This is an automatically generated PDF version of the online resource pakistan.mom-rsf.org/en/ retrieved on 2019/12/05 at 23:16
Reporters Without Borders (RSF) & Freedom Network - all rights reserved, published under Creative Commons Attribution-NoDerivatives 4.0 International License.
Freedom Network LOGO
Reporters without borders

ٹیکنالوجی

پہلے سے موجود دنیا کے بڑے ڈیجیٹل معاشروں میں سے ایک 

نئی ہزاری کے آغاز کے بعد سے پاکستان نے اپنے ہاں ڈیجیٹل مواصلات کے ذریعے انقلاب برپا کردیا ہے۔ ٹیلی مواصلات اور ذرائع ابلاغ کے شعبوں کا پھیلاو (2019کے آغاز تک تقریباً 100مقامی ٹیلی وژن چینل اور 150ریڈیو سٹیشن)کو تیزی سے بڑھتی ہوئی نوجوان آبادی (51فیصد سے زائد، یا ملک کی 207ملین آبادی میں 100ملین سے زائد افراد کی عمریں 25سال سے کم ہیں) کی ضروریات پوری کر رہے ہیں۔ آبادی کی خصوصیات اور ٹیکنالوجی نے ایک ڈیجیٹل ماحول کو جنم دیا ہے جوعددی لحاظ سے دنیا کے دو تہائی ممالک کے انفرادی قومی حجم سے بڑا ہے اور اس کے ذریعے پاکستان دنیا کے بڑے ڈیجیٹل ممالک میں سے ایک بن گیا ہے۔ 2017میں گوگل نے پاکستان کو ان چار ممالک میں شامل کیا (پاکستان، بھارت، انڈونیشیا اور برازیل) جو 'دنیا کو مزید ایک ارب سمارٹ فون صارفین' مہیا کریں گے۔ 2019کے شروع میں پاکستان میں سیلولر فون کے پندرہ کروڑ سے زائد استعمال کنندہ شمار کئے گئے ( 73فیصد سے زائد ٹیلی ڈینسٹی،

کسی ایک علاقے میں ہر سو افراد کے لیے ٹیلی فون کنیکشن کی تعداد) جن میں 63ملین کے پاس وسعت براڈبینڈ انٹرنیٹ کنکشن ہیں اور چھ کروڑ سے زائد تھری جی /فورجی کے استعمال کنندہ ہیں۔ 

پاکستان میں پھیلتے ہوئے ڈیجیٹل ماحول کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کی بڑی تعداد آپس میں رابطے میں آ رہی ہے اور ہر سال موبائل، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا صارفین کی تعداد میں دسیوں لاکھ نئے شہری شامل ہو رہے ہیں۔ اطلاعات کے آن لائن استعمال میں اضافہ ہورہا ہے۔ نتیجتاً، حالیہ برسوں میں خبروں اور حالات حاضرہ کے لیے مخصوص آن لائن پلیٹ فارمز میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ مرکزی دھارے کے زیادہ تر ذرائع ابلاغ ادارے اپنی آن لائن سرگرمیاں شروع کر رہے ہیں اور ان میں تیزی لا رہے ہیں۔ اس طرح وہ آزادی اظہار رائے کو فروغ دینے، اطلاعات تک رسائی اور ذرائع ابلاغ کے تنوع و تکثیریت میں مدد دے رہے ہیں۔ زیادہ تر میڈیا ادارے اور ان کی نشریات واشاعتیں، مثلاً ڈان، جنگ اور نوائے وقت روزنامے اور ٹیلی وژن چینل جیسے جیو، اے آر وائی اور دنیا آن لائن پلیٹ فارم رکھتے ہیں جن کی مدد سے وہ آن لائن خبروں کے صارفین کی بڑی تعداد کو خدمات مہیا کرتے ہیں۔ پاکستان میں فیس بک، یوٹیوب، ٹوئٹر اور انسٹاگرام جیسے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم کے کروڑوں صارفین ہیں اور یہ دنیا بھر کی طرح یہاں بھی آن لائن اطلاعات اور انٹرنیٹ کے ذریعے عوامی صحافت یعنی سیٹزن جرنلزم کا منظرنامہ تیزی سے تبدیل کر رہے ہیں۔ حکومت وفاقی سطح پر اور چاروں صوبوں میں معلومات تک رسائی کا حق (آر ٹی آئی) جیسے قوانین کے ذریعے، جو پاکستان میں تمام عوامی اداروں (بشمول وزارتوں، کارپوریشنز اور دیگر سرکاری دفاتر کے) کو دفتری ویب سائٹس رکھنے اور 39 قسم کی معلومات آن لائن ہروقت منظرعام پر رکھنے کا پابند بناتے ہیں، سرگرمی سے اطلاعات دوسروں کو مہیا کرنے کی روایت کو فروغ دے رہی ہے۔ 

بینک دولت پاکستان (ایس بی پی) کے مطابق، آخری مالیاتی سال 18- 2017 میں تقریباً 60ارب روپے (461ملین امریکی ڈالرزز) مالیت کے ایک کروڑ سے زائد آن لائن لین دین ہوئی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ 2020 تک یہ حجم ایک ارب ڈالرزز سالانہ کی حد عبور کر لے گا۔ پاکستان میں آن لائن خریداری میں اتنا اضافہ ہو رہا ہے کہ چین کی بڑی ای کامرس کمپنی علی بابا نے، جس کی قدر 500 ارب ڈالرزز سے زائد ہے، مئی 2018 میں تقریباً 500 ملین ڈالرزز کے عوض پاکستان کی سب سے بڑی آن لائن خرید وفروخت کی کمپنی 'دراز' خریدی۔ 2016 میں، دراز ایک دن کی سیل سے ایک ارب روپے کمانے والی پہلی پاکستانی آن لائن کمپنی بن گئی، جبکہ ایک برس بعد 2017 میں، بلیک فرائیڈے کو اس کے ایک دن کی سیل میں تین گنا اضافہ ہوا تھا (3 ارب روپے)۔ یہ اب جنوبی ایشیا کے متعدد ممالک سے آرڈرز وصول کرتی ہے۔ تاہم اس میں مزید اضافے کے لیے پے پال کمپنی جیسے ڈیجیٹل ادائیگی نظام پر سخت ضوابط لاگو کئے جانے کی وجہ سے رکاوٹیں پیدا ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ اس  پالیسی پر پہلے ہی غور ہوچکا ہے اور اسے بینک دولت پاکستان سے منظوری بھی ملی ہے لیکن 2019 کے آغاز تک اس کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ پاکستان میں بدلتے ہوئے ہوئے آن لائن خریدوفروخت کے رجحانات کے لیے اس وقت ای کامرس پالیسی کی ساخت کا ازسرنو جائزہ لیا جارہا ہے اور یہ مزید مقابلہ جاتی ماحول اور اچھی ساکھ کے حامل بین الاقوامی پیشہ ور کاروباریوں کے لیے پھیلتی ہوئی ای کامرس منڈی میں داخل ہونے کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔ 

