This is an automatically generated PDF version of the online resource pakistan.mom-rsf.org/en/ retrieved on 2020/09/24 at 22:14
Reporters Without Borders (RSF) & Freedom Network - all rights reserved, published under Creative Commons Attribution-NoDerivatives 4.0 International License.
Freedom Network LOGO
Reporters without borders

لبرٹی پیپرز پرائیویٹ لمیٹڈ

لبرٹی پیپرز پرائیویٹ لمیٹڈ خبریں گروپ کا حصہ ہے جس نے روزنامہ خبریں شائع کیا، یہ کمپنی اس کے بانی ضیا شاہ کی جانب سے ایک منفرد اور جدید مالیاتی ماڈل کے نیتجہ میں وجود میں آئی۔ انہوں نے رپورٹرز اور اخباری تقسیم کاروں کوسرمایہ کاری اور روزنامہ خبریں کا ملک بننے کی دعوت دی جو ہ 1991 سے لاہور سے شائع کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔بعض بڑے سرمایہ کار جو ایک سال قبل ضیا شاہد کی ادارت میں شروع ہونے والے روزنامہ پاکستان کے مالی اور انتظامی کنٹرول کیلئے ناکام بولی میں ان کے ساتھ تھے، انہوں نے بھی روزنامہ پاکستان کو چھوڑا اور ان کے تازہ منصوبہ روزنامہ خبریں کا حصہ بن گئے۔جب آخر کار لبرٹی پیپرز پرائیویٹ لمیٹڈ حکومت کے ساتھ رجسٹرڈ ہوگئی تو اس کے 15 سو سے زائد مالکان تھے، ان میں زیادہ تر ایسے تھے جنہوں نےایک ہزار روپے کی قلیل رقم کی سرمایہ کی تھی۔

وقت گزرنے کے ساتھ ضیا شاہد نے نہ صرف چھوٹے سرمایہ کاروں سے ہزاروں حصص واپس خرید لئے بلکہ انہوں نے کمپنی چلانے میں اپنے بچوں کو بھی شامل کرلیا۔ 2000 کی دہائی کے آغاز سے ان کے تینوں بچے ملکیتی میڈیا اداروں کو چلانے میں ان کا ہاتھ بٹانے لگے، اس طرح ضیا شاہد کا سارا کنبہ میڈیا گروپوں کو چلانے والے خاندانوں کی صف میں شامل ہوگیا۔

آج وہ، ان کی اہلیہ، بچے اور ان کی بیگمات اورپوتے پوتیاں مل کر لبرٹی پیپرزپرائیویٹ لمیٹڈ میں واحد سب سے بڑے حصص مالک ہیں۔کمپنی کے چھوٹے حصص مالکان میں سابق وزیراعظم معراج خالد (2003 میں انتقال ہوا)، سابق وزیرداخلہ میاں حامد سرفراز اور سابق وزیراطلاعات اور سینیٹر محمد علی درانی بھی شامل ہیں۔ اس کے سرمایہ کاروں کا ایک اور گروپ بھی ہے جوملک بھر سے چھوٹے کاروبار جیسےجیولرز، پھل فروش، سبزی فروش، میڈیکل اسٹورز مالکان، ریستوران اوربیکری مالکان پر مشتمل ہے۔

 

 

اہم حقائق

کلیدی کمپنی

خبریں گروپ

کاروبار فارم

نجی

قانونی فورم

لمیٹڈ لائیبیلٹی کمپنی

کاروباری شعبے

پبلشنگ و پرنٹنگ

ملکیت

انفرادی مالک

علیم چوہدری کی فیملی

علیم چوہدری 1990 کی دہائی کے آغاز میں ملتان میں مقیم ایک عامل صحافی تھے، انہوں نے لبرٹی پیپرز پرائیویٹ لمیٹڈ میں ایک خطیر رقم کی سرمایہ کاری کی۔ اس کے بعد جب روزنامہ خبریں کی اشاعت ملتان سے شروع ہوئی تو وہ ملتان ایڈٰیشن کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر بن گئے اور چند سال پہلے اپنے انتقال تک وہ اسی عہدے پر فائض رہے۔ اپنی اہلیہ ثریا علیم کے ساتھ وہ اب بھی لبرٹی پیپرز پرائیویٹ لمیٹڈ میں بڑے حصہ دار سمجھے جاتے ہیں۔

8.2%
میڈیا آوٹ لٹس
Other Media Outlets

دیگر پرنٹ آوٹ لٹس

روزنامہ خبرون

دیگر آن لائن آوٹ لٹس

https://dailykhabrain.com.pk/

حقائق

میڈیا کاروبار

براڈکاسٹنگ

خبریں کمیونیکشنز پرائیویٹ لمیٹڈ

عام معلومات

قیام کا سال

1991

بانی کے منسلک مفادات

ضیا شاہد

1980 کی دہائی کے آخر میں روزنامہ جنگ کے ادارتی بورڈ کے ایک سینئر رکن تھے لیکن ایڈیٹر کے عہد پر تعیناتی کیلئے نظر انداز کرنے پر ناخوش تھے، انہوں نے روزنامہ جنگ چھوڑا اوردسمبر 1990 میں لاہور سے اردو کا اخبار روزنامہ پاکستان شروع کردیا۔ تقریباً ایک سال بعد انہوں نے روزنامہ پاکستان کو بھی چھوڑ دیا اور ستمبر 1992 میں لاہور سے روزنامہ خبریں کا آغاز کردیا۔
اس کے فوری بعد ضیا شاہد نے اردو میں شام کا اخبار صحافت شروع کیا جس نے بدکاری کے دھندے کو ٹارگٹ کرنے پرفوری طور پر بہت شہرت کمائی جبکہ لاہور میں ڈاکٹروں، نجی ہسپتالوں، ہوٹلوں اور بیکریوں کے اسکینڈلز کی بھی بھرپورکوریج کی۔ 1994 میں اس کے ایڈیٹر خوشنود علی خان نے ضیا شاہد سے اختلافات پیدا ہونے پر ان سے راہیں جد کرلیں جس کے نتیجہ میں ضیا شاہد کو صحافت کی ملکیت سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔
ضیا شاہد نے بعد میں خبروں کی متعدد مطبوعات کی بھی بنیاد رکھی جس میں پنجابی زبان میں اخبار روزنامہ خبراں، سندھی زبان میں روزنامہ خبرون اور اانگریزی کا اخبار روزنامہ دی پوسٹ شامل ہیں۔ انہوں نے 2012 میں نیوز ٹی وی چینل چینل 5 کی بھی بنیاد ڈالی۔ روزنامہ خبریں کے سوا ان میں زیادہ تر میڈیا ادارے ختم ہورہے ہیں یا وہ پہلے ہی ختم کردیئے گئے۔
ضیا شاہد نیوز میڈیا کے ساتھ مختلف فورