This is an automatically generated PDF version of the online resource pakistan.mom-rsf.org/en/ retrieved on 2019/12/05 at 22:38
Reporters Without Borders (RSF) & Freedom Network - all rights reserved, published under Creative Commons Attribution-NoDerivatives 4.0 International License.
Freedom Network LOGO
Reporters without borders

تاریخ

 

میڈیا پر موثر ریاستی اجارہ داری سے تکثیریت تک

1947 میں جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو ریڈیو واحد سرکاری میڈیا تھا جو خبروں کو نشرکرنے کا کام سر انجام دیتا تھا۔  لیکن اس کے بعد 20 سالوں میں ریاست نے نہ صرف سرکاری اخبارات اور جریدے شروع کیے بلکہ ملک کے پہلے ٹیلیوژن کی نشریات کا آغاز کرلیا۔ لیکن اس دوران قارئین کی تعداد بھی شرح خواندگی میں اضافے کی بدولت بڑھ گئی تو اس کے (سرکاری ذرائع ابلاغ) ساتھ ساتھ شخصی ملکیت کے اخبارات اور جرائد کی تعداد بھی چند درجن سے بڑھ کر چند سو ہوگئی۔ اس کے متوازی شہروں کی آبادی میں پھیلاؤ نے نسبتاً چھوٹے علاقے میں زیادہ تعداد میں رہنے والے لوگوں میں اخبارات کی تقسیم کا کام آسان کر دیا۔ دونوں رجحانات یعنی شرح خواندگی میں اضافہ اور شہروں میں آبادی کے ارتکاز نے اس وقت سیاسی بیداری میں مدد کی جب پاکستان جنرل ایوب خان کی سربراہی میں پہلی فوجی آامریت ( 69-1958)کی گرفت میں تھا۔ 1960 کی دہائی کے آخری پانچ سالوں میں کچھ سیاسی جماعتوں نے، جن میں دائیں اور بائیں بازو کی جماعتیں شامل تھیں، سیاست میں زیادہ دلچسپی رکھنے والے آبادی کا خیال رکھتے ہوئے اپنے اپنے اخبارات اور جرائد کی اشاعت کا آغاز کر دیا۔

 بعد ازاں ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوری حکومت (77-1971) کے دوران مارکیٹ سے متاثرہ مقبولیت کے خواہش مند ذرائع ابلاغ کی شکل و صورت بھی نظر آنے لگی۔  اس دوران بہت سارے اخبارات اور جرائد کی اشاعت کا آغاز ہوا اگرچہ ستم ظریفی یہ تھی کہ حکومت نے خود مختاری دکھانے کے خلاف سزا کے طور پر کچھ پرانے اخبارات و جرائد کو اشتہارات کی آمدن روک دی تھی۔ آزادی کو سلب کرنے کے لیے اس کے علاوہ اور بھی تادیبی اقدامات کئے گئے۔ ایسے اقدامات کی بالکل واضح مثال ڈان، پاکستان کا پہلا انگریزی اخبار جس کی بنیاد ملک کے بانی محمد علی جناح نے اس ملک کے بننے سے پہلے نئی دہلی میں رکھی، بن گیا۔ اس کے علاوہ حکومت نے خود بھی بڑی تعداد میں خبروں سے متعلق ذرائع ابلاغ کی ملکیت و انتظام اپنے ہاتھ میں رکھا۔

جب تیسری فوجی حکومت نے بھٹو کی جگہ لے لی تو فوراً سخت میڈیا سنسرشپ لاگو کیا۔ اپنے آپ کو اسلامی قرار دینے  والے ضیاءالحق کی فرمان روائی میں ریاست نے نجی صحافت و ذرائع ابلاغ کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی جبکہ ٹیلیوژن، ریڈیو اور سرکاری ملکیت کے اخبارات پر اس کی اجارہ داری عروج پر تھی۔ یہ سب کچھ اس لیے کیا جا رہا تھا تاکہ معاشرے کو اسلامی و غیر سیاسی بنایا جاسکے۔ ان اقدامات نے اپنا مقصد کامیابی سے حاصل کیا۔ شرح خواندگی اور شہری آبادی میں مزید اضافے، سیاسی طور پر وابسطہ اخبارات و جرائد میں کمی اور دوسری جانب سرکاری ذرائع ابلاغ کی کھوئی ہوئی ساکھ کی وجہ سے ضیاء دور نے صحافتی ذرائع ابلاغ کے لیے فروغ پذیر مارکیٹ بھی دیکھی۔ اگرچہ ان کا ذرائع ابلاغ  کے مواد پر کڑی گرفت نے اس بات کو یقینی بنایا کہ یہ پھیلاؤ عوام  کو اس حد تک متحرک نہ کرسکے کہ یہ آمریت کے لیے خطرے کا باعث بنیں۔

