This is an automatically generated PDF version of the online resource pakistan.mom-rsf.org/en/ retrieved on 2019/12/05 at 23:02
Reporters Without Borders (RSF) & Freedom Network - all rights reserved, published under Creative Commons Attribution-NoDerivatives 4.0 International License.
Freedom Network LOGO
Reporters without borders

قانونی چوکاٹھ

آئین پاکستان اپنی شق نمبر انیس کے تحت آزادیِ اظہار اور شق نمبر انیس اے کے مطابق حقِ آگہی کو تمام پاکستانیوں کا بنیادی حق تسلیم کرتا ہے۔ تاہم یہ بنیادی حق چند پابندیوں کے ساتھ پاکستانی عوام استعمال کر سکتے ہیں۔ جن میں فوج، عدلیہ، اسلام اور چند دوست ممالک کے لیے آزادیِ اظہار پابند دکھائی دیتا ہے۔ اور یہ تمام پابندیاں ریاست جب چاہے اپنے دائرے اختیار میں رہتے ھوئے لگا سکتی ہے۔ پاکستان میں ریڈیو، ٹی وی، اخبارات و رسائل ریاستی سنسرشپ کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ اور جہاں تک انٹرنیٹ پر آزادیِ اظہار کا تعلق ہے تو وہ بھی درجہ بہ درجہ ریاستی پابندیوں میں جکڑی ہوئی نظر آتی ہے۔ یہ پابندیاں 2016 کے نصف سے پریوینشن آف الیکٹرونک کرائمز ایکٹ۲۰۱۶ کےتحت عائد کی جاتی رہی ہیں۔

 

پاکستانی ذرائع ابلاغ پر لاگو ہونے والا موجودہ قانونی ضابطہ اخلاق سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے 2002 میں نافذ کیا تھا۔ اس لیگل فریم ورک میں پیمرا آرڈیننس 2002، پی سی پی 2002، پریس، اخبارات، نیوز ایجنسیوں اور کتابوں کے اندراج کا آرڈیننس 2002، ہتک عزت 2002 اور اظہارِ رائے کی آزادی کا قانون شامل ہیں۔

دو ھزار دو سے قبل ترتیب دئیے گَے اس تمام لیگل فریم ورک کی غیرموجودگی کے دوران نجی ذرائع ابلاغ کے اندراج کے لیے ریاست کو خبروں کی نشریات پر پی ٹی وی اور پی بی سی کی اجارہ داری حاصل تھی۔ پیمرا آرڈیننس کے نافذ کیے جانے سے قبل ہی پی ٹی اے جس کا قیام 1996 میں عمل میں آیا تھا اس کے تحت پاکستانی نشریاتی ترسیل کے نظام جس میں کیبل ٹی وی شامل ہے کی ریگولیشن پر آمادہ تھا۔ اور پھر اسے 2002 میں پیمرا کو سونپ دیا گیا۔ اسی طرح 2002 سے قبل پرنٹ میڈیا کا اندراج مغربی پاکستانی پریس آرڈیننس 1963 کے ذریعے کیا جاتا تھا جسے پریس، اخبارات، نیوز ایجنسیاں اور کتابوں کے اندراج کے آرڈیننس 2002 نے تبدیل کیا۔ اور اس نئے قانون نے اخبارات کی اشاعت کو قدرے آسان کر دیا۔

دو ہزار دس کی اٹھارویں ترمیم کے بعد جس کے تحت مرکز سے بڑے پیمانے پر صوبوں کو اختیارات کی منتقلی کی گَی ان میں اخبارات کی تفصیل و اندراج، خیبرپختونخوا حکومت کی طرف سے جاری کردہ خیبر پختونخوا پریس، اخبارات، نیوز ایجنسیاں اور کتابوں کے اندراج کا ایکٹ 2013 شامل ہیں۔

دوسری جانب 2016 میں وفاقی حکومت نے پی ای سی اے کے قانون پر عمل درآمد شروع کیا جس نے پی ٹی اے کوآن لائن میڈیا اور اس کے مواد کو سنسر کرنے اور اس کی ترسیل کو پابند کرنے کا مجاز قرار دیا۔ اور اس قانون پر عمل درآمد کے بعد سے کئی صحافی اور سرگرم کارکنان اس سخت قانون کے دائرے اختیار میں لائے جا چکے ہیں۔

