This is an automatically generated PDF version of the online resource pakistan.mom-rsf.org/en/ retrieved on 2019/12/05 at 23:02
Reporters Without Borders (RSF) & Freedom Network - all rights reserved, published under Creative Commons Attribution-NoDerivatives 4.0 International License.
Freedom Network LOGO
Reporters without borders

ٹی وی

1964 سے لے کر آج تک پاکستان میں ٹیلیویژن کافی قدم طے کر چکا ہے۔ سب سے پہلا قدم پاکستان ٹیلیویژن (پی ٹی وی) کی شکل میں قوم کے سامنے ایک پرائیویٹ چینل کی حیثیت میں آیا جس کو بعد میں حکومت نے بغیر کسی قوانین کے لائیسنس کر دیا۔ جاپان کی نپان الیکٹرک کمپنی اور برطانیہ کی تھامس ٹیلیویژن انٹرنیشنل کمپنیوں کے تعاون سے تاجر واجد علی نے اس چینل کا آغاز کیا۔ 1971 میں اس کو حکومت کے حوالے کر  دیا۔ ریاست کے پاس آج تک اس چینل پر اختیار حاصل ہے اور اس وقت پاکستان کے نامور چینلز میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ 1988 میں شالیمار ٹیلیویژن نیٹ ورک کے نام سے ملک میں دوسرے ٹی وی چینل کا باقاعدہ طور سے آغاز کیا گیا جو ایک مشترکہ پبلک اور پرائیویٹ منصوبہ تھا۔ اس کی بدولت پی ٹی وی پر سالوں سے چلتے ہوئے آنے والے ثقافتی سینسرشپ کا  اختتام ہو گیا۔  

  2002 میں میڈیا کے شعبے میں سب سے بڑی تبدیلی دیکھی گئی جب تمام ریڈیو چینلز کو پرائیویٹ قرار دے دیا گیا۔ پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیشن اتھارٹی (پیمرا) کی بنیاد رکھی گئی تاکہ پرائیویٹ ٹی وی اور ریڈیو اسٹیشنوں کو لائیسنس جاری کیے جائیں۔ تاہم ریاستی اسٹیشنوں پر پیمرا کی اتھارٹی لاگو نہیں ہوتی ہے۔ 2001 میں اے آر وائے ملک کا تیسرا ٹی وی چینل جبکہ پہلا مکمل آزاد چینل بن کر سامنے آیا جب اس نے برطانیہ سے نشریات کا آغاز کیا۔ ایک سال بعد جب پیمرا بنا تو اس وقت اس کو اس کا لائیسنس جاری کر دیا گیا۔ 2002 میں جیو نیوز ملک کا دوسرا آزاد چینل بن کر سامنے آیا اور تب سے لے کر آج تک جیو اور اے آر وائے کے درمیان سامعین اور ریٹنگز پر سخت مقابلہ چلا آ رہا ہے۔

2018 کی پیمرا کی رپورٹ کے مطابق 2018 کے اختتام تک ان چینلز کی تعداد جن کے پاس لائیسنس ہے 88 ہیں جن میں سے 26 نیوز، 37 اینٹرٹینمینٹ اور 7 مخصوص مضامین سے متعلق چینلز ہیں۔ ان میں سے 18 چینلز اپنی نشریات اپنی مقامی زبان میں کرتے ہیں جن میں بلوچی، پشتو، پنجابی، سرائکی اور سندھی شامل ہیں۔ 2019 کے پہلے چھ ماہ میں پیمرا کی طرف سے لائیسنس دئیے جانے والے چینلز کی تعداد 135 ہوگئی۔ اس کے مطابق 2002 سے لے کر آج تک ہر سال اوسطا آٹھ چینلز کو لائیسنس دئیے جا رہے ہیں۔

گیلپ پاکستان کے مطابق 18-2017 میں ارورا رسالے کے مطابق میڈیا مارکی ٹنگ میں 6۔81 بلین روپے خرچ کیے گئے جس میں ٹی وی، پرنٹ، ریڈیو، ڈیجیٹل اور دیگر راستے شامل ہیں۔ اس میں سے اشتہارات کی مارکیٹ 46 فی صد کی تھی جو اندازہ طور پر 38 بلین روپے بنتے ہیں۔       

ٹی وی ڈیٹا بیس
  • منصوبہ از
    Logo Freedom Network
  •  
    Reporters without borders
  • فنڈ دیئے
    BMZ