This is an automatically generated PDF version of the online resource pakistan.mom-rsf.org/en/ retrieved on 2019/12/05 at 22:38
Reporters Without Borders (RSF) & Freedom Network - all rights reserved, published under Creative Commons Attribution-NoDerivatives 4.0 International License.
Freedom Network LOGO
Reporters without borders

سیاسی نظام

پاکستان میں میڈیا کا زندہ رہنے کا بحران

پاکستان میں دیکھا جائے تو ایک عرصے سے نیوز میڈیا پابندیوں اور سنسرشپ کے شکنجوں میں جکڑا ہوا ہے۔ یہ سنسرشپ حکومتی بھی ہے اور کچھ ریاستی بھی۔ اور ان سب سے بڑھ کہ پاکستانی نیوز روم بذات خود بھی اپنی سی سنسر شپ پر آمادہ ہیں۔ گو کہ یہ خود ساختہ سنسر شپ ملکی جمہوری اقدار کے منافی بھی ہیں اور آذادی رائے کے بھی۔

پاکستان میں صحافیوں کو اپنے کام کی شفافیَت کے حوالے سے نہ صرف سرکاری اداروں سے پابندیوں کا سامنا ہے بلکہ جانی نقصان کا بھی، کبھی انہیں حکومت، کبھی ریاست، کبھی سیاسی جماعتوں اور کبھی مذہبی بنیادوں پر شدت پسند تنظیموں سے بھی دھمکیوں اور جسمانی تشدد کا خدشہ رہتا ہے۔ حد تو یہ کہ کبھی کبھی حکومت وقت یعنی پی ٹی آئی بھی ڈراتی دھمکاتی رہتی ہے۔ یہ سبھی عناصر جس طرح نیوز میڈیا کو دھمکاتے اور دباؤ میں رکھتے ہیں وہ ان کی اپنی ساکھ کے لیے بھی کچھ موثر تو نہیں۔ بیشتر ایسے بھی ہیں جنھیں اگر محسوس ہوجائے کے کہ کوئی صحافی ان کے مخالف کی حمایت کا رجحان رکھتا ہے تو وہ صحافیوں کے ساتھ نازیبا القاب اور طرز تخاطب رکھتے ہیں۔ کچھ عناصر نے تو نہ صرف صحافیوں کو جان کی دھمکیاں بھی دی ہیں اور  حالیہ دنوں میں اکثر ان کے دفاتر پر حملے بھی کروا چکے ہیں۔

صحافیوں کی زندگیوں کی ضمانت اور انہیں کام کی آزادی یہ دونوں معاملات اس وقت اور بھی گھمبیر ہو جاتے ہیں جب میڈیا مالکان اور حکومت کے درمیان تعلقات کشیدگی سے دوچار ہوں۔ دیکھا جائے تو اس وقت ملک کے تین سرفہرست نیوز میڈیا ہاؤس جن میں ڈان گروپ، جنگ۔جیو گروپ اور نوائے وقت، حکومت کے ساتھ انہی معاملات پہ رسہ کشی کر رہے ہیں۔ اور اسی رسہ کشی کے باعث نیوز میڈیا کو سرکاری اشتہارات ملنا بند ہوگئے ہیں جن میں یہ تین بڑے گروپ بھی شامل ہیں.۔ نیجتا صحافی نہ صرف اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں بلکہ جو نوکریوں پر بحال ہیں انہیں بھی اپنے مالکان سے سخت پابندیوں کا سامنا ہے۔ کیونکہ مالکان بھی اپنی دکان چلتی رکھنے کے لیے حکومت وقت اور دیگر با اثر اداروں جن میں خصوصا فوج اور اعلی عدالتیں شامل ہیں ان کے ساتھ مزید چپقلش نہیں چاہتے۔

’پاکستان یونین آف جرنلسٹ‘ کے مطابق 2018 سے اب تک 2000 صحافی بے روزگار ہو چکے ہیں اور بعض ایسے بھی ہیں جنہیں نوکریاں بحال رکھنے کے لیے تنخواہوں میں کٹوتیاں بھگتنا پڑی ہیں۔ کئی اخبارات اور ٹی وی چینلوں کو اپنے کاروبار بند کرنے پڑے ہیں اور جو کام کر رہے ہیں وہ اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کیفیت سے ہمکنار ہیں۔  

