This is an automatically generated PDF version of the online resource pakistan.mom-rsf.org/en/ retrieved on 2019/12/05 at 22:43
Reporters Without Borders (RSF) & Freedom Network - all rights reserved, published under Creative Commons Attribution-NoDerivatives 4.0 International License.
Freedom Network LOGO
Reporters without borders

معیشت

پاکستانی معیشت عالمی پیراے میں:

انیس سو سینتالیس میں جب پاکستان کو انڈیا سے آزادی ملی تو پاکستان ایک اوسط درجے کا زرعی ملک تھا۔ اس دوران پاکستان کی اوسط معاشی شرح پیداوار پہلی پانچ دہاُٰیوں میں عالمی معیشت کی شرح پیداوار سے زیادہ تھی۔ 1960 میں جی ڈی پی کی سالانہ سطح چھ عشاریہ ٓآٹھ فیصد تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس میں بہتری کے بجائے کمی واقع ہوتی رہی۔ اور یہ گراوٹ کی طرف مائل ہوتے ہوتے سن دو ہزار میں ساڑھے تین اور چار فیصد کے درمیان ٹھہری رہی۔

انیس سو سینتالیس میں پاکستانی معیشت کا پچاس فیصد زرعی پیداوار سے حاصل کیا جاتا تھا۔ گو کہ اس کی فی کس زرعی پیداوارتو بڑھی لیکن غیر زرعی شعبے کی پیداواری سطح نے اسے پیچھے دھکیل دیا۔ اس صورتحال کے پیش نظر پاکستانی معیشت میں زراعت کا حصہ تقریباً پانچویں حصے تک گر گیا۔ سن دو ہزار کے بعد سے پاکستان میں صنعتی شعبوں جن میں ملبوسات ٹیکسٹائل، سیمنٹ اور خدمات کے شعبوں جن میں ٹیلی مواصلات، اشتہارات، مالیات اور نقل و حمل کے شعبے شامل ہیں ان میں تیزی کا رجحان برقرار ہے۔

پاکستان میں سن دو ہزار کے بعد سے ٹھوس معاشی اصلاحات اور روزگار کے مواقعوں میں اضافے اور غربت میں کمی کے لیے درمیانی مدت کے اقدامات کیے گیے ہیں جو پچھلی ایک دہائی میں کیے گیے اقدامات سے بہتر ہیں۔

سن دو ہزار کی عالمی بنک کی ایک رپورٹ کے مطابق، ’پاکستان اپنے خطے میں کاروباری مواقعوں کی ابتداء میں َسہولیات فراہم کرنے والا پہلا ملک ہے اور عالمی سطح پر دسویں نمبر پر ہے۔ جس نے کاروبار شروع کرنا سہل تر کیا، جائیداد کے اندراج کے اخراجات میں کمی کی، کارپوریٹ گورننس کے اصولوں کی خلاف ورزی پر سخت جرمانے عائد کیے اور تاجروں کے لیے شپمنٹ لائسنس قوانین مین بھی مراعات دی ہیں۔‘

عالمی بنک اور بین الاقوامی فنانس کاپوریشن کی رپورٹوں "ایز اف انڈیکس سن دو ہزار انیس" کے مطابق پاکستان اس وقت ایک سو نوے ممالک میں 136 نمبر پہ ہے جو کہ گزشتہ برس 147 نمبر پہ تھا۔

 

اسی انڈکس کی قومی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی بیس کروڑ ستر لاکھ ہے جو عالمی سطح پر دنیا میں گنجان ممالک میں چھٹے نمبر پر ہے۔ جس کی لیبر فورس پانچ کروڑ بہتر لاکھ ہونے کے باوجود بےروزگاری کی شرح چھ فیصد تک ہےَ

میڈیا انڈسٹری کا جمود:

دیکھا جائے تو نئی صدی پاکستانی میڈیا کے مزاج و حجم میں یکساں بدلاُو کا باعث بنی۔ سن دو ہزار دو تک سرکار کے زیر نگرانی ملک میں ایک ٹی وی چینل اور ایک ہی ریڈیو سٹیشن کام کر رہے تھے۔ اور تاحال ملک میں تقریبا تفریحی اور خبروں کے سو ٹی وی چینل کام کر رہے ہیں اور 150 کے قریب ریڈیو سٹیشن ہیں۔ اسی عرصے کے دوران ملک میں صحافیوں کی تعداد دو ہزار سے بڑھ کر بیس ہزار ہوگُی اور میڈیا انڈسٹری سے منسلک افراد کی تعداد بھی ڈھائی لاکھ کے لگ بھگ ہے۔

پاکستانی میڈیا انڈسٹری کے حجم میں اضافے کی وجوہات میں معیشت کے بنیادی اصولوں میں بہتری، اشتہارات کے شعبے کا پھیلاُو اور فی کس آمدنی میں اضافہ جیسے عناصر شامل ہیں۔

پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق سن دو ہزار دو سے دو ہزار سترہ تک پاکستانی الیکٹرانک مٰیڈیا انڈسٹری میں مجموعی طور پر تقریباً چار ارب امریکی ڈالرز کی سرمایاکاری کی جا چکی ہے۔

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ قومی پیداوار میں اضافے کے باعث نجی سیکٹر میں نمایاں طور پر الیکٹرانک میڈیا کی صنعت میں ترقی دیکھی گُی۔ مواد تیار کرنے والے ہاوسز میں اضافہ اشتہار بنانے والی کمپنیوں کی تعداد میں بڑھوتی اور پرفارمنگ آرٹ کے پھیلاُو میں بھی توسیع ہوئی۔

البتہ گزشتہ برس میڈیا صعنت کے لیے خوشگوار ثابت نہ ہوا، پاکستانی میڈیا انڈسٹری جو خطے میں سب سے متحرک صعنت کے طور پے دیکھی جاتی تھی سکڑنے لگی اور تقریباً دو ہزار کارکنان کو اپنے روزگار سے ہاتھ دھونا پڑے۔ اور بہت سے ادارے بند بھی کرنا پڑے۔ اس پر دو ہزار اٹھارہ کا الیکشن بھی کاروباری حلقوں کےلیے کچھ اچھی خبر لے کر نہیں آیا کچھ اثر گرتی ہوئی معیشت کا بھی تھا علاوہ ازیں حکومتی امداد بند ہونے اور اشتہارات کی گھٹتی آمدن نے سالہا سال سے مستحکم میڈیا ہاوسز کو اپنی کاروباری سرگرمیوں کو کم سے کم کرنے اور ملازمین کو بر طرف کرنے پر مجبور کر دیا۔

جنگ گروپ جو ملک کا سب سے بڑا میڈیا گروپ ہے اسے بھی اپنی کئی مطبوعات کو بند کرنا پڑا اور کئی بیورو دفاتر میں تالے لگانا پڑے۔ اور اس کے باعث صرف ایک دن میں تقریباً چودہ سو ملازمین کو اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔

ایکسپریس اور دنیا میڈیا گروپس جو ملک کے تیسرے اور چوتھے نمبر کے میڈیا گروپ ہیں انہیں بھی تقریباً دو سو صحافیوں کو معطل کرنا پڑ گیا۔ اس کے علاوہ دیگر ملازمین کی تنخواہوں میں سے پندرہ سے پینتیس فیصد کٹوتی کرنی پڑی۔

میڈیا کی صنعت میں دیکھی گُی گزشتہ تیزی کے باعث صحافیوں کی ایک نئی پود نے جنم لیا اور وہ تھی سیاسی پروگراموں کے میزبان یا ٹی وی اینکرز کی۔ جنہوں نے نہ صرف بھاری تنخواہوں پر اس فیلڈ کو اپنایا بلکہ ہزاروں کی تعداد میں نوجوانوں کو اس پروفیشن کی جانب راغب بھی کیا۔

دو ہزار پانچ کے اس میڈیا بوم کو دیکھتے ہوئے درجنوں یونیورسٹیوں نے اپنے اداروں میں میڈیا سائنسیز کا شعبہ بھی متعارف کروا ڈالا۔ لیکن ملک کے معاشی اتار چڑھاؤ اور ناسازگار سیاسی حالات کے باعث اس وقت چند ہی چینلز ہیں جو اپنے ملازمین کو وقت پہ ان کی اجرت دینے کے قابل ہیں۔

حد تو یہ ہے کہ جیو ٹی وی نیٹ ورک بھی بروقت تنخواہیں دینے سے قاصرہے۔ اور مہینوں تنخواہیں ادا کرنے کی مالی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔ جیو کے مطابق اس رجحان کی بڑی وجہ سرکار کی طرف سے حکومتی اور نجی اشتہارات سے حاصل آمدن پر سخت کٹوتیاں ہیں۔

