessed in April 2019
[Translate to Urdu:] Competition Act of 2010 [Translate to Urdu:] Competition Commission of Pakistan, Accessed in February 2019
[Translate to Urdu:] Press, Newspaper, News Agencies and Books Registration Ordinance, 2002 [Translate to Urdu:] Audit Bureau of Circulations, Accessed in April 2019

ایک سے زیادہ میڈیا ملکیت کا ارتکاز

نتیجہ: درمیانے درجہ کا خطرہ

اس اشاریے کا مقصد میڈٰیا انڈسٹری کے مخلتف سیکٹرز ٹی وی، ریڈٰیو، اخبارات اور آن لائن میڈٰیا کی ملکیت کے ارتکاز کا جائزہ لینا ہے۔ ملک میں ایک سے زیادہ میڈیاکی ملکیت کے ارتکاز کا اندازہ چوٹی کی 8 کمپنیوں کے مارکیٹ اور سامعین،ناظرین اورقارئین کے حصہ میں اضافہ سے لگایا گیاہے۔

کیوں؟

پاکستان کے کیس میں مالی مارکیٹ کے حصہ سے متعلق ڈیٹا فوری یا صحیح طور پر دستیاب نہیں ہے، اس لیے یہ قابل اعتماد نہیں۔ تاہم سامعین وناظرین اور قارئین کے حصوں کے بارے میں مستند ڈیٹا دستیاب ہے۔ جبکہ میڈیا کے مختلف سیکٹرزمیں اقتصادی استحکام کیلئے نتائج ایک اشاریہ نہیں جو اعلیٰ سطح پر ایک سے زیادہ میڈیاکی  ملکیت کے ارتکاز کی اس وقت نشاندہی کرتے ہیں جب انہیں سامعین وناظرین اورقارئین کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

اس اشاریے کامقصدایک سے زیادہ میڈیا کی ملکیت کے ارتکاز کا ان کے سامعین وناظرین اور قارئین کے حساب کے ذریعہ اندازہ لگانا ہے۔ گیلپ پاکستان کے2018 کے چوٹی کے40 میڈیا اداروں ( ٹی وی، ریڈیو، اخبارات اور آن لائن میں ہرایک کے چوٹی کے10 ادارے) کے سامعین وناظرین اور قارئین کے حصہ کے ڈیٹا کے مطابق تقریباً میڈیا کے تمام گروپ کم ازکم دو سیکٹرز میں ملکیت رکھتے ہیں۔ درج ذیل میں پاکستان میں 8 میڈیا گروپ ہیں جو ایک سے زیادہ میڈیا سیکٹر میں میڈیا اداروں کے مالک ہیں۔

اہم نتائج

  • پاکستان میں ٹاپ کے40 میڈیا گروپوں میں ایک سے زیادہ میڈٰیا اداروں کے8 مالکان ہیں جوسامعین و ناظرین اورقارئین کا سب سے زیادہ حصہ رکھتے ہیں۔
  • حکومت ایک سے زیادہ میڈیا اداروں کے پہلے تین مالکان میں شامل ہے۔ ایک سے زیادہ میڈیا اداروں کا سب سے بڑا مالک ایک سے زیادہ میڈیااداروں کی ملکیت کے پورے منظرنامہ کے تیسرے حصہ کا مالک ہے۔
  • ٹی وی میڈیا اور آن لائن میڈیا چارکیٹگریز میں (8 میڈیا گروپوں میں سے7) سب سے زیادہ ملکیت رکھنے والا میڈیا ہے اور ریڈیو (8 میڈیا گروپوں میں3) سب سے کم ملکیت رکھنے والا میڈیا ہے۔
میڈیا گروپاخباراتٹی وی چینلزریڈیوٓن لائنمیڈیابھرمیں حصہ
جنگ گروپجنگ 27%
اخبار جہاں
(ڈیٹا موجودنہیں)
دی نیوز
(ڈیٹا موجودنہیں)
ٹائمز
(ڈیٹا موجودنہیں)
آواز
(ڈیٹا موجودنہیں)
Weighted print audience: 4.32%
جیو 24.5%; Weighted TV audience: 20.09%jang.com.pk (15.91%); thenews.com.pk (11.88%); geo.tv (9.31%); Weighted online audience: 2.6%27%
حکومت گروپ(سرکاری ملکیت)پی ٹی وی 11.24%
Weighted TV audience: 9.22%
ریڈیو پاکستان
3.3%
ایف ایم 101  5.1%
Weighted radio audience: 1%
10.22%
اے آروائی گروپ اے آروائی نیوز 12.27%; Weighted TV audience: 10.06%arynews.tv ڈیٹا موجود نہیں10.06%
ایکسپریس گروپ(لیکسن گروپ)ایکسپریس (اردو) 18%
ایکسپریس ٹریوبیون
(ڈیٹاموجودنہیں)
سندھ ایکسپریس
(ڈیٹاموجودنہیں)
Weighted print audience: 2.88%
ایکسپریس نیوز
 4%
Weighted TV audience: 3.28%
express.pk (10.26%); express.com.pk (10.26%); tribune.com.pk (9.77%); Weighted online audience: 2.12%8.28%
سما گروپ

 سما نیوز(7%); Weighted TV audience: 5.74%

ایف ایم 104
سیالکوٹ 1.5%
Weighted radio audience: 0.18%
Samaa.tv
(ڈیٹا موجود نہیں)
Samaafm.com
(ڈیٹا موجود نہیں)

5.92%
دنیا گروپروزنامہ دنیادنیا نیوز 3%
لاہور نیوز
ڈیٹا موجود نہیں
Weighted TV audience: 2.46%
dunyanews.tv (5.24%); Weighted online audience: 0.37%2.83%
نوائے وقت گروپنوائے وقت 14%
دی نیشن
(ڈیٹا موجود نہیں)
ندائے ملت
(ڈیٹا موجود نہیں) Weighted print audience: 2.24%
nawaiwaqt.com (1.09%); Weighted online audience: 0.07%2.32%
ڈان گروپڈان
(انگریزی)
3%
ڈیلی سٹار
ڈیٹاموجود نہیں
Weighted print audience: 0.48%
ڈان نیوز
ڈیٹا موجود نہیں
سٹی ایف ایم 89
ڈیٹا موجود نہیں

dawn.com (18.7%); Weighted online audience: 1.31%1.79%
کل68.43%

 

ایم اوایم کی سٹڈی میں پاکستانی نیوز میڈیا کے 40 چوٹی کے اداروں میں سب سے زیادہ سامعین وناظرین اور قارئین کے ساتھ 8 میڈٰیا گروپ ایسے ہیں جو نیوزمیڈٰیا کی 4 کیٹگریوں ( ٹی وی، ریڈیو، اخبارات اورآن لائن میڈٰیا) میں ہرایک میں ایک سے زیادہ اداروں کی ملکیت رکھتے ہیں جن کا ڈیٹا دستیاب ہے، جنگ گروپ اور ایکسپریس گروپ دو ایسے گروپ ہیں جوتین یا اسے سے زیادہ کیٹگریوں میں ایک سے زیادہ میڈیا اداروں کی ملکیت رکھتے ہیں۔ یہ دونوں گروپ ٹی وی، اخبارات اور آن لائن میڈیا اداروں کے مالک ہیں لیکن ان کا کوئی ریڈیو اسٹیشن نہیں ہے۔ڈان گروپ تمام سیکٹروں میں فعال ہے لیکن ان کے ریڈیواورٹی وی اداروں کے سامعین وناظرین کاڈیٹا دستیاب نہیں ہے۔

سب سے زیادہ سامعین وناظرین اورقارئین کے حصوں کے نمونہ میں پانچ گروپ ایسے ہیں جو میڈٰیا کی دونوں کیٹگریوں میں ایک سے زیادہ میڈٰیااداروں کی ملکیت رکھتے ہیں۔ان میں نوائے وقت اورڈان گروپ دونوں اخبارات اورآن لائن میڈیاکے مالک ہیں، سما گروپ ٹی وی اورریڈیو کے اداروں، دنیا گروپ ٹی وی چیننل اورآن لائن میڈٰیا اور سرکاری میڈٰیا ٹی وی اور ریڈیو میڈیا کا مالک ہے۔

پاکستان میں ایک سے زیادہ میڈیا اداروں کی ملکیت کا ارتکازمیڈٰیا کی چاروں کیٹگریوں میں ایک سے زیادہ میڈیا اداروں کی ملکیت رکھنے والے چوٹی کے 8 میڈیا اداروں کے مجموعی سامعین وناظرین وقارئین کے حصوں کا 68.43% ہے۔ اس اشاریے کیلئے ایم اوایم کے انڈکس کے مطابق یہ ایک سے زیادہ میڈیا اداروں کی ملکیت کے ارتکاز کے اعتبار سے پاکستان کو درمیانہ درجے کی خطرے کی کیٹگری میں ڈالتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کو خبروں کے ذرائع میں وسیع ترتنوع کویقینی بنانے کیلئے مزید وسیع بنیادوں پر میڈیا کی ملکیت کی ضرورت ہے۔

ایک سے زیادہ میڈیا اداروں کی ملکیت کے68%  ارتکازکے اندر جنگ گروپ سب سے زیادہ ایک سے زائد میڈیا اداروں کے سامعین وناظرین اورقارئین کے حصوں کے ساتھ 7 میڈیا گروپوں میں سب سے بڑاگروپ ہے جوایک سے زیادہ میڈیا اداروں کی ملکیت کے پورے منظرنامہ کاتیسرا (27%) حصہ ہے۔حکومت10.22% کے ساتھ دوسرا بڑاکھلاڑی اور اے آر وائی گروپ10.06% کے ساتھ تیسرا سب سے بڑا میڈیا کھلاڑی ہے۔


ٹی وی میڈیا اور آن لائن میڈیا کی چارکیٹگریز میں (8 میڈیا گروپوں میں سے7) سب سے زیادہ ملکیت رکھنے والا میڈیا ہے اورریڈیو(7میڈیا گروپوں میں3) سب سے کم ملکیت رکھنے والا میڈیا ہے۔ پانچ میڈیا گروپ اخبارات کے مالک ہیں۔

کموسطزیادہ
اگرایک ملک کے اندرچوٹی کے 8 مالکان کا مختلف میڈٰیا سیکٹروں میں مارکیٹ کا حصہ 50% ہو۔اگرایک ملک کے اندرچوٹی کے 8 مالکان کا مختلف میڈٰیا سیکٹروں میں مارکیٹ کا حصہ 50% اور69% کے درمیان ہو۔

اگرایک ملک کے اندرچوٹی کے 8 مالکان کا مختلف میڈٰیا سیکٹروں میں مارکیٹ کا حصہ70%  سے زیادہ ہو۔

[Translate to Urdu:] Media Consumption Patterns in Pakistan [Translate to Urdu:] Retrieved from Synergyzer on 14 July 2019
[Translate to Urdu:] TV Audience shares 2017-2018, Gallup Pakistan
[Translate to Urdu:] Radio Audience shares, 2017-2018 Gallup Pakistan
[Translate to Urdu:] Print Readership Data 2018, Gallup Pakistan
[Translate to Urdu:] News Websites Audience Data 2017-2018, Gallup Pakistan
[Translate to Urdu:] Cross-Media Ownership Concentration, MOM Pakistan 2019 [Translate to Urdu:] MOM Calculations of cross-media ownership concentration

ضابطہ کاری کے اقدامات:ایک سے زیادہ اقسام کے میڈیا کی ایک ہاتھ میں ملکیت

نتیجہ:انتہائی خطرہ

اس اشاریہ کا مقصد مختلف اقسام کے میڈیا( پریس،ٹی وی ،ریڈیو،انٹرنیٹ ) ایک ہی فرد یاکمپنی کی ملکیت میں ہونے سے متعلق ریگولیٹری اقدامات (ہرشعبہ سے متعلق مخصوص یا مسابقتی قانون) موجودہونے اوران کے موثر عملدرآمدکاجائزہ لینا ہے ۔میڈیا کی ملکیت یا کنٹرول سے متعلق مختلف ممالک میں رائج حدودوقیود کو سامنے رکھتے ہوئے  انتہائی درجہ کاجائزہ اپنے ملک اورمقامی قوانین کے تحت نافذ حدودوقیود کی روشنی میں لینا چاہیے۔

