This is an automatically generated PDF version of the online resource pakistan.mom-rsf.org/en/ retrieved on 2019/12/05 at 22:59
Reporters Without Borders (RSF) & Freedom Network - all rights reserved, published under Creative Commons Attribution-NoDerivatives 4.0 International License.
Freedom Network LOGO
Reporters without borders

ریڈیو

برےصغیر میں برطانیوی راج کے خاتمے پر 1947 میں قیام پاکستان ہوا۔ پاکستان کو وراثت میں بنیادی ریڈیو کا ڈھانچہ ملا جس میں لاہور (1928)، پشاور (1935) اور ڈھاکہ (1938) میں تین ریڈیو سٹیشن تھے۔ حکومت انہیں اے ایم آپریشن کے طور پر چلاتی رہی اور ساتھ ساتھ نئے سٹیشن بھی ’ریڈیو پاکستان‘ نامی نیٹ ورک میں شامل کرتی گئی۔ 1972 میں حکومت نے ریڈیو پاکستان کو ’پاکستان براڈکاسٹنگ کاپوریشن‘ میں تبدیل کر دیا۔ پی بی سی موجودہ وقت میں کئی اے ایم آپریشنز کے ساتھ ساتھ درجنوں ایف ایم سٹیشن بھی چلا رہی ہے۔ 1994 میں ملک کے پہلے نجی ریڈیو سٹیشن ایف ایم 100 کی اجازت دی گئی جس نے 1995 میں اپنی نشریات کا آغاز کیا۔

حکومت کی ملکیت میں ریڈیو سیکٹر کو پاکستان ایلیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کی نگرانی سے دور رکھا گیا ہے۔ پمرا کا قیام 2002 میں ہوا۔ پمرا کی سالانہ 2018 کی رپورٹ کے مطابق تب سے اس نے 209 ایف ایم سٹیشنوں کے لائسنس جاری کئے ہیں۔ ان میں 154 تجارتی اور 55 نان کمرشل (تعلیمی اور کسی خاص موضوع پر) شامل ہیں۔ پاکستان کا ریڈیو ایف ایم شعبہ اچھا چل رہا ہے اور مقبول میڈیم ہے لیکن اس کی پہچان تفریح ناکہ خبریں یا حالاتہ حاضرہ ہے۔

گیلپ پاکستان کے سال 2017-18 ڈیٹا کے مطابق جس کا ارورا میگزین نے حوالہ دیا ہے مجموعی میڈیا اشتہارات 81 ارب روپے (68 کروڑ امریکی ڈالرز) ہے۔ اس میں پرنٹ، ٹی وی، ریڈیو، ڈیجٹل اور دیگر شعبے شامل ہیں۔ اس میں سے ریڈیو کا حصہ محض تین فیصد تھی۔ اس کے مقابلے میں ٹی وی کا حصہ 46 فیصد یعنی اڑھائی ارب روپے (تقریبا تین کروڑ ڈالرز) ہے۔

ریڈیو ڈیٹا بیس
  • منصوبہ از
    Logo Freedom Network
  •  
    Reporters without borders
  • فنڈ دیئے
    BMZ