پاکستان میں بڑا قومی ٹیلی مواصلات ادارہ قومی خلائی ایجنسی سپارکو ہے، جو ذرائع ابلاغ کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے معاون دیسی سیارچے استعمال کرتا ہے اور اس نے بڑی تعداد میں میڈیا چینلز کی درجہ بندی بہتر کی ہے۔ 2018 میں پاکستان نے نئے منصوبے شروع کئے جن کا مقصد ملک کو پھیلتے ہوئے ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے لے جانا اور اپنے خلائی پروگرام کو بڑی عالمی لیگ میں تیزی سے داخل کرنا ہے۔  2018میں اپنے تازہ ترین قومی بجٹ میں، حکومت نے سپارکو کی فنڈنگ میں ایک تہائی اضافے کے ساتھ 41 ملین ڈالرز کر دی۔ اس میں تین نئے منصوبوں کے لیے فنڈنگ شامل ہے-- 11.7 ملین ڈالرز کا کثیرمہماتی سیارچہ (پاک سیٹ - ایم ایم 1)؛ کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں خلائی مراکز کے قیام کے لیے  8.7ملین ڈالرز کا پروگرام؛ کراچی میں 1.7ملین ڈالرز کا عملی خلائی تحقیقاتی مرکز؛ 7.2ملین ڈالرز کا دور سے معلومات حاصل کرنے والا پاکستان کا کثیرالمقاصد سیارچہ جس کو 2018میں خلاء میں چھوڑا جانا تھا؛ اور چار مراحل پر مشتمل دیسی ایس ایل وی (خلاء میں روانہ کی جانے والی گاڑی)  کی آزمائش اور فعالی۔ پاکستان اپنی ایس ایل وی کے حوالے سے چار مراحل میں تین پہلے ہی مکمل کر چکا ہے، جس کے ذریعے یہ ان چند ممالک میں سے ایک بن گیا ہے جو ا پنے خلائی پروگرامز کے اگلے مراحل پر ہیں۔ پاک-سیٹ-ایم ایم1 سیارچے کا بڑا مقصد پاکستان کے مواصلاتی براڈبینڈ کی موجودگی کو مزید پھیلانا اور ملک میں ’بلاواسطہ گھروں تک (ڈی ٹی ایچ) ٹیلی وژن ڈھانچے کو فروغ دینا ہے۔ ناظرین کے لیے ٹی وی چینلز کی بڑی مقدار کی دستیابی میں اضافے اور نشریاتی ذرائع ابلاغ کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کے علاوہ، یہ نشریاتی میڈیا کے استعمال کے پیمائشی اشاروں (ریٹنگ) کی راست نشاندہی کرنے میں بھی سہولت دے گا، جو ناظرین اور مشتہرین دونوں کے لیے مددگار ثابت ہوگا۔ 

 پاکستانی انٹرنیٹ، ٹیلی مواصلات اور موبائل شعبوں میں بین الاقوامی حریفوں کی بالادستی ہے 

پاکستان میں انٹرنیٹ، تار کے ذریعے مربوط ہونے والے آلوں (فکسڈ لائن) اور موبائل کی ٹیلی مواصلات منڈیوں میں زیادہ تر غیر ملکی کمپنیوں کی بالادستی ہے۔ ملک میں سیلولر ٹیلی مواصلات خدمات فراہم کرنے والی چار کمپنیاں ہیں -- جو کہ تمام بین الاقوامی ہیں، جن میں ناروے کی ٹیلی نار، مصر کی موبی لنک، دبئی کی یوفون اور چین کی زونگ شامل ہیں -- یہ کمپنیاں ملک میں انٹرنیٹ کی فراہمی میں مشترکہ طور پر سب سے زیادہ حصہ رکھتی ہیں۔ یہ تمام کمپنیاں پاکستان ٹیلی مواصلات ادارے (پی ٹی اے) سے لائسنس یافتہ ہیں جن کے پاکستان میں بڑے بڑے دفاتر ہیں اور یہ ملک کے وسیع رقبے پر کام کر رہی ہیں۔ پاکستان میں کم اہمیت کی حامل فکسڈ لائن سروسز زیادہ تر مقامی وہ کمپنیاں ہیں جو انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرتی ہیں یعنی آئی ایس پیز، جو تیزرفتار انٹرنیٹ، فون اور ٹی وی کی سہولتیں اکٹھی مہیا کرتی ہیں۔ ایسی بڑی کمپنیوں میں نیاٹیل، سائبرنیٹ، وائی ٹرائب، نیکس لنکس اور پاک ڈیٹاکام شامل ہیں۔