وجہ ؟
نشریاتی اوراشاعتی میڈیا کی رجسٹریشن کے قوانین ایک سے زیادہ اقسام کے میڈیا کا مالک ہونے پر کوئی قدغن نہیں لگاتے  ہیں۔ پیمرا آرڈیننس میں 2007 سے قبل ترمیم سے پہلے ایک اخبار یا میگزین کے مالک کو نشریاتی میڈیا یعنی ٹیلی ویژن یا ریڈیو یا کیبل ٹیلی ویژن اسٹیشن کی ملکیت کی اجازت نہیں تھی  تاہم اس ترمیم کے ذریعے یہ پابندی اٹھا لی گئی  ۔مختلف اقسام کے میڈیا  کی ملکیت کا چند ہاتھوں میں ارتکاز روکنے  کیلئے سامعین اورناظرین کے حصہ ،سرکولیشن،سرمایہ کے حصص کی تقسیم یا ووٹنگ حق، مالکان کی آمدن  سے متعلق میڈیا قوانین خاموش ہیں۔
پیمرا قواعدوضوابط 2009 کا ضابطہ 13 کسی بھی ڈسٹری بیوشن سروس کے لائسنس کے حامل شخص،کنٹرولر یا چلانے والے  کوبلاواسطہ یا بالواسطہ لینڈنگ حقوق یا نشریاتی میڈیا کالائسنس دینے  یا دوسری صورت میں لینڈنگ حقوق کے حامل یا نشریاتی میڈیا کا لائسنس رکھنے والے کو ڈسٹری بیوشن سروس کالائسنس دینے سے منع کرتاہے  ۔
مسابقتی قانون   2010میں ایسی کوئی شق نہیں ہے  جو مختلف اقسام کامیڈیا ایک ہی ملکیت میں جانے سے روکنے کیلئے  لائسنسوں کی تعداد،سامعین یا حاضرین کا حصہ،سرکولیشن ،سرمایہ کے حصص کی تقسیم یا ووٹنگ حقوق،میڈیا مالکان کی آمدن سے متعلق کوئی مخصوص حدودوقیود لگاتی ہو ۔
پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 23 کے مطابق ‘‘کوئی بھی شخص نشریات یا براڈکاسٹ میڈیا چلانے یا اس کی تقسیم کاری کی خدمات کے حوالے سے کسی اجارہ داری سے فائدہ اٹھانے کا حق دار نہیں ہوگا’’ ۔یہ شق ضروری قراردیتی ہے کہ اتھارٹی لائسنس کے اجرا میں یقینی بنائے گی کہ کسی بھی علاقے میں ایک سے زیادہ میڈیا اداروں کی صورت میں انہیں مساوی اورمنصفانہ ماحول ملے اور کسی بھی شہر،قصبہ ،علاقہ یا پورے ملک  میں میڈیا کی ملکیت غیر ضروری طور پر ایک ہاتھ میں نہ جائے ۔
یہ شق لائسنس کے حامل کوکسی بھی ایسے عمل سے روکتی ہے جس سے آزادانہ مقابلے اورسب کو مساوی ماحول  کی فراہمی میں رکاوٹ پیداہو۔
¬ 1پیمرا قواعدکارول 13
اس اصول کو پیمرا قواعد 2009 میں مزیدتوسیع دی گئی ہے ۔اس قاعدہ کے مطابق کسی ایک کمپنی یا فرم کو کل چار سیٹلائیٹ ٹی وی ،چار ایف ایم ریڈیو کے لائسنس ،دو لینڈنگ حقوق کی اجازت مل سکتی ہے ۔ان قواعد کے تحت کسی ڈسٹری بیوشن سروس کے حامل ،آپریٹر ،کنٹرولر یا براہ راست یا بالواسطہ مالک کو لینڈنگ حقوق نہیں مل سکتے اسی طر ح لینڈنگ حقوق کاحامل کسی ڈسٹری بیوشن سروس کا لائسنس حاصل نہیں کرسکتا ۔
سپریم کورٹ آف پاکستان  نے ڈی ٹی ایچ لائسنس سے متعلق مشہور مقدمہ کافیصلہ سناتے ہوئے براڈکاسٹ میڈیا چلانے والے یا  کوئی موادپروڈیوس کرنے والے کو ڈسٹری بیوشن لائسنس نہ دینے کا اصول برقرار رکھا ہے ۔
پیمرا قواعد2009 کا رول 13 
تاہم رول13  ضروری قرار دیتا ہے کہ ایسا لائسنس یافتہ جوکسی دوسرے میڈیاادارے میں بھی بلاواسطہ یا بالواسطہ مفادات رکھتا ہو (الف ) اپنے زیر کنٹرول ہر اداے کیلئے الگ ادارتی بورڈ مقرر اورنگرانی کی سہولیات فراہم کرے گا (ب)اپنے زیر کنٹرول ہر ادارے کیلئے الگ انتظامی ڈھانچہ تشکیل دے گااور(پ ) اپنے زیر کنٹرول ہر ادارے کے حسابات کا الگ الگ ریکارڈ رکھے گا ۔
اوپر بیان کی گئی شقوں کے علاوہ ایک سے زیادہ اقسام کے میڈیا کی ملکیت ،سامعین اورحاضرین کے حصہ ،سرکولیشن ،آمدنی ،سرمایہ کے حصہ یا ووٹنگ حقوق سے متعلق قانون خاموش ہے ۔پیمرا نے میڈیا ملکیت کا ارتکازجانچنے کیلئے کوئی فارمولا ظاہر نہیں کیا ۔قانون مفادات کے ٹکرائو کے معاملے پر بھی خاموش ہے ۔
ضابطہ کاری کے اقدامات کاسکور:25 فیصد
8 میں سے 2:انتہائی خطرہ(25 فیصد)
میڈیا سے متعلق مخصوص قواعد/اتھارٹی=1
مسابقت سے متعلق قواعد/اتھارٹی 0.5
اہم نتائج :ایک سے زیادہ میڈیا کی ملکیت کی بے لگام اجازت کے باعث میڈیا ریگولیشنز منصفانہ مسابقت کوکمزورکرتے ہیں

ایک سے زیادہ میڈیا کی ملکیتتفصیلہاںنہیںدستیاب نہیںایم ڈی

کیا میڈیا قوانین میں مختلف اقسام کے میڈیا کی ملکیت کا ارتکاز روکنے کیلئے لائسنسوں کی تعداد،سامعین و ناظرین کے حصہ،سرکولیشن ،سرمایہ کےحصص کی تقسیم،ووٹنگ حقوق ،آمدنی سے متعلق  مخصوص قوانین موجود ہیں؟

پیمرا(براڈکاسٹ)پی سی پی (پرنٹ )یا پی ٹی اے (آن لائن) ایک سے زیادہ میڈیا کی ملکیت نہیں روکتے

 

0
کیا کوئی ایسی انتظامی اتھارٹی یا عدالتی باڈی موجود ہے جوان حدودیا شکایات(مثلاً میڈیا اتھارٹی) سننے کیلئے موجود ہو۔ان متغیریات کامقصد ان قوانین/ضوابط کاجائزہ لینا ہے جو سمعی وبصری میڈیا کی ملکیت کا ارتکاز روکنے کیلئے باقاعدہ نگرانی  یا منظوری کانظام فراہم کرتے ہیں۔

پیمرا(براڈکاسٹ)، پی سی پی (پرنٹ)، پی ٹی اے (آن لائن) کوایسا اختیارنہیں ہے

 

0

کیا قانون ان حدود کااحترام نہ کرنے کی صورت میں  تلافی (رویہ یا/ ڈھانچہ جاتی) کیلئے  ادارہ جاتی منظوری/نفادکےاختیارات دیتا ہے؟
ان متغیرات کامقصدجائزہ لینا ہے کیا قانون  میں میڈیا کے ہر سیکٹرسے متعلق قواعدو ضوابط کا باقاعدہ نظام موجود ہے جیسا کہ
*اضافی لائسنس نہ ملتا
*انضمام یا حصول کوروک دینا
*میڈیا کے دوسرےشعبوں میں لائسنس یا سرگرمیاں ترک کر دینا
*تقسیم
 

نہیں، پیمرا ، پی سی پی یا اورنہ پی ٹی اے کو ایسے اختیارات حاصل ہیں۔

 

0
کیااجازت دینے اور عمل درآمد کے ان اختیارات کا موثر استعمال کیا گیا؟
اس سوال کا مقصد قواعد میں دیئے گئے  چارہ جوئی کے اقدامات کے موثرہونے کاجائزہ لینا ہے۔

ابھی تک کوئی ایسی مثال سامنے نہیں آئی جس میں حکام نے ایک سے زیادہ اقسام کے میڈیا کی ملکیت ایک ہاتھ میں جانے سے روکی ہو۔

0


کیا مختلف اقسام کی میڈیا کی ایک ہی ہاتھ میں ملکیت کو انضمام کے ذریعے  کنٹرول/ مسابقتی قواعد سے روکا جاسکتا ہے جو میڈیا کے  مخصوص حصوں سے متعلق ہے ؟
مثال کے طورپرمسابقتی قانون کے ذریعے ایک سے زائداقسام کے میڈیا کی ایک ہاتھ میں ملکیت کوروکاجا سکتاہے۔
ایم اینڈاے کے مقدمات میں میڈیا اتھاارٹی کی مداخلت کے ذریعے (مثلاً مسابقتی اتھارٹی کی ذمہ داری میڈیا اتھارٹی سے رائے لینا ہے)
میڈیا میں تنوع اورعوامی مفاد میں مجاز اتھارٹی کی جانب سے میڈیا ملکیت کا ارتکاز منظورکرنے کو ختم کرنے  کے امکان کے باوجود قانون میں میڈیا سے متعلق مخصوص شقیں نہیں ہیں ۔یہ اپنے اطلاق میں میڈیا سیکٹر کو باہر نہیں نکالتا۔  


مسابقتی قواعد کے ذریعے مختلف اقسام ک میڈیا کی ملکیت کا ارتکاز روکا جاسکتا ہے ،مسابقتی کمیشن اس ضمن میں پپمرا سے مشاورت کرسکتا ہے۔ پیمرا اور پی ٹی اے کے قوانین انہیں مسابقتی کمیشن سے بالا اختیارات نہیں دیتے۔

0.5

کیا کوئی ایسی انتظامی اتھارٹی یاعدالتی باڈی موجود ہے جوان حدودیا شکایات(مثلاً میڈیا اتھارٹی یا مسابقتی اتھارٹی) سننے کیلئے موجود ہو۔ان متغیریات کامقصد ان قوانین/ضوابط ، مسابقتی قواعد کاجائزہ لینا ہے  جوانضمام  کے ذریعے کنٹرول سنبھالنے  کے دریعے میڈیا کی ملکیت کاارتکاز روکنے کیلئے باقاعدہ نگرانی  یا منظوری کانظام فراہم کرتے ہیں؟

جی ہاں۔ مسابقتی کمیشن پاکستان میڈیا کو ریگولیٹ کرنے والے اداروں سے بالاتر ہے۔

0.5


کیا قانون ان حدود کااحترام نہ کرنے کی صورت میں  تلافی (رویہ یا/ ڈھانچہ جاتی) کیلئے  ادارہ جاتی منظوری/نفادکےاختیارات دیتا ہے؟
منظوری اورعملدرآمدی اختیارات کی مثالیں اورقانون میں دستیاب چارہ جوئیاں
* انضمام اورحصول کوروک دینا
* کسی تیسرے فریق کے ذریعے پروگرام بنانے کیلئے  اجازت دینے کی ذمہ داری
 اس میں  لائسنس /میڈیا کی مختلف اقسام میں سرگرمیاں  ترک کرنے کی ذمہ داری لازماً ہونی چاہیے
*تقسیم

جی ہاں۔مسابقتی کمیشن کا  اختیار میڈیا ریگولیٹرز سے بالاتر ہے 

0.5

کیانفاذیامنظوری کے یہ اختیارات موثر طریقے سے استعمال ہوتے ہیں؟
اس سوال کا مقصد قواعد میں دی گئی چارہ جوئیوں کےموثر ہونے کا جائزہ لینا ہے۔

ایسی مثالیں موجود ہیں جن میں مسابقتی کمیشن نے میڈیا مارکیٹ کے لوگوں کے فیصلوں کو ختم کیا ہے۔ 

0.5

مجموعہ

  2

[Translate to Urdu:] Legal Assessment (MOM) Pakistan 2019 by Muhammad Aftab Alam [Translate to Urdu:] Contextualisation for the Media Ownership Monitor - Pakistan 2019
[Translate to Urdu:] PEMRA Rules 2009, Ministry of Information and Broadcasting [Translate to Urdu:] Accessed in April 2019
[Translate to Urdu:] The Supreme Court of Pakistan, Civil Appeal No. 700 [Translate to Urdu:] Accessed on on 11 June, 2019

ملکیت کی شفافیت

نتیجہ: درمیانے درجہ کا خطرہ

یہ اشاریہ میڈیا مالکان کی سیاسی وابستگیوں سے متعلق ڈیٹا کی شفافیت کا جائزہ لیتا ہے کیونکہ ملکیت کی شفافیت میڈیا اجتماعیت کے نفاذ اور ملکیت سے متعلق معلومات تک رسائی کیلئے اہم اورلازمی شرط ہے۔ 

لیکن کیوں؟ 

پاکستان میں قانون کے تحت نجی شعبہ کی میڈٰیا کمپنیوں سے ان کی ملکیت کے ڈھانچے یا مالی معلومات ظاہر یا شائع کرنے کا نہیں کہا جاتا تاہم تمام نجی رجسٹرڈ کاروباراکائونٹس کی سالانہ تفصیلات جمع کرانے کی پابند ہیں جن میں حصص مالکان اور کاروبارکو رجسٹرکرنے والے ادارے سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کے ساتھ شراکت داروں کی تفصیلات بھی شامل ہوں گی۔ قانون کے تحت ان معلومات کے بدلے کسی سے بھی تھوڑی سی فیس بھی لی جاسکتی ہے۔اس کے علاوہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (PEMRA)  کی جانب سے پرائیویٹ سیکٹر میں الیکٹرانک میڈیا ( ٹی وی چینلز اور ریڈیو اسٹیشنز) کے لائسنس صرف ایس ایس سی پی کے ساتھ رجسٹرڈ کمپنیوں کو دیئے گئے ہیں۔ یہ عمل پیمرا کو ٹی وی اور ریڈیو کی ملکیت رکھنے والی کمپنیوں کی ملکیت اور مالی امور سے متعلق معلومات کا ذخیرہ بناتا ہے۔ معلومات کے حق کا قومی قانون پیمرا کو اختیار دیتا ہے کہ کسی کی جانب سے مانگی گئی معلومات فراہم کی جائے۔ ویب سائٹس اور اخبارات کیلئے رجسٹریشن یا کمپنیوں کی جانب سے ملکیت ہونا لازمی قرار نہیں دیا گیا ہے اور ان کی ملکیت یا مالی معلومات کسی مخصوص سرکاری ادارے کے پاس رکھنا بھی ضرور نہیں ہے۔      

نومبر 2018 سے مئی 2019 تک کے تحقیق کے عرصہ کے دوران ایم اوایم ٹیم نے شراکت داروں سمیت ملکیت کے ڈھانچہ سے متعلق میڈٰیا کے 40 اداروں سے متعلق ان سے براہ راست (تفصیلی سوالنامہ پر مبنی)، ایس ای سی پی، پیمرا اور اطلاعات کی وفاقی وصوبائی وزارتوں اورمحکموں سے معلومات حاصل کیں، ان میں سامعین وناظرین اور قارئین کے سب سے زیادہ حصہ کے ساتھ ٹی وی چینلز، ریڈیو اسٹیشنز، اخبارات اور نیوز ویب سائٹس کے چاروں کیٹیگریوں میں چوٹی کے دس دس ادارے شامل ہیں۔ معلومات کیلئے درخواست فون رابطوں، ای میل، خط وکتاب کے ذریعہ دی گئیں جبکہ سرکاری دفاتربھی خود جاکرمعلومات کے حق کے مقررہ طریقہ کار کے تحت معلومات کی درخواستیں دی گئیں۔ 

نتائج 
40 میڈیا اداروں سے ملکیت سے متعلق معلومات تک رسائی اور معلومات کی شفافیت کے حوالے سے کی گئی تحقیق کے نتائج درج ذیل ہیں: 

ذریعہ فعال شفافیت غیرفعال شفافیت ڈیٹاعام طورپر دستیاب ڈیٹادستیاب نہیں بھرپورطریقہ سے چھپانا ذریعہ وار شفافیت 

اخبارات 

(10 ادارے) 

0010 (100%)00100%

ٹی وی 

(10 ادارے) 

01 (10%)9 (90%)00100%

ریڈٰیو 

(10 ادارے) 

02 (20%)5 (50%)2 (20%)1 (10%)70%

آن لائن میڈیا 

(10 ادارے) 

0010 (10%)00100%

کل

(40ادارے)

0 (0%)3 (7.5%)34 (85%)2 (5%)1 (2.5%)

فعال شفافیت۔۔۔۔ %0

(یہ کیٹیگری میڈیا اداروں کی ملکیت، مسلسل اور آسانی کے ساتھ قابل اعتماد اورجامع ڈیٹا کے بارے میں بتاتی ہے) 

نتیجہ: پاکستانی میڈیا ملکیت کو فعال طور پرظاہر نہیں کرتاہے 

پاکستان میں سامعین وناظرین اور قارئین کے اعتبار سے چوٹی کے40 میڈیا ادارے میں سے کسی ایک ادارے نے بھی ملکیت کے حوالے سے معلومات فعال طور پرظاہر نہیں کیں اورمیڈیا صارفین کو فوری طورپر پتہ نہیں چلتا کہ جس میڈیا کے وہ صارف ہیں اس کا مالک کون ہے اور اس کی کاروباری سیاسی وابستگیاں کیا ہیں؟ 


غیرفعال شفافیت ۔۔۔۔ %7.5 

(اس کیٹیگری میں بتایاگیا ہے کہ درخواست دینے پرمیڈیا ادارے یا کمپنی سے ملکیت کا ڈیٹا بآسانی دستیاب ہوگا) 

نتیجہ: پاکستانی میڈیا ملکیت کی شفافیت سے متعلق مکمل طورپرمبہم ہے 

40 میڈیا اداروں سے ملکیت کی معلومات حاصل کرنے کیلئے فون پر رابطہ کیاگیا جبکہ ای میل اور خط وکتابت بھی کی گئی لیکن صرف ایک اخبار، ایک ٹی وی چینل اور 2 ریڈیو چینلز نے جواب دیا اور باضابطہ طور پر معلومات فراہم کیں۔ سامعین وناظرین اور قارئین کے اعتبارسے پاکستان کے 90 فیصد سب سے بڑے میڈیا اداروں نے مانگنے پراپنی ملکیت یا حصص مالکان سے متعلق معلومات دینے سے انکارکردیا۔ 

ڈیٹا عام طور پر دستیاب ہے ۔۔۔۔ %85 

(اس کیٹیگری میں بتایاگیاہے کہ میڈیا ادارے یا کمپنی سے متعلق ملکیت کا ڈیٹا دوسرے ذرائع یعنی سرکاری رجسٹریوں سے آسانی سے دستیاب ہے) 
نتیجہ: الیکٹرانک میڈیا(ٹی وی اور ریڈیو)، پرنٹ میڈیا کی ملکیت، ٹی وی اور ریڈیو کے حصص مالکان اور مالی امورسے متعلق ڈیٹا ایس ای سی پی سے دستیاب ہے لیکن الیکٹرانک میڈیا کا ریگولیٹر پیمرا نے عام طور پراس کی حوصلہ شکنی کی۔ 

سامعین وناظرین اور قارئین کے حصہ کے اعتبارسے پاکستان میں چوٹی کے 40 میڈیا اداروں کا اس تحقیق میں سروے کیا گیا جس کے مطابق 10 میں سے ٹی وی چینلز9 اور 10 میں سے 9ریڈیو اسٹیشنز نجی ملکیت کے حامل ہیں۔ چونکہ نجی ٹی اور ریڈیو ایس ای سی پی کے ساتھ رجسٹرڈ کمپنیوں کی ملکیت ہیں، مالی سال2017-18 کیلئے ایس ای سی پی کو ان 18 الیکٹرانک میڈیا کے اداروں کی ملکیت، حصص مالکان اور مالی معاملات کی تفصیلات کے حصول کیلئے درخواستیں دی گئیں۔ ایس ای سی پی نے ایم او ایم ٹیم کوان کمپنیوں کی اجنب سے جمع کرائی گئی سالانہ لازمی تفصیلات فراہم کیں(مختلف مالی سالوں کیلئے جمع کرائی گئی یہ تفصیلات ان تمام کمپنیوں سے مطابقت نہیں رکھتیں)۔ پیمرا کی ویب سائٹ پرکمپنی کا نام اورکمپنی کے مالک سمیت لائسنس کا بنیادی ڈیٹا دستیاب ہے، اگرچہ الیکٹرانک میڈیا کا ریگولیٹر معلومات تک رسائی کی یکسرحوصلہ شکنی کرتا ہے۔  سامعین وناظرین اور قارئین کے اعتبارسے چوٹی کے 10 اخبارات میں سے9 اور چوٹی کی 10 ویب سائٹس میں سے8 کی ملکیت سے متعلق ڈیٹا بھی عام طور پر دستیاب ہے۔ 

 

ڈیٹا کی عدم دستیابی ۔۔۔۔ %5 

(اس کیٹیگری کے مطابق میڈیا ادارے یا کمپنی کا ملکیت سے متعلق ڈیٹا عام طور پر دستیاب نہیں ہے، میڈیا کمپنی معلومات دینے سے انکار کرتی ہیں یا جواب نہیں دیتی یا عمومی ریکارڈ دستیاب ہی نہیں) 
نتیجہ: پرنٹ میڈیا اور آن لائن نیوز میڈیا کی ملکیت کی معلومات تک رسائی نسبتاً آسان ہے لیکن ان کے حصص مالکان کی معلومات تک رسائی اکثر مشکل ہے۔ 
پرنٹ میڈیا کو ریگولیٹ کرنے والا ادارہ پاکستان پریس کونسل (PCP) الیکٹرانک میڈیا کے ریگولیٹر PEMRAکی طرح لائسنس جاری کرنے کا اختیارنہیں رکھتا، اس لئے پی سی پی کے پاس رجسٹریشن اورملکیت کی تفصیلات نہیں ہیں۔ اخبارکے مالک کوایس ای سی پی کے ساتھ رجسٹریشن کرانا لازمی نہیں ہے، اس لئے اس ذریعہ سے بھی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ صرف معلومات کے دوسرے دو ذرائع وفاقی وصوبائی وزارت اطلاعات یا محکمے اور میڈیا ادارے خود ہیں۔ جن 40 میڈیا اداروں پر تحقیق کی گئی ہے ان میں سے صرف 2 ریڈیو اسٹیشنز اور2 نیوز ویب سائٹس سممیت 4 اداروں کا کسی بھی ذریعہ سے ڈیٹا دستیاب نہیں تھا۔ میڈیا ادارے اورحکومت کے اطلاعات کے محکمے حصص مالکان سے متعلق معلومات کی فراہمی کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ 

فعال چھپانا ۔۔۔ %2.5 

(یہ کیٹیگری بتاتی ہے کہ حقیقی ڈیٹا کی عدم دستیابی دراصل مالکان کی جانب سے جعلی کمپنیوں وغیرہ کے ذریعہ ڈیٹا کو چھپانا ہے) 
نیتجہ: انتہائی مشہورومعروف ریڈیو اسٹیشن ایف ایم 100 کراچی کی ملکیت کی معلومات دینے سے مکمل طورپر انکارکیاگیا اورچھپائی گئیں جبکہ معلومات کے حق کی درخواست کو بھی رد کردیاگیا  
سامعین وناظرین اورقارئین کے اعتبارسے تحقیق کئے گئے 40 میڈیا اداروں میں سے ایک ادارے نے ملکیت سے متعلق معلومات کو بھرپورطریقہ سے چھپایاگیا۔ 23 جنوری 2019 کو کوریئر کمپنی اور ای میل کے ذریعہ ریڈیو اسٹیشن کومعلومات کیلئے درخواست بھیجی گئی لیکن جواب نہیں دیاگیا۔ 15 فروری2019 کوکوریئراور17 فروری کوای میل کے ذریعہ یاددہانی کرائی گئی لیکن جون 2019 میں تحقیق مکمل ہونے تک جواب موصول نہیں ہوا۔ حیران کن طور پر پیمرا کی ویب سائٹ پر دی گئی لسٹ میں کمپنی فرسٹ میڈیا سروس پرائیویٹ لمیٹڈ اس ریڈیو اسٹیشن کی مالک دکھائی گئی ہے تاہم یہ کمپنی ایس ای سی پی کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں ہے۔ 
اس بات کی تصدیق کرنے کیلئے کہ فرسٹ میڈیا سروس پرائیویٹ لمیٹڈ ایف ایم 100 کراچی اسٹیشن کی مالک ہے، 29 اپریل 2019 کو پیمرا اور ایس ای سی پی کو خطوط لکھے گئے لیکن جون 2019 میں تحقیقی کام مکمل ہونے تک جواب نہیں ملا۔ ادارے کے دیئے گئے فون نمبرز سے بھی جواب نہیں ملا۔ تفصیلات کیلئے 8 مئی 2019 کو بھی ای میل ایڈریس Contact Us پر پیغام بھیجا گیا لیکن  انٹرنل سرور خرابی کی وجہ سے پیغام نہ جاسکا، اس خوابی کو پکڑنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ ہماری درخواست کو مکمل کرنے کے قابل نہیں تھا اور جواب آیا کہ اس خرابی کے بارے میں بتانے کیلئے webmaster@fm100pakistan.com  پرسرورایڈمنسٹریٹرسے رابطہ کرنے کا کہا گیا، 500 سرور خرابی کو ایرر ڈاکیومنٹ استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پکڑلیاگیا۔10 مئی 2019 کوایم اوایم ریسرچر کو ایف ایم ایس سے متعلق ایم اوایم پاکستان کے جاننے کے حق سے متعلق ایس ای سی پی سے ایک جوابی کال آئی، افسر نے تصدیق کی کہ ہمارے ساتھ فرسٹ میڈیا سروس پرائیویٹ لمیٹڈڈ کے نام سے کمپنی رجسٹرڈ ہے۔ تحریری طور پرتصدیق کرنے کی درخواست کو نظرانداز کیاگیا۔ 

ایم او ایم پاکستان نے ایس ای سی پی کو 6 مئی 2019 کو ایک اور خط بھیجا جس میں ریگولیٹری سے درخواست کی گئی کہ ایف ایم 100 کراچی کی مالک فرسٹ میڈیا سروس پرائیویٹ لمیٹڈکے نام سے کوئی کمپنی ایس ای سی پی کے ساتھ رجسٹرڈ ہے اور29 مئی 2019 کو اس کا ایم او ایم پاکستان کو جواب موصول ہوگیا جس میں کہاگیا کہ فرسٹ میڈٰا سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام سے کوئی کمپنی ایس ای سی پی کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں ہے تاہم ایک کمپنی فرسٹ میڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ جس کا CUIN نمبر 0068001 ہے، ایس ای سی پی کے ساتھ رجسٹرڈ ہے۔ 
 

ایم او ایم پاکستان نے پیمرا کو بھی 29 اپریل 2019 کو خط بھیجا جس میں کمپنی سے متعلق پوچھا گیا تھا۔ پیمرا نے 15 مئی 2019 کو ایک  باضابطہ خط کے ذریعہ جواب دیا کہ جس میں کہاگیا کہ آپ کی درخواست مناسب سطح پر زیرغور لایا گیا ہے تاہم معلومات کے حق کےایکٹ 2017 کے سیکشن جی اور ایچ کے تحت مانگی گئی معلومات ابھی فراہم نہیں کی جاسکتیں۔ 

کمدرمیانہانتہائی

میڈیا مالکان اور ان کی سیاسی وابستگیوں سے متعلق ڈیٹا عام طور پر دستیاب اور شفاف ہے۔ (فعال شفافیت) 

نمونے کے 75 % سے زائدپرلاگو ہونے کی صورت میں کوڈ 

میڈیا مالکان اور ان کی سیاسی وابستگیوں سے متعلق ڈیٹا صحافیوں کی تحقیقات اور میڈیا کے حقوق کیلئے کام کرنے والوں کی کی بنیاد یا درخواست پرظاہرکیاگیا۔ 

نمونے کے  %50 سے زائدپرلاگو ہونے کی صورت میں کوڈ 

میڈیا مالکان کی سیاسی وابستگیوں پر ڈیٹاعام طورپرآسانی سے قابل رسائی نہیں ہے اورتحقیقاتی صحافیوں اورمیڈیا کیلئے کام کرنے والے افراداس ڈیٹا کو ظاہرکرنے میں کامیاب نہیں ہیں۔ 

(ڈیٹا عدم دستیاب، فعال پوشیدگی 

نمونے کے  %50 سے کم پرلاگو ہونے کی صورت میں کوڈ 

ضابطہ کاری کے اقدامات : ملکیت کی شفافیت

نتیجہ:کم خطرہ

اشاریے کا مقصد شفافیت کی موجودگی اور اس پر موثر عملدرآمد کا جائزلینا ہے اورمیڈیا کی ملکیت یا کنٹرول کے حوالے سے شقوں سے آگاہ کرناہے۔