1988 میں جمہوریت کی بحالی کے بعد ذرائع ابلاغ کی آزادی کی پہلی لہر شروع ہوئی۔ پاکستانی جو سیٹلائٹ ڈش انٹینا کے متحمل ہوسکتے تھے وہ کئی بین الاقوامی ٹیلیویژن چینل تک رسائی حاصل کرسکتے تھے جن میں سی این این اور برطانوی نشریاتی ادارہ بی بی سی شامل تھے۔ سرکاری ملکیت کے پاکستان ٹیلیوژن (پی ٹی وی) نے نجی پروڈکشن ہاوسز کے بنائے ہوئے پروگرامات بھی نشر کرنا شروع کردیئے اگرچہ ان کا تعلق صرف اور صرف تفریح سے ہوتا تھا۔ پاکستان کے پہلے شخصی ملکیت کے ایف ایم ریڈیو سٹیشن کا قیام بھی اس دور میں عمل میں لایا گیا۔ نشریات کے لیے آزادی کی دوسری لہر کا آغاز 1999 میں جنرل مشرف کی سربراہی میں چوتھی فوجی حکومت کے زیر نگرانی ہوا جو کہ، بے شک، ہچکیوں کے ساتھ آج تک جاری ہے۔ اس دور میں خبروں پر توجہ رکھنے والے تقریباً 30  ٹی وی چینل (اور  تقریباً 50 تفریح کے ٹی و ی چینل )، جو سیٹلائٹ یا کیبل کے ذریعے نشریات ٹیلی کاسٹ کرتے ہیں، کے علاوہ تقریباً 150 ایف ایم ریڈیو سٹیشن نجی شعبے میں قائم کئے گئے ۔

 

ذرائع ابلاغ پاکستان میں جاری سول-فوجی چپقلش کے چنگل میں   

1947میں ملک بننے سے پہلے ان علاقوں میں جو اب پاکستان کا حصہ ہیں، شرح خواندگی تقریباً 15 فیصد تھی۔ انتہائی کم شرح خواندگی کی وجہ سے ان علاقوں میں جرائد و اخبارات کی حلقہ اشاعت بھی بہت کم تھا اور لاھور تک ہی محدود تھا اگرچہ چند ایک اشاعتیں دیگر شہروں سے بھی ہوتی تھیں جیسا کہ پشاور، راولپنڈی اور کراچی۔ یہ تمام (اخبارات و جرائد) سیاسی، فرقہ بندی یا گروہی وابستگی رکھتے تھے۔ مسلمانوں کے اپنے اخبارات و جریدے تھے اور دیگر ہندووں اور سکھوں کی نمائندگی کرتے تھے اور ان ہی کی ملکیت میں تھے۔

