This is an automatically generated PDF version of the online resource pakistan.mom-rsf.org/en/ retrieved on 2019/12/05 at 23:18
Reporters Without Borders (RSF) & Freedom Network - all rights reserved, published under Creative Commons Attribution-NoDerivatives 4.0 International License.
Freedom Network LOGO
Reporters without borders

پرنٹ

پاکستان میں پرنٹ میڈیا روایتی طور پرفعال اور متحرک ہے اورملک کی سیاسی تاریخ میں توازن رکھنے کیلئے اکثر گرما گرم صحافت اس کی روایت رہی ہے،اس سیاسی تاریخ میں تقریباً 35 برس تک فوجی حکومتوں کے 4 ادوار بھی شامل ہیں جن میں مخالفین کیخلاف کریک ڈائون اور سینسرشپ ان کا خاصہ رہا ہے۔ حتی کہ منتخب حکومتوں کے دوران پرنٹ میڈیا اکثر سرکاری ہراسگی کا شکاررہاہے۔حالیہ دہائیوں میں ٹی وی ،ریڈیواور انٹرنیٹ اکیسویں صدرکے آغاز سے ہی پاکستانی میڈیا کے منظرنامے میں معلومات کے ذریعہ کے طورپر مرکزی حیثیت حاصل کرچکے ہیں۔ پرنٹ میڈیا اب بھی غیرموزوں طورپرپالیسی ساز حلقوں کے زیراثر ہیں اور الیکٹرانک میڈٰیا کے برعکس اکثرانتہائی آزاد اور اہم آوازوں میں سے بعض کو شو کیس کی زینت بنا دیاجاتاہے جومسائل کو دبانا چاہتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ روزناموں، ہفت روزوں، ماہناموں سمیت پرنٹ میڈیا کی ایسی ہزاروں مطبوعات موجود ہیں جن  کی پیشگی اجازت یا رجسٹریشن کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ رجسٹریشن اور ایکریڈیٹیشن کی تعداد کے اعتبار سے مستند معلومات کے دو ذرائع کے مطابق ان کی تعداد ایک ہزار سے بھی کم ہے۔ 2019 کے آغاز پر وفاقی وزارت اطلاعات ونشریات کے آڈٹ بیورو آف سرکولولیشن کی سینٹرل میڈیا لسٹ میں 847 اخبارات کو شامل کیا ہے جنہیں ان کی سرکولیشن کی حیثٰت کی بنیاد پرسرکاری اشتہارات ملتے ہیں۔ ان میں 163 اخبارات ایک سے زیادہ شہروں جبکہ 648 صرف ایک شہر سے شائع ہورہے ہیں۔ ایک اور ذریعہ اخباری مالکان کی نمائندہ تنظیم آل پاکستان نیوزپیپرز سوسائٹی (APNS) بھی ہے جس میں 2019 کے شروع میں اپنی فہرست میں 463 مطبوعات کو بطور ممبر شامل کیا، ان میں 209 مکمل ممبر اور 254 ایسوسی ایٹ ممبر ہیں۔


Auroraمیگزین میں شائع رپورٹ میں مالی سال 2017-18کیلئے گیلپ پاکستان کے ڈیٹا کے مطابق میڈیا ایڈورٹائزنگ مارکیٹ (ٹی وی، ریڈیو، اخبارات، آن لائن میڈیا اور دیگر) کا کل مالی حجم 81.6ارب روپے (680ملین ڈالر) تھا۔ اس میں سے پرنٹ میڈیا مارکیٹ کا اشتہارات کا حجم ٹی وی میڈیا کے 46 فیصد کے مقابلے میں دوسرا سب سے زیادہ 24 فیصدتھا جس کی مالیت 19.5ارب روپے (162.5ملین ڈالر) بنتی ہے۔

 2018 میں نئی حکومت کے آنے کے بعد سے ایک نئے اقتصادی بحران کے باعث سرکاری اشتہارات کی سطح میں ڈرامائی انداز میں کمی آئی ہے جو2015 کے قریب سینسرشپ اور دبائوکے پس منظر میں انتقام کے ساتھ شروع ہوا۔ میڈیا کی آزادی کو متعدد بار آزمایا گیا۔ سب سے پہلے سیکیورٹی اور خفیہ اداروں نے ملک کے بعض شمال مغربی اور جنوب مغربی شورش زدہ علاقوں میں صحافیوں کا داخلہ بند کردیا۔ پھرفوج کے آپریشن والے علاقوں میں جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسے مخصوص خبری موضوعات کو خبرناموں اور ٹاک شوز سے غائب کردیاگیا۔ آخر کار نیوز میڈیا کوواضح طور پر بتا دیا گیا کہ قومی سلامتی پرریاستی پالیسیوں، خارجہ تعلقات، فوج سے جڑے مالی اور اقتصادی معاملات اور چین اور پاکستان کی جانب سے کئے جانے والے 50 ارب ڈالر مالیت کے منصوبے چین پاکستان اقتصادی راہداری پر نکتہ چینی اور تنقید سے گریز کیاجائے۔ اس سینسر شپ کو سرکاری اشتہارات کے ذریعہ ممکن بنایا گیا ہے( جنہیں ڈرامائی انداز میں انتہائی کم کردیاگیاہے) اور اس کا فائدہ یہ ہوا کہ سکیورٹی اور خفیہ ادارے پرائیویٹ ایڈورٹائزرز کیخلاف کارروائی کرسکتے ہیں۔

 2018 سے عدلیہ نے بھی رپورٹرز، مدیران اور ناشران کومختلف مقدمات پر عدالتوں کی کوریج کے حوالے سے سے دبایا ہے جس کی وجہ سے اخباری میڈیا سے عدالتی فیصلوں پرتنقید کوغائب کرنے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ  جولائی 2018 کے عام انتخابات کے نتیجہ میں بننے والی نئی وفاقی حکومت ہر قسم کے نیوز میڈیا کیلئے واحد ریگولیٹر لانے کی دھمکی بھی دے رہی ہے جبکہ موجودہ ریگولیٹر اتھارٹی پہلے ہی معمول میں ٹاک شوز کو نشر ہونے سے روک رہی ہے، اینکرز پر پابندیاں لگا رہی ہے، اخباری مدیران کی سرزنش کررہی ہے اور ایک بہانے یا دوسرے عذر سے میڈیا مالکان کودھمکایا جارہاہے۔ یہ پیش رفت میڈیا کی سربراہی میں بڑے پیمانے پر فوجی کمانڈروں، ججوں  اور حتیٰ کہ سیاسی رہنمائوں کی ذاتی شخصیت سازی کیلئے انتہائی موافق رہی ہے۔ جبکہ متعدد نیوز میڈیا اداروں کو یہ کام کرکے ابتدائی طور پر مالی فوائد ہوئے جن میں اکثرپراب دبائو بڑھایا جارہاہے کہ ان شخصیات پر تنقید نہ کی جائے اور انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے یا پھر مزید سینسر شپ اور مالی پابندیوں کیلئے تیار ہوجائیں۔

2019 کا آغازہوتے ہی نیوز میڈیا کے ساتھ جو پیچیدہ صورتحال پیدا کی گئی ہے وہ مالی اور تقسیم کار کے نمونوں کو تباہ کرنے کا عالمی رجحان ہے، یہ ایک ناکامی ہے جو اسے بنانے میں طویل عرصہ لگا ہے لیکن جتنی اسے توجہ ملنی چاہیےتھی وہ کبھی نہیں ملی۔ اشتہاری آمدن کو ختم کرتے ہوئے مالی طورپرگلہ گھونٹا گیا جو سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی جانب منتقل کیا جارہاہے اور ناظرین اور قارئین کی تعداد کم ہوئی ہے جبکہ کئی اخبار پہلے ہی ختم ہوچکے ہیں۔ کئی دوسرے اخبار برقرار رہنے کیلئے بھرپور تگ و دو کررہے ہیں۔ بعض ٹی وی چینلز مالی عدم استحکام کی وجہ سے بند ہونے کے دھانے پر کھڑے ہیں۔ دریں اثنا دوسرے تمام ٹی وی چینلزنے ایسی ہی صورتحال سے بچنے کیلئے معاوضوں میں کمی کرنا شروع کردی ہے لیکن ان کٹوتیوں کا زیادہ ترتاثرصحافیوں کی جانب سے پیدا کردہ ہے۔ صرف 2018 میں 2 ہزار سے زائد صحافی بے روزگار ہوئے جبکہ بہت سوں کو 2019 اور اسے آگے ایسے ہی خطرے کا سامنا ہے۔

پرنٹ ڈیٹا بیس
  • منصوبہ از
    Logo Freedom Network
  •  
    Reporters without borders
  • فنڈ دیئے
    BMZ