کیوں؟

پاکستانی قوانین کے تحت نشریاتی ذرائع ابلاغ کے اداروں کو اپنا کاروبار چلانے کیلئے رجسٹرڈ ہونا پڑتا ہے جس کیلئے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کے ساتھ رجسٹریشن لازمی ہے۔ کمپنیوں کا رجسٹریشن لا اس بات کا پابند بناتا ہے کہ کمپنیاں رجسٹریشن کے وقت ملکیت کی حیثیت، سرمایہ کاری اور آمدن کے ذرائع کو ظاہر کریں۔ نشریاتی کمپنیوں کو ایس ای سی پی کو سالانہ کارپوریٹ اسٹیٹمنٹ جمع کرانا ہوتی ہے جس میں ملکیت کے ڈھانچہ اور اکائونٹس کی سالانہ اسٹیٹمنٹ میں کسی قسم کی کوئی تندیلی کی تفصیل بیان کرنا ہوتی ہے، ایس ای سی پی کو جمع کرائی گئی معلومات عوام کی رسائی کیلئے دستیاب ہوتی ہے جو ایک نظام کے تحت برائے نام فیس کی ادائیگی کے بعد حاصل یا دیکھی جاسکتی ہے۔

میڈیا کمپنیوں کے ساتھ ہی ساتھ اکائونٹس کی سالانہ اسٹیٹمنٹ اور ٹیکس گوشوارے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(FBR) کو بھی جمع کرانا ہوتے ہیں تاہم ان معلومات تک ٹیکس دہندگان کی فعال فہرست (ATL) کے سوا کسی کی رسائی نہیں ہے جو صرف مسلسل ٹیکس اداکرنے والوں کے ناموں پر مشتمل ہوتی ہے لیکن اس میں اعدادوشمار فراہم نہیں کئے گئے۔

کمپنی کواکائونٹس کی اسٹیٹمنٹ پیمراکو بھی جمع کرانا ہوتی ہے تاکہ خالص منافع پر واجبات اور پیمرا کو ادائیگیوں کا تناسب طے کیا جاسکے تاہم اخبار کی ڈیکلیئریشن اور ویب کی بنیاد پر میڈیا کیلئے ایس ای سی پی کے ساتھ کمپنی رجسٹرڈ کرانا ضروری نہیں ہے۔ اخبارات کیلئے رجسٹریشن لا کے تحت بولی کی شفافیت اور اکائونٹ کی تفصیلات ظاہر کرنے کی شرط نہیں ہے۔

مزید یہ کہ پیمرا، پی ٹی اے اور اخبارات کے رجسٹریشن لا سمیت تمام میڈیا کی رجسٹریشن کے حوالے سے قوانین لائسنس یافتگان سے کہتے ہیں کہ وہ متعلقہ ضابطہ کاری یا رجسٹریشن کے ادارے کو اپنی ملکیت کے ڈھانچہ میں تبدیلیوں سے آگاہ کریں۔

ضابطہ کاری کا شعبہ لائسنس یافتہ کمپنیوں سے یہ بھی کہتا کہ وہ معلومات کو عام کردیں تاہم معلومات تک رسائی کے ایکٹ2017 میں کمپنیوں سمیت تمام رجسٹرڈ اداروں کی تعریف " پبلک باڈی" کی گئی ہے۔ ایکٹ کی سیکشن 5 میں تمام پبلک اداروں سے کہاگیا ہے کہ معلومات کی 39 کیٹیگریز کو اپنی ویب سائٹس کے ذریعہ ظاہر کریں لیکن انہیں ڈائریکٹرز، ان کے معاوضہ، مراعات اور سالانہ آڈٹ رپورٹس کی تفصیلات تک محدود نہیں کیاگیا۔

Regulatory Safeguards Score: 90%

4.5 out of 5 = 90%

اہم نتائج: پاکستانی قواعد وضوابط کے تحت بے نامی میڈیا ملکیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے

شفافیت کی شقیںتبصرہہاں  نہیںدستیاب نہیںیم ڈی
کیا قومی (میڈیا کمپنی، ٹیکس) قانون شفافیت،ایسی شقوں کے اظہار پر مبنی ہوتا ہے جو میڈیا کمپنیوں پر زور دیں کہ وہ اپنی ملکیت کے ڈھانچہ کو اپنی ویب سائٹ یا ریکارڈز اوردستاویزات میں بتائیں جس کی رسائی عوام تک ہو؟
اس سوال کا مقصدیوزرز شہریوں بالعموم عوام کیلئے شفافیت کے ضابطہ کاری کے اقدامات پر نظر رکھنی ہے۔

ایس ای سی پی اور معلومات تک رسائی کے قوانین شفافیت اور ظاہر کرنے کی فعال شقوں پر مشتمل ہیں۔

1

کیا قومی (میڈیا کمپنی، ٹیکس) قانون شفافیت،ایسی شقوں کے اظہار پر مبنی ہوتا ہے جو میڈیا کمپنیوں پر زور دیں کہ وہ اپنی ملکیت کے ڈھانچہ میں تبدیلی سے متعلق سرکاری حکام(میڈیا اتھارٹی )کوآگاہ کریں؟
 اس سوال کا مقصدسرکاری  اداروں کے حوالے سے احتساب اور شفافیت کو ضابطہ کاری کے اقدامات پر نظر رکھنا ہے۔

ایس ای سی پی، پیمرا اور پی ٹی اے ملکیت کے ڈھانچہ میں تبدیلی سے متعلق شفافیت اورواضح شقوں کوطلب کرتی ہے۔ اخبارات کے رجسٹریشن قوانین بھی اس طرح کااظہار مانگتے ہیں۔ 

1

کیا ملکیت کے ڈھانچہ میں ہر تبدیلی کے بعد متعلقہ معلومات بتایا قومی قانون میں لازمی قراردیاگیاہے۔
 اس سوال کا مقصدیہ جانچنا ہے کہ آیا میڈیا کی ملکیت پر مستند اور تازہ ترین ڈیٹا کی عوام کیلئے دستیابی پرقانون کوئی قواعد وضوابط فراہم کرتاہے۔یہ شرط موثر شفافیت کیلئے ہے۔

 

1

کیا ظاہر کرنے کی ذمہ داریوں کے عدم احترام کی صورت میں کوئی دفعات موجودہیں؟
اس سوال کامقصد یہ جائزہ لینا ہے کہ دفعات لاگو کرکے میڈیا ملکیت کی شفافیت سے متعلق قانون پر علمدرآمد کرانا ہے۔

جی ہاں! معلومات تک رسائی کے قوانین میں جرمانے کی دفعات موجود ہیں۔

1  

 

 

کیا یہ ذمہ داریاں اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ عوام یہ جانتی ہے کون سا قانونی یا اصل شخص میڈیا کمپنی کی ملکیت یا کنٹرول کو موثر طور پر تسیلم کرتاہے؟
اس سوال کامقصد میڈیا ملکیت کی شفافیت سے متلعق قوانین کے موثر ہونے کا جائزہ لینا ہے  اور یہ کہ وہ میڈیا اداروں کی اصل ملکیت ظاہر کرانے میں کامیاب ہوگئے۔

جی ہاں! معلومات تک رسائی کے قوانین اظہار کے حوالے سے اطلاق کے اختیارات سے مزین ہیں 

0.5

کل اشاریے

 4.5

Legal Assessment (MOM) Pakistan 2019 by Muhammad Aftab Alam [Translate to Urdu:] Contextualisation for Media Ownership Monitor - Pakistan 2019

میڈیا اداروں اور ان کی تقسیم کارنظام پرسیاسی کنٹرول

نتیجہ: درمیانہ سے انتہائی خطرہ

یہ اشاریہ سیاسی وابستگیوں کے خطرات اور میڈیا اور تقسیم کارنیٹ ورکس پر کنٹرول کرنے کا جائزہ لیتا ہے۔ یہ سیاسی طور پر منسلک میڈیا تقسیم کار نیٹ ورکس کی جانب سے امتیازی سلوک کے سطح کا بھی جائزہ لیتا ہے۔ مثال کے طورپران امتیازی سلوک کے اقدامات میں تقسیم کارسسٹم تک رسائی پانے والے میڈیا کیلئے ناجائز قیمتوں کا تعین اور درپیش رکاوٹیں شامل ہیں۔   سیاسی وابستگیوں کا مطلب یہ ہے کہ میڈیا ادارہ یا کمپنی کا کسی پارٹی، پارٹی گروپ، پارٹی لیڈر یا کسی سیاستدان سے واضح طور پر تعلق ہو۔

کیوں؟


پاکستان میں میڈیا اور تقسیم کار نیٹ ورکس کی ملکیت پر سیاسی کنٹرول کیخلاف کوئی واضح ضابطہ کاری کے اقدامات نہیں ہیں۔ مقامی قوانین میں میڈیا کی کسی کیٹگری میں سیاسی ملکیت کی کوئی قدغن نہیں ہے۔ الیکٹرانک میڈیا قوانین کے مطابق لائسنس حاصل کرنے والا یقینی طور پر ایک رجسٹرڈ کمپنی کاحامل ہوگا لیکن اس کیلئے سیاسی وابستگی کی وضاحت نہیں مانگی جاتی۔ پرنٹ میڈیا کیلئے پہلے مقامی حکومتوں کے حکام کے ساتھ رجسٹریشن کو لازمی قراردیا گیا ہے لیکن اس میں بھی سیاسی وابستگی کو ظاہر کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ ایک ویب سائٹ کے قیام کیلئے نہ تو سرکاری رجسٹریشن کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی سیاسی وابستگی ظاہر کرنا ضروری ہوتا ہے۔ مالکان یا ان کے فیملی ممبران کیلئے سیاسی وابستگی ظاہرکرنے کو بھی ضروری قرار نہیں دیا گیاہے۔

اہم نتائج:

•    سب سے زیادہ سامعین وناظرین وقارئین کے ساتھ پاکستانی میڈیا (چوٹی کے 40 اداروں میں سے7) کے  تقریباً پانچویں (17.5%) حصہ کے مالکان یا خاندان سابقہ یا موجودہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ تعلقات رکھتے ہیں۔
•    اخبارات کی ملکیت یا فیملی کی سیاسی وابستگیاں زیادہ نمایاں جبکہ ریڈیو اور ٹی وی میڈیا کی کم ہوتی ہیں۔
•     میڈیا تقسیم کار یا رسائی پرسیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے سیاسی وجوہات کی بنا پر جزوی اثرورسوخ ہوتا ہے۔

ٹی وی، ریڈیو اور اخبارات میں سیاسی ملکیت

پاکستان میں مالکان یا ان کی فیملی کے ممبران کا سیاسی وابستگیاں ظاہر کرنا لازمی نہیں اس لئے میڈٰا مالکان کا سیاسی وابستگیوں یا سیاسی اثر و رسوخ کا اندازہ لگانا مشکل ہے کہ ان کی ملکیت یا کاروباری فوائد پررسمی یا غیر رسمی سیاسی وابستگیاں ہیں۔

پاکستان میں سامعین وناظرین اور قارئین کے حصہ کے اعتبارسے چوٹی کے 40 نیوز میڈیا ( ٹی وی، ریڈیو، اخبارات اور آن لائن میڈیا کی ہرکیٹگری میں سے10) سے متعلق اس رپورٹ کیلئے تحقیق کیلئے دستیاب ریکارڈ کسی بھی میڈیا مالک یا حصص مالکان کا براہ راست یا فعال سیاسی تعلق یا وابستگی کو ظاہر نہیں کرتا۔

تاہم چوٹی کے ٹاپ 40 میڈیا اداروں کے اندرایک سے زیادہ میڈیا ملکیت کے 4 گروپوں سمیت 7 میڈیا ادارے ایسے ہیں جن کی مالک فیملیاں ماضی یا حال میں انتخابی سیاست سمیت قومی یا صوبائی سیاست میں حصہ لینے کے حوالے سے جانی جاتی ہیں۔ تاہم موجودہ سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے موجودہ مالکان سے متعلق کوئی معلومات نہیں ملیں۔ اس بارے میں بھی معلومات نہیں ملیں کہ آیا یہ گروپ یا چوٹی کے 40 میڈیا اداروں میں کسی ایک گروپ نے اپنے کاروباری فوائد کیلئے کوئی سیاسی اثر ورسوک استعمال کیا ہو۔

ڈان گروپ۔۔۔۔ ہارون سہگل فیملی

ڈان گروپ کی ہارون فیملی کے ممبران مختلف حکومتوں کا حصہ اور سرکاروں عہدوں پر براجمان رہے ہیں:۔

  • ڈان کے چیف ایگزیکٹو آفیسرحمید ہارون کے دادا سرعبداللہ حسین ہارون برطانوی انڈیا میں ایک ممتاز تاجر اور سیاستدان تھےٍ، وہ بلدیہ کراچی کے دو مرتبہ (1913-16 اور1921-34) رکن رہے، انڈین نیشنل کانگریس کے (1917-19) ممبر اور(1920-30) سندھ مسلم لیگ کے صدر رہے۔
  • حمید ہارون کے چچا یوسف ہارون پاکستان ہیرالڈ پبلی کیشنزپرائیویٹ لمیٹڈ جو ڈیلی ڈان کی ملکیت رکھتی ہے کے شریک بانی تھے۔ 1966 میں انہوں نے مختصروقت کیلئے اخبار کے چیف ایڈیٹرکے طور پرکام کیا اس کے بعد سب سے طویل عرصہ تک کام کرنے والے ایڈیٹر الطاف حسین پاکستان کے پہلے فوجی آمر جنرل ایوب خان کی کابینہ میں وزیر بنے۔ یوسف ہارون برطانوی انڈیا کے آخری مرکزی قانون ساز اسمبلی کے ممبر بھی تھے، جناح کیمپ کے معاون، 1969 کے مارچ سے ستمبر تک مغربی پاکستان کے گورنر اور(1949-50) میں صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ رہے۔
  • حمید ہارون کے ایک اور چچا محمود ہارون بھی پاکستان ہیرالڈ پبلی کیشنزپرائیویٹ لمیٹڈ کے شریک بانی تھے۔ وہ کراچی کے میئر(1954-55)، وفاقی وزیر داخلہ(1978-84)، وفاقی وزیردفاع (جون تا دسمبر 1988)، صوبہ سندھ کے گورنر(1990-1993 اور1994-95) اور دبئی سے 1978 میں شروع کئے گئے انگریزی اخبار روزنامہ خلیج ٹائمز کے شریک بانی تھے۔
  •  حمید ہارون کے بڑے بھائی حسین ہارون پاکستان کے وزیرخارجہ (مارچ تا اگست 2018)، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب (2008-12) اور سندھ کی صوبائی اسمبلی کے اسپیکر(1985–86) رہے۔

