This is an automatically generated PDF version of the online resource pakistan.mom-rsf.org/en/ retrieved on 2021/05/07 at 09:14
Reporters Without Borders (RSF) & Freedom Network - all rights reserved, published under Creative Commons Attribution-NoDerivatives 4.0 International License.
Freedom Network LOGO
Reporters without borders

روزنامہ خبریں

روزنامہ خبریں کی بنیاد1980 کی دہائی کے آخر میں روزنامہ جنگ لاہور کے دفتر میں پڑی جب ضیا شاہد اور اس کے ادارتی عملے کے بعض سینئر ارکان بغاوت کرکے چھوڑ گئے۔بعد میں انہوں نے ایک اخبار روزنامہ پاکستان قائم کیا جو اصل میں ایک جدید مالیاتی ڈھانچہ تھا۔ اگرچہ یہ اخبار ایک رجسٹرڈ کمپنی کی ملکیت تھا لیکن درجنوں افراد میں اس میں سرمایہ لگای اور اخبار انہیں اپنے ممبرز کہتاتھا۔

ایک سال کے اندر ضیا شاہد اپنے سینئر ادارتی عملے اور بعض سرکردہ ممبران کے ساتھ اخبار چھوڑگئے، اس کے بعد انہوں نے روزنامہ خبریں کا آغاز کیا جہاں انہوں نے ممبر شپ کا ماڈل جاری رکھا لیکن اسے اس طرح سے تبدیل کیا کہ آجر اور اجیر کے تعلق تک کوبدل دیا۔اس کے نتیجہ میںجو اخبار کے ضلع رپورٹرز اور مقامی تقسیم کار بننا چاہتے تھے انہیں پہلے رکنیت سازی کی ہزاروں روپے فیس بھرنے کا کہاگیا۔

روزنامہ خبریں نے بھی ادارتی طور پر بعض انتہائی متنازعہ اقدامات کئے، اس نے چھاپہ مار سکواڈ قائم کئے جنہوں نے فیکٹریوں، ریستورانوں اور دوسری کاروباری جگہوں کو منظر عام پر لایا جومبینہ طور پر غیرقانونی اور غیراخلاقی سرگرمیوں میں ملوث تھیں۔ نگران طرز کی اس کوریج کو پھر اخبار میں اچھالا گیا اور مبینہ طور پرغلط کام کرنے والوں کو ان کے ناموں کے ساتھ شرمندہ کیا گیا۔ کئی مواقع پر اخبارخاص طور پر تعلیمی اداروں اور بازاروں میں خواتین اور نوجوانوں کیلئے اخلاقیات کو نافذ کرنے والے کے طور پرسامنے آیا۔

1997 میں روزنامہ خبریں نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے لاہور کے ایک رہائشی محمد یوسف علی کیخلاف بھرپور مہم چلائی اور اسے کذاب کا خطاب دیا۔ توہین رسالت کے الزامات پر 2000 میں لاہور کی ایک عدالت نے محمد یوسف علی کو سزائے موت سنا دی لیکن لاہور کی جیل میں ہی ایک دوسرے قیدی نے اسے قتل کردیا، اس کے قتل کیلئے استعمال ہونے والی پستول روزنامہ خبریں اخبار کے ایک رپورٹرنے مبینہ طور پر جیل کے اندر پہنچائی۔

اخبار کی اخلاقی مہم، قوم پرستی پر مبنی جوش دلانے والی خبروں کی کوریج، اکثر عجیب وغریب سازشوں کے نظریات کی ترویج نے 1990 کی دہائی کے وسط میں روزنامہ جنگ اور روزنامہ نوائے وقت کے بعد پنجاب میں تیسرا بڑا اخبار بنا دیاتھا۔ تاہم اخبار اس پوزیشن کو زیادہ عرصہ برقرار نہ رکھ سکا، خبریں گروپ نے ملک کے مختلف حصوں سے چھ سے زائد ایڈیشن شروع کئے اور ان میں سے بعض بند کردیئے گئے۔