نگرانی میں اضافے کے ذریعے سینسرشپ

یہ مسائل اس وقت اور بھی بڑھ جائیں گے اگر 2018 میں تجویز کردہ ’پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی‘ کا واحد نگراں ادارہ سرگرم عمل ہو جاتا ہے جس کا کام پرنٹ، براڈ کاسٹ اور آن لائن نیوز میڈیا پر نظر رکھنا ہوگا۔ گو کہ ایک ہی ادارے کا قیام قابل قبول ہے اگر اس کا کام صرف نیوز میڈیا کے مواد کی نگرانی ہو اور اس کی سنسر شپ نہیں۔ کیونکہ حکومتی سطح پر اب تک ایسے نگران اداروں سے کچھ نیوز میڈیا کی امیدیں حوصلہ افزا نہیں رہی ہیں۔

دیکھا جائے تو ’پیمرا‘ کی شہرت نیوز میڈیا کے میدان میں مثبت نہیں رہی ہے جس نے بےجا پابندیوں کی بنا پر آزادی اظہار کو کچلنے کی ہرممکن کوشش کی ہے اور ’ہیٹ سپیچ یا نفرت پر مبنی تقریر، بہتان اور اشتعال انگیز‘ زبان کے حوالے سے کوئی اہم اور موزوں اقدامات نہیں کیے ہیں۔

بہت سے مبصرین کا ماننا ہے کی پی ایم آر اے کا قیام بھی پرانی سنسرشپ روایات کا ہی پلندہ اور دوسرا جنم ہوگا۔ جو انگریزوں کے دور کی ہی ایک نئی شکل ہوگی۔ اور ساتھ ہی ’پریس اینڈ پبلیکیشن ایکٹ‘ پر عمل درآمد دوبارہ 1950 کے نو آبادیاتی دور میں موجودہ صحافت کو پہنچا دے گا۔ جس کا استعمال 1980 میں بھی ریاست بتدریج آزادانہ صحافت کو کچلنے کے لیے کرتی رہی تھی۔ جس کے زریعے ریاست نے کئی خود مختار میڈیا اداروں میں تالے ڈلوا دیے اور ناقدین کو خاموش کرا دیا تھا۔

مبصرین کو یہ بھی خدشہ ہے کہ ’پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی‘ ایک جھانسہ ہے جس کے زریعے حکومت اور ریاست کے ہاتھ مظبوط تر کر کے ڈیجیٹل اور پرنٹ میڈیا کو کنٹرول کیا جاسکے گا جو اب تک ایسی کسی زنجیر میں جکڑے بغیر اپنی صحافیانہ ذمہ داریاں نبھاتے رہے ہیں۔ 

دوسری طرف نیوز میڈیا منقسم نظر آتا ہے۔ صحافیوں اور میڈیا مالکان کا کبھی بھی تنخواہوں اور معاوضوں پر اتفاق نہیں ہوا۔ صحافی برادری کا ماننا ہے کہ میڈیا مالکان نے کبھی بھی جاَز منافع اپنے کارکنان کو نہیں دیا ہے۔ دیکھا جاَے تو دو ہزار دو سے اٹھارہ کے اواَل تک جب یہ چینل بہترین منافعے حاصل کر رہے تھے انہوں نے صحافیوں کے لیے منصفانہ قوانین و ضوابط تشکیل نہیں دیے تھے۔ اور جب چینل مالکان کو گھاٹے کا سامنا ہوا تو انہوں نے ملازمین کو بے دریغ فارغ کیا اور تنخواہوں میں کٹوتی کا سہارا لیا۔ دوسری طرف میڈیا مالکان کا کہنا ہےکہ اپنی کاروباری بقاء کے لیے وہ ایک حد تک ہی برداشت کر سکتے ہیں کیونکہ 2018 مالی بحران کے بعد سے ان کی آمدنی میں کمی واقع ہوئی ہے اور اسی بنا پر وہ اپنے ادارے بند کرسکتے ہیں یا اخراجات میں کمی کرکے اپنا بچاؤ کر لیں۔