دنیا گروپ، میاں فیملی
میاں عامرمحمود دنیا میڈیا گروپ کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں جو چوبیس گھنٹے چلنے والے خبروں اورحالات حاضرہ کے ٹی وی چینلز دنیا نیوز اور لاہور نیوز کے مالک ہیں۔ لاہور نیوز ایک کروڑ سے زائد آبادی والے پاکستان کے دوسرے بڑے شہرلاہور کی خبروں کی کوریج تک محدود ہے، اس چینل نے 2016 میں نشریات کا آغاز کیا۔ میاں عامر محمود سیاسی تعلیم کے کاروبار کے پس منظر کی حامل شخصیت ہیں۔

میاں عامرمحمود پاکستان کے دورے بڑے شہر لاہور کے چارسال کی مدت کیلئے 2001 سے 2009 تک دومرتبہ میئر رہے۔ ان کی سیاست کا زیادہ وقت 1987 میں دائیں بازوکی جماعت اسلامی کے ساتھ گزرا جب وہ پہلی مرتبہ لاہور میں سٹی کونسلر منتخب ہوئے۔

مشرق گروپ، شاہ فیملی
مشرق گروپ کی مالک شاہ فیملی صوبہ خیبرپختونخوا کی سیاست کا حصہ رہے ہیں۔

  • مشرق کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید ظاہر علی شاہ مشرق کے چیف ایڈیٹر سید ایاز بادشاہ کے چچا زاد بھائی ہیں۔ وہ 2008 سے 2013 کے عرصہ کے دوران صوبہ خیبرپختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی کے سابق وزیراعلیٰ کی کابینہ میں وزیرصحت رہے۔
  • سید ظاہر علی شاہ مرحوم سیاستدان اور تاجر سید ظفر علی شاہ کے صاحبزادے بھی ہیں۔ ظاہر شاہ فیملی کے دیگر ممبران کی نسبت سیاست میں زیادہ متحرک ہیں۔ انہوں نے پشاور میں مرحومہ بینظیر بھٹوشہید کی پاکستان پیپلزپارٹی کو زندہ رکھنے میں کلیدی کرداراداکیا اور 2012 میں طاقتور رہنما آفتاب احمد خان شیرپائو کے پارٹی قیادت سے اختلافات کے بعد پارٹی چھوڑنے سے پارٹی کو بحران سے نکالنے کیلئے صوبائی صدارت پر براجمان ہوئے۔

کاوش گروپ، قاضی فیملی
سندھ کے کاوش میڈیا گروپ کی قاضی فیملی نے کبھی انتخابی سیاست میں حصہ لیا تو کبھی اس کا منتخب قومی سیاستدانوں سے تعلق رہاہے۔
2012 میں کاوش میڈیا گروپ کے ٹی وی چینل کے ٹی این کے پہلے چیف ایگزیکٹو آفیسر علی قاضی نے اس عزم کے ساتھ تبدیلی پسند پارٹی قائم کرکے اپنے سیاسی کیریئرکا آغاز کیا کہ میرٹ، بہتر حکمرانی، مساوات، انصاف اور شفافیت کو فروغ دیا جائے گا۔ خاندانی میڈیا بزنس سے کنارہ کشی سے پہلے انہوں نے گروپ کے معاشی مفادات کو بچانے کیلئے ایڈیٹرکے عہدہ کو چھوڑدیا کیونکہ ان کا سیاسی نظریہ سندھ میں غالب سیاسی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ براہ راست متصادم تھا۔2018 میں عام انتخابات میں شکست کے بعدان کے بھائیوں نے علی کی حمایت کرناچھوڑدی اور انہوں نے کراچی سے ایک آن لائن اخبارّ" پاہنجی اخبار" شروع کیا۔وہ اب بھی اپنے بھائیوں سے ناراض ہیں اوراب کاوش میڈیا گروپ انہیں اپنا حریف سمجھتاہے۔ اس سے پہلے علی نے اپنے حریف اخباروں روزنامہ سندھ اور روزنامہ تعمیر سندھ کا مقابلہ کرنے کیلئے گروپ کے دوسرے اخبار روزنامہ کوشش کی اشاعت کاآغازکیا۔

امت میڈٰیا، افغان فیملی
میڈیا کے بانیوںم چیف ایگزیکٹوافسران اور مینجرز کا جماعت اسلامی سے گہرا تعلق رہا ہے۔ امت اخبار کا دائیں بائیں کی سیاست کی جانب بے باک جھکائو رہا ہے۔
رفیق افغان روزنامہ امت کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں جو 1980 کی دہائی کے آغاز میں کراچی میں ایک طالبعلم رہنما تھے، وہ جماعت اسلامی کے طلبہ تنظیم سے منسلک تھے اورافغانستان میں سویت فوجوں کیخلاف اسلامی مزاحمت کے زبردست حامی تھے۔ ان کے بارے میں اطلاع ہے کہ وہ 1980 کی دہائی میں لڑائی میں حصہ لینے کیلئے افغانستان بھی گئے، اس وقت سے انہوں نے اپنے نام کے ساتھ افغان لفظ استعمال کرنا شروع کردیا۔ تعلیمی سلسلہ مکمل کرنے کے بعد رفیق افغان نے کراچی میں شائع ہونے والے جہاد کے حامی ایک ہفت روزہ جریدے تکبیر کے ساتھ کام کرنا شروع کیا جس کی بنیاد مولانا صلاح الدین نے رکھی جوعالمی اسلامی تحریکوں کے سب سے بڑے چیمپیئن اور بائیں بازو اور لبرل سیاست کے سخت خلاف تھے۔ تکبیرکے اجراسے پہلے مولانا صلاح الدین جماعت اسلامی کے ترجمان اخبار روزنامہ جسارت کے ایڈیٹرتھے۔

  • رفیق افغان اردو زبان کے دو میگزین تکبیر اور غازی بھی شائع کرتے ہیں اگرچہ ان کی سرکولیشن بہت تھوڑی ہے۔ روزنامہ امت کی اپنی نیوز کوریج کے حوالے سے سوچ محدود نہیں ہے۔ یہ کئی برسوں تک اخبارمیں کراچی میں جرائم، نسلی ولسانی تشدد اور سیاست کے درمیان تعلق سے متعلق لکھا جاتارہا اور متحدہ قومی موومنٹ پر برملا الزام لگایا کہ کراچی کے حالات کی ذمہ دار یہ جماعت ہے۔ ایم کیوایم کیخلاف رفیق افغان کا یہ پراپیگنڈا زمانہ طالبعلمی سے چلا آرہاہے جب ان کی جماعت کی بڑے حریفوں کا تعلق آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے تھا جس نے بعد میں ایم کیوایم کو جنم دیا۔ روزنامہ امت کا نظریاتی رجحان بہت ہی واضح ہے، اخبار نے روشن خیال ، لبرل اور بائیں بازو کی شخصیات کی ریاست اور معاشرے کیلئے خدمات کے باوجود انہیں ہمیشہ منفی انداز میں ہی پیش کیا۔اخبار نے کبھی اپنے پسندیدہ گروپوں اور شخصیات سے متعلق کبھی کوئی چیز نہیں لکھی اور اس بات کابھی خیال نہ رکھا کہ وہ اسلام پسند سیاستدان، انتہاپسند مبلغین ، جہادی یا شیعہ مخالف عناصر ہیں۔

جسارت میڈیا، جماعت اسلامی
جسارت میڈیا کے ساتھ منسلک اہم افراد کے جماعت اسلامی سے گہرے تعلقات ہیں۔ جسارت اخبار کا دائیں بازو کی سیاست کی جانب سب سے زیادہ جھکائو ہے۔

  • جسارت کے بانی چوہدری غلام محمد  دائیں بازوکی اسلامی سیاسی پارٹی جماعت اسلامی کے سینئر رہنماتھے، وہ 1960 میں پاکستان کے پہلے فوجی حکمران جنرل ایوب خان کی حکومت کے خلاف حزب اختلاف کی تحریک میں سیاسی طور پر کافی فعال تھے۔ اس عشرے کے آخر میں وہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں جماعت اسلامی کے امیر مقرر ہوئے، وہ ایک کھلی سوچ کے حامل تھے، جماعت اسلامی کی اعلیٰ قیادت نے انہیں درخواست کی کہ جماعت کے نکتہ نظر کو عوام میں عام کرنے کیلئے روزنامہ اخبار شروع کرنے کیلئے مالی معاونت کریں، ان کے زیادہ ترعطیات کی وجہ سے روزنامہ جسارت کااجرا ہوا۔
  • ڈاکٹرعبدالواسع شاکر جسارت کے چیف ایگزیکٹوآفیسر ہیں جوآغا خان یونیورسٹی ہسپتال میں ایک فزیشن ہیں، وہ پاکستان سوسائٹی آف نیورولوجی کے صدر اور جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر کے عہدوں پر بھی تعینات رہے۔
  • مولاناصلاح الدین| دائیں بازو کی نظریاتی شخصیت جماعت اسلامی سے وابستہ تھے، وہ روزنامہ جسارت کے بانی ایڈیٹر تھے، انہوں نے جلد ہی اخبار کو ایک اسلامی قوم پرست نظریہ کاچیمپیئن بنا دیا اور اس وقت کی بائیں بازو کی لبرل سیاست کے ساتھ علمی اور سیاسی محاذوں پر انتہائی جارحانہ انداز اپنایا۔ مولانا صلاح الدین کو ذوالفقار علی بھٹو کا شدید مخالف سمجھا جاتاتھا جو1971-77 میں حکومت پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی کے سربراہ تھے۔جب بھٹو دسمبر 1971 میں صدر پاکستان بنے تو مولانا صلاح الدین نے ان کی طرز سیاست اور پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے متعدد اداریئے لکھے، بھٹو نے  روزنامہ جسات کو بند کردیا اور1972 اور 1976 کے درمیان مولانا کو متعدد دفعہ جیل بھجوایا۔ 1980 کی دہائی میں جنرل ضیا الحق کی فوجی حکومت کے دوران صلاح الدین نے جماعت اسلامی کی قیادت کے ساتھ اختلافات پیدا ہونے کے بعدجسارت کوچھوڑدیا، بعد میں انہوں نے کراچی سے اپنا ہفت روزہ میگزین تکبیر نکالنا شروع کیا۔مولانا صلاح الدین متحدہ قومی موومنٹ کی پالیسیوں کے بھی شہید مخالف تھے جو1947 میں بھارت کے مختلف حصوں سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والے اردو بولنے والے مہاجرین کی ترجمانی کا دعویٰ کرتے ہیں، ان کے میگزین نے شہر میں نسلی وسیاسی تشدد کرانے والی جماعت سے اکثر جوڑا گیا اور منظم جرائم کے ساتھ مبینہ طور پر جوڑنے کی رپورٹس بھی چلائی گئیں۔1994 میں انہیں مبینہ طور پرمتحدہ قومی موومنٹ کے کارندوں کی جانب سے تکبیر کے ہیڈکوارٹرز کے باہر قتل کردیا گیا،ان کے داماد عبدالرفیق افغان نے بعد میں میگزین کے امور سنبھالے، اگرچہ ان کے میگزین کی ملکیت کے معاملہ پرسینئرادارتی عملے اوراپنی اہلیہ کے ساتھ مختصر چپقلش بھی رہی،بعد میں انہوں نے 1996 میں روزنامہ امت کی بھی بنیاد رکھی۔

ریاستی میڈٰیا اور ایف ایم 100 پاکستان، پاکستان ایئر فورس
عمومی طور پر حکومت کی میڈیا سے قربت سیاسی کنٹرول کے خطرات کو جنم لیتی ہے۔ پاکستان میں حکومت پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کے ذریعہ ٹی وی اور ریڈیو کے سیکٹرز میں فعال ہے۔ اس کے ساتھ ریڈیواسٹیشنز کے نیٹ ورک ایف ایم 100 کے حکومتوں اداروں جیسے شاہین فائونڈیشن سے رابطے ہیں۔ ایف ایم 100 کا پاکستان میں ریڈیو اسٹیشنز کا نیٹ ورک ایک انتہائی شوقین تنظیمی ڈھانچہ ہے۔ ریڈیو اسٹیشنزپاکستان کے متعدد شہروں میں نشریات پیش کررہے ہیں لیکن ہر شہر میں اس کی لائسنس ہولڈر مختلف کمپنی ہے لیکن چیف ایگزیکٹو آفیسر اور بعض عملہ ایک جیساہے اورریڈیو اسٹیشن کی ویب سائٹ بتاتی ہے کہ ایف ایم 100 ایک ریڈیو اسٹیشن ہے جس کی مختلف شہروں میں موجودگی ہے۔ اسلام آباد میں ریڈیو اسٹیشن کو چلانے والی کمپنی شاہین فائونڈیشن کی شریک ملکیت ہے جو پاکستان ایئر فورس کا حصہ ہے۔ کراچی میں لائسنس فرسٹ میڈیا سروسزپرائیویٹ لمیٹڈ کے نام ہے، کمپنی کا عوامی ریکارڈ نہیں ملا اور ملکیت اب بھی غیرواضح ہے۔

 

میڈیا ادارےاخباراتٹی وی چینلزریڈیو آںا لائنحصوں کا تناسب
حکومتPTV 11.24%; Weighted TV audience: 9.22%FM 101 5.1%; Radio Pakistan 3.3%; FM 100 Pakistan 12%; Weighted Radio audience: 2.45%11.66%
دنیا گروپDaily Dunya (MD)Dunya News 3%; Lahore News (MD); Weighted TV audience: 2.46%dunyanews.tv 5.24%; Weighted online audience: 0.37%2.83%
ڈان گروپDawn 3%; Daily Star (MD); Weighted print audience: 0.48%Dawn News (MD)City FM 89 (MD)dawn.com 18.7%; Weighted online audience: 1.31%1.8%
کاوش گروپKawish 5%; Koshish 2%; Weighted print audience: 1.12%KTN News (MD)thekawish.com (MD)1.12%
مشرق گروپMashriq 3%; The Statesman (MD); Weighted print audience: 0.48%Mashriq TV (MD)mashriqtv.pk (MD)0.48%
امت پبلیکیشنز
Ummat 1%; Takbeer (MD); Ghazi (MD); Weighted print audience: 0.16%ummat.net (MD)0.16%
آزادپیپرزJasarat 1%; Weighted print audience: 0.16%jasarat.com (MD)0.16%
کل15%
14.24%
20.4%
23.94%
18.20%