انگریزی میں شائع ہونے والے 'دی سول اینڈ ملٹری گزٹ' اور 'ٹریبیون' واحد اخبارات تھے جو بظاہر کسی مذہبی فرقے یا سیاسی وابستگی سے مبرا تھے۔ اول الذکر کی توجہ زیادہ تر حکومت اور انتظامیہ جبکہ آخر الذکر کی برطانیہ کے خلاف اور آزادی کے لیے چلنے والے تحریکوں پر مرکوز تھی۔ لیکن برصغیر ہند کے ان علاقوں میں، جو اب پاکستان کا حصہ ہیں، ان دونوں ا خبارات کا حلقہ اشاعت محدود تھا۔ 1947 کے بعد چند سالوں میں ہی تقریباً تمام مذہبی یا سیاسی وابستگی رکھنے والے اخبارات کی اشاعت رک گئی کیونکہ ان کا وجود ہی ختم ہوگیا۔ وہ اخبارات جن کے مالکان مسلمان تھے، صرف ہندوؤں یا سکھوں جو کہ پہلے ہی ہندوستان ہجرت کر گئے تھے، کے خلاف رائے ہموار کرنے کی وجہ سے باقی نہیں رہ سکتے تھے۔ وہ نوزائدہ ملک میں عوامی اور سیاسی ضروریات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے میں ناکام رہے۔ جبکہ ان اخبارات جن کے مالکان غیرمسلم تھے نے اپنا سامان سمیٹ لیا اور چلے گئے۔ پہلا اخبار جس نے پاکستان میں کامیابی حاصل کی وہ اردو زبان میں شائع ہونے والا نوائے وقت تھا۔ اس کی بنیاد 1940میں ایک ٹرسٹ نے رکھی جس کی فنڈنگ کئی مسلمان سیاسی و سماجی کارکن کرہے تھے۔ اس نے پاکستان کو بنیاد فراہم کرنے کے لیے عسکریت پسندانہ اور علٰحیدگی پسند اسلامی قوم پرستی کی حمایت کی اور اسی وجہ سے 1947 کے بعد پاکستانی پنجاب میں یہ ایک کشیر الاشاعت اخبار بن گیا۔

1947 کے بعد مسلمانوں کے دو بڑے اخبار ڈان اور جنگ نے جو بالترتیب انگلش اور اردو میں شائع ہوتے تھے، اپنے صدر دفاتر دہلی سے پاکستان کے پہلے دارالحکومت کراچی منتقل کر دیئے اور شہر میں مہاجرین کی شکل میں انہوں پہلے سے موجود قارئین پا لیے۔ اس کے بعد جلد ہی متعدد اور جریدے و اخبارات بھی شہر میں نکالے، جنہیں قارئین مل گئے۔ ان میں' دی میرر' ، حالات حاضرہ کا پہلا جریدہ جس کی زیب النساء حمیداللہ نامی ایک عورت مدیر تھیں، شامل تھا۔ یہ اشاعتی ادارے کراچی  کےسرکاری اہلکاروں پر مشتمل تعلیم یافتہ باشندوں اور صنعتوں کی تیزی سے پھیلاؤ کی وجہ سے بڑھتی ہوئی آبادی سے مستفید ہوئے۔ یہی وجہ تھی کہ کراچی صحافتی ذرائع ابلاغ کا صدر دفاتر بنا اور یہ امتیاز اس نے اب تک برقرار رکھا ہوا ہے اگرچہ کچھ صحافتی ذرائع ابلاغ کی تنظیمیوں نے اب دوسرے بڑے شہروں کو اپنا صدر مقام بنایا ہے۔

1947 میں بھی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اسمبلی کے رکن میاں افتخار الدین نے لاہور میں پہلا دیسی میڈیا ہاوس شروع کیا جس کو پراگریسیو پیپرز لمیٹڈ کہتے تھے۔ اس میڈیا ہاؤس نے انگریزی میں روزنامہ پاکستان ٹائمز اور اردو میں روزنامہ امروز اور جریدہ لیل ونہار نکالا۔ یہ تینوں اشاعتیں، جس کے مدیر پاکستان کے مشہور ترین شاعروں اور لکھاریوں میں سے تھے،  حکومت پر سخت تنقید کرتے تھے اور لاہور کے دانشوروں سے تعلق رکھنے والے اپنے قارئین میں عزت و احترام رکھتے تھے۔ حکومت تنقید کو پسند نہیں کرتی تھی ۔ پس 1951 میں  پاکستان ٹائمز کے مدیر اور عالمی شہرت یافتہ شاعر فیض احمد فیض کو اس وقت کے وزیر اعظم لیاقت علی خان کی حکومت ختم کرنے کی سازش کے الزام میں گرفتار کرکے پابند سلاسل کر دیا گیا۔