ریاستی پالیسیاں نے آذاد میڈیا کو مشکل میں ڈال دیا

پاکستان کا سیاسی اور ریاستی منظرنامہ کسی ارتقائی دور سے گزرا یا نہیں اس بات کا اندازہ میڈیا کی سنسر شپ اور موجودہ مالی اتھل پتھل کے درمیان جاری  حالیہ صورتحال سے لگانا مشکل بھی ہے۔ پاکستان نے اپنے وجود میں آنے کے بعد سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ ایک اسلامی نظریاتی مملکت کے طور پر خود کو انڈیا کے خلاف عسکری طور پر مستحکم رکھے۔ اور اسی عسکری استحکام کو مذہبی اقلیت پسندوں اور روشن خیال تحریکوں نے مورچہ بندی تشبیہ دیتے ہوئے اس نظرئے کی حوصلہ افزائی نہیں کی، دیکھا جائے تو سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے عوام اور سیاسی کارکن خود کو پاکستان کے پسماندہ صوبوں کے شہری گردانتے ہیں اور اگر میڈیا پر ان کا کوئی بیان نشر بھی ہو تو میڈیا اس کی حوصلہ شکنی پر مامور نظر آتا ہے اور ان کارکنان پر افغان ایجنٹ کا ٹیگ لگا دیا جاتا ہے یا ملک دشمن کہہ کر عوام کے دلوں میں ایک نیا باب کھول دیا جاتا ہے۔

عسکریت پسندی کے اس رجحان نے ملک میں نہ صرف مختلف قومیتوں کی بنیاد رکھی ہے بلکہ مذہبی فرقہ پسندی میں  بھی بانٹ دیا ہے۔ یہ عسکریت پسند عناصر خود کو ریاست اور معاشرے میں اسلامی اقدار کے محافظ اور ترقی پسند سمجھتے ہیں۔ ان عسکری جماعتوں کی سرگرمیاں اپنے حریفوں کے خلاف پر تشدد حملوں اور فسادات پر مشتمل ہوتی ہیں ۔ یہ حملے اور فرقہ پرستی کی سوچ کو جنم دینے کے ساتھ ساتھ آزادی اظہار کے لیے انتہائی ناسازگار حالات کا باعث بنتے جا رہے ہیں۔ اس سیاسی ڈھانچے کے آَینے میں عورت دوست تنظیمیں، اقلییتیں اور روشن خیال ناقدین سماج کےلیے خطرہ ہیں۔ اور اس مکتبہ فکر کے معاشرے میں پرچار کے لیے کوشاں عوامل آزادی اظہار اور ترقی پسند سوچ پر قفل لگانے کے لیے ہر دم کوشاں ہیں۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ محدود اشاعت والے اخبارات ان موضوعات کو گاہے بہ گاہے اپنے اخبارات میں چھاپتے رہتے ہیں۔

عسکری اور مذہبی قوتیں عملی طور پر ہمیشہ سے ایک پیج پر رہی ہیں۔ فوج نے دیگر سیاسی عناصر کو کمزور کرنے کے لیے براہ راست یا بلواسطہ مذہبی جماعتوں کی حمایت کی ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ کس طرح فوج نے فرقہ وارانہ سرگرمیوں اور دائیں بازو کی جماعتوں کو ہوا دے کر 1980 میں پیپلز پارٹی کو پنجاب میں کمزور کیا۔ یاد رہے پیپلز پارٹی 1973 میں منتخب ہونے والے پاکستان کے پہلے جمہوری وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 1968 میں قائم کی تھی۔ لیکن ذوالفقار علی بھٹو کو 1979 میں تختہ دار دیکھنا پڑا تھا۔

فوج نے مذہبی جماعتوں کو مرکزی علاقائی اور قوم پرست عناصر سے نمٹنے کے لیے بھی استعمال کیا ہے۔ تاکہ پاکستان سے علاقائی پہچان کا حوالہ مٹا کر صرف مذہبی پہچان دی جا سکے۔ بلکل یہی معاملہ البدر اور الشمس ملیشیا کے ساتھ ہوا جن کے درمیان دائیں بازو کی مذہبی پارٹی جماعت اسلامی کے سرگرم ارکان شامل تھے۔ یہی وہ عناصر تھے جنہوں نے 1970 میں فوج کے ساتھ مل کر بنگالی قوم پرستوں کا مقابلہ کیا یہ افراد مشرقی پاکستان کا حصہ تھے جو اب بنگلہ دیش کہلاتا ہے۔

یہ تمام حالات اس بات کے گواہ ہیں کہ پاکستان میں ملٹری ستر سالہ تاریخ میں کیونکر برسراقتدار رہتی آئی ہے۔ اس صورتحال کے تحت ملک میں میڈیا بھی فوج کے زیر اثر رہا ہے اور وہی لکھا اور کہا جاتا رہا جو اسٹبلشمینٹ کے لیے موزوں تھا۔ میڈیا مالکان زیادہ تر اپنی کاروباری بقا کے لیے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں قربان کرتے رہے تاکہ ان کا ریوینیو بڑھتا رہے۔.  دوسری طرف جمہوری ادوار کے دوران بھی ملٹری اس قدر قدم جما چکی تھی کی نہ صرف اس کا راَج نظام قائم رہا بلکہ پھلتا پھولتا بھی رہا۔ اور اگر کوئی جمہوری حکومت اس رائج فوجی ڈھانچے کو ہلانے کی کوشش کرتی بھی تھی تو اس کے دن جلد ہی پورے ہوتے دیکھے گئے ہیں، اور اکثر تو تختہ الٹ دیے جانے کے بعد بھی ان کے لیے اپنی بقا کی جنگ کٹھن رہی ہے۔ یہ جمہوری حکومتیں کوشش کے باوجود معاشرتی سطح پہ اپنے پاوں جمانے میں یوں بھی کامیاب نہیں رہ سکی ہیں کیونکہ فوج اپنے ہاتھ مذہبی بنیادوں پر مضبوط کرتی رہی ہےِ۔تاکہ ملک کی باگ ڈور اس کے ہاتھ نکلنے نہ پائے۔

دیکھا جائے تو ان حالات کے نتیجے میں جو سب سے بڑی واردات منظر عام پر آئی وہ ایسے نیوز میڈیا کا قیام ہے جو مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ پر منحصر تھا۔ گو کہ اس رجحان کو بھی فوج اور سیاسی رسہ کشی سے بارہا نمٹنا پڑا ہے۔ اور اپنے منافعوں سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں۔ موجودہ حالات میں بھی اگر نیوز میڈیا اپنے پیروں پر جما نظر آتا ہے تو جہاں وہ کچھ کہنے یا لکھنے کے قابل بھی ہے تو بھی اس کی نبض کافی دھیمی ہی سنائی دیتی ہے۔

مزاحمت کے باوجود سیاسی دباؤ

پاکستان میں چند مذہبی گروپ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنی تنظیموں میں ایسے افراد تیار کیے ہیں جو انیس سو نواسی سے بھارتی کشمیر میں لڑ رہے ہیں۔ اسی طرح انیس سو انہتر سے ایسی ہی تنظیموں کے افراد پاکستان کی طرف سے افغانستان میں بھی لڑتے رہے ہیں۔ ان دونوں ممالک میں ان جنگجوؤں نے خطے میں سکیورٹی اور خفیہ اداروں کی حکمت عملی کی ایک کڑی کا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستانی خبر رساں میڈیا اس معاملے میں پاکستانی مذہبی جنگجوؤں کی اس طرح حمایت کرتا رہا ہے جیسے یہ جنگ جو جہاد پر آمادہ ہوں۔ اور اس تمام جارحیت کو امریکہ اور سوویت یونین کے خلاف حق بجانب گردانتا رہا ہے۔ پاکستانی نیوز میڈیا کا یہ رجحان عوام کا تسلیم کردہ رجحان محسوس ہوتا ہے۔

اس تمام صورتحال کی بنا پر جو بات سامنے آتی ہے وہ ملٹری اور ملاؤں کا اتحاد ہے جو ملکی سیاست پر رونما ہوا ہے۔ اس اتحاد کے نتیجے میں ملک کے سویلین ادارے جن میں، سیاسی جماعتیں، پارلیمان، اور آزاد پریس شامل ہیں سبھی کی ترقی اور بہتری ناگزیر رہی ہے۔ یہی نہیں بلکہ ملک میں سکیورٹی کے نام پر فوج کا پلڑہ بھی بھاری ہے اور مزید قوی ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

یہ سبھی حالات اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ ملک کی 70 سالہ تاریخ میں چار مرتبہ فوج برسراقتدار رہی اور ملک پر تقریبا اس کی آذادی سے اب تک تین دہائیوں سے زیادہ قابض تھی۔ اسی وجہ سے ملکی نیوز میڈیا بھی آذادانہ طور پر کام کرنے سے قاصر رہا ہے۔

سیاسی جماعتیں اور میڈیا کبھی دوست کبھی دشمن

جبکہ ریاست خصوصی طور پر فوج ہمیشہ نیوز میڈیا کو اپنے قابو میں رکھنے کے لیے کوشاں رہی ہے ۔ بیشتر پاکستانی حکومتوں نے روایتی انداز میں کبھی ان خبر رساں اداروں کو اپنے زور سے دھمکایا ہے اور کبھی کاروباری جھٹکوں سے اور اکثر تو نیوز میڈیا کے اداروں کو مقفل بھی کروا چکے ہیں۔ اکثر تو سیاسی جماعتوں نے بھی اپنی طاقت کے بوتے پر ان اداروں کو اور صحافیوں کو دھمکا کے رکھا ہے۔ ان جماعتوں میں سب سے نمایاں نام متحدہ قومی موومنٹ کا ہے جس کی حمایت کا بڑا گڑھ کراچی اور حیدرآباد رہے ہیں۔ یہ دونوں شہر 1947 کے بعد سے ان لوگوں سے بسے جو ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آئے اور اردو بولنے والے یا مہاجر کہلائے۔

متحدہ قومی موومنٹ نے اپنے عروج کے ادوار میں جو دو ہزار دس تک جاری تھے کبھی ان اخباری دفاتر پر قبضہ کیا تو کبھی ان کی ٹرانسپورٹ کو نذر آتش کیا اور بس چلا تو نہ صرف کیبل آپریٹریز سے نشریات معطل کرا دیں اور پریس کے ارکان کے ساتھ زور زبردستی بھی کر ڈالی۔ متحدہ کی یہ تمام کارروائیاں انتقامی بنیادوں پر رہیں کہ ان کو میڈیا پہ کوریج ان کی خواہش کے مطابق ملی یا نہیں۔

یوں تو بیشتر سیاسی جماعتیں پریس کی آزادی کے حق میں رہی ہیں کم از کم جب وہ حزب اختلاف میں بیٹھی ہوں۔ اور اقتدار میں آنے کے بعد ان سبھی نے ایسے ٹھوس اقدامات نہیں کیے جو میڈیا مالکان کو کاروباری اور ادارتی خود مختاری سے ہمکنار کرنے میں معاون ثابت ہوں۔ اور اس دوغلے پن کا منہ بولتا ثبوت پاکستان ٹیلیوژن اور ریڈیو پاکستان کی پروگرامنگ سے ملتا ہے۔ جب یہ سیاسی جماعتیں برسر اقتدار نہ ہوں تو یہ ایک دوسرے کو اپنی اپنی مداح سرائی کے لیے تنقید کا نشانہ بنانے سے نہیں باز رہتیں۔ اور کام کی یہ بات بھول جاتے ہیں کہ کس طرح ان سبھی نے اپنے اپنے ادوار میں میڈیا کو کبھی ہتھیار بنایا اور کبھی قدغنوں میں جکڑا۔ 

ذرائع ابلاغ - طاقت کے مراکز سے دوری کا اثر

کسی بھی سیاسی جماعت یا قومیت کی بات کس قدر میڈیا کوریج کی دلچسپی کا باعث بنتی ہے یا بن سکتی ہے اس کا اندازہ مرکز سے اس جماعت یا قوم کے قرب سے ہوتا ہے۔ کوریج اور قربت کا تناسب مرکز سے اس جماعت یا قومیت کے فاصلے پر منحصر ہے۔ مادی طور پہ ملک کا مالی اور صنعتی مرکز کراچی مانا جاتا ہے جب کے لاھور پاکستان کی سیاسی اور ثقافتی دھڑکن ہے، اور اسلام آباد ملک کا انتظامی دارلاخلافہ۔ وہ سیاسی جماعتیں، قومیتیں اور گروپ جو ان تینوں مرکزی شہروں سے دور ہیں انھیں بسا اوقات مقامی طور پر شائع ہونے والے اخبارات اور ٹی وی کی خبروں میں اختتامیہ سے قبل جگہ مل جاتی ہے۔

کسی بھی پارٹی گروپ یا قومیت کا مرکز سے فاصلہ اس کے راولپنڈی میں فوجی ہیڈکوارٹرز سے تعلقات پر مبنی ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ فوج، اس فاصلے کو سختی سے نظریاتی بنیادوں پر پرکھتی ہے۔ جو فوج کی خوشنودی حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں ان کی میڈیا کوریج بلاشبہ دیگر سیاسی جماعتوں، گروپوں اور قومیتوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہوتی ہے۔

اتفاق مضر، انتشار سودمند

انیس سو ساٹھ  کی دہائی میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جب مزدور یونینیں اور صحافی تنظیمیں اتنی بااثر ہوا کرتی تھیں کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کی پابندیاں عائد کی جاتیں تو وہ ملک گیر ہڑتالیں کرتے اور اکثر اخبار مالکان کو پہیہ جام کا سامنا کرنا پڑتا۔

انہی تنظیموں نے 1960 میں حکومت پر زور ڈالتے ہوئے پرنٹ میڈیا کارکنان کی تنخواہوں کی باقائدگی کے لیے ’ویج بورڈ‘ قاَم کروایا۔ اور اسی طرح ضیاّالحق کے آمرانہ دور میں صحافتی تنظیموں نے شہری آزادی اور جمہوریت کی بحالی کے لیے جلسے جلوسوں اور ہڑتالوں کا سہارا لے رکھا تھا۔ ضیا کے آمرانہ دور میں بڑی تعداد میں ناصرف کئی صحافیوں کے لکھنے اور رپورٹ کرنے پر پابندی عائد کی گَئیں بلکہ جیل بھی بھیجے گئے اوربعض کو تو سرعام کوڑوں کی سزا بھی دی گئی۔

مگر اس کے برعکس آج صحافی مفادات کے گروہوں میں بٹ چکے ہیں اور ان میں پھوٹ واضح نظر آتی ہے۔ یہ تقسیم سیاسی، علاقائی، فرقہ واریت اور قومیت کی بنیادوں پر دیکھی جا سکتی ہے اور انھی منفی عناصر کے باعث صحافی تنظیمیں ماضی کی طرح بااثر نہیں رہیں۔

دوسری جانب میڈیا ہاؤسز کے مالکان کے درمیان بھی مختلف بنیادوں پر تقسیم نظر آتی ہے۔ اور اسی تقسیم کی بناَ پر اے پی این ایس اور پی بی اے کے انتخابات بھی دھاندلی کا شکار رہتے ہیں۔ دیکھا جائے تو پاکستانی اخبارات کے مدیران کی جماعت سی پی این ای بھی انہی وجوہات کی بنا پر 2017 میں دو دھڑوں میں بٹ گئی۔

ذرائع

  • منصوبہ از
    Logo Freedom Network
  •  
    Reporters without borders
  • فنڈ دیئے
    BMZ