جیسے جیسے دو ہزار اٹھارہ اپنے اختتام کی طرف پہنچا ملک میں میڈیا انڈسٹری کا مستقبل ڈولتا نظر آیا۔

سن دو ہزار دو میں جب براڈکاسٹ سیکٹر ملک میں پہلی نجی طور پر کام کرنا شروع ہوا تو اس کی آمدن کا بڑا انحصار بڑے ٹیلی کام اداروں سے حاصل ہونیوالے ریونیو پر تھا۔ لیکن جلد ہی حکومت نے کم نوعیت کے خرچوں کیلیے معاونت کا ہاتھ بڑھایا۔

مگر گزشتہ برس سے جب سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں اشتہارات سے حاصل آمدن پر سخت پابندیوں نے صورتحال کو یکسر بدل کے رکھ دیا ہے۔ جس کے باعث بہت سے ادارے تو بند ہی کرنا پڑ گُے ہیں اور ملازمین بھی برطرف کئے گُے ہیں۔

پچھلے کچھ برسوں میں ٹیکسٹائل انڈسٹری، ٹیلی کام اور بنکوں نے اپنے اشتہارات کے بجٹ میں پچاس فیصد تک کمی کر دی ہے۔

ڈان اخبار کا کہنا ہے کہ پرنٹ میڈیا کے اپنے مسائل ہوتے ہیں جن سے نمٹنا آسان نہیں ہوتا۔ جیسے اشتہارات کی صنعت کو زوال دیکھنا پڑا اور کاروبار چلتا رکھنے کی لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کاچناؤ کیا جانے لگا اخبارات کو اپنی ساکھ اور آمدن برقرار رکھنا محال ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

گھٹتے وسائل کے باعث اخبارات اور رسائل نے اپنے صفحات میں کمی کر دی ہے اور کئی ملازمین فارغ بھی کرنا پڑے ہیں۔ اس وقت جو بچے کچے ملازمین رکھے ہوُے ہیں ان کی تنخواہیں دینا بھی اداروں پر گراں گزر رہا ہے۔ ایسے میں یہ سبھی دیگر صحافی تنظیموں کے ساتھ مل کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے پر آمادہ ہیں۔

سن دو ہزار دو میں میڈیا کی آزادی کے بعد سے ریاستی اداروں نے ملک کے نجی میڈیا حلقوں کی امداد کے ہوالے سے اہم کردار ادا کیا۔ جو ٹی وی اور پرنٹ جرنلزم دونوں شعبوں کے لیے اہمیت کا حامل رہا۔

خاص طور پر سرکاری اشتہارات جو ان کی بقا کی لیے تاریخی اور ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اکثر معروف ٹی وی چینلز کے پرائم اوقات میں ان کا نشریاتی وقت خرید کر ان چینلز کی مالی معاونت میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اسی طرح حکومتیں روایتی طور پر اشتہارات کی آمددنی کی مد میں بڑے بڑے اخباروں کی مدد کرتی ہیں۔

روزنامہ ڈان کے مطابق، اشتہارات کی مارکیٹ کا حجم دو ہزار پندرہ میں چھیاسٹھ عشاریہ نو ارب روپے تھا جو مالی سال دو ہزار سترہ میں ستاسی عشاریہ سات ارب روپے ہو گیا تھا۔ اگست دو ہزار اٹھارہ میں سینیٹ کو آگاہ کیا گیا تھا کہ دو ہزار تیرہ سے دو ہزار سترہ تک پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو حکومت کی جانب سے تقریباً پندرہ عشاریہ سات ارب روپے کے اشتہارات دیے گُے۔

اس کے علاوہ جولائ دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن کے بعد سے سندھ اور پنجاب کی حکومتوں نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو ملنے والے اشتہارات کی آمدنی کی مد میں بہت بڑے پیمانے پر کٹوتیاں کیں اور دوسری جانب وفاقی حکومت نے میڈیا کو ملنے والے اشتہارات کے بجٹ کو ستر فیصد تک گھٹاتے ہوُے پاکستانی میڈیا کی صنعت کوشدید مالی بحران سے دوچار کر دیا۔

اس صنعت سے جڑے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ بحران کوئی انہونی نہیں بلکہ اس صدی کی دوسری دہائی میں پاکستانی اخبارات کی صنعت نے اپنی فروخت میں پندرہ سے بیس فیصد کی کمی دیکھی ہے۔ پاکستان میں اردو زبان کے اخبارات کے پڑھنے والوں کی تعداد انگریزی اخبار پڑھنے والوں سے کہیں زیادہ ہےَ۔

سن دو ہزار دس کے بعد سے درمیانے درجے کے اخبارات کو اشتہارات سے حاصل ہونے والی آمدنی میں اس درجہ کمی کا سامنا کرنا پڑا کہ انہیں اپنے ملازمین کو بڑی تعداد میں برطرف کرنا پڑا۔ دوسری جانب انگریزی اخبار کے قارُین کی تعداد میں کمی کے باعث ٹیلی کام کمپنیاں اپنے اشتہارات کا رخ اردو ٹی وی چینلز کی جانب موڑ رہی ہیں اور یہی وجہ سن دو ہزار پندرہ کے بعد سے دو انگریزی زبان کے چینلز کے بند کیے جانے کی ہے۔

یہ دونوں چینلز پاکستانی اہم میڈیا ہاؤّسز ڈان اور ایکسپریس اخبارات کے تھے۔

ملک کے بہت سے صحافیوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ ایک ہی خاندان یا میڈیا گروپ کے ہاتھوں مین ان کی باگ ڈور ہونا کوئی قابل منافع اور قابل احترام بزنس ماڈل نہیں۔ کہ کوئی ایک گروپ جب چاہے انہیں ملازمت دے اور جب چاہے اپنے مالی بحران کے پیش نظر فارغ کر دے۔ اس بزنس ماڈل نے ایک طرف تو جرنلزم کی ساکھ کو متاثر کیا ہے اور دوسری جانب سنسر شپ کے ہاتھ بھی مظبوط کیے ہیں۔ میڈیا کی کمزور مالی صورتحال نے پاکستانی اخبارات اور چینلز کو جیسے حکومت وقت اور ریاست نے ہاتھوں کا کھلونا سا بنا رکھا ہے اور صحافیانہ دیانت جیسے داؤ پر لگانا پڑ گئ ہے۔ کیونکہ ریاست اور حکومت دونوں ہی خود پر کسی قسم کی تنقید کا موقع نہیں دیتی ہیں۔

اشتہارات کے ریوینیو کی مد میں انتہائی کمی کے باعث بہت سے عمدہ تجزیاتی پروگراموں کو جیسے چپ لگا دی گئی ہو۔

ملک کے اہم میڈیا ہاؤسز کا مالی بحران صرف ان تک ہی نہیں محدود رہا هے بلکه اس که اثرات دور رس رہے ہیں خاص کر دو ہزار اٹھارہ سےاب تک ان اخبارات کی زبان اور چینلوں کا تنقیدی مزاج یکسر بدل چکا ہےَ۔

اور جہاں میڈیا کا سالانہ اشتہارات کا حجم مالی سال دو ہزار سترہ ۔ اٹھارہ میں اکیاسی عشاریہ چھ ارب روپے رہا ۔ ٹی وی چینلوں کی مارکیٹ میں باوجود نجی شعبے کی سرمایا کاری کے جو سرکاری اخراجات سے کہیں زیادہ ہے اب بھی اپنی مستحکم ساکھ نہیں بنا پایا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ ٹی وی نیوز میڈیا نے نسبتاً آزادانہ صحافت کا رجحان اپنا رکھا ہے۔ اور پچھلے کئی برسوں میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر ناقدانہ نگاہ رکھی ہے۔

دوسری طرف پاکستانی پرنٹ میڈیا کا بڑا انحصار سرکاری اشتہارات پر ہوتا ہے اور دو ہزار سولہ سے وفاقی حکومت اس کی سب سے بڑی ایڈورٹایزر ہے۔

جبکہ پرنٹ میڈیا نے حکومتوں کے خلاف سخت گیر رویہ اپنایا ہوا ہے لیکن عمومی طور پر ان کی رپورٹنگ خود مختار نہیں اور اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کا کتنا بڑا انحصار سرکاری اشتہارات پر ہے۔

البتہ گذشتہ انتخابات کے بعد سے تصویر کا دوسرا رخ نظر ّآنا شروع ہوا ہے اور تبدیلی دیکھی جا سکتی ہے کہ جب سے تحریک انصاف کی حکومت شروع ہوئی ہے اور اس نے سرکاری اشتہارات کی تشہیر کے حوالے سے جو پالیسی اپنائی ہے اس نے میڈیا انڈسٹری کو اپنے دو ہزار ملازمین کو برطرف کرنے پر مجبور کردیا ہے۔