2019 کے آغاز پر، سب سے بڑی کمپنی جاز (پاکستان موبائل ٹیلی کمیونیکیشنز لمیٹڈ، پی ایم سی ایل) تھی جس کے پاس 56.1ملین صارفین کے ساتھ مارکیٹ کا 36.7 فیصد حصہ تھا، 43.3 ملین صارفین اور 28.3 فیصد حصے کے ساتھ ٹیلی نار دوسری، 31.9 ملین صارفین اور 20.9 فیصد حصے کے ساتھ زونگ (چائنہ موبائل پاکستان) تیسری اور 21.3 ملین صارفین و 13.9 فیصد حصے کے ساتھ یوفون (پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ) چوتھی بڑی کمپنی تھی۔ 2014میں جاز، ٹیلی نار، یوفون اور زونگ کو چار تھری جی لائسنس دئیے گئے جبکہ زونگ کو فور جی سروس کا لائسنس بھی ملا۔ 2016میں ٹیلی نار اور 2017 میں جاز نے بھی فور جی لائسنس حاصل کرلیے۔ اس شعبے میں زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی موجودگی اچھے معیار کو یقینی بناتی ہے، دراصل بلاتعطل موبائل ٹیلی مواصلاتی سہولت کی وجہ سے ذرائع ابلاغ کے استعمال میں دسیوں لاکھ کے حساب سے اضافہ ہوتا ہے جس سے اطلاعات کی مانگ بڑھ جاتی ہے۔ علاوہ ازیں، اطلاعات کے لیے خصوصی طور پر بنائے گئے ٹیمپلیٹ کی وجہ سے موبائل پر خبروں اور حالات حاضرہ کی ویب سائٹس کا استعمال آسان ہوجاتا ہے اور ذرائع ابلاغ کی رسد صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ 

واحد قومی ٹیلی مواصلات ادارہ خصوصی مواصلاتی تنظیم(ایس سی او) ہے، جو سرکاری شعبے کا ادرہ ہے جسے پاکستانی فوج وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی مواصلات کی وساطت سےچلاتی ہے۔ سیلولر اور انٹرنیٹ سہولت کی فراہمی میں اس کا فعالی کردار آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) اورگلگت بلتستان (جی بی) پر مشتمل ملک کے شمالی علاقوں تک محدود ہے جن کی مشترکہ آبادی 5 ملین سے زائد ہے۔ 2018 میں ایس سی او نے تھری جی اور فور جی کی سروس مہیا کرنے کے لیے آزمائش کا آغاز کیا۔ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے خطے بھارت کے زیرانتظام کشمیری حصے کی سرحد پر واقع ہونے کی بناء پر سیاسی اور فوجی لحاظ سے حساس تصور کئے جاتے ہیں۔ متنازعہ علاقے کشمیر کے دونوں متعلقہ حصوں میں دس لاکھ سے زائد بھارتی اور پاکستانی فوجی تعینات ہیں۔ دیگر بین الاقوامی ٹیلی مواصلات کمپنیوں کو کشمیر اور گلگت بلتستان میں مقامی طور پر سروسز فراہم کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ 

رسد کے شعبے میں بھی، بین الاقوامی کمپنیاں پاکستانی آن لائن میدان میں بالادستی رکھتی ہیں، جیسا کہ ویب سرچ کی سہولت فراہم کرنے والی کمپنی گوگل ہے۔ سوشل میڈیا میں فیس بک 2019 کے اوائل میں 87.96 فیصد کے ساتھ سب سے بڑی کمپنی ہے، جس کے بعد ٹوئٹر 4.73 فیصد کے ساتھ دوسری، پنٹرسٹ 2.59 فیصد کے ساتھ تیسری، یو ٹیوب 2.05 فیصد کے ساتھ چوتھی اور انسٹاگرام 2 فیصد کے ساتھ پانچویں بڑی کمپنی ہے۔ سماجی رابطوں کے مقامی پلیٹ فارمز تمام کے تمام بالکل غائب ہیں۔اگرچہ، ان بین الاقوامی کمپنیوں میں سے کوئی بھی خبری ذرائع ابلاغ کے مواد کی پیشکش میں شامل نہیں ہے۔ موبائل آلات کی منڈی میں سام سنگ اور ہواوے سب سے بڑی کمپنیاں ہیں۔ 

ایک ترقی یافتہ ٹیکنالوجی  ماحول کے لیے پرسرگرم سرکاری حمایت 

پاکستان کی حکومت ٹیکنالوجی پالیسیوں کے لیے سرگرم ہے اور وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی مواصلات اس مقصد کے لیے موجود ہیں، جو نجی شعبے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے کوشاں ایک آزاد ٹیکنالوجی نظام چلاتی ہے۔ یہ پاکستان ٹیلی مواصلات ادارے (پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی) کے ذریعے ٹیلی مواصلات اور موبائل انٹرنیٹ فراہم کرنے والی بین الاقوامی کمپنیوں کی باضابطہ نگرانی کرتی ہے۔

 پاکستانی حکومت نے 2017 میں ملکی تاریخ کی پہلی ’پاکستان ڈیجیٹل پالیسی‘کا اعلان کیا جس کا مقصد پاکستان کو ’تزویراتی طور پر تیزی سے ڈیجیٹل ہوتے ہوئے اقتصادی ماحول کے قابل بناناہے تاکہ علم اور مہارت پر مبنی معیشت کو وسیع کیا جائے اور سماجی واقتصادی ترقی کی رفتار تیز کی جاسکے۔‘ اس بصیرت کے ساتھ ڈیجیٹل پالیسی میں اہداف مقرر کئے گئے ہیں جن میں مربوط ڈیجیٹل حکمت عملی اور اطلاعات و مواصلات ٹیکنالوجی(آئی سی ٹی) کی مدد سے وسیع ترسماجی و اقتصادی ترقی کو ممکن بنانا، تعلیم، صحت، زراعت اور دیگر اہم سماجی ومعاشی شعبوں میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا شامل ہے۔’ان اہداف میں اطلاعات و مواصلات ٹیکنالوجی میں بین الاقوامی فہرستوں اور معیار کی بنیاد پر پاکستان کا مقام بہتر کرنا بھی شامل ہے۔ حکومت بڑے شہروں میں آئی ٹی کے نئے کاروبار (سٹارٹ اپس)اور سافٹ وئیر ٹیکنالوجی پارکوں کے قیام کے لیے زون بنانے، آر اینڈ ڈی (تحقیق و ٹیکنالوجیکل ترقی) کے فروغ، کاروباری مہم جوئی اور اختراع، ای گورننس اور ملک کو اطلاعات و مواصلات ٹیکنالوجی کی مدد سے بہتر طرزحکمرانی میں آگے لے جانے کا منصوبہ بھی رکھتی ہے۔ 

پاکستان نہ صرف ٹیکنالوجی پر بڑھتے انحصار کی حمایت کرتا ہے بلکہ اس نے حالیہ برسوں میں اعلی ٹیکنالوجیکل معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے خصوصی پروگرام بھی شروع کئے ہیں۔ اپنے خلائی اور طبی سائنس پروگرام میں توسیع کے لیے، پاکستان نے 2018 میں ٹیکنالوجی میں حالیہ بڑی پیش رفتوں کے شعبے میں اعلی معیار کے چار بڑے مراکز (سنٹرز آف ایکسلنس) قائم کئے۔ پہلا قومی مرکز برائے مصنوعی ذہانت ہے، جو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے تین سالہ قومی پروگرام کا حصہ ہے۔ دوسرا روبوٹ اور خودکار مشینوں کا قومی مرکز (نیشنل سنٹر آف روبوٹکس اینڈ آٹومیشن) ہے، جو 12 ٹیکنالوجی جامعات اورنئے علوم کے 45 تجربہ گاہوں کے انجمن کے طور پر بنایا گیا ہے، جہاں 200 سے زائد پی ایچ ڈی سائنسدان اور ماہرین ٹیکنالوجی مل کر کام کرتے ہیں۔ تیسرا قومی مرکز برائے سائبر سکیورٹی ہے اور چوتھا سنٹر آف بگ ڈیٹا اینڈ کلاوڈ کمپیوٹنگ ہے۔ 