پاکستان میں پرنٹ آن لائن اور الیکٹرانک میڈیا کو ہنکانے یا چلانے کے لیے مختلف قوانین لاگو کیے گئے ہیں۔ ان قوانین میں پیمرا کے قانون کے ذریعے نجی سیکٹر کے ٹی وی ریڈیو اور کیبل کے نظام کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ پی ٹی اے کے قانون کا اطلاق ٹیلی کام سروسز جن میں موبائل فون، فکسڈ فون اور آن لائن پر ہوتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی ملک میں کئی قوانین ایسے بھی ہیں جن کا اطلاق کسی بھی قسم کی معلومات کے حصول  یا اس تک رسائی پر ہوتا ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے عمل میں آنے کے بعد سے وفاقی حکومت سے صوبوں تک اختیارات کی منتقلی کے قانون کے ذریعے پاکستان کے چار میں سے تین صوبے آر ٹی آئی کے قانون کا مکمل فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

تاہم پنجاب اور خیبر پختونخوا کے علاوہ قائم کردہ ان قوانین کے زیرِ نگرانی انفارمیشن کمیشن سندھ میں فعال نہیں ہو سکا ہے جس کی ایک وجہ فنڈز کی کمی اور وفاقی سطح پر افرادی قوت کی عدم موجودگی ہے۔ بلوچستان کا صوبہ آج بھی 2005 کے فرسودہ قوانین بھگت رہا ہے۔

پریس کونسل آف پاکستان کا ادارہ جو کہ انتظامی سطح پر مکمل طور پر فعال تسلیم کیا جاتا ہے اس کا کام پرنٹ میڈیا کو قوائد و ضوابط کے مطابق چلانا ہے۔ تاہم پی سی پی اپنے تمام سٹیک ہولڈرز کے درمیان پہچان بنانے کی تگ و دو کرتا نظر آتا ہے۔ جولائی 2018 کے بعد منتخب ہونے والی عمران خان کی حکومت نے ایک دستاویز تیار کی ہے جس کے تحت پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کا قانون متعارف کرایا جا سکے گا۔ اس تجویز کردہ سکیم کا مقصد پیمرا، پی سی پی اورپی ٹی اے کو ضم کر کے میڈیا سیکٹر کے لیے ایک باقاعدہ قانون کا قیام ہے۔ لیکن  دیکھا جائے تو اس تجویز سے منسلک سٹیک ہولڈر ادارے اس تجویز کو قبول کرنے میں حجت کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔

پی سی پی نے تو باقاعدہ اس تجویز پر ایک سخت سست بیان بھی دے ڈالا ہے۔ ساتھ ہی ملک کی اہم سیاسی جماعتیں  ذرائع ابلاغ کے اہم ادارے بھی اس کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔

پیمرا کا منشور نجی شعبے میں نشریاتی ادارے، ٹی وی ریڈیو اور کیبل شامل ہیں ان کے لیے لائسنس کا اجراء کرنا ہے۔ اس کے علاوہ پیمرا ہی اپنے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو قانون کے کٹھرے میں لانے کا اختیار رکھتا ہے۔ دوسری جانب پی ٹی اے کا قانون ٹیلی مواصلات کے نظام کی باقاعدگی اور ٹی وی اور ریڈیو کے لیے اس کی فریکوینسیوں کے نفاذ کے لیے لائسنس بھی جاری کرتا ہے۔ پی ٹی اے کے پاس ہی آن لائن مواد کو کنٹرول کرنے اور بسا أوقات ویب سایئٹوں پر پابندی لگانے کا اطلاق بھی کرتا ہے۔ لیکن پی ٹی اے ویب سایئٹوں کے اندراج کا مجاز نہیں۔ پی سی پی کا کام پرنٹ میڈیا کے چھپے ہوئے مواد سے متعلق شکایات سننا ہے لیکن پی سی پی کا اخبارات کے اندراج اور ان کے اجازت نامے کے اجرا میں کوئی کردار نہیں ہے۔ پی سی پی چونکہ ایک نیم سرکاری ادارہ ہے لہٰذا اس کی کوشش ہے کہ وہ ملکی پرنٹ میڈیا پر قانونی کنٹرول حاصل کرسکے۔