اہم حقائق

سامعین کا حصہ

11.00%

ملکیت کی نوعیت

نجی

جغرافیائی کوریج

قومی

رابطے کی نوعیت

زرتعاون (20 روپے)

معلومات عوامی سطح پر دستیاب

ملکیت کے بارے میں معلومات باآسانی دیگر ذرائع جیسے کہ پبلک رجسٹریاں

2 ♥

میڈیا کمپنیاں/گروپس

لبرٹی پیپرز پرائیویٹ لمیٹڈ

ملکیت

ملکیت کا ڈھانچہ

روزنامہ خبریں لبرٹی پیپرز لمیٹڈ کی ملکیت ہے جس کے 63.85% حصص ضیا شاہد، ان کی اہلیہ، ان کے موحوم بیٹے کی بیوہ، ان کے دوسرے بچوں اور ان کی بیویوں اور متعدد پوتے پوتیوں کی ملکیت ہیں۔ باقی حصص میں علیم چوہدری کی فیملی8.18%، ڈاکٹر مظفر النسا2.67%، کامران صفدر قریشی کی فیملی 2.5%، اقبال ملک 1.9%، اعجاز حشمت خان کی فیملی 1.87%، عرفان حمید خان1.87%، اعظم سہروردی کی فیملی 1.63%، ساگا سپورٹس سیالکوٹ کے مالکان 1.55%، بلال احمد1.28%، طارق محمود1.25%، عثمان نبی 1.25% حصص کے مالک ہیں جبکہ تقریباً 950 دیگر افراد بھی ہیں جن میں سے ہر کسی کے 1% سے بھی کم حصص ہیں۔

ووٹ کا حق

ڈیٹا موجود نہیں

انفرادی مالک

گروپ / انفرادی مالک

علیم چوہدری کی فیملی

علیم چوہدری 1990 کی دہائی کے آغاز میں ملتان میں مقیم ایک عامل صحافی تھے، انہوں نے لبرٹی پیپرز پرائیویٹ لمیٹڈ میں ایک خطیر رقم کی سرمایہ کاری کی۔ اس کے بعد جب روزنامہ خبریں کی اشاعت ملتان سے شروع ہوئی تو وہ ملتان ایڈٰیشن کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر بن گئے اور چند سال پہلے اپنے انتقال تک وہ اسی عہدے پر فائض رہے۔ اپنی اہلیہ ثریا علیم کے ساتھ وہ اب بھی لبرٹی پیپرز پرائیویٹ لمیٹڈ میں بڑے حصہ دار سمجھے جاتے ہیں۔