اور جہاں تک ڈیجیٹل میڈیا کا تعلق ہے اسے حکومتی حمایت حاصل نہیں اور اس لحاظ سے وہ اپنی ادارتی پالیسیوں میں خودمختار ہے جس کے لیے وہ پبلک نہیں بلکہ نجی سیکٹر کا تابع ہے۔

دو ہزار انیس کے اوائل میں پاکستان میں تقریباً سو کے قریب ٹی وی چینل کام کر رہے تھے، جن میں 40 مکمل طور پر نیوز چینل تھے۔ اور ان کا بیشتر کام سیاسی خبروں سے منسلک تھا۔ گذشتہ سال الیکشن کا سال تھا، ملک کے پولورایزڈ سیاسی شور شرابے میں صرف سیاست ہی ٹی وی چینلوں پر چہکتی رہی۔ اور اس کے سوا ان چینلوں پر کوئی اور موضوع زیر تبصرہ نہ تھا نہ اقتصادی نہ سماجی۔

اور جہاں تک تفریحی چینلوں کا تعلق ہے تو ان پر ڈراموں کی بھر مار موسیقی اور کھیل کے پروگرام نشر ہوتے رہے۔ اس سے ہٹ کے جو بھی پروگرامنگ تھی وہ عوام کی دلچسپی سے خارج رہی۔

پاکستان میں اس وقت ایک اندازے کے مطابق 150 ریڈیو سٹیشن بھی کام کر رہے ہیں۔ جن میں سے چوتھائی ایف ایم تفریحی اور کمیونٹی کے مسائل پر پروگرام پیش کرتے پیں اور سب سے زیادہ فوکس موسیقی کے پروگراموں پر ہوتا ہے۔

صرف چند ہی ایف ایم ایسے ہیں جو باقاعدہ خبروں اور حالات حاضرہ کے پروگرام نشر کرتے ہیں۔

گزشتہ برس انتخابات کا سال رہا اور ایسے میں ٹی وی اور ایف ایم ریڈیو مختلف سیاسی جماعتوں کے ماؤتھ پیس بنے رہے تاکہ ووٹروں کو ان کی جانب راغب کر سکیں۔

دو ہزار سولہ سے دو ہزار اٹھارہ کے دوران اگر دیکھا جائے تو مجموعی طور پر میڈیا پر اشتہارات کے خرچے میں گراوٹ کا خاصا رجحان ملتا ہے۔

مالی سال دوہزار سترہ۔اٹھارہ کے دوران پاکستان کل مٰیڈیا ایڈورٹایزنگ مارکیٹ اکیاسی عشاریہ چھ بلیین روپے رہی۔ ’اورورا ‘ میگزین کی ایک رپورٹ کے مطابق اس لگائے گُے تخمینے میں پرنٹ، ریڈیو، ٹی وی ڈیجیٹل اور سنیما سبھی شامل ہیں۔ یاد رہے کہ ’اورورا‘ کی یہ رپورٹ جنوری دوہزار انیس کے اختتام تک شائع نہیں کی گئی تھی۔

’اورورا‘ میگزین کے اعداد و شمار کے مطابق پروڈکٹ کیٹیگری کے حوالے سے اگر پرنٹ میڈیا کے پہلے دس اٰڈورٹایزروں کا اندازہ لگایا جاٰے تو گزشتہ دو برسوں کے دوران سب سے زیادہ پیسہ وفاقی حکومت نے خرچ کیا تھا۔ جبکہ دوسرے نمبر پر ریل اسٹیٹ سیکٹر، تیسرے نمر پر تعلیمی ادارے، مالیاتی ادارے اور پانچویں نمبر پر فارما کی صنعت رہی۔

اور اسی عرصے کے دوران ٹی وی کی کیٹیگری کے پہلے دس ایڈورٹاُیزروں میں نجی سیکٹر کا شمار کیا جائے تو صارفین کی دلچسپی کی اشیاء اور ٹیلی کام سیکٹر کے اشتہارات نیوز اور تفریحی چینلوں پر چھائے رہے۔

اور جہاں تک اسی عرصے کے دوران ریڈیو کے میڈیم کا تعلق ہے تو پھر بھی صارفین کی دلچسپی کی اشیاء ، ٹیلی کام سیکٹر، جائیداد کی خرید و فروخت اور بجلی کے سامان کے اشتہارات سرفہرست رہے۔