ملکی، غیرملکی، قومی، صوبائی اور ضلعی سطح پر مقامی اور چنیدا سامعین کے لیے نشر کیے جانے والے تمام مواد کی باقاعدگی کا نظام پیمرا کی شق نمبر چار کے تحت چلایا جاتا ہے۔ پیمرا قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا اختیار رکھتا ہے۔ دوسری جانب پی ٹی اے خبر رساں نشریاتی اداروں اورٹیلی کام سیکٹر کے لیے  فریکویینسیوں کا اطلاق بھی کر سکتا ہے۔

 پیمرا تیرہ ممبران پر مشتمل ایک قانونی مجلس ہے جس کے آٹھ اراکین سرکاری ہوتے ہیں اور چار اہم عوامی نمائندگان۔ ان تمام اراکین کی تقرری وفاقی حکومت کرتی ہے۔ اور ان میں سے کسی بھی رکن کو اس کی چار سالہ مدت سے قبل فارغ نہیں کیا جاسکتا لیکن اگر ان میں سے کوئی ذہنی اور جسمانی طور پر نااہل ہوجائے یا بدعملی میں ملوث پایا جائے تو اسے پیمرا فارغ کرنے کا حق رکھتا ہے۔ پیمرا آرڈیننس کا ماننا ہے کے وفاقی حکومت ان اراکین کی تقرری کا اختیار رکھتی ہے۔ جس میں صدر آئینی طور پران ممبران کو منتخب کرسکتا ہے اور وزیرِاعظم قانونی طور پر کسی بھی فیصلے کا اختیار رکھتا ہے۔

پیمرا پہ اپنے سالانہ بجٹ کے استعمال کے گوشواروں کو پیش کرنے کی قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ پیمرا کی تازہ ترین سالانہ رپورٹ فروری 2019 میں شائع کی گئی جس سے پیمرا کی مالی سال دو ہزار سترہ۔اٹھارہ کی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ یاد رہے کے پیمرا کی ویب سائٹ اس کے بجٹ سے متعلق معلومات فراہم نہیں کرتی ہے۔ پیمرا کو جن ذرائع سے مالی اعانت کی جاتی ہے ان میں لائسنسوں سے حاصل شدہ فیس، وفاقی حکومت سے فراہم کردہ خصوصی قرضے اور دیگر ذرائع سے حاصل کردہ رقوم شامل ہیں۔

پیمرا کی شق نمبر دس اس کے تمام اراکین کو دورانِ ملازمت کسی اور ادارے، کاروبار یا ملازمت سے منسلک ہونے کی اجازت نہیں دیتی۔ اور تمام ممبران کو کسی بھی قسم کے بلواسط یا بلاواسطہ مالی فائدہ حاصل کرنے سے پابند رکھتا ہے۔  

پیمرا قوانین 2009 کے مطابق پیمرا سالانہ چار سے زیادہ اجلاس نہیں کرسکتا۔ شق نمبر تین کے مطابق اجلاس سے کم از کم ایک ہفتہ قبل اجلاس کا ایجنڈا، اس کا وقت، تاریخ اور مقام کا نوٹس تمام اراکین تک پہنچ جانا چاہیے۔ یاد رہے کہ پیمرا اپنے اجلاس کے بعد اخباری بیان جاری کرتا ہے اور کسی بھی خبر رساں ادارے کو اپنے اجلاس کی تفصیل فراہم کرنے کا پابند نہیں۔  