*MD= ڈیٹا موجودنہیں

2018 کیلئے گیلپ پاکستان کے ڈیٹا کے مطابق سامعین وناظرین وقارئین کے سب سے زیادہ حصوصں کے ساتھ پاکستان میں چوٹی کے 40 میڈیا اداروں میں سے ریاستی میڈیا سمیت7 میڈیا اداروں کے مالکان کے بعض سیاسی روابط یا پس منظرہے۔ ٹاپ کے40 میڈیا اداروں کے درمیان ان میڈیااداروں کاسامعین وناظرین وقارئین کا مجموعی حصہ 18.20% ہے۔

میڈٰیا تقسیم کار نیٹ ورکس کو سیاسی بنانا:پاکستان میں میٹیا تقسیم کار کا نظام زیادہ تر نجی سیکٹر کے ہاتھ میں ہے۔رجسٹرڈ پرائیویٹ کمپنیوں کے کیبل تقسیم کار ایجنٹوں کے ذریعہ ٹی وی چینلز کی میڈیا صارفین تک رسائی ہے اور ان کمپنیوں کو لائسنس پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (PEMRA) نے جاری کئے۔یہ ایجنٹ دونمائندہ تنظیموں میں تقسیم ہیں۔ پرنٹ میڈیا کی تقسیم مکمل طور پر نجی ہاتھوں میں ہے، اخبار فروشوں کی اپنی یونی ہے۔ ریڈیو کی تقسیم ٹرانس سیورز کے ذریعہ موصول ہونےوالی ہوا کی لہروں سے براہ راست ہے۔ آن لائن میڈیا کی رسائی انٹرنیٹ کے ذریعہ ہے اورسرکاری اور نجی سیکٹر دونوں انٹرنیٹ سروس فراہم کرتے ہیں۔

اخبارات فروشی کو سیاسی رنگ دینا(درمیانہ خطرہ):حالیہ برسوں میں کئی مثالیں موجود ہیں جب اخبارات کی تقسیم کو روک دیا گیا۔ انگریزی اخباروں ڈان اور دی نیوز جبکہ روزنامہ جنگ پر فوجی چھائونیوں، بڑے شہروں اور2017 میں صوبہ بلوچستان میں چند ماہ کیلئے پابندی عائد کردی گئی۔ تقسیم پرزیادہ ترپابندی کا نفاذ سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے دبائو کے ذریعہ کرایا گیا، نتیجہ کے طورپر ان اخباری اداروں کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی شروع کردی گئی۔

ریڈٰیو میڈیا کی تقسیم کو سیاسی رنگ دینا (کم خطرہ): ایسا کم ہی ہواہے کہ ریڈیو کی نشریات کو روکا گیا ہو۔ 2007 میں بعض ریڈیو اسٹیشنز کی نشریات اس وقت روک لی گئیں جب اس وقت کے فوجی حکمران جنرل پرویز مشریف  کی جانب سے ہنگامی صورتحال نافذ کردی گئی لیکن اس وقت سے ابتک کسی ریڈیو اسٹیشنز کو بند نہیں کیا گیا۔ پیمرا لائسنسوں کے اجرا کا ذمہ دار ہے،پاکستان میں ریڈیومرکزی ذریعہ کے طور پرابھر کرسامنے نہیں آیا جبکہ اس سیکٹر پر سیاسی کنٹرول کے خطرات انتہائی کم ہیں۔
 
ٹی وی میڈٰیاکی نشریات کی تقسیم کو سیاسی بنانا(درمیانہ خطرہ): ٹی وی چینلزکوگاہے بگاہے مختصر مدت کیلئے نشریات بند کرنے جیسے عوامل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بعض چینلز جیسے جنگ میڈیا گروپ کے جیو نیوز اورڈان میڈیا گروپ کے ڈان نیوزکو طویل پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ تقسیم پرزیادہ ترپابندی کا نفاذ سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے دبائو کے ذریعہ کرایا گیا، نتیجہ کے طورپر ان اخباری اداروں کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی شروع کردی گئی۔

آن لائن میڈٰیاکی تقسیم کو سیاسی رنگ دینا(انتہائی خطرہ): آن لائن نیوز میڈیا رسائی کے اعتبارسے پابندیوں کا براہ راست ہدف نہیں ہے، حکومت کے احکامات پرآئی ایس پیز کی جانب سے انٹرنیٹ کو بند کرناعام ہے اور ایسے تمام کیسزحل طلب ہی رہتے ہیں۔ 2018 میں حکومت نے الیکٹرانک میڈیا کے پیمرا، پرنٹ میڈیا کی پریس کونسل آف پاکستان اور انٹرنیٹ کی پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی سمیت تمام موجودہ میڈیا ریگولیٹرز کو ضم کرکے زیادہ اختیارات والی واحد پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (PMRA) کےقیام کی تجویز دی۔

کمدرمیانہ انتہائی
میڈیا اداروں کو سیاسی بنانا
سیاسی طورپر منسلک اداروں کی جانب سے ٹی وی میڈیا کی ملکیت کا حصہ کیا ہے؟ 14.24%
30 فیصد سامعین وناظرین اور قارئین کے ساتھ میڈیا جومخصوص سیاسی پارٹی، سیاستدان یا سیاسی گروپ کی جانب سے ملکیت یا کنٹرول یا سیاسی جماعت سے منسلک مالک کی ملکیت ہو۔ 30 فیصدسے 50 فیصدتک سامعین و ناظرین اور قارئین کے ساتھ میڈیا جو مخصوص سیاسی پارٹی، سیاستدان یا سیاسی گروپ کی جانب سے ملکیت یا کنٹرول یا سیاسی جماعت سے منسلک مالک کی ملکیت ہو۔ 50 فیصدسامعین وناظرین اور قارئین کے ساتھ میڈیا جومخصوص سیاسی پارٹی، سیاستدان یا سیاسی گروپ کی جانب سے ملکیت یا کنٹرول یا سیاسی جماعت سے منسلک مالک کی ملکیت ہو۔
سیاسی طورپر منسلک اداروں کی جانب سے ریڈیوچینلزکی ملکیت کا حصہ کیا ہے؟ 20.4%
30 فیصد سامعین وناظرین اور قارئین کے ساتھ میڈیا جومخصوص سیاسی پارٹی، سیاستدان یا سیاسی گروپ کی جانب سے ملکیت یا کنٹرول یا سیاسی جماعت سے منسلک مالک کی ملکیت ہو۔30 فیصدسے 50 فیصدتک سامعین و ناظرین اور قارئین کے ساتھ میڈیا جو مخصوص سیاسی پارٹی، سیاستدان یا سیاسی گروپ کی جانب سے ملکیت یا کنٹرول یا سیاسی جماعت سے منسلک مالک کی ملکیت ہو۔50 فیصدسامعین وناظرین اور قارئین کے ساتھ میڈیا جومخصوص سیاسی پارٹی، سیاستدان یا سیاسی گروپ کی جانب سے ملکیت یا کنٹرول یا سیاسی جماعت سے منسلک مالک کی ملکیت ہو۔
سیاسی طورپر منسلک اداروں کی جانب سے اخبارات کی ملکیت کا حصہ کیا ہے؟ 15%
30 فیصد سامعین وناظرین اور قارئین کے ساتھ میڈیا جومخصوص سیاسی پارٹی، سیاستدان یا سیاسی گروپ کی جانب سے ملکیت یا کنٹرول یا سیاسی جماعت سے منسلک مالک کی ملکیت ہو۔30 فیصدسے 50 فیصدتک سامعین و ناظرین اور قارئین کے ساتھ میڈیا جو مخصوص سیاسی پارٹی، سیاستدان یا سیاسی گروپ کی جانب سے ملکیت یا کنٹرول یا سیاسی جماعت سے منسلک مالک کی ملکیت ہو۔50 فیصدسامعین وناظرین اور قارئین کے ساتھ میڈیا جومخصوص سیاسی پارٹی، سیاستدان یا سیاسی گروپ کی جانب سے ملکیت یا کنٹرول یا سیاسی جماعت سے منسلک مالک کی ملکیت ہو۔
What is the share of Online media owned by the politically affiliated entities? 23.94%
30 فیصد سامعین وناظرین اور قارئین کے ساتھ میڈیا جومخصوص سیاسی پارٹی، سیاستدان یا سیاسی گروپ کی جانب سے ملکیت یا کنٹرول یا سیاسی جماعت سے منسلک مالک کی ملکیت ہو۔30 فیصدسے 50 فیصدتک سامعین و ناظرین اور قارئین کے ساتھ میڈیا جو مخصوص سیاسی پارٹی، سیاستدان یا سیاسی گروپ کی جانب سے ملکیت یا کنٹرول یا سیاسی جماعت سے منسلک مالک کی ملکیت ہو۔50 فیصدسامعین وناظرین اور قارئین کے ساتھ میڈیا جومخصوص سیاسی پارٹی، سیاستدان یا سیاسی گروپ کی جانب سے ملکیت یا کنٹرول یا سیاسی جماعت سے منسلک مالک کی ملکیت ہو۔
میڈیا تقسیم کار نیٹ ورکس کو سیاسی بنانا
آپ پرنٹ میڈیا کیلئے سرکردہ تقسیم کار نیٹ ورکس کے ضابطہ کا کیسے جائزہ لیں گے؟
سرکردہ تقسیم کار نیٹ ورکس سیاسی طور پر منسلک نہیں ہیں یا امتیازی کارروائیاں نہیں کرتے۔کم ازکم ایک سرکردہ تقسیم کارنیٹ ورک سیاسی طور پر منسلک ہے یا گاہے بگاہے امتیازی کارروائیاں کرتا ہے۔تمام سرکردہ تقسیم کارنیٹ ورک سیاسی طور پر منسلک ہیں اور ریکارڈ باربارامتیازی کارروائیاں کرتے ہیں۔
سرکردہ ریڈیو تقسیم کار نیٹ ورکس کے ضابطہ کا آپ کیسے جائزہ لیں گے؟ کھلی رسائی یا امتیازی کارروائیاں کوئی نہیں ہیں۔ سکور:1
سرکردہ تقسیم کار نیٹ ورکس سیاسی طور پر منسلک نہیں ہیں یا امتیازی کارروائیاں نہیں کرتے۔کم ازکم ایک سرکردہ تقسیم کارنیٹ ورک سیاسی طور پر منسلک ہے یا گاہے بگاہے امتیازی کارروائیاں کرتا ہے۔تمام سرکردہ تقسیم کارنیٹ ورک سیاسی طور پر منسلک ہیں اور ریکارڈ باربارامتیازی کارروائیاں کرتے ہیں۔
سرکردہ ٹی وی تقسیم کار نیٹ ورکس کے ضابطہ کا آپ کیسے جائزہ لیں گے؟ نجی تقسیم یا بعض اوقات رسائی روک لی جاتی ہے۔ سکور:2
سرکردہ تقسیم کار نیٹ ورکس سیاسی طور پر منسلک نہیں ہیں یا امتیازی کارروائیاں نہیں کرتے۔کم ازکم ایک سرکردہ تقسیم کارنیٹ ورک سیاسی طور پر منسلک ہے یا گاہے بگاہے امتیازی کارروائیاں کرتا ہے۔تمام سرکردہ تقسیم کارنیٹ ورک سیاسی طور پر منسلک ہیں اور ریکارڈ باربارامتیازی کارروائیاں کرتے ہیں۔
سرکردہ انٹرنیٹ تقسیم کار نیٹ ورکس کے ضابطہ کا آپ کیسے جائزہ لیں گے؟ انٹرنیٹ کی بندش یا رسائی پر پابندی عام ہے۔ سکور:3
سرکردہ تقسیم کار نیٹ ورکس سیاسی طور پر منسلک نہیں ہیں یا امتیازی کارروائیاں نہیں کرتے۔کم ازکم ایک سرکردہ تقسیم کارنیٹ ورک سیاسی طور پر منسلک ہے یا گاہے بگاہے امتیازی کارروائیاں کرتا ہے۔تمام سرکردہ تقسیم کارنیٹ ورک سیاسی طور پر منسلک ہیں اور ریکارڈ باربارامتیازی کارروائیاں کرتے ہیں۔

 METADATA: Audience shares were weighted against the media consumption trends: TV: 82%, Print 16%, Radio 12% and Online 7%.

