This is an automatically generated PDF version of the online resource pakistan.mom-rsf.org/en/ retrieved on 2019/11/20 at 10:26
Reporters Without Borders (RSF) & Freedom Network - all rights reserved, published under Creative Commons Attribution-NoDerivatives 4.0 International License.
Freedom Network LOGO
Reporters without borders

مالک

 

پاکستانی نیوز میڈیا میں چار قسم کے مالکان ہوتے ہیں: حکومت، میراث میڈیا تنظیمیں، بڑے پرائیویٹ بزنس گروپ جنہوں نے کچھ ہی عرصے میں کافی میڈیا کی تنظیمیں کھول لی ہیں اور وہ میڈیا کی تنظیمیں جو سابق صحافیوں یا سیاسی اور سوشل کارکنان نے کھولی ہیں۔

ان تمام میں سے سب سے پرانی اور بڑی میڈیا کی تنظیموں کے مالکان ڈان میڈیا گروپ، جنگ گروپ اور نوائے وقت کے پبلشر ہیں تاہم ان کب بھی اب زیادہ مال دار ذرائع سے سخت مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔ اے آر وائے اور ایکس پریس میڈیا گروپ کی سامعین تک پہنچ اور اشتہارات سے آمدنی اس وقت جنگ گروپ کے علاوہ تمام پرانی میڈیا تنظیموں کو پیچھے چھوڑ گئی ہے۔ ان دونوں کے مالکان کی پاکستان کی معیشت کے کافی ذرائع میں انحصار ہیں۔

تیسرے قسم کے مالکان وہ ہیں جن میں صحافیوں سے تبدیل ہونے والے پبلشر شامل ہیں۔ یہ وہ مالکان نہیں جن کی بدولت میڈیا میں شفاف اور آز ادانہ طور پر کوئی انقلاب لایا جائے گا۔ یہ اپنی پسندیدگی اور عوام سے پیسے نکلوانے کی وجہ سے سامنے آئے ہیں۔ یہ کیس روزنامہ خبریں کا ہے یا پھر بینک اور ریاستی چینلز سے پیسے نکلوانے کا ہے جو کیس روزنامہ پاکستان کا ہے ۔ جو لاہور سے شائع ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے یہ میڈیا کے گھر اپنے مالکان کی سیاسی اور مالی تبصروں کی عکاسی کرتے ہیں۔

آخری قسم کے مالکان میں ان لوگوں اور تنظیموں کا شمار ہوتا ہے جو ایک مخصوص نظریے کی عکاسی کرتے ہیں اور اس کے ذریعے وہ اپنے سامعین کو بھی اس نظریے کی طرف لے آتے ہیں۔ ان میں روزنامہ جسارت اور امت شامل ہیں جو دونوں کراچی سے شائع ہوتے ہیں اور کافی مذہبی اور جنگ پرستی والی سوچ رکھتے ہیں۔      

مالک
  • منصوبہ از
    Logo Freedom Network
  •  
    Reporters without borders
  • فنڈ دیئے
    BMZ