لیکن پیمرا  کا کسی بھی قسم کی فیصلہ سازی کے لیے ایک طویل طریقہ کار موجود ہے بالخصوص لائسنس کی فراہمی کے لیے۔ اس طریقہ کارکے مطابق ممکنہ امیدواروں کا چناو پہلے ہی کرلیا جاتا ہے اور پھر یہ لائسنس ایک شفاف نیلامی کے تحت فراہم کیے جاتے ہیں۔ لائسنس شدگان اداروں کا شکوہ ہے کہ پیمرا ذرائع ابلاغ کی صنعت کو سہولیات فراہم کرنے کی بجائے ان کے شائع۔ نشر کردہ مواد پر بتدریج تنقید اور دھاندلی سے کام لیتا رہا ہے۔ اور ساتھ ہی صارفین کے حقوق بھی سلب کرتا رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 2016 سے آج تک نیوز پروگرام اینکروں، لائسنس شدگان، نیوز پروگراموں پر پیمرا کی جانب سے پابندی کے درجنوں مقدمات عدالتوں میں درج ہیں۔

اختیارات اور بجٹ کے حوالے سے پیمرا ایک بہت بڑا ادارہ ہے جس کا مالی سال 2017  کا سالانہ بجٹ مقامی کرنسی میں 816 ملین روپے تھا۔ پیمرا کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اس وقت ادارہ 50 ٹی وی چینلوں کی جانچ پڑتال پر معمور ہے جس میں سے 26 نیوز چینل ہیں۔ حال ہی میں اس نے 250 چینلوں کی نگرانی کے نظام لگانے کے لیے ایک ٹینڈر بھی جاری کیا ہے۔

پریس کونسل آف پاکستان آرڈیننس 2002  کی شق نمبر تین کے مطابق ادارے کا

 منشور، اخبارات، نیوز ایجنسیوں، مدیروں اور صحافیوں کی جانب سے کی گئی قانون  کی حکم عدولی کے خلاف پی سی پی کو شکایات وصول کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

پی سی پی 19 اراکین پر مشتمل ایک قانونی ادارہ ہے جس کے ممبران کا تعلق میڈیا کے اداروں سے ہوتا ہے تاہم اس کے چیرمین کا تعلق میڈیا سے نہیں ہوتا۔ اور دیگر اراکین کا انتخاب انہی سٹیک ہولڈرز کے زریعے کیا جاتا ہے۔ اس کا چیرمین تین سال کی مدت کے لیے لگاتار دو بار اپنے فرائیضِ منصبی انجام دے سکتا ہے۔ لیکن دیگر ممبران صرف ایک ہی بار تین سال کی مدت استعمال کر سکتے ہیں۔ حکومت ادارے کے کسی بھی رکن بشمول چیرمین کو معطل کرنے کا حق رکھتی ہے۔ اگر وہ بےایمانی یا بد علی میں ملوث پایا جائے۔

آرڈیننس کی شق نمبر چار ان تمام مالیاتی ذرائع کی تفصیل فراہم کرتی ہے جو کونسل کے لیے استعمال کیئے جاتے ہیں۔ جو مندرجہ ذیل ہیں؛

۔ سرکاری امداد و عطیات،

۔ ملکی اور غیر ملکی امداد،

۔ اندراج شدہ اخبارات اور نیوز ایجنسیوں سے حاصل ہونے والی فیسیں شامل ہیں۔

دو ہزار دس سے قبل اخبارات کے اندراج سے متعلق صرف ایک مرکزی قانون موجود تھا جو پریس، نیوز پیپر، نیوز ایجنسی اور بُک رجسٹریشن آرڈیننس، 2002 کہلاتا تھا۔

تاہم اس قانون کے تحت اخبارات کا اندراج ضلعی حکومت یعنی نیم صوبائی سطح پر منتقل کردیا گیا تھا لیکن 2010کی اٹھارویں ترمیم کے نتیجے میں صوبوں کو یہ اختیار حاصل ہوگیا سوائے خیبر پختونخوا کے۔ یاد رہے کہ پی سی پی کا وفاقی، صوبائی اور ضلعی سطح پر اخبارات کی رجسٹری یا اس سلسلے میں معاونت میں کوئی کردار نہیں ہے۔

پریس، نیوز پیپر اور بک رجسٹریشن آرڈیننس 2002 کے مطابق، کسی بھی اخبار کی رجسٹریشن اس کے ایڈیٹر سے ملنے والے حلف نامے کے بعد ہی ممکن ہو سکے گی۔