1958 میں فوج نے پاکستان میں متعدد بغاوتوں کے سلسلے کی پہلی فوجی بغاوت کی اور ایک سال کے اندر پراگریسیو پیپرز لمیٹڈ کی ملکیت و انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اور تینوں اشاعتیں حکومت کی سخت نگرانی میں جاری رہیں۔ اس کے بعد کی تین دہائیوں میں ان اخبارات و جرائد کے قارئین بھی کم ہوتے گئے اور اخراجات بڑھتے گئے لہٰذا ان اشاعتوں کا سلسلہ 1989 میں بند کیا گیا۔ 1965 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک جنگ کے بعد، یہ پہلی فوجی حکومت بہت غیرمقبول ہوئی۔ اس صورتحال میں، دائیں اور بائیں بازو کے سیاسی وابستگی رکھنے والے اخبارات و جریدے لوگوں میں سیاسی شعور اور تحریک پیدا کرنے کے لیے آگے آئے جس سے حالات حکومت کے لیے مزید مشکل ہوگئے۔

لیکن ایسے تمام اخبارات و جریدے 1977 میں تیسری فوجی آمریت آنے کے بعد ختم کئے گئے۔ سیاست اور سیاست دانوں سے تھکی ہوئی اس وقت کی نئی حکومت نے صحافتی ذرائع ابلاغ کو خالصتاً  کاروباری حثیت سے تسلیم کرتے ہوئے، اس کی وسعت کی حوصلہ افزائی کی اور اپنے آپ کو سیاسی مخالفین کی سرگرمیوں کی خبرسازی پر پابندی تک محدود رکھا۔ بہت سارے اخبارات نے ملک کے مختلف حصوں سے شمارے یا ایڈیشن شروع کئے۔ یہاں تک کہ چھوٹے صوبوں کے شہروں پشاور اور کوئٹہ سے بھی اخبارات کی اشاعت زور و شور سے شروع ہوئی۔   

حکومت نے اشتہارات کے اخراجات، اخبار کے لیے کاغذ کی درآمد، اور محصولات کی شکل میں اجارہ داری قائم رکھی تاکہ ان اخبارات و جرائد کو نوازتے رہیں جو دائیں بازو اور فوج کے حامی قارئین کو خدمات دیتے ہیں یا پھر ان نوجوانوں جن کی پرورش  غیرسیاسی خبروں پر، جن میں مذہب، کھیل، تفریح اور فیشن شامل ہیں، ہوئی تھی۔ دو قابل ذکر انگریزی اخبارات، پشاور سے شائع ہونے والا دی فرنٹئیر پوسٹ اور اسلام آباد سے شائع ہونے والا دی مسلم، کو رعایت دی گئی۔ لیکن ان کا حلقہ اشاعت شہری اشرافیہ تک محدود تھا اور ان کو شاید آزادی اس لیے دی گئی تاکہ باہر کی دنیا کو دکھائیں کہ پاکستان میں ذرائع ابلاغ آزاد ہیں۔  

1988 میں جب جمہوریت بحال ہوئی تو حکومت نے فیصلہ کیا کہ ذرائع ابلاغ کے کاروبار سے اپنے آپ کو علٰحیدہ کرے، جیسا کہ دوسرے اقتصادی شعبوں میں کیا گیا۔ 1989میں نیشنل پریس ٹرسٹ ختم کیا گیا اور نجکاری کے عمل سے (سرکاری) اخبارات و جرائد پر حکومت کی ملکیت ختم کی گئی۔ نتیجتاً اخباری کاغذ پر ریاست کی اجارہ داری کسی حد تک کم ہوگئی اور تیزی سے پھیلتی ہوئی نجی معیشت نے حکومت کی گرفت اشتہارات کی صنعت پر بھی کمزور کر دی۔ 1990 کی دہائی میں شرح خواندگی میں اضافے کے ساتھ ساتھ جمہوریت کی بحالی کے بعد لوگوں کی سیاست میں دوبارہ دلچسپی نے صحافتی ذرائع ابلاغ کو پاکستان میں پروان چڑھایا۔  پرانے روزنامے جیسا کہ جنگ، ڈان اور نوائے وقت نہ صرف زیادہ شہروں تک پھیل گئے بلکہ انہوں نے تمام بڑے شہری مراکز میں اپنے قارئین کے تعداد میں بھی اضافہ کیا۔ نوائے وقت اور جنگ دونوں نے جلد ہی تسلسل میں اپنے اپنے انگریزی اخبارات شروع کئے اور لگ بھگ اسی وقت ڈان نے اپنے لاہور اور اسلام آباد شماروں  کا آغاز کیا۔  سینکڑوں نئے اخبارات اور جرائد بھی ملک کے مختلف شہروں سے شائع ہونے لگے۔