[Translate to Urdu:] Media Consumption Patterns in Pakistan [Translate to Urdu:] Retrieved from Synergyzer on 14 July 2019
[Translate to Urdu:] The missing pages of history: 70 years of Pakistan and Dawn [Translate to Urdu:] Dawn, Accessed on February 10, 2019
[Translate to Urdu:] Dawn Delhi III: The emergence of Quaid-i-Azam [Translate to Urdu:] Dawn, Accessed on February 8, 2019
[Translate to Urdu:] Dawn Delhi II: Engaging With Aligarh [Translate to Urdu:] Dawn, Accessed on February 8, 2019
[Translate to Urdu:] Dawn Delhi I: Genesis of a Newspaper [Translate to Urdu:] Dawn, Accessed on February 7, 2019
[Translate to Urdu:] Dawn Delhi IV: The making of Pakistan [Translate to Urdu:] Dawn, Accessed on 8 February 2019
[Translate to Urdu:] Takbeer, E-papaer [Translate to Urdu:] Ummat, Accessed on 25 February 2019
[Translate to Urdu:] New vibes in Sindh politics (2012) [Translate to Urdu:] Dawn, Accessed on 21 February 2019
[Translate to Urdu:] PESHAWAR: Phool Badshah passes away [Translate to Urdu:] Dawn, Accessed on 13 February 2019
[Translate to Urdu:] Darkly, through a decade of disquiet [Translate to Urdu:] Dawn, Accessed on 7 February 2019
[Translate to Urdu:] The price of saying Pakistan Zindabad [Translate to Urdu:] Dawn, Accessed on 8 February 2019
[Translate to Urdu:] The legendary Ahmad Ali Khan [Translate to Urdu:] Dawn, Accessed on 8 February 2019
[Translate to Urdu:] TV Audience shares 2017-2018, Gallup Pakistan
[Translate to Urdu:] Radio Audience shares, 2017-2018 Gallup Pakistan
[Translate to Urdu:] Print Readership Data 2018, Gallup Pakistan
[Translate to Urdu:] News Websites Audience Data 2017-2018, Gallup Pakistan
[Translate to Urdu:] Audience shares of Media owners with political affiliations [Translate to Urdu:] MOM Pakistan calculations 2019

میڈیا فنڈنگ پر (سیاسی) کنٹرول

نتیجہ: درمیانہ سے بڑا

یہ اشاریہ ریاست کے میڈیا مارکیٹ کی سرگرمیوں، خصوصا ریاستی اشتہارات کی تقسیم میں امتیازی سلوک کے اثر کا جائزہ لے گا۔ یہ امتیاز سیاسی جماعتوں یا حکومت میں سیاسی جماعتوں کے متعلقہ لوگوں کو فائدہ یا حکومت پر تنقید کرنے والوں کو سزا دینے کی صورت میں کھائی دیتا ہے۔ ریاستی اشتہارات کو (قومی، علاقائی، مقامی) حکومتوں یا ریاستی اداروں اور کمپنیوں کی جانب سے ادا کئے گئے اشتہارات سمجھا جائے۔

کیوں؟
2002 سے پاکستان میں میڈیا کی لیبرلائزیشن سے ریاست ملک کے نجی نشریاتی اور پرنٹ میڈیا کا سب سے اہم ذریعے آمدن رہا ہے۔ سرکاری اشتہارات تاریخی طور پر ان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی رہے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اکثر سرکردہ ٹی وی چینلز پر پرائم ٹائم خرید کر ان کی معاشی مدد کی۔ اسی طرح حکومتوں نے روایتی طور پر سرکردہ اخبارات کو اشتہارات مہیا کرکے ان کی معاشی مدد کی ہے۔ ڈان اخبار کے مطابق پاکستان میں اشتہارات کا سال 2015 میں حجم 66.9 ارب روپے (58.3 کروڑ امریکی ڈالر) سے بڑھ کر 2017 میں 87.7 ارب روپے (73.3 کروڑ امریکی ڈالر) تک پہنچ گیا۔ اگست 2018 میں سینٹ کو بتایا گیا کہ حکومت نے 2013 سے لے کر 2017 تک 15.7 ارب روپے کے اشتہارات پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں تقسم کئے۔

اس کے علاوہ جولائی 2018 کے عام انتخابات کے بعد پنجاب اور سندھ کی صوبائی حکومتوں نے – پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی اشتہاری آمدن کے بڑے ذریعے – اور اسلام آباد میں وفاقی حکومت نے اشتہاری بجٹ میں 70 فیصد کٹوتی کر دی ہے جس سے میڈیا صعنت کو بڑی مالی صورتحال سے دوچار کر دیا۔ صعنتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بحران اچانک پیدا نہیں ہوا بلکہ اس صدی کی دوسری دھائی میں اخبارات کی صعنت کی سیل میں 15 سے 20 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔ پاکستان میں پرنٹ میڈیا مارکیٹ کا بڑا حصہ اردو زبان کے اخبارات رہے ہیں جبکہ انگریزی اخبار اس کے مقابلے میں چھوٹا حصہ ہے۔ 2010 سے درمیانے درجے کے اخبارات کی اشتہاری آمدن میں قابل ذکر کمی آئی جس کی وجہ سے سینکڑوں ملازمین کو فارغ کیا گیا۔ انگریزی کے اخبارات کی فروخت میں کمی کی وجہ سے ٹیلیکام کمپنیاں اپنے باقی ماندہ اشتہاری فنڈ اردو ٹی وی چینلز کی جانب موڑ دیئے ہیں۔ یہ صورتحال 2015 سے انگریزی زبان کے دو نیوز چینلز کی بندش کی وضاحت کرتی ہے۔ اگرچہ ڈان ٹی وی (انگریزی) اور ایکسپریس 24/7 (انگریزی) پاکستان کے دو بڑے میڈیا ہاوسز کے تھے لیکن اشتہارات کی آمدن میں کمی کی وجہ سے بند کرنے پڑے۔

میڈیا فنڈنگ پر سیاسی کنٹرول
اگرچہ ملک میں صارفین کی ایک بڑی تعداد ہے اور سالانہ میڈیا اشتہارات کا حجم 2017-18 کے اختتام تک 81.6 ارب روپے (68 کروڑ امریکی ڈالر) تھا، ٹی وی مارکیٹ کا زیادہ تر انحصار نجی سیکٹر پر ہے اور حکومت کی بڑی ادائیگیوں کے باوجود اس کا پہلے دس اشتہارات دینے والوں میں شمار نہیں ہے۔ اس نے گذشتہ چند برسوں میں نیوز ٹی وی کو قدرے آذادانہ صحافت کا موقع دیا ہے جو بعض اوقات کئی وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر تابڑ توڑ تنقید کا سبب بنا۔ پاکستان کا پرنٹ میڈیا تاہم سرکاری اشتہارات پر زیادہ انحصار کرتا ہے اور 2016 سے وفاقی حکومت اس کی سب سے بڑا اشتہار دینے والے ہے۔

پرنٹ میڈیا اکثر حکومتوں کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے رہتے ہیں، ان کی نیوز رپورٹنگ تاہم آذادانہ نہیں جس کی وجہ شاید ان کا سرکاری اشتہارات پر غیرمقمولی انحصار ہے۔ جولائی 2018 کے عام انتخابات کے بعد سے صورتحال تبدیل ہو رہی ہے جس میں تحریک انصاف اقتدار میں آئی اور جس نے تمام میڈیا کی جانب جارحانہ رویا اپنایا اور سرکاری اشتہارات بڑی تعداد میں کم کر دیئے جس کی وجہ سے میڈیا اور 2000 سے زائد ملازمتیں ختم ہوئی اور چند ٹی وی چینل اور اخبار بند کر دیئے گئے ہیں۔ پاکستان میں ڈیجٹل میڈیا کو سرکاری مدد حاصل نہیں ہے لہذا وہ ایڈیٹوریل پالیسی میں ایک مکمل آذادانہ پالیسی اپنے ہوئے ہے۔ اس کی وجہ اسے نجی شعبے کی مدد حاصل ہونا ہے۔

ٹی وی چینلز – بڑے کامیاب: ارورا میگزین کے ٹاپ 15 ٹی وی چینل جو کما رہے ہیں سے متعلق 2017-18 کے اعدادوشمار کے مطابق سات نیوز چینلز ہیں اور باقی تفریحی چینل ہیں۔ ان نیوز چینلز میں سے جیو اور دنیا پہلے پانچ کمانے والے چینلوں میں شامل ہیں۔ انہوں نے ساڑھے چار ارب روپے (پونے چار کروڑ امریکی ڈالر) مجموعی تمام ٹی وی سیکٹر کی آمدن کے 26 ارب روپے (21.6 کروڑ امریکی ڈالر) میں سے کمائے۔ ان میں سے سب سے بڑا کامیاب جنگ گروپ تھا جس کا نیوز (جیو نیوز) اور تفریحی (جیو انٹرٹینمنٹ) چینلز پہلے پانچ میں شامل تھا اور 5 ارب روپے (4.16 کروڑ امریکی ڈالر) کمائے۔  

اخبارات – بڑے کامیاب: ارورا میگزین کے ٹاپ 15 بڑے اخبارت جو کما رہے ہیں سے متعلق 2017-18 کے اعدادوشمار کے مطابق پہلے پانچ اخبارات نے 9.7 ارب روپے (8.08 کروڑ امریکی ڈالر) جو تمام اخبارات کے مجموعی حجم 17.3 ارب روپے  یا اس کے 56 فیصد حصہ تھا کمائے۔ جنگ میڈیا گروپ سرفہرست تھا جس کی دو اشاعتوں اردو زبان کے روزنامے جنگ اور انگریزی زبان کے روزنامے دی نیوز نے اس کا حصف یعنی 5 ارب روپے (4.16 کروڑ امریکی ڈالر) حاصل کئے۔

اہم نتائج
۔ حکومت نجی میڈیا کو اشتہارات جاری کرنے میں شفاف نہیں اور اس بابت صوابدیدی طریقے سے کام کرتی ہے۔
۔ جبکہ ٹی وی میڈیا کا سرکار کے مقابلے میں نجی شعبے کے اشتہارات میں بڑا حصہ ہے، پرنٹ میڈیا کا نجی شعبے کے اشتہارات کی نسبت حکومتی اشتہارات پر معاشی آسودگی کے لے انحصار بہت زیادہ ہے۔

ریاستی اشتہارات اور میڈیا صارفین کا حصہ

1۔ ریاستی اشتہارات اور میڈیا صارفین کے حصے کا تناسب

تصدیق کے لیے سرکاری ڈیٹا کی عدم موجودگی کی صورت میں درست اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ایم او ایم کی ٹیم نے  وفاقی حکومت اور چاروں صوبائی حکومتوں کے متعلقہ محکموں کو آر ٹی آئی (رائٹ ٹو انفارمیشن) درخواستیں ارسال کی تھیں تاکہ ان سے 2017-18 میں جاری کئے گئے سرکاری اشتہارات حاصل کی جاسکیں۔ وفاقی اور بلوچستان، پنجاب اور سندھ کی حکومتوں کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ صرف خیبر پختونخوا کی حکومت نے محدود معلومات سے ساتھ جواب دیا۔ سرفہرست 40 میڈیا اداروں نے جن کا اس رپورٹ میں جائزہ لیا گیا بھی اس قسم کی درخواستوں پر کوئی جواب نہیں دیا۔
حکومت پالیسی عمومی طور پر اشتہارات کی تقسیم صارفین کی کی بنیاد پر کرتی ہے – وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات میں آڈٹ بیورو آف سرکولیشن موجود ہے جو بظاہر سرکولیشن پر نظر رکھتا ہے۔ تاہم اس وقت کے وفاقی وزیر اطلاعات نے اشتہارات کے نئے نرخ جاری کئے ان میں اے آر وائی نیوز ٹی وی کے ریٹ جیو نیوز سے زیادہ تھے باوجود اس کے کہ جیو کی آڈینس میں حصہ زیادہ ہے۔

   خطرہ: ہائی – ریاستی اشتہارات بظاہر میڈیا کو صارفین کی بنیاد پر نہیں ہیں۔
1۔ ریاستی اشتہارات کی تقسیم کے قوانین
ریاست کھل کر بعض میڈیا گروپس کے بارے میں جانبدار ہوسکتی ہے اور میڈیا ہاوسز کو اشتہارات دینے میں صوابدیدی طریقہ اختیار کرسکتی ہے۔ جنگ گروپ نے اکثر – اور ڈان گروپ نے حالیہ دنوں میں – مختلف حکومتوں کے اثر کا نشانہ رہے ہیں۔ اشتہارات کی تقسیم – اکثر مقدار میں کمی کر کے – سزا کے آلے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ عام اصول یہی ہے کہ اشتہارات صارفین کی تعداد دیکھ کر دیئے جائیں گے لیکن اس کی خلاف ورزی اکثر مشاہدے میں آئی ہے۔

خطرہ: درمیانہ – ریاستی اشتہارات کی میڈیا اداروں میں تقسیم ایک پالیسی کے تحت ہوتی ہے لیکن قوانین غیرشفاف ہیں کیونکہ انہیں عام نہیں کیا گیا ہے اور معلومات شیئر نہیں کی گئی ہیں۔

1۔ ٹی وی اشتہارات کی مارکیٹ میں ریاستی اشتہارات کا حصہ

2018 میں ارورا میگزین کے ڈیٹا کے مطابق اگرچہ کوئی سرکاری ڈیٹا دستیاب نہیں سال 2017-18 میں 81.6 ارب روپے کے مجموعی اشتہارات جس میں 38 ارب روپے ٹی وی کے تھے جوکہ مجموعی میڈیا مارکیٹ کا 46 فیصد تھا۔ البتہ کسی رپورٹ نے سرکاری اور نجی سیکٹر کی بشمول ٹی وی سے متعلق اعدادوشمار کی مزید تقسیم مہیا کی۔
وفاقی اور چار میں سے تین صوبائی حکومتوں نے سرکاری اشتہارات کے اعدادوشمار سے متعلق ایم او ایم ٹیم کی آر ٹی آئی درخواستوں کے جواب نہیں دیئے۔ صرف خیبر پختونخوا صوبائی حکومت نے جواب دیا اور بتایا کہ مالی سال 2017-18 میں اس نے 28 کروڑ دس لاکھ روپے کے اشتہارات ٹی وی کو دیئے۔ اس نے ریڈیو یا پرنٹ کو جاری کئے جانے والے اشتہارات کی تفصیل نہیں دی۔

خطرہ: ہائی – دو حکومتوں کی جانب سے (2018 میں حکومت تبدیل ہوئی تھی) ٹی وی کو ریاستی اشتہارات کے اجرا میں انتہائی فرق اور صوابدید اختیار کا استعمال پایا گیا جو میڈیا پر دباو کا شکار بناتا ہے۔