8.2%
میڈیا کمپنیاں/گروپس
حقائق

عام معلومات

قیام کا سال

1992

بانی کے جڑے ہوئے مفادات

ضیا شاہد

1980 کی دہائی کے آخر میں روزنامہ جنگ کے ادارتی بورڈ کے ایک سینئر رکن تھے لیکن ایڈیٹر کے عہد پر تعیناتی کیلئے نظر انداز کرنے پر ناخوش تھے، انہوں نے روزنامہ جنگ چھوڑا اوردسمبر 1990 میں لاہور سے اردو کا اخبار روزنامہ پاکستان شروع کردیا۔ تقریباً ایک سال بعد انہوں نے روزنامہ پاکستان کو بھی چھوڑ دیا اور ستمبر 1992 میں لاہور سے روزنامہ خبریں کا آغاز کردیا۔
اس کے فوری بعد ضیا شاہد نے اردو میں شام کا اخبار صحافت شروع کیا جس نے بدکاری کے دھندے کو ٹارگٹ کرنے پرفوری طور پر بہت شہرت کمائی جبکہ لاہور میں ڈاکٹروں، نجی ہسپتالوں، ہوٹلوں اور بیکریوں کے اسکینڈلز کی بھی بھرپورکوریج کی۔ 1994 میں اس کے ایڈیٹر خوشنود علی خان نے ضیا شاہد سے اختلافات پیدا ہونے پر ان سے راہیں جد کرلیں جس کے نتیجہ میں ضیا شاہد کو صحافت کی ملکیت سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔
ضیا شاہد نے بعد میں خبروں کی متعدد مطبوعات کی بھی بنیاد رکھی جس میں پنجابی زبان میں اخبار روزنامہ خبراں، سندھی زبان میں روزنامہ خبرون اور اانگریزی کا اخبار روزنامہ دی پوسٹ شامل ہیں۔ انہوں نے 2012 میں نیوز ٹی وی چینل چینل 5 کی بھی بنیاد ڈالی۔ روزنامہ خبریں کے سوا ان میں زیادہ تر میڈیا ادارے ختم ہورہے ہیں یا وہ پہلے ہی ختم کردیئے گئے۔
ضیا شاہد نیوز میڈیا کے ساتھ مختلف فورموں پر بھی فعال ہیں۔ اس حوالے سے ان کا سب سے حالیہ اقدام دوسرے کئی صحافیوں، ایڈیٹروں اور اخبار ناشرین کے ساتھ مل کر مارچ 2019 میں پاکستان نیوز میڈیا ایسوسی ایشن(PNMA) کا قیام ہے۔ اس ایسوسی ایشن کا مقصد نیوز میڈیا انڈسٹری کی مختلف کیٹگریز اور ذیلی شعبوں میں عامل افراد کے درمیان رابطہ، تعاون اور نیٹ ورکنگ کو فروغ دینا ہے۔ وہ 2017-18 میں کونسل آف پاکستان نیوزپیپرز ایڈیٹرز(CPNE) کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔

سی ای او کے جڑے ہوئے مفادات

امتنان شاہد

ضیا شاہد کا دوبیٹوں میں چھوٹے صاحبزادے ہیں، وہ روزنامہ خبریں کے ایڈیٹر ہونے کے ساتھ چینل 5 کے چیف ایگزیکٹو آفیسر بھی ہیں۔

مدیر اعلی کے جڑے ہوئے مفادات

ضیا شاہد

روزنامہ خبریں کے ایڈیٹر انچیف ہیں۔ (مزید تفصیل کیلئے اوپر دیکھئے)

دیگر اہم لوگوں کے جڑے ہوئے مفادات

عدنان شاہد

ضیا شاہد کے بڑے صاحبزادے ہیں۔ 2007 میں جب لندن میں دل کا دورہ پڑنے کے باعث ان کا انتقال ہوا تو وہ ڈیلی دی پوسٹ کے ایڈیٹر تھے۔

رابطہ

12 لارنس روڈ لاہور، پاکستان

ٹیلی فون: 92-42-111-55-88-55

فیکس: 92-42-6372500, 92-42-6314658

ویب سائٹ:epaper.dailykhabrain.com.pk

معاشی معلومات

آمدن (ملین ڈالرز میں)

ڈیٹا موجود نہیں

آپریٹنگ منافع (ملین ڈالرز میں)

ڈیٹا موجود نہیں

اشتہارات (مجموعی فنڈنگ کا فیصدی)

ڈیٹا موجود نہیں

مارکیٹ میں حصہ

ڈیٹا موجود نہیں

مزید معلومات

میٹا ڈیٹا

میڈیا ادارے کو 14 جنوری 2019 کو بذریعہ کورئیر کمپنی اور ای میل معلومات کے حصول کیلئے درخواست بھیجی گئی لیکن یکم فروری 2019 کو کوریئر اور 4 فروری 2019 کو ای میل کے ذریعہ یاددہانی کے باوجود جواب تک نہیں دیاگیا۔ روزنامہ خبریں کی ملکیت کے ڈھانچہ اور اس کی مالی حیثٰت سے متعلق آن لائن تصدیق شدہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ ایس ای سی پی سے حاصل کیا گیا ڈیٹا صرف اس کی ملکیت کے ڈھانچہ کو ظاہر کرتا ہے اوراس کی موجودہ مالی صورتحال کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔

  • منصوبہ از
    Logo Freedom Network
  •  
    Reporters without borders
  • فنڈ دیئے
    BMZ