اسی اثناء حکومت نے نشریاتی ذرائع ابلاغ پر اپنی گرفت ڈھیلی کردی جس کو آزادی کی پہلی لہر کہا جاسکتا ہے۔ 1988 سے پہلے بھی سیٹلائٹ ڈش انٹینا کی درآمد کی اجازت بغیر کسی خاص قانون سازی کی دی گئی تھی اور یہ ہزاروں لوگ نصب بھی کر چکے تھے۔ تاہم نشریاتی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے تبدیلی ایک اور فوجی حکومت کے زیر نگرانی آئی جس نے (میڈیا کی) آزادی کی دوسری لہر میں نشریاتی میڈیا کے لیے پہلا ضابطہ 2000-1999 میں دیا اور ٹیلیویژن اور ریڈیو سٹیشن کو ملک میں اپنے دفاتر کھولنے کی اجازت دی۔ ویسے بھی عالمی سطح پر نشریاتی میڈیا کا پھیلاؤ، اطلاعات کی دنیا میں انقلابی ترقیاں، مواصلاتی ٹیکنالوجی، بڑی تعداد میں غیرملکی چینل بشمول وہ جو پڑوسی ملک انڈیا سے چلائے جا رہے تھے، کی پاکستان میں ڈش مالکان کو دستیابی کی وجہ سے یہ ممکن نہیں تھا کہ نجی نشر کرنے والوں کے لیے دروازے بند رکھیں۔  

جلد ہی کئی کاروباری اداروں نے ٹیلیویژن چینل اور ریڈیو سٹیشن قائم کر دیئے اگرچہ پرنٹ میڈیا کے مالکان کو ابتداء میں نشریاتی میڈیا کی مارکیٹ میں قدم رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی کیونکہ مختلف النوع ذرائع ابلاغ کی ملکیت کو ایک ہاتھ میں رکھنے پر پابندی تھی۔ یہ پابندی کو بعد میں اٹھالی گئی، اور ہر پرنٹ میڈیا کے مالک کو اجازت دی گئی کہ وہ اپنا ٹیلیویژن چینل یا بعض صورت میں ایف ایم ریڈیو سٹیشن کھولے۔ اگرچہ حکومت کے پاس اب بھی ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلیویژن کی ملکیت ہے اور ابھی تک ان دونوں اداروں کی بتدریج میڈئیم ویو اور ارضی ترسیل پر اجارہ داری ہے لیکن وہ پاکستانیوں کے لیے مزید خبروں کا واحد یا بڑا ذریعہ نہیں رہا۔ 

پچھلی تین دہائیوں میں ریاست میڈیا پر قابو رکھنے کی پالیسی سے فیصلہ کن طور پر پیچھے ہٹتی جا رہی ہے اگرچہ وہ ایسا نہ تو بغیر کسی رکاوٹ کے کر رہی ہے اور نہ ہی تسلسل کے ساتھ۔ مثلاً بہت سارے صحافتی ذرائع ابلاغ نے1990 کے دہائی میں ترقی کی لیکن اس وقت کی جمہوری حکومت جنگ اور اس سے متعلقہ اور اشاعتوں، خاص طور پر انگریزی روزنامہ 'دی نیوز'، کے مالکان سے سخت محاذ آرائی پر اتر آئی۔ ان کے مدیروں، پبلیشر اور ان میں ایک لکھنے والوں کے خلاف غداری کے الزامات عائد کئے گئے اور ان اخبارات کے سرکاری اشتہارات معطل کئے گئے۔ جنگ اور دی نیوز کے لیے اخباری کاغذ کے درآمد پر کچھ برسوں کے لیے پابندی بھی لگا دی گئی۔ اسی طرح جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت (2008-1999) کو یہ صلہ ضرور دیا جاسکتا ہے کہ اس نے نجی نشریات کی اجازت تو دے دی تھی، لیکن مشرف نے ہی سب سے بڑے نشریاتی ادارے، جیو نیوز، کی نشریات تب روک دی جب انہوں نے 2007 میں ملک میں ہنگامی حالت نافذ کردی اور شہریوں کے بنیادی حقوق معطل کردیئے۔ اس وقت کچھ اور ٹاک شوز کی نشریات بھی روک دی اور چند سینیئر صحافیو ں کے تبصروں کو ٹیلیوژن یا ریڈیو پر نشر کرنا بھی منع کیا گیا۔

 

ذرائع ابلاغ کی ملکیت کا سفر - نجی ملکیت سے ریاستی ملکیت اور ریاستی ملکیت سے آزادی تک

پاکستان کے صحافتی ذرائع ابلاغ نے نجی شعبے میں جنم لیا تھا لیکن وہ بتدریج حکومت کے تسلط میں آیا۔ اس مقصد کے لیے بالواسطہ ملکیت یا بلا واسطہ انضباطی و غیر انضباطی طریقہ کار جیسا کہ اشتہارات پر پابندی اور اخباری کاغذ پر کنٹرول استعمال کئے گئے۔ لیکن 2002 کے بعد، جب پاکستان ریگولیٹری اتھارٹی یا پیمرا قائم کیا گیا تاکہ ٹی وی چینل اور ریڈیو سٹیشن کو نجی شعبے میں لائسنس مہیا کریں، حالات بدل گئے۔ پاکستان کی ابتدائی ذرائع ابلاغ کی تنظیمیں تمام کی تمام نجی ملکیت میں تھیں ماسوائے سرکاری ریڈیو پاکستان کے۔ کچھ پرانے اخبارات و جرائد جیسا کہ نوائے وقت، اور ڈان ابتدائی طور پر ان مختلف ٹرسٹو ں کی ملکیت میں تھے جو 1947 سے بہت پہلے قائم کئے گئے تھے۔ آزادی کے وقت بہت ساری سیاسی و سماجی تحریکوں کے اپنے اپنے اخبارات تھے (اگرچہ بسا اوقات ان اخبارات کی سیاسی یا فرقہ وارانہ وابستگی تھی)

تحریک آزادی سے تعلق رکھنے والے دائیں بازو کی ایک مسلم بنیاد پرست اخبار 'زمیندار' نے آزادی کے بعد پہلے عشرے میں اپنی اشاعت جاری رکھی۔ ایک دوسرا دائیں بازو کا اخبار 'چٹان' آزادی کے فوراً بعد لاہور منتقل ہوگیا اور کامیابی کے مختلف درجوں کے ساتھ 1980 کی دہائی تک حلقہ اشاعت میں رہا۔ چٹان شورش کاشمیری کی، جو ہزاری مذہبی فرقے احمدیوں کے خلاف اکثر پر تشدد احتجاجات میں پیش پیش ہوتے تھے، ملکیت تھا۔ ایک ذاتی ملکیت کا اخبار جو نہ صرف باقی رہا بلکہ بعد میں پاکستان کا سب سے بڑا میڈیا ہاؤس بنا وہ جنگ ہے۔ اس کی بنیاد میر شکیل الرحمٰن نے اپنے طالب علمی کے دوران دہلی میں رکھی تھی۔ جنگ نے اپنا صدر دفاتر کراچی منتقل کیا جہاں ان لوگوں میں جو دہلی اور گردو نواح سے ہجرت کرکے آئے تھے، وفادار قارئین پیدا کئے۔

ریاست اپنے پہلے اخبارات و جرائد کا مالک تب بنی جب اس نے نجی ملکیت کے پراگریسیو پیپرز لمیٹڈ پر 1959 میں قبضہ کرلیا۔ بعد میں 1970 کی دہائی میں حکومت نے نیشنل پریس ٹرسٹ قائم کیا جو پراگریسیو پیپرز لمیٹڈ کے اخبارات و جرائد سمیت متعدد اشاعتوں کا انتظام چلاتا رہا۔ 2000 کی دہائی میں کچھ چھوٹے کاروباری حضرات نے پہلا نجی ریڈیو سٹیشن کھولا اور پہلا نجی ٹیلیویژن چینل تقریباً اسی وقت کھولا گیا۔ لیکن ان کے مالکان وہ لوگ تھے جن کے پاس پیسے تو تھے لیکن صحافتی ذرائع ابلاغ کی ملکیت اور چلانے کا کوئی تجربہ نہیں تھا ۔ اس وقت حکومت نے مختلف النوع میڈیا ملکیت کی ممانعت کی تھی۔      

ذرائع ابلاغ اور سیاست -  جمہوریت یا آمریت کی حمایت، شش و پنج

صحافتی ذرائع ابلاغ نے موجودہ پاکستان کے مرکزی علاقوں میں خصوصاً لاہور اور عموماً گنجان آباد صوبہ پنجاب، فرقہ وارانہ اور سیاسی خطوط پرلوگوں کی رائے متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ آزادی کے فوراً بعد پراگریسیو پیپرز لیمیٹڈ جمہوریت اور مذہبی کثرتیت کی پر زور آواز تب تک بنتی رہی جب تک حکومت نے 1959 میں اس کو اپنے قبضے میں نہ لیا۔ سیاسی وابستگی والے اخبارات و جرائد نے بھی 69-1967میں فوجی آمریت کے خلاف لوگوں کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور ان کا کردار 1970 کے عام انتخابات کے دوران اور دوسرے فوجی حکومت (71-1969) سے سول انتظامیہ کو اختیارات کی منتقلی تک اہم تھا۔ اسی طرح، تقریباً تمام دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اخبارات و جرائد نے فعال طور پر 1977 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف پر تشدد احتجاجات کی حوصلہ افزائی کی۔ یہ وہ احتجاج تھا جو ضیاءالحق کی سربراہی میں تیسری فوجی آمریت (88-1977) کے نفاذ کی وجہ بنا۔

دوسری جانب متعدد مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ کی تنظیموں، جیسا کہ نوائے وقت، ڈان اور جنگ، نے فوج کی مدد کی کہ عوام کو بھارت کے خلاف جنگ کے لیے یکجا کرے۔ لیکن ان (اخباروں)  میں سے کسی نے خبر نہیں دی کہ پاکستان کو 1971 کی جنگ میں شکست ہوئی یا پھر بنگلہ دیش سابق مشرقی پاکستان سے بنایا گیا۔ تینوں اخبارات نے تیسری فوجی حکومت کی اسلام پسند ایجنڈے کو آگے لے جانے کی مختلف درجوں میں حمایت کی۔ ماسوائے 'دی فرنٹیئر پوسٹ'  کے کسی بھی ذرائع ابلاغ کی تنظیم نے ضیاءالحق کی حکومت کو نہیں للکارا اگرچہ انفرادی طور پر بہت سے صحافیوں کو کام چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، کچھ کو جیلوں میں ڈالا گیا، اور چند کو جمہوری سیاست کی حمایت کی پاداش میں کو ڑے مارے گئے۔ زیادہ تر صحافتی ذرائع ابلاغ نے پرویز مشرف کی فوجی حکومت (2008-1999) کی بھی کم از کم سات سال تک حمایت کی، گو کہ آخر کار اسی حکومت کا خاتمہ 2008 میں اس لیے ہوا کہ ذرائع ابلاغ نے اجتماعی طور پر 2007 میں شروع ہونے والی وکیلوں کی حکومت مخالف تحریک کی حمایت کی۔ پس صحافتی ذرائع ابلاغ کے اکثریت نے سیاسی اور مذہبی مقاصد کی تائید مختلف سطح پر کی۔

تاہم یہ رجحان ختم ہونے کو ہے کیونکہ تقریباً ہر میڈیا تنظیم کی یہی خواہش ہے کہ پیسے کمائیں۔ اب ان کے لیے سب سے اہم بقاء کا سوال ہے، کیونکہ 2019 میں ذرائع ابلاغ سخت ترین سیاسی اور معاشی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں جس کا گھٹتی ہوئی آمدنی اور بڑھتی ہوئی پابندیاں ہیں۔ پھر بھی انفرادی طور پر صحافیوں اور مدیروں نے آزادی اظہار رائے کی شمع جلائے ر کھی ہوئی ہے۔

