This is an automatically generated PDF version of the online resource pakistan.mom-rsf.org/en/ retrieved on 2019/12/05 at 23:19
Reporters Without Borders (RSF) & Freedom Network - all rights reserved, published under Creative Commons Attribution-NoDerivatives 4.0 International License.
Freedom Network LOGO
Reporters without borders

اکثر پوچھے جانے والے سوال

1۔ ایم او ایم کیا ہے؟

میڈیااونرشپ مانیٹر (MOM) نے عام اورمسلسل دستیاب تازہ ترین اعدادوشمارجمع کرنے کے ضمن میں جائزہ کا ایک پیمانہ تیار کیا ہے جس میں تمام متعلقہ ذرائع ابلاغ کے اداروں(ریڈیو،ٹی وی، اخبارات، آن لائن میڈیا) کے مالکان کوفہرست میں شامل کیا گیاہے۔  ایم او ایم کا مقصد میڈیا ملکیت کے ارتکاز کے باعث میڈیا اجتماعیت کو درپیش خطرات پر روزشنی ڈالنا ہے( مزید معلومات کیلئے: Methodology)۔ قومی خصوصیات کو سمجھنے اور میڈیا ارتکاز کیلئے خطرہ میں اضافہ یا کمی کو جانچنے کیلئے ایم اوایم مارکیٹ کی صورت حال اور قانونی ماحول کا بھی معیاری جائزہ لیتی ہے۔

 

 

2۔ ایم او ایم کے پیچھے کون ہے؟

تنظیم رپورٹرود آئوٹ بارڈرز کے جرمن سیکشن) نے ایم اوایم کی منظوری دی اوراسے شروع کیا، رپورٹرود آئوٹ بارڈرزکا مقصد دنیا بھر میں کسی بھی جگہ پریس کی آزادی اور معلومات دینے کے حق کا دفاع کرنا اور اس بارے میں آگاہی دینا ہے۔

ہرملک میں رپورٹرود آئوٹ بارڈرزایک مقامی شراکت دارتنظیم سے تعاون کرتی ہے۔ پاکستان میں آرایس ایف نے فریڈم نیٹ ورک کے ساتھ کام کیا۔ اس

پراجیکٹ کیلئے رقم جرمنی کی وفاقی وزارت اقتصادی ترقی وتعاون نے فراہم کی۔

3۔ اس رپورٹ کو کہاں سے ڈائون لوڈ کیا جاسکتاہے؟

ویب سائٹ پی ڈی ایف ڈائون لوڈ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جس میں پوری ویب سائٹ کا مواد ہوتاہے، پی ڈی ایف خود بخود بن جاتی ہے اور پھر روزانہ کی بنیاد پر اپ ڈیٹ ہوتی رہتی ہے۔ اس پر ویب سائٹ کی تمام زبانیں ہوتی ہیں۔ پی ڈی ایف فائنل بنانے سے پہلے ویب سائٹ کے فٹر کو سکرول ڈائون کریں، اپنی ترجیحی زبان کا انتخاب کریں اورپی ڈی ایف کی حیثٰت سے پوری ویب سائٹ کو ڈائون لوڈ کریں۔

4۔ میڈیا ملکیت کی شفافیت کیوں اہم ہے؟

میڈیااجتماعیت جمہوری معاشروں کاایک اہم پہلوہے،آزاد، خودمختار اورمتنوع ذرائع ابلاغ مختلف نقطہ نظر کی عکاسی کرتے ہیں اور اقتداد میں موجود لوگوں پر تنقید کی اجازت دیتے ہیں۔ مختلف خیالات کے خدشات میڈیا مارکیٹ کے ارتکاز کا باعث بنتے ہیں جب صرف مخصوص طبقہ رائے عامہ پراپنا اثرورسوخ حاوی کرنے کی کوشش کرتا ہے اور دوسرے کھلاڑیوں اور پہلوئوں کیلئے راہ ہمورار کرتے ہیں( میڈیا ملکیت کا ارتکاز)۔ اس حوالے سے جدوجہد میں سب سے بڑی رکاوٹ میڈیا ملکیت میں شفافیت کا فقدان ہے: اگر عوام معلومات فراہم کرنے والے سے متعلق نہیں جانتے تو وہ معلومات پراعتبار کا کس طرح اندازہ لگائیں گے؟ اگر صحافی کو اس بات کا نہیں معلوم کہ جس ادارے میں کام کررہے ہیں اسے کون چلاتا ہےتو پھر وہ اپنا کام صحیح طریقے سے کیسے کرسکتے ہیں؟ اور اگر متعلقہ حکام یہ ہی نہیں جانتے کہ میڈٰیا کو کون ہینڈل کررہاہے تو پھر وہ میڈیا ارتکاز کی زیادتی کاکیسے ازالہ کرسکتے ہیں؟

ایم او ایم پاکستان کا مقصد شفافیت کو پیدا کرنا ہے اور اس سوال کا جواب دینا ہے کہ آخرکارمیڈیا مواد کو کون کنٹرول کرتا ہے؟۔ عوام میں آگاہی پیدا کرنے کیلئے پیروکاری کیلئے حقائق کی بنیاد پر فضا پیدا کرنا تا کہ موجودہ صورتحال کیلئے سیاسی اور اقتصادی کھلاڑیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔

میڈٰیا اجتماعیت کو لاگاو کرنے کیلئے ہم ملکیت کی شفافیت کو اہم اور مشروط سمجھتے ہیں، ہم نے میڈیا کمپنیوں اور اداروں کے کھلے پن کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ ان کی ملکیت کے ڈھانچہ سے متعلق معلومات فراہم کی جائیں۔ ان کے جوابات پر غور کرتے ہوئے ہم شفافیت کی مختلف سطحوں کو اہمیت دیتے ہیں جو ہر میڈیا ادارے اور میڈیا کمپنی کیلئے ان کی پروفائل پراشارہ ہے۔

میڈیا مالکان اپنی سرمایہ کاری یا تو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں یا غیرقانونی سے بچنے کیلئے بھیس بدل لیتے ہیں اور ذاتی، قانونی یا کاروبار سے متعلق وجوہات دیتے ہیں یا انتہائی کیسوں میں ٹیکس چوری یا اینٹی ٹرسٹ قوانین کو توڑتے ہیں۔

ان وجوہات میں بعض درج ذیل ہیں:

  •  بہت سے ملکوں میں ارتکاز سے بچنے کیلئے قانون کے تحت میڈیا ملکیت لازمی ہے، اس لئے کوئی شخص اپنی میڈیا ادارے کوان حدود سے بالا توسیع دینا چاہتاہے  تو پراکسی مالکان،بیرون ملک رجسٹسرڈ کمپنیوں اورآف شورکمپنیوں کو تواترسے استعمال کیا جارہاہے۔
  •   بعض اوقات میڈیا مالکان کوحکومتوں یا کاروباری حریفوں سے ذاتی دھمکیاں ملتی ہیں یا وہ خطرات کا سامنا کرتے ہیں ، اس لئے وہ محفوظ رہنے کیلئے اکثرنامعلوم رہنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
  • بہت سے کیسوں میں میڈیا ملکیت بے جا سیاسی یا معاشی مفادات کے ساتھ جڑی ہوتی ہے، اس سے زیادہ اس میں سرکاری عہدیدار بھی ملوث ہوسکتے ہیں جو مفادات کے ٹکرائو کو ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔
  •  بہت ہی نایاب کیسوں میں میڈیا ملکیت کا چھپانا غیرارادی طورپر ہوجاتاہے کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ انضمام اور حصول کے ذریعہ کارپوریٹ کا ڈھانچہ انتہائی پیچیدہ ہوگیا ہے کہ اس فائدہ لینے والے مالک کی شناخت کرنا مشکل یے۔
  • آخری لیکن کم نہیں،مالکان کیلئے دولت چھپانے اورٹیکس چوری کرنے کیلئے غیرمیڈیا سے متعلق معمول کی وجوہات موجود ہیں۔

5۔ ایم او ایم کے مطابق ارتکاز کی ضابطہ کاری کی کیا شکل ہونی چاہیے؟

ایم اوایم معمول میں بیانات نہیں دیتی اور نہ ہی یہ تجویز کرتی ہے ہے کہ میڈیا کی ملکیت کی کیسے ضابطہ کاری ہونی چاہیے۔ میڈیا ارتکاز کی ضابطہ کاری کی کون سی شکل کارگرہوسکتی ہے، یہ ملک کے ماحول، موجودہ قانونی اورمارکیٹ کی صورتحال اور ملکیت کے منظر نامے پرمنحصرہے۔

ایم او ایم مسئلہ پرجمہوری بحث مباحثہ اوراچھی حکمرانی  پر عملدرآمد شفافیت کا ایک آلہ فراہم کرتی ہے، فیصلے اعلیٰ معیار کے ہوتے ہیں اوراگر لوگوں کومناسب معلومات ملتی ہے اور وہ خیالات اور آرا کا آزادانہ تبادلہ کرتے ہیں تویہ لوگوں کی ضروریات اورخواہشات کی بہترعکاس ہے۔

6۔ ڈیٹا کیسے جمع ہوا اوراس کی توثیق کیسے ہوئی؟

نشری میڈیا (ریڈیو اور ٹی وی) اور دس اخبارات اور ویب سائٹس جن کی کمپنیاں ایس ای سی پی کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں، کیلئے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) سے لئے گئے تقریباً سو فیصد تصدیق شدہ سرکاری میڈٰیا پر انحصار کیا گیا۔ ہم نے پاکستان کے معلومات کے حق کے قوانین (وفاقی اور صوبائی) کے تحت الیکٹرانک میڈٰیا کو ضابطہ کے مطابق لانے کے ادارے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی(PEMRA)، وفاقی اورچاروں صوبوں کی وزارت اطلاعات اور میڈٰیا اداروں کی مالکان کمپنیوں کومعلومات کے حصول کیلئے درخواستیں جمع کرائیں۔ ان محکموں، میڈیا اداروں اورمالکان سے ملنے والا ڈیٹا باضابطہ طور پر تصدیق شدہ تھا۔ بعض میڈیا اداروں سے براہ راست ملنے والے کچھ ڈیٹا کو بھی استعمال کیا گیا، تمام 40 میڈیا اداروں سے رابطہ کیا گیا لیکن صرف چند نے مثبت جواب دیا۔

سامعین وناظرین کے حصہ پرمشتمل ڈیٹا متعدد آزاد پیشہ ورانہ ذرائع سے حاصل کیاگیا لیکن ہم نے گیلپ پاکستان پر ہی اکتفا کیا جوواحد بڑا ذریعہ ہے جوتمام چاروں ذریعوں (ٹی وی ،ریڈیو، اخبارات اور ویب سائٹس) پرتمام درخواستوں پرڈیٹا فراہم کرنے کے قابل ہوا۔

تصدیق شدہ ڈیٹا کی بنیاد پرنتائج کی ایڈوائزری بورڈ کے ممبران کی جانب سے توثیق اور منظوی دی گئی، یہ بورڈ میڈیا اور مواصلات کا علماور تجربہ رکھنے والے قومی سطح کے میڈیا ماہرین اور ماہرین تعلیم پر مشتمل تھا۔

7۔ انتہائی متعلقہ میڈیا کو کیسے بیان کیا جاسکتاہے؟

پاکستان کے تناظر میں انتہائی متعلقہ میڈیا سے مراد ٹی وی ،اخبارات، ریڈیو اور آن لائن میڈیا ہے کیونکہ پرنٹ میڈیا 70 برسوں سے زائد عرصہ سے قائم ایک مستحکم ادارے کی شکل اختیارکرگیاہے اورپالیسی سازی کے حلقوں میں یہ انتہائی بااثرہے۔ ریڈیو، ٹی وی اور آن لائن میڈیا میں توسیع2002 سے بلا تعطل اور مسلسل جاری رہی جب نشریاتی میڈیا کے شعبہ کی نجاری کردی گئی۔ آزاد ریڈیو اور ٹی وی کے پہلے لائسنسز 2002 میں دیئے گئے اور تازہ ترین لائسنسز جولائی 2019 میں جاری کئے گئے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کے شعبہ میں توسیع اور مطابقت جاری رہی۔ اسی طرح آن لائن میڈیا کی توسیع حالیہ برسوں میں دھماکہ خیزثابت ہوئی ہے جبکہ انٹرنیٹ پرآن لائن میڈیا کے ساتھ آف لائن میڈیا بھی سرگرم عمل ہے۔

پاکستان کیلئے چوٹی کے چالیس میڈیا اداروں ( ٹی وی ، ریڈیو، اخبارات اور آن لائن میڈیاکے دس بڑے کھلاڑی) کا نمونہ دوبنیادوں پر منتخب کیا جاسکتا ہے جن میں ایک مارکیٹ کا حصہ اور دوسرا سامعین و ناظرین کا حصہ ہے۔ پہلا نمونہ اس لئے منتخب کیاگیا کیونکہ پاکستان میں مارکیٹ شیئر کی معلومات حاصل کرنا مشکل ہے جبکہ سامعین وحاضرین کے شیئر کی معلومات سالانہ بنیادوں پر اپ ڈیٹ کی جای ہے جو وسیع پیمانے پر دستیاب ہوتی ہے اورآزاد پیشہ ورانہ ذرائع سے کافی قابل اعتماد ہوتی ہے۔ سامعین وحاضرین کی معلومات سامعین وناظرین تک پہنچ کے ساتھ ایک سے زیادہ میڈیا اداروں کی ملکیت کے حوالے سے اثر ورسوخ کے قابل اعتماد اشاریے دیتی ہے اور یہ اشاریے پاکستان کے حوالے سے ملک میں رائے عامہ بنانے کے عمل پر اثر انداز ہونے والا ایک اہم عنصر ہے۔

8۔ میڈیا اداروں کو کیسے منتخب کیا جاتاہے؟

نیوزٹی وی چینلز، ریڈیو اسٹیشنز، اخبارات اور آن لائن میڈیا کو سب سے زیادہ سامعین اور ناظرین کے شیئر کی بنیاد پراور ایڈوائزری بورڈ کی منظوری سے چنا جا تاہے۔چوٹی کے دس ٹی وی چینل سب سے زیادہ ناظرین کے باعث منتخب کئے گئے۔

 

 

9۔ پاکستان ہی کیوں؟

رپورٹرزود آئوٹ بارڈرز کی جانب سے شائع کئے جانے والے ورلڈ پریس فریڈم 2018 کی درجہ بندی میں پاکستان 139 ویں نمبر پر ہے اور ملکوں کی یہ درجہ بندی آزادی صحافت، سیلف سینسرشپ، قانون کی حکمرانی، شفافیت اورخرابیوں جیسے اشاریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائی جاتی ہے۔ میڈیا کے حقوق کی سب سے مضبوط قومی تنظیم فریڈم نیٹ ورک بھی پاکستان میں رپورٹر ود آئوٹ بارڈرز کی شراکت دار تنظیم ہے جس نے تحقیق، وکالت اور میڈیا کے پیشہ ورانہ امور پر تربیت سمیت میڈیا کی ترقی کے مخلتف پروگراموں پر عملدرآمد کے کامیاب تجربے کئے۔ فریڈم نیٹ ورک نے ایم او ایم پاکستان کی تحقیق کی بھی قیادت کی۔

 

 

10۔ کیا ایم او ایم کا وجود صرف پاکستان میں ہے؟

ایم او ایم ایک عام طریقہ کارکے طور پر قائم کی گئی جوعالمی سطح پرلاگو کیا جاسکتا ہے اورممکنہ طور پر ہوجائے گا۔اس کے باوجود کہ میڈیا ارتکاز کے رجحانات پر دنیا نظر رکھتی ہے، عملدرآمد اور تجزیہ سب سے پہلے ترقی پذیر ملکوں میں ہوگا۔ ایم او ایم تین سال کے عرصہ میں تقریباً بیس ملکوں میں اپنے منصوبوں پرعملدرآمد کرچکی ہے۔ تمام ملکوں کے منصوبے گلوبل ویب سائٹ پر موجود ہیں۔

11۔ اس سٹڈی کے بڑی حدودو قیودکیا ہیں؟

مارکیٹ شیئر کا ڈیٹا نہیں ہے: میڈیا کے مختلف اداروں اور کمپنیوں کے مارکیٹ حصص پرقابل اعتماد معلومات پاکستان میں آسانی اورآزادانہ طور پر دستیاب نہیں ہیں جوتحقیق کیلئے مضبوط بنیاد کی راہ میں رکارٹ ہیں۔ حصص رکھتے ہوئے شفافیت کے چیلنجز: اگرچہ پاکستان میں مالکانہ شفافیت کافی حد تک اچھی ہے لیکن میڈیا کمپنیوں کی شفافیت ایک بڑا چیلنج ہے۔ میڈیا کمپنیوں کی ایک بڑٰی اکثریت کو براہ راست حصص ڈیٹا کیلئے رابطہ کیا گیا لیکن تمام درخواستوں کو نظر انداز کیاگیا۔ خاص طور پر نشری میڈیا کی معلومات ایس ای سی پی کو فیس کی ادائیگی کے بعد حاصل کی گئیں۔ ایم او ایم پاکستان ٹیم کی جانب سے خاص طور پرپوشیدہ ملکیتی ڈھانچہ اورمتنوع حصص کنندگان کے ساتھ توسیعی کمپنی کی ملکیت کے حوالے سے بعض تحقیقات کیلئے زیادہ وقت، وسائل اور کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان میں میڈیا کیلئے سرکاری اخراجات اور اشتہارات جاری کرنے کا عمل شفاف نہیں ہے جبکہ میڈیا کمپنیاں اور حکومت دونوں معلومات کے حق کے باوجود سرکاری شعبہ کے اشتہارات سے متعلق معلومات آسانی سے فراہم نہیں کرتے۔ وفاقی حکومت اور چار صوبائی حکومتوں میں سے تین حکومتوں نے 2017-18 کے عرصہ کیلئے سرکاری شعبہ کے اشتہارات سے متعلق درکار معلومات فراہم نہیں کیں۔

 

 

12۔ ہمارا ٹارگٹ کون ہے؟

ڈیٹا بیس

  • شہری کو عام طور پر میڈیا کے نظام پر مطلع کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
  • ·       میڈٰا کی ملکیت ارتکاز پر مزید عوامی شعور بیدار کرنے کیلئے سول سوسائٹی کی پیروکاری کوششوں کے حقائق پر مبنی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
  • مسابقتی حکام یا حکومت کے اداروں سے مشاورت کیلئے ایک نقطہ نظر کا کام کرتا ہے جب میڈیا اجتماعیت کے تحفظ کیلئے مناسب ضابطہ کاری کے اقدامات کئے جاتے ہیں۔

13۔ اگلا قدم؟

  ڈیٹا بیس تاریخی حقائق سے اخذ کی جانے والی موجودہ صورت حال کی ایک تصویر ہے۔ اسے فریڈم نیٹ ورک کی جانب سے باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔

 

 

14۔ کیا ایک جیسے منصوبے ہیں؟

 

 