اس وقت ملک میں ڈیجیٹل میڈیا انڈسٹری ترقی پزیر ہے اور اس سے میڈیا ریونیو کا تین فیصد ہی مل پاتا ہے۔ لیکن اس کی پیداوار میں تیزی دیکھی جا سکتی ہے اور جہاں تک سوشل میڈیا کا تعلق ہے تو وہ پاکستان میں پیداواری لحاظ سے سب سے آگے ہے۔

گیلپ پاکستان دو ہزار اٹھارہ کے ڈیٹا کے مطابق ٹاپ چالیس نیوز میڈیا ادارے ایسے ہیں جو ایک سے زیادہ میڈیم میں کام کرہے ہیں۔ جن میں ٹی وی، ریڈیو پرنٹ اور انٹرنیٹ سبھی شامل ہیں۔ اور اس طرح نہ صرف اداروں کی رسائی بڑے پیمانے پر عوام سے ہوتی ہے بلکہ ان کمپینیوں کے ہاتھ مزید مظبوط ہو جاتے ہیں۔

ایڈورٹایزنگ ریوینیو کے حوالے سے اگر مالی سال دو ہزار سترہ اٹھارہ کا جائزہ لیں تو اورورا کے اعدادو شمار کے مطابق تو ٹاپ پندرہ چینلوں میں سے سات نیوز چینل تھے جبکہ دیگر تفریحی چینل تھے۔ خبروں کے حوالے سے سب سے کامیاب پانچ چینلز میں "جیو اور دنیا" نیوز کا ریوینو سب سے زیادہ تھا۔ اور سب سے زیادہ کامیاب "جیو نیوز اور جیو اینٹرٹینمنٹ" رہے جن کا ٹوٹل ریونیو پانچ ارب روپے تھا۔

جہاں تک دو ہزار سترہ ۔ اٹھارہ کے ایڈورٹایزنگ ریوینیو کا تعلق ہے تو "اورورا" کے اعدادوشمار کے مطابق پندرہ بہترین ریوینیو والے اخباروں میں سے پانچ اخباروں نے نو عشاریہ سات ارب روپے کمائے جو کل ریوینیو کا چھپن فیصد رہا۔

ان میں سرفہرست سب سے کامیاب جنگ میڈیا گروپ اپنے اردو اور انگریزی روزناموں کے ساتھ رہا۔ جن میں انگریزی کے ’دی نیوز‘ نے ریوینیو کا نصف کما کے دیا۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کے ملک کا سب سے با اثر میڈیا گروپ جنگ میڈیا گروپ ہے جس کے جیو نیوز اور انٹرٹینمنٹ چینل ملک کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے چینل اور روز نامہ ’جنگ‘ اور ہفتہ وار میگزین ’اخبار جہاں‘ سب سے زیادہ پڑھے جانے والی اردو مطبوعات ہیں۔ جبکہ انگریزی زبان میں روزنامہ ’دی نیوز‘ اور رسالہ ’میگ‘ شامل ہیں۔ کاورباری اور سماجی حلقوں میں اگر دیکھا جائے تو جنگ گروپ کے حکام اعلی کی پہنچ سب سے زیادہ نظر آتی ہے۔ اور اسی کا عکس اس گروپ کی الیکٹرانک اور پرنٹ مٰیڈیا میں ایڈورٹاُیزنگ مارکیٹ شیر پر بھی ملتا ہے۔

جنگ گروپ ایک کثیر تعداد میں صارفین تک رسائی کے باعث قدامت پسند (مجموعی طور پر اردو میڈیا میں دلچسپی رکھنے والے) اور ترقی پسند ( مجموعی طور پر انگریزی میڈیا میں دلچسپی رکھنے والے) دونوں کو اپنے مدیروں اور آزاد خیال صحافیوں کی مدد سے جوڑے رکھتا ہے۔

جبکہ دوسرے نمبر پر ڈان گروپ کا شمار ہوتا ہے جو اپنے نظریات میں آزاد خیالی اور اجتماعیت کی بنا پر اپنی پروگرامنگ اور اخبارات و رسائل کی ادارت میں پالیسی سازوں اور انٹیلیجینشیا کو ساتھ لے کے چل رہا ہے چاہے وہ خبروں کے پروگرام ہوں یا تفریحی۔