یہ ادارے سائنسی برادری میں اضافے کے ذریعے ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے خاص مقصد سے بنائے گئے ہیں تاکہ قومی خلائی اور طبّی سائنس کے پروگراموں کو آگے بڑھایا جاسکے۔ پاکستان میں ذرائع ابلاغ کے ادارے اطلاعات ٹیکنالوجی میں تیز رفتار ترقی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور انھوں نے حال ہی میں مربوط ڈیجیٹل صحافتی پروگرام تک اپنی منتقلی کا عمل بہتر بنانے کے لیے اقدامات کا آغاز کیا ہے، جس سے آن لائن ذرائع ابلاغ میں تنوع اور تکثیریت میں اضافے کا مفید اثر پڑا ہے جو آف لائن ذرائع ابلاغ میں پابندی اور آزادی اظہار رائے پر قدغن جیسے کئی مسائل کی وجہ سے نظر نہیں آ رہے۔

ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ذرائع ابلاغ وحکومتی اداروں کے درمیان اشتراک

 ذرائع ابلاغ پر حالیہ برسوں میں  بڑھتے ہوئے قدغن کے پس منظر میں سوشل میڈیا کے دو پلیٹ فارمز، فیس بک اور ٹوئٹر جن کے  2018میں پاکستان میں بالترتیب 35 ملین اور 3.5 ملین سے زائد صارفین تھے، انٹرنیٹ کے ذریعے عوامی صحافت یعنی سیٹزن جرنلزم کی مدد سے اکثر  خبروں کے ذرائع بن جاتے ہیں۔ پاکستان میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کی مشہور ترین شخصیات میں بعض صحافی ہیں جس کے دسیوں لاکھ فالوورز ہیں۔ مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ اداروں کے بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اکاونٹس ہیں جن کے اپنے دسیوں لاکھ فالوورز ہیں۔ تاہم ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ذرائع ابلاغ کے درمیان صحافت میں باضابطہ اشتراک نہیں ہے، اگرچہ وقتاً فوقتاً ٹی وی چینلز اور ٹیلی نار وجاز جیسی موبائل ٹیلی فون کمپنیوں کے درمیان موبائل پر براہ راست ٹی وی تک رسائی کے لیے سستے انٹرنیٹ پیکجز پر اشتراک ہوتا رہا ہے لیکن وہ بھی 2013 میں تھری جی سہولت آنے سے پہلے کی بات ہے۔ اس کے بعد سے تھری جی/فور جی کی عام دستیابی نے موبائل اور ٹیبلیٹ جیسے دیگر آلات پر بغیر کسی اضافی خرچ کے براہ راست ٹی وی تک رسائی مزید آسان اور وسیع بنائی ہے۔ 

پاکستان میں جولائی 2018 کے عام انتخابات کے قریب، فیس بک نے ووٹروں کو اپنے حلقے معلوم کرنے اور یہ یقینی بنانے میں مدد دینے کے لیے کہ ان کے ووٹ کا اندراج ہوچکا ہے یا نہیں، ایک پروگرام شروع کیا تھا۔ ایسا سماجی رابطوں کی اس بڑی کمپنی اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے درمیان باضابطہ اشتراک سے کیا گیا تھا جس میں فیس بک صارفین کو ان کے نیوز فیڈ میں پیغام بھیج کر یقین دہائی کراتا تھا کہ ان کے ووٹ کا اندراج ہوچکا ہے۔ علاوہ ازیں، الیکشن سے قبل فیس بک نے مندرجہ ذیل نتائج حا صل کرنے کے لیے یہ اقدامات کیے ہیں۔ (1) جعلی خبروں کے امکانات کو کم کرنا (2) پلیٹ فارم کا غلط استعمال اور اس کے ذریعے غلط زبان کو روکنا (3) الیکشن کمیشن کو شفافیت بڑھانے کی تربیت دینا اور عوامی مفاد کے معاملات میں شہری سرگرمیوں کو فروغ دینا (4) اپنی اشتہار پالیسیوں کا نفاذ بہتر کرنا اور اشتہارات و صفحات میں زیادہ شفافیت لانا۔    

ٹیک معیشت کا ترقی کا سفر

پاکستان کی اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی صنعت نے 2013 کے بعد سے ترقی کے مثبت رجحانات کا مظاہرہ کیا ہے۔ مالی سال 17- 2016 کے دوران پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 3.3 ارب امریکی ڈالرز تھیں، جو اب بڑھ کر 5 ارب ڈالرز ہوگئی ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ 2020 تک 10 ارب امریکی ڈالرز ہوجائیں گی۔ اداروں میں استعمال ہونے والے سافٹ وئیرز کے شعبے میں 17 فیصد، مارکیٹنگ ٹیکنالوجی میں 15 فیصد، مالیاتی سروسزمیں 13 فیصد، صارفین مصنوعات میں 9 فیصد، خوردہ فروشی/ای کامرس میں 8 فیصد، پیشہ ورانہ سروسز میں 8 فیصد، روزمرہ استعمال کے انٹرنیٹ سے مربوط الیکٹرانک آلات/ہارڈوئیر میں 7 فیصد، حفظان صحت میں 4 فیصد، ذرائع ابلاغ میں 4 فیصداور غیرمنافع بخش تنظیموں کے شعبے میں 3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ نئے کاروبار کی دنیا میں بھی مثبت اضافہ متوقع ہے، جنھیں حکومت گرمجوشی سے فروغ دے رہی ہے۔اس نے نئے کاروبار کو تین سال کے لیے ٹیکس سے استثنی دیا ہے اور لاہور، اسلام آباد، پشاور، کراچی اور کوئٹہ میں نئے چھوٹے کاروبار (سٹارٹ اپس) کو مالی اور تکنیکی مدد فراہم کرنے والے قومی مراکز قائم کر دیے ہیں۔ پاکستان سافٹ وئیر ایکسپورٹ بورڈ (پی ایس ای بی) نے قومی اطلاعاتی مواصلات ٹیکنالوجی - تحقیقی و ترقیاتی فنڈ (آئی جی این آئی ٹی ای) کے اشتراک سے 1,700 سے زائد فارغ التحصیل طلباء کو مختلف آئی ٹی کمپنیوں اور بینکوں میں زیرتربیت افراد کی حیثیت سے رکھا ہے اور ان میں 60 فیصد سے زائد کو اپنی متعلقہ کمپنیوں سے ملازمتوں کی پیشکشیں ہوئی ہیں۔ حکومت نے ٹیکنالوجی، اختراع اور پیشہ وارانہ  لحاظ سے مزید بہتری لانے کی خاطر دس لاکھ نوجوانوں کو تربیت فراہم کرنے کے لیے ڈجی سکلز یا ’ڈیجیٹل مہارتوں‘ پر مبنی پروگرام کی منظوری بھی دی ہے۔ 

پاکستان کے مالیاتی سال 18-2017 (31جون2018) کے اختتام پر، پاکستان میں پچھلےچار مالیاتی سالوں میں ٹیلی مواصلات مارکیٹ کی آمدنی 15.35 ارب امریکی ڈالرز تھی۔ یہ آمدنی 17-2016 مالیاتی سال میں 464.11 ارب روپے (تقریباً 3.43 ارب مریکی ڈالرز) تھی۔ 2012اور 2017کے درمیان، 2015کے ایک سال کے علاوہ، آمدنی میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے جو 439.52 ارب روپے سے بڑھ کر 464.11 ارب روپے ہوئی۔ یہ شعبہ اس عرصے میں پاکستان میں بہترین کارگردگی کا مظاہرہ کرنے والے شعبوں میں سے ایک تھا۔ آخری پانچ برسوں (17-2012) کے دوران پاکستان کے ٹیلی مواصلات شعبے میں 4.77ارب ڈالرز کی غیرملکی سرمایہ کاری ہوئی، اگرچہ اس میں پچھلے دو برسوں میں بتدریج کمی آئی ہے۔ 

متضاد انضباطی نظام

پاکستان میں ویب سائٹس کا اندراج کرنا لازمی نہیں ہے اور آن لائن مواد کے لیے کوئی خصوصی انضباطی نظام موجود نہیں ہے۔اس وجہ سے  بڑی تعداد میں ذرائع ابلاغ اور حالات حاضرہ پر توجہ مرکوز رکھنے والی دیسی ویب سائٹس بن گئی ہیں جن میں نہ صرف آف لائن ذرائع ابلاغ بلکہ ’ہم سب‘ اور ’سجاگ‘ جیسی صرف آن لائن میڈیا مواد کے مخصوص اور مقبول پلیٹ فارم شامل ہیں۔ تاہم پاکستان ٹیلی مواصلات ادارہ (پی ٹی اے) آن لائن شعبے پر اختیار رکھتا ہے اورقانون کے تحت گستاخانہ یا فحش سمجھے جانے والے مواد یا ویب سائٹ کو بند کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ صرف 18-2017 میں، پی ٹی اے نے حیرت انگیز طور پر 800,000 ایسی ویب سائٹس اور ویب صفحات بند کئے تھے جہاں ’غیرمناسب اور قابل اعتراض مواد‘ موجود تھا۔ یہ اعدادوشمار پی ٹی اے نے 2018 کے اواخر میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات ٹیکنالوجی و ٹیلی مواصلات کو پیش کئے تھے۔ تمام کارروائیاں 2016 میں بننے والے انسداد الیکٹرانک جرائم ایکٹ (پی ای سی اے) کے تحت کی گئی تھیں۔ پی ٹی اے کے مطابق بند کی گئی سائٹس، صفحات اور ویڈیو چینلز پر ’ریاست مخالف، عدلیہ مخالف، گستاخانہ، ہتک آمیز، فحش، آلہ کاری یا فرقہ وارانہ /نفرت انگیز مواد‘ موجود تھا، اور قابل اعتراض مواد دیگر سائٹس کے علاوہ زیادہ تر فیس بک، ٹوئٹر، ڈیلی موشن اور یو ٹیوب پر پایا گیا۔ پی ٹی اے فیس بک کے ساتھ ایسے صفحات/مواد کوختم کرنے کا معاہدہ کرچکا ہے جو مبینہ طور پر پی ای سی اے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور ایسے معاہدوں کے لیے گوگل، ٹوئٹر اور یو ٹیوب کے ساتھ بھی بات چیت کر رہا ہے۔ پی ٹی اے اپنے ای میل ( انفو @ پی ٹی اے ڈاٹ جی او وی ڈاٹ پی کے)  کے ذریعے عوام سے مواد بند کرانے کی درخواستیں وصول کرتا ہے۔  

  مثبت پہلو یہ ہے کہ 2014 کے بعد سے پاکستان کے نئے کاروبار کے نظام میں مربوط معاون سلسلوں کی مدد سے قابل ذکر ترقی ہوئی ہے، مثلاً ٹیکنالوجی مراکز، تعلیمی ادارے، موبائل کی لین دین کرنے والے اور سرمایہ کار مقامی سطح پر نئے کاروبار کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ جی ایس ایم اے ایکوسسٹم ایکسیلیٹر پروگرام کے ٹیکنالوجی مراکز کے منظرنامے کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں 2016 (26 ٹیکنالوجی مراکز) اور 2018 (36 ٹیکنالوجی مراکز) کے درمیان فعال ٹیکنالوجی مراکز کی تعداد میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے، اور اس طرح یہ ٹیکنالوجی کے لحاظ سے جنوبی ایشیا میں بھارت کے بعد دوسرا بڑا ملک بن گیا ہے۔ ان میں زیادہ تر ادارے پاکستان کے تین بڑے شہروں اور ٹیکنالوجی مراکز اسلام آباد، کراچی اور لاہور میں پھیلے ہوئے ہیں۔ بسا اوقات سافٹ وئیر بنانے والے ٹیکنالوجی کے باہمی مربوط نظام کے محرک ہوتے ہیں۔ صرف پاکستان میں 360,000 سافٹ وئیر بنانے والے کام کر رہے ہیں جہاں ہر سال 10,000سے زائد آئی ٹی فارغ التحصیل طلباء مارکیٹ میں داخل ہوتے ہیں۔ پلیٹ فارم، 'فری لانسر ڈاٹ کام' پر دی گئی تفصیلات کے مطابق پاکستان یہ ہنر فراہم کرنے والا تیسرا بڑا ملک بھی ہے۔

  • منصوبہ از
    Logo Freedom Network
  •  
    Reporters without borders
  • فنڈ دیئے
    BMZ