1۔ ریڈیو کی مجموعی اشتہاراتی مارکیٹ میں ریاستی اشتہارات کا حصہ

اگرچہ کوئی سرکاری معلومات دستیاب نہیں لیکن ارورا میگزین کے 2018 کے اعدادوشمار کے مطابق سال 2017-18 میں پاکستان میں اشتہارات پر مجموعی طور پر 81.6 ارب روپے خرچ کئے گئے جن میں سے 2.5 ارب روپے ریڈیو کے لیے تھے یعنی مجموعی مارکیٹ کا 3 فیصد۔ البتہ کسی رپورٹ نے سرکاری اور نجی سیکٹر کی بشمول ریڈیو سے متعلق اعدادوشمار کی مزید تقسیم مہیا کی۔ وفاقی اور چار میں سے تین صوبائی حکومتوں نے سرکاری اشتہارات کے اعدادوشمار سے متعلق ایم او ایم ٹیم کی آر ٹی آئی درخواستوں کے جواب نہیں دیئے۔

خطرہ: ہائی - سرکاری ڈیٹا دستیاب نہیں تاہم ریڈیو میں مجموعی اشتہارات کا خرچ 3 فیصد تھا۔ سرکاری خرچ پر کوئی معلومات دستیاب نہیں تھیں۔

1۔ اخبارات کے لیے سرکاری اشتہارات کا حصہ

اگرچہ کوئی سرکاری معلومات دستیاب نہیں لیکن ارورا میگزین کے 2018 کے اعدادوشمار کے مطابق سال 2017-18 میں پاکستان میں اشتہارات پر مجموعی طور پر 81.6 ارب روپے خرچ کئے گئے جن میں سے 19.5 ارب روپے پرنٹ میڈیا کے لیے تھے یعنی مجموعی مارکیٹ کا 24 فیصد۔ البتہ کسی رپورٹ نے سرکاری اور نجی سیکٹر کی بشمول پرنٹ سے متعلق اعدادوشمار کی مزید تقسیم مہیا کی۔ وفاقی اور چار میں سے تین صوبائی حکومتوں نے سرکاری اشتہارات کے اعدادوشمار سے متعلق ایم او ایم ٹیم کی آر ٹی آئی درخواستوں کے جواب نہیں دیئے۔

خطرہ: ہائی - دو حکومتوں کی جانب سے (2018 میں حکومت تبدیل ہوئی تھی) پرنٹ کو ریاستی اشتہارات کے اجرا میں انتہائی فرق اور صوابدید اختیار کا استعمال پایا گیا جو میڈیا پر دباو کا شکار بناتا ہے۔


کمدرمیانہانتہائی
Is the state advertising distributed to media proportionately to their audience share? No Data
State advertising is distributed to the media relatively proportionately to the audience shares of media. State advertising is distributed disproportionately (in terms of audience share) to the media.State advertising is distributed exclusively to few media outlets, which do not cover al major media outlets in the country. 
How would you assess the rules of distribution of state advertising?    
State advertising is distributed to media outlets based on transparent rules.     State advertising is distributed to media outlets based on a set of rules but it is unclear whether they are transparent.     There are no rules regarding distribution of state advertising to media outlets or these.   
IMPORTANCE OF STATE ADVERTISING    

What is the share of state advertising as part of the overall TV advertising market? 

VALUE: No Data

Share of state advertising is <5% of the overall market.    Share of state advertising is 5%-10% of the overall market.     Share of state advertising is > 10% of the overall market.

What is the share of state advertising as part of the overall Radio advertising market? 

VALUE: No Data

Share of state advertising is <5% of the overall market.Share of state advertising is 5%-10% of the overall market.  Share of state advertising is > 10% of the overall market.

What is the share of state advertising as part of the overall Newspaper advertising market? 

VALUE: No Data

Share of state advertising is <5% of the overall market.Share of state advertising is 5%-10% of the overall market.  Share of state advertising is > 10% of the overall market.

[Translate to Urdu:] 500 layoffs in 8 months: Is Pakistan's media in crisis? [Translate to Urdu:] Newslaundry.com Retrieved on January 23 2019

[Translate to Urdu:] Media Advertising Spend Pakistan FY 2017-2018, Aurora

ضابطہ کاری کے اقدامات، خالص غیرجانبداری

نتیجہ:انتہائی خطرہ

نیٹ ورک کی غیرجانبداری کا اصول ہے کہ نیٹ ورکس پر تمام ڈیٹا برابر دیا جانا چاہیے جبکہ استعمال کرنے والوں، مواد، سائٹس یا اپلی کیشنز کے حوالے سے غیرامتیازی سکول یا مختلف انداز سے پیسے وصول نہیں کرن چاہئیں۔ خالص غیرجانبداری کو بچانے کیلئے ضروری ہے کہ میڈیا کے تنوع کو تحفظ دیا جائے کیونکہ یہ معلومات ، آرا، پہلوئوں وغیرہ تک رسائی اور ان کے پھیلائو کو آن لائن کرنے کی مساوی صلاحیت کی ضمانت دیتا ہے جو میڈیا تنوع کیلئے ضروری ہے۔ اس اشاریے کامقصد خالص غیرجانبداری کے قانونی ضابطے اورضابطہ کاری کے مخصوص نظام کے نظارہ کا احاطہ کرناہے۔

کیوں؟

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ( PTA) ملک میں ٹیلی کمیونیکیشن نظاموں کے قیام، چلانے اور مرمت کو ضابطہ کے تحت لانے کااختیار حاصل ہے، پاکستان میں انٹرنیٹ سمیت ٹیلی کمیونیکیشن سروسز کی فراہمی اور ملک بھر میں اعلی معیار، موثر، سستی اور مقابلہ جاتی کمیونیکیشن سروسز کی وسیع پیمانے پر دستیابی کو فروغ دینا بھی پی ٹی اے کی ذمہ داری ہے۔

پی ٹی اے ملک میں انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز، تھری جی اور فور جی سیل فون سروسز سمیت تمام لینڈ لائن اور سیل فون آپریٹرز کو ٹیلی کام سروسز کے لائسنس جاری کرتی ہے۔ پی ٹی اے کلاس ویلیو ایڈیڈ لائسنسڈ سروسز کیلئے بھی لائسنس جاری کرتی ہے جوانٹرنیٹ پر ڈیٹا اور وائس کی سروسز کیلئے انتہائی ضروری ہے تاہم پاکستان میں انٹرنیٹ سروس فراہمی کے قوانین یا قواعد وضوابط میں بالواسطہ یا بلاواسطہ خالص غیرجانبداری کے معاملہ کا کوئی حوالہ نہیں ہے۔ ویب سائٹس یا آن لائن مواد کو بلاک کرنے سے روکنے سے متعلق اقدار رکھنے کی بجائے پریوینشن آف الیکٹرانک  کرائمز ایکٹ 2016 پی ٹی اے کو مخصوص آن لائن مواد کو ہٹانے یا بلاک کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ مزید یہ کہ ایسی کوئی قانونی شق نہیں جو روکتی ہوکہ:

آن لائن مہیا کیا گیا مواد یا سروسز کو روکنا

زیرو ریٹنگ یا ترجیحاً ادائیگی

ضابطہ کاری اقدامات کا اسکور: 0%

11 میں سے صفر: 0%

اہم نتائج: قواعد وضوابط انٹرنیٹ کو کھولنے اور ڈیٹا کے مفت بہائو اور آنا لائن رسائی کے ضامن نہیں ہیں۔

خالص غیرجابنداریوضاحتہاں نہیں دستیاب نہیںایم ڈی
کیا قومی قانون بالواسطہ یا بلا واسطہ خالص غیرجانبداری کو دیکھتا ہے؟
اس سوال کامقصد یہ تعین کرنا ہے کہ آیا خالص غیرجانبداری کوکسی بھی طرح ڈومیسٹک قانون کی جانب سے ضابطہ کے تحت لایاگیا، اس سوال کا ایک مقصد یہ طے کرنا ہے کہ
آیاخالص غیرجانبداری کو ملکی قانون کے ذریعہ کسی بھی طرح سے ملکی قانون کے ذریعہ ضابطہ کے تحت لایا گیا، اس کا مقصدیہ بھی ہے کہ یورپی یونین اور یورپی کونسل کے رکن ملکوں کے درمیان کسی بھی معاہدہ پر نظررکھی جائے۔


نہیں،انٹرنیٹ سے متعلق قانون خالص غیرجانبداری پرخاموش ہے۔

 

0

کیا قومی قانون ایسی شقوں پر مبنی ہے جو آن لائن مواد یا ویب سائٹس کربند کرنے سے روکتے ہوں؟
یہ سوال اس ڈگری کا تعین کرتا ہے کہ کس ملک کی خالص غیرجانبداری سے متعلق شقیں آن لائن مواد یا ویب سائٹس کو بندکرنے سے بچاتی ہیں جوخالص غیرجانبداری کے مضبوط فریم ورک کااہم جزو ہے۔

 

نہیں، پی ٹی اے اور PECA دونوں قوانین درحقیقت پی ٹی اے کو ویب سائٹس اور آن لائن مواد بندکرنے کااختیاردیتے ہیں۔

0

کیا قومی قانون ایسی شقوں پر مبنی ہے جو آن لائن مواد یا ویب سائٹس کربند کرنے سے روکتے ہوں؟
کیا قومی قانون میں ایسی شقیں موجود ہیں جو سروسز یا فراہم کیا جانے والے آن لائن مواد کو بند کرنے سے روکتی ہوں؟

یہ سوال اس ڈگری کا تعین کرتا ہے کہ کس ملک کی خالص غیرجانبداری سے متعلق شقیں آن لائن مواد یا ویب سائٹس کو بندکرنے سے بچاتی ہیں جوخالص غیرجانبداری کے مضبوط فریم ورک کااہم جزو ہے۔

نہیں، پی ٹی اے درحقیقت حکوت کے احکامات کے تحت ٹیلی کام اتھارٹی اور آئی ایس پیز کو بتدریج  ایسی سروسز بند کرنے سے روکتا ہے۔

 

0

کیا قومی قانون میں ایسی شقیں موجود ہیں جو زیروریٹنگ یا ترجیحی ادائیگی سے روکتی ہوں؟
یہ سوال اس بات کا تعین کرتا ہے کہ کون سے ملک کی خالص غیرجانبداری کی شقیں زیرو ریٹنگ (ترجیحاً ادائیگی عام شق ہے) کو بچاتی ہیں جبکہ یہ خالص غیرجانبداری کے مضبوط فریم ورک کاایم جزو ہے۔


 

نہیں، ترجیحاً ادائیگی پر بڑے پیمانے پر عمل کیا جاتاہے۔ 0


قانون میں خالص غیرجانبداری کو کہاں تحفظ حاصل ہے، کیا قانونی دائرہ کارنیٹ ورک مینجمنٹ کا ذمہ دارہے؟
اس سوال کامقصد یہ بات ثابت کرنا ہے کہ خالص غیرجانبداری پر لگائی گئی مناسب حدود دوسری حدود جو اس کے موثر پن کونقصان پہنچا سکتی ہیں، کے مقابلے میں تحفظ دیتی ہیں۔

خالص غیرجانبداری کو قانون تحفظ نہیں دیتا۔

0


زیروریٹنگ کوروکنے یا حدود میں رکھنے والی شقوں پر کامیابی سے عملدرآمد کیاگیا ، ترجیحاً ادائیگی کو بروئے کار نہیں لایاگیا۔
اس سوال کا مقصد اس چیز کو سامنے لایا جائے کہ قانون میں ممانعت کے باوجود ترجیحاً ادائیگی پر عمل کیا گیا، سست لیکن مضبوط زیرو ریٹنگ والے کئی ممالک  اس رجحان کو تحفظ دیتے ہیں، یہ اشاریہ قانون اور ہونے والے کاموں کے درمیان مقدار کے فرق پر روشنی ڈال سکتاہے۔

کوئی ایسی شقیں موجود ہیں

0
زیروریٹنگ کوروکنے یا حدود میں رکھنے والی شقوں پر کامیابی سے عملدرآمد کیاگیا ، اس کے علاوہ زیرو ریٹنگ کی کوئی شق موجود ہیں۔
(بعض کا اوپر ذکر ہے)

کوئی ایسی شقیں موجود ہیں

0

شقوں پر کامیابی سے عملدرآمد کیاگیا، بند کرنے یا روکنے کا عمل نہیں ہوا۔
اس سوال کامقصد اس بات کا تعین کرنا ہے کہ بند کرنے اور روکنے کے حوالے سے خالص غیرجانبداری کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے قانونی دائرہ کار کیسے راستہ بناتا ہے۔

بند کرنے اور روکنے کا عمل اکثر وقوع پذیر ہوتا ہے۔

 

0

کیا خالص غیرجانبداری کے تحفظ پر عملدرآمد اور نگرانی کیلئے ضابطہ کاری کے ادارے یا کسی دوسرے ادارے کو ذمہ داری دی گئی ہے؟
یہ سوال اس بات کو نمایاں کرتا ہے کہ آیا خالص غیرجانبداری کے تحفظ پر عملدرآمد کیلئے حکام کو ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

نہیں0

کیا خالص غیرجانبداری کے تحفظ کی خلاف ورزیوں کیلئے پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور یہ کہاں لگائی گئی ہیں؟
اس سوال اس بات کی نشاندہی کرسکتا ہے کہ خالص غیرجانبداری کی کون سی سنگین خلاف ورزی کی گئی جبکہ یہ قانون کی حکمرانی اورسیاسی اختیارکامعاملہ ہے۔

نہیں0
کیا اس بات کو جانچنے اور جواب دینے کیلئے عملدرآمد کے نظام موجود ہیں کہ خالص غیرجانبداری کی خلاف ورزیوں کا موثر جائزہ لیاگیا؟
یہ سوال اس بات کوظاہر کرتا ہے کہ خالص غیرجانبداری کی شقوں نے درحقیقت اپنے اہداف حاصل کرلئے۔
نہیں0

کل (ذیلی اشاریے)

 0

[Translate to Urdu:] Legal Assessment (MOM) Pakistan, 2019 by Muhammad Aftab Alam [Translate to Urdu:] Contextualisation for Media Ownership Monitor - Pakistan 2019
[Translate to Urdu:] Pakistan Telecommunication Authority [Translate to Urdu:] Accessed on January 30, 2019

[Translate to Urdu:] Telecom Act 1996
[Translate to Urdu:] PECA 2016

  • منصوبہ از
    Logo Freedom Network
  •  
    Reporters without borders
  • فنڈ دیئے
    BMZ