حال- تاریخ کا اختتام اور ذرائع ابلاغ کی صنعت کا بحران

2015 کے ابتداء سے شروع ہونے والے حالات و واقعات یہ تجویز کر رہے ہیں کہ ذرائع ابلاغ کی آزادی کی دوسری لہر نے اپنی حد چھو لی ہے۔ اس دورانیے میں ذرائع ابلاغ کی خود انحصاری اور آزادی کو متعدد بار آزمایا گیا۔ پہلا یہ کہ ملک کے شمال مغرب اور جنوب مغرب میں شورش ذدہ علاقوں کو صحافیوں کی پہنچ سے دور رکھا گیا۔ پھر خبروں کی خاص موضوعات، جیسا کہ فوجی آپریشن والے علاقوں میں جبری گمشدگی، انسانی حقوق کی پامالی، اور اسی قسم کی اور اطلاعات سرخیوں یا ٹاک شوز سے، غائب رہیں۔ اور آخر میں یہ کہ صحافتی ذرائع ابلاغ کو واضح طور پر بتایا گیا کہ ریاست کی قومی سکیورٹی سے متعلق پالیسیوں، خارجہ تعلقات، اور ساتھ ہی فوج و چین پاکستان راہداری (کئی عرب ڈالرز کے قرضوں اور سرمایہ کاری کا منصوبہ جو چین اور پاکستان نے شروع کیا ہے)  سے متعلقہ معاشی مسائل پر تنقید سے اجتناب برتیں۔

2018 سے عدلیہ بھی نامہ نگاروں، مدیروں اور پبلشرز کو مختلف الزامات کے بنیاد پر عدالت میں بلا رہی ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہواکہ صحافتی ذرائع ابلاغ میں عدلیہ پر تنقید واقعی غائب ہوگئی ہے۔ ان سب سے بڑھ کر یہ کہ 2018 کے انتخابات کے نتیجے میں آنے والے نئی حکومت نے یہ تنبیہ کی ہے کہ تمام قسم کے ذرائع ابلاغ کے لیے ایک ہی ضابطہ لایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ (حکومت) پہلے سے موجود ضابطہ کو ٹاک شوز بند کرنے، اینکر پرسن پر پابندی لگانے، مدیروں اور میڈیا مالکان کو کسی نہ کسی بہانے دھمکانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ یہ تمام ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب میڈیا پر فوجی کمانڈروں، ججوں اور سیاسی رہنماؤں کی ذاتی تشخص اجاگر کرنے کے لیے مہمات چلائی جارہی ہیں۔ وہ ذرائع ابلاغ کی تنظیمیں جن کو ابتداء میں اس قسم کی مہمات سے آنے والے پیسوں سے فائدہ ہوا، ان میں سے اکثر اب سخت دباؤ میں ہیں کہ ان اشخاص کو (جن کے لیے مہمات چلائی جا رہی تھیں) تنقید سے دور رکھیں اور ایک حقیقی شخصیت سے زیادہ ان کو اہمیت دیں ورنہ مزید پابندیوں اور مالی طور پر دم گھٹنے کے لیے تیار ہوجائیں۔

2019 کی آمد پر جس چیز نے حالات صحافتی ذرائع ابلاغ کے لیے گمبھیر کئے ہیں، وہ ہے عالمی سطح پر مالی وسائل کی تقسیم کے نظام کے تہس نہس ہونے کا رجحان۔ یہ ایک ایسی ناکامی تھی جو کافی عرصے سے تیاری کے مراحل میں تھی لیکن اس نے کبھی بھی اتنی توجہ حاصل نہیں کی جتنی وہ مستحق تھی۔ یعنی اشتہارات سے آنے والے آمدنی، جو اب سماجی رابطوں کے ویب سائٹس اور ڈیجٹل پلیٹ فارم کی طرف جا رہی ہے، میں کمی کی وجہ سے مالی دباؤ، اور قارئین یا ناظرین کی تعداد میں کمی کی وجہ سے کئی اخبارات بند ہوگئے ہے۔ کچھ ٹی وی چینلز بھی اپنے حساب کتاب متوازی نہ رکھنے کی وجہ سے بند ہونے کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ بہت سارے  تباہی سےبچنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ باقی ماندہ نے اپنے اخراجات کم کرنا شروع کئے ہیں تاکہ مذکورہ انجام سے بچا جاسکے۔ لیکن اخراجات میں اس کمی کا خمیازہ صحافیوں کو ہی بھگتنا پڑ رہا ہے۔ صرف 2018 میں 2000 سے زائد صحافی نوکریوں سے نکالے جا چکے ہیں اور ایسی ہی خطرات کا  2019 میں کئی اور صحافیوں کو سامنا ہے۔

  • منصوبہ از
    Logo Freedom Network
  •  
    Reporters without borders
  • فنڈ دیئے
    BMZ