نمبر وار دیکھیں تو ’ایکسپریس‘ میڈیا گروپ تیسرے نمبر پر ہے۔ چاہے وہ اردو زبان کے سامعین کے لیے اس کی قدامت پسندی ہو یا ترقی پسند ذہنوں کے لیے اس کا انگریزی اخبار۔

حالیہ برسوں میں اگر دیکھیں تو پاکستان میں آن لائن میڈیا کی ترقی تیزی سے بڑھی ہے۔ جو کہ ملک میں دایں بازو کے ہم خیال افراد سے ترقی پسندوں سبھی تک مکمل رساُٰئی رکھتی ہے۔ اس وقت سب سے بااثر حالات حاظرہ کی آن لائن میڈیا ویب سائٹ ’ہم سب‘ کے نام سے سرگرم عمل ہے جو ایک مشہور بلاگ اور مظامین کی ویب سائٹ ہے جس کے لکھنے والے عام عوام ہیں جو ان مظامین پر لکھتے ہیں جن پر عام بحث کرنے کی ممانعت سی ہے۔ ان لکھاریوں کا کام ’ہم سب‘ کی انتظامی اور ادارتی کمیٹی کی نظر سے ہو کر ویب سائٹ پر ڈالا جاتا ہے۔

اسی طرح ’سجاگ‘ نامی ایک اور ویب سائٹ بھی کام کر رہی ہے جو زیادہ تر پنجاب کے ان اضلاع کی کہانیاں چھاپتی ہے جو مرکزی دھارے کے میڈیا میں پڑھنے اور دیکھنے کو نہیں ملتیں۔

اس کے بعد ’نیا دور‘ نامی ایک اور ویب سائٹ ہے جس پر چھپنے والے مواد کا رجحان خاصا ترقی پسند ہوتا ہے۔ ’نیا دور‘ نیوز فیچر اور ویڈیو پر مبنی ویب سائٹ ہے۔ یہ تمام ہی آن لائن میڈیا کے ذرائع ڈیجیٹل دور کے صارفین تک خبر رسانی کے تقاضوں کو پورا کرتی نظر آتی ہیں۔ اور وہ مواد عوام کو پڑھنے اور دیکھنے کو مہیا ہو پاتا ہے جو علاوہ ازیں سسنسرشپ کے باعث میسر نہیں ہوتا۔

تاہم ان ویب سائٹون کی آمدنی کا اندازہ لگانا ابھی ممکن نہیں کیونکہ فل الحال یہ نجی سیکٹر کے اشتہارات پر ہی گزارہ کرتی نظر آتی ہیں۔

میگنا انٹرنیشنل کے مطابق امید کی جا رہی تھی کہ پاکستانی اشتہارات کی مارکیٹ تیرہ عشاریہ سات فیصد تک جائے گی۔ اس رپورٹ کا ماننا تھا کہ دو ہزار سترہ کی کرکٹ چیمپیُنز ٹرافی میں پاکستان کی بھارت کے خلاف جیت نے پاکستانی میڈیا ریٹنگز کو بھرپور دوام بخشا جس طرح کرکٹ ہی میں پاکستان سپر لیگ کو بھی حبیب بنک لمیٹڈ اور پبلکس گروپ کے سپارک ۔ بلٹز نے شروع کیا تھا۔

دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن سے اخذ کیا جا رہا تھا کہ انوینٹری کی قلت واقع ہو گئی ہے اور ساتھ ہی قیمتوں میں حد درجہ اضافے سے افراط زر ہو گا۔

رپورٹ کے مطابق دو ہزار انیس کا کرکٹ ورلڈ کپ بھی پاکستان میں اشتہارات کی صنعت کے لیے ایک بہترین کاروباری موقع ہو گا، اس وقت ملک میں ڈیجیٹل میڈیا انڈسٹری ترقی پزیر ہے اور اس سے میڈیا ریونیو کا تین فیصد ہی مل پاتا ہے۔ لیکن اس کی پیداوار میں تیزی دیکھی جا سکتی ہے اور جہاں تک سوشل میڈیا کا تعلق ہے تو وہ پاکستان میں پیداواری لحاظ سے سب سے آگے ہے اور دو ہزار اٹھارہ میں اس کی گروتھ ستر فیصد تک تھی۔

  • منصوبہ از
    Logo Freedom Network
  •  
    Reporters without borders
  • فنڈ دیئے
    BMZ