میڈیا اونرشپ مانیٹربنیادی طورپردوایک جیسے منصوبوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔اٹلی فلورنس میں یورپین یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ میں قائم سینٹر فار میڈیا پلورلزم اینڈ میڈیا فریڈم (CMPF) کے یورپی یونین کے فنڈ سے چلنے والے میڈیا پلورلزم مانیٹر پر خصوصاً بعد میں درجہ بندی کیلئے اشاریے بھرپورانحصار کرتے ہیں۔اس کےعلاوہ مقدونیہ میں تحقیقاتی جرنلسٹس کی جانب سے قائم کیا گیا ایک ملکیتی ڈیٹا بیس میڈیا پیڈیا،

میڈیا اونرشہ مانیٹر کیلئے حوصلہ افزائی کے طور پر کام کرتا ہے۔درج ذیل ٹیبل میں دوسرے ایک جیسے منصوبوں کا جائزہ دیکھا جاسکتاہے۔

 

ORGANIZATION DESCRIPTION
Acess Info  ایک ہسپانوی غیرسرکاری ادارہ جو متعدد یورپی ملکوں میں میڈیا ملکیت کی شفافیت کے شعبہ میں کام کرتا ہے۔
Article 19 ایک غیر سرکاری ادارہ جو آزادی صحافت کیلئے کام کرتا ہے۔ یہ میڈیا ارتکاز کے منصوبوں پر عملدرآمد کرتاہے۔
Deutsche Welle ڈوئچے ویلے کا آزادی صحاف کا نیوی گیٹرآزادی صحافت کے مختلف اشاریے فراہم کرتا ہے۔
European Audiovisual Observatory یورپ میں ٹیلی وژن اورسمعی و بصری خدمات کا ایک ڈیٹا بیس
European Journalism Center ایک ویب سائٹ ہے جویورپ اور ہمسائیہ ملکوں میں میڈیا کی صورت حال کا خلاصہ اور تجزیہ پیش کرتی ہے۔
European University Institute in Florence میڈیا اجتماعیت کا مانیٹر یورپی یونین کے رکن ملکوں میں میڈیا اجتماعیت کیلئے خطرات کا جائزہ لیتاہے
IFEX یہ نیٹ ورک کئی ملکوں میں میڈیا کی صورتحال پر معلومات فراہم کرتا ہے۔
IREX میڈیا کی پائیداری درجہ بندی (MSI) 80 ملکوں میں آزادمیڈیاکیلئے صورت حال کا تجزیہ فراہم کرتی  ہے۔
Media Pedia مقدونیہ میں میڈیا کی ملکیت کے جائزہ کا ایک منصوبہ ہے۔
mediaUk یہ ویب سائٹ برطانیہ میں میڈیا کی ملکیت سے متعلق معلومات فراہم کرتی ہے۔
Pew Research Center یہ تنظیم امریکہ میں میڈیا سے متعلق ایک ڈیٹابیس شائع کرتی ہے۔
SEENPM یہ تنظیم جنوب مشرقی یورپ اور یورپ یونین کے رکن ملکوں میں میڈیا کی ملکیت اور میڈیا اجتماعیت کے اثرات کی نگرانی کرتی ہے۔
The Columbia Institute for Tele-Information at Columbia Business School ایک تحقیقاتی ادارہ ہے جوایک طریقہ کاراستعمال کرتے ہوئے میڈیا ارتکاز سے متعلق دنیا کے 30 ملکوں کے مصنفین کے ساتھ کام کرتی ہے۔
The Institute for Media and Communication Policy دنیا کے سب سے بڑے میڈیا کی بین الاقوامی کارپوریشنز کا ایک ڈیٹا بیس۔
UNESCO میڈیا کی ترقی کے اشاریے، میڈیا کی ترقی کا جائزہ لینے کیلئے ایک لائحہ عمل۔
  • منصوبہ از
    Logo Freedom Network
  •  
    Reporters without borders
  • فنڈ دیئے
    BMZ