پس سی پی وہ واحد ادارہ ہے جس میں اس کے تمام میڈیا سٹیک ہولڈروں کی نمائندگی شامل ہے۔ اس کے بورڈ میں اے پی این اس، پی ایف یو جے، سی پی این ای  کے ممبران شامل ہیں۔ پی سی پی آرڈیننس کے مطابق، اس کونسل کو فیصلہ سازی کے حوالے سے ایک اہم ادارہ مانا جاتا ہے ۔

اس کی شق نمبر سترہ کے مطابق نو اراکین کا کورم اگر مکمل ہے تو اجلاس کا انعقاد ممکن ہو سکتا ہے۔ قانون کے مطابق اس کونسل کی میٹنگ ضرورت کے تحت کال کی جاسکتی ہے۔ تاہم ان قوانین پر باقاعدہ عمل درآمد نہیں شروع ہوا ہے۔ اور اس کی ویب سائٹ سے بھی ایسے اجلاس کی تفصیلات نہیں ملتی ہیں۔ عام طور پر صرف ایک اخباری بیان جاری کر دیا جاتا ہے اور اجلاس کی تفصیلات عوام کو فراہم نہیں کی جاتیں۔ تاہم  پی سی پی کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ  آر ٹی آئی کو درخواست دے کر اجلاس کی تفصیلات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

مختصراً اس قانون کے مطابق پی سی پی کو اپنی سالانہ رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کرنا ہوتی ہے۔

پی سی پی بنیادی طور پرصرف شکایات کے ازالوں کا ادارہ ہے۔ اس کا اخبارات کی رجسٹریشن سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کونسل کے تمام اجلاس انعقاد اور تفصیلات کے حوالے سے خفیہ رکھے جاتے ہیں۔ پی سی پی کو بڑے پیمانے پر اثرورسوخ والا ادارہ نہیں کہا جاسکتا۔ چونکہ مالی طور پر پی سی پی زیادہ مستحکم ادارہ نہیں ہے لہٰذا اس کے لیے ملک بھر سے چھپنے والے کئی سو اخبارات کے اخلاقی اورادارتی اصولوں کی پابندی پر نظر رکھنا محال ہو جاتا ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) بنیادی طور پر ٹیلی مواصلات کے نظام کو چلانے والا ادارہ مانا جاتا ہے۔ تاہم پی ٹی اے کو انٹرنیٹ سہولیات فراہم کرنے والے اداروں کو لائسنس کے اجرا کا کنٹرول بھی حاصل ہے اور اسی بنا پر پی ٹی اے کا انٹرنیٹ کے حوالے سے بھی اثرو رسوخ کا دائرہ وسیع ہوجاتا ہے۔ اور اس نے اضافی طور پر الیکٹرونک میڈیا سے جڑے قانون پی ای سی اے کو یہ حق بھی دے دیا ہے کے وہ کسی بھی ویب سائٹ یا سوشل میڈیا کے آن لائن مواد کو حذف یا بند کرسکتا ہے۔ علاوہ ازیں وفاقی تفتیشی ادارے (ایف آئی اے) کو یہ اختیارات حاصل ہیں کہ وہ سائبرکرائم یا سوشل میڈیا پر جاری ہونے والے متنازع مواد کی تفتیش کرسکتا ہے۔

پی ٹی اے تین اراکین پر مشتمل ادارہ ہے۔ ان اراکین کا انتخاب چار سال کی مدت کے لیے وفاقی حکومت کرتی ہے۔ یاد رہے کہ انہی اراکین کو مزید چار سال کی مدت کے لیے دوبارہ منتخب کیا جاسکتا ہے۔ پی ٹی اے کے کسی بھی ممبر کو اس کی ذہنی اور جسمانی معذوری یا ادارے میں خردبرد کے باعث وفاقی پبلک سروسز کمیشن تحقیقات کے بعد معطل کرسکتا ہے۔ ان اراکین کا انتخاب اتھارٹی ان کی تخلیقی مہارت پر کرتی ہے۔

پی ٹی اے کی شق نمبر تین کے مطابق اس کے کسی بھی رکن کا ٹیلی مواصلات ہی کے شعبے میں کسی ایسے فرد یا کمپنی سے منسلک ہونا جس کا بلواسطہ یا بلاواسطہ تعلق ملکی، غیر ملکی ٹیلی کام سروس یا اس کا ساز و سامان مہیا کرنے والی کمپنی سے ہو،اس کا مجاز نہیں ہو سکتا۔

فیصلہ سازی کی شفافیت کے حوالے سے پی ٹی اے کا رائج کردہ قانون خاموش نظر آتا ہے۔ لیکن پی ٹی اے پر یہ لازم ہے کہ وہ لائسنسوں، ان کے لیے درخواستوں اور ان کے اجرا سے متعلق کاغذات کا شمار رکھے۔ پی ٹی اے ایکٹ 1996 شق نمبر آٹھ کے مطابق اس کے تینوں اراکین فیصلہ سازی کے حوالے سے بااختیار ہیں لیکن وفاقی حکومت پالیسی امور سے متعلق ایسی ہدایات دینے کا حق رکھتی ہے جس کا پی ٹی اے اراکین کا پابند ہونا لازم ہو جاتا ہے۔ پی ٹی اے کے تمام فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے اس کے ممبران کی اکثریت حاصل ہونا لازم ہے۔

پی ٹی اے نے دو ہزار نو سے اٹھارہ تک تمام رپورٹیں اپنی ویب سائٹ پر شائع کر رکھی ہیں۔ اس کی ویب سائٹ اس کے تمام عزائم اور فیصلوں پر مشتمل ہے۔ اور وہ اپنی سالانہ رپورٹ وفاقی حکومت کو پیش کرتا ہے۔

میڈیا کی جانچ کے دیگر سرکاری اداروں کی طرح پی ٹی اے اپنے اجلاس کی تفصیلات عام نہیں کرتا۔

پی ٹی اے کی مالی اعانت وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے ملنے والی امداد اور لائسنس شدگان کے معاوضوں پر مشتمل ہوتی ہے۔

پی ٹی اے نے تقریباً  آٹھ لاکھ ویب سائٹوں اور انٹرنیٹ صفحات کو معطل کیا ہے جن کا مواد غیرمناسب اور متنازع تھا۔ 2009 سے گوگل ٹرانسپیرنسی رپورٹ کے مطابق حکومتِ پاکستان گوگل سرچ انجن کو 292 ایسے خطوط بھیج چکی ہے جن میں گوگل ڈاٹ کام سے 3478 آئٹموں، جن میں مضامین اور تصاویر دونوں شامل ہیں ان کو ہٹانے کی درخواست کی گئی ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ گوگل ڈاٹ کام  نےحکومتِ پاکستان کی طرف سے کچھ صارفین سے متعلق معلومات کے لیے گذشتہ تین سالوں میں تقریباً سو درخواستیں وصول کی ہیں۔ جنوری تا جون 2018 تک فیس بک ٹراینسپرنسی رپورٹ کے مطابق فیس بک نے پی ٹی اے کی درخواست پر تقریباً 2000 ایسے مضامین پر پابندی عائد کر دی جن کے مواد پر پی ٹی اے کے تحفظات تھے۔ علاوہ ازیں حکومتِ پاکستان اور پی ٹی اے نے فیس بک کو ایسی 1600 درخواستیں بھیج رکھی ہیں جو اس کے صارفین اور ان کے اکاونٹس کی تفصیل کے حصول سے متعلق ہیں۔

حکومتِ پاکستان نے ایسی مزید 243 درخواستیں دی ہیں جو 3000 صارفین کے فیس بک پر موجود مواد کے اخراج سے متعلق ہیں۔ اور 54 فیس بک صارفین سے متعلق معلومات کے لیے بھی 2018 کی پہلی ششماہی میں 22 درخواستیں بھیجی جا چکی ہیں۔  

  • منصوبہ از
    Logo Freedom Network
  •  
    Reporters without borders
  • فنڈ دیئے
    BMZ