This is an automatically generated PDF version of the online resource pakistan.mom-rsf.org/en/ retrieved on 2019/11/20 at 01:25
Reporters Without Borders (RSF) & Freedom Network - all rights reserved, published under Creative Commons Attribution-NoDerivatives 4.0 International License.
Freedom Network LOGO
Reporters without borders

میڈیا

پاکستان قدرے ایک بڑا ملک ہے جس کی 2017 کی قومی مردم شماری کے مطابق آبادی 20 کروڑ سے زائد ہے۔ اس آبادی کو میڈیا اور حالات حاضرہ کا نشہ ہے۔ عمومی سیاسی عدم استحکام، اکثر غیرمستحکم معیشت اور سماجی ترقی کے کم اشاریے ہر وقت خبروں میں رہتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سینکڑوں ٹی وی اور ریڈیو سٹیشن اور ہزرا سے زائد اخبارات اور پرہجوم اور مصروف قومی سائبر سرگرمیاں روزانہ کی بنیاد پر کثیر الجہتی اور پرشور حالات حاضرہ کے طور پر کام کرتے ہیں جس سے میڈیا افق پر مستقل بنیادوں پر دلچسپ تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں۔

پاکستانی نیوز میڈیا کے افق پر سینسرشپ بار بار دیکھی جاتی رہی ہے۔ پرنٹ میڈیا میں روایتی طور پر زیادہ تنقیدی صحافت دیکھی گئی ہے جس نے ملک کی بحرانوں سے اٹی سیاست اور اختلاف رائے اور سینسرشپ کا مقابلہ کیا ہے۔ عوامی نمائندوں کے دور میں بھی پرنٹ میڈیا نے سرکاری اثرورسوخ کا دباؤ برداشت کیا ہے۔ حالیہ دھائیوں میں ٹی وی، ریڈیو اور انٹرنٹ نے پاکستانی میڈیا کے افق پر مرکزی جگہ حاصل کی ہے۔ پرنٹ اب بھی پالیسی سازوں پر زیادہ اثر انداز ہوتا ہے اور الیکٹرانک میڈیا کے مقابلے میں جو مسائل کی سنگینی کو کم کرتا ہے پرنٹ اکثر سب سے زیادہ آذاد اور تنقید سے بھری آوازوں کو جگہ دیتا ہے۔

حالیہ برسوں میں پاکستان میں انٹرنٹ اور آن لائن کے استعمال میں اضافے کی وجہ سے آن لائن میڈیا ترقی پانے والے ڈیجٹل معاشرے کی بنیاد رکھ رہا ہے۔ سستا، تیز اور آسان انٹرنٹ سوشل میڈیا کے استعمال کو بڑھا رہا ہے اور آن لائن حالات حاضرہ کی برداری پر مشتمل پلیٹ فارمز کو بھی فروغ دے رہا ہے جس سے لوگوں کے تناظر سے قومی بیانیہ تیار کر رہا ہے۔ یہ معلومات کے روایتی ٹی وی اور ریڈیو میڈیا کو تبدیل کر رہا ہے جس پر بڑے کاروباریوں اور گہری ریاست نے سوالیہ نشان لگا دیئے ہیں۔ موجودہ حالات میں عوامی مفاد کی صحافت تقریبا ختم ہو رہی ہے۔

نجی اور سرکاری شعبے دونوں کئی کئی ٹی وی اور ریڈیو چلانے کی وجہ سے بڑے میڈیا پلیرز ہیں۔ تاہم پرنٹ میڈیا زیادہ کھل کر بولنے والا اور اختلاف رائے کو برداشت کرنے والا صرف نجی شعبے میں ہے۔ میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز کی ملکیت قانونی ہے جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر میڈیا ملکیت اور صارفین چند ہاتھوں میں ہے۔ چاروں میڈیا – ٹی وی، ریڈیو، پرنٹ اور آن لائن – چار مالکوں یا اس سے کم کے ہاتھوں میں ہے جو آدھے سے زیادہ صارفین پر مشتمل ہے۔

   میڈیا کی معیشت میں مقابلہ سخت ہے۔ گیلپ پاکستان کے سال 2017-18 ڈیٹا کے مطابق جس کا ارورا میگزین نے حوالہ دیا ہے مجموعی میڈیا اشتہارات

  ساڑھے 81 ارب روپے (68 کروڑ امریکی ڈالرز) ہے۔ اس میں پرنٹ، ٹی وی، ریڈیو، ڈیجٹل اور دیگر شعبے شامل ہیں۔ یہ رقم اس سے ایک سال قبل 2016-17 کی مقدار یعنی 87 ارب روپے (73 کروڑ امریکی ڈالرز) سے کم ہے لیکن پھر بھی کافی بڑی مارکیٹ ہے جو شدید مقابلے کا سبب بنتی ہے۔ 2017-18 ٹی وی کے اشتہارات کا مجموعی تناسب 46 فیصد رہا یعنی 38 ارب روپے (31 کروڑ امریلی ڈالرز)، پرنٹ میڈیا کے لیے 24 فیصد یا تقریبا 20 ارب روپے (16 کروڑ امریکی ڈالرز)، آن لائن میڈیا کے لیے 8 فیصد یا 8 ارب روپے (ساڑھے 6 کروڑ امریکی ڈالرز)، اور ریڈیو کے لیے تین فیصد یعنی اڑھائی ارب روپے (تقریبا تین کروڑ ڈالرز) رہا۔

 

 

میڈیا ڈیٹا بیس
  • منصوبہ از
    Logo Freedom Network
  •  
    Reporters without borders
  • فنڈ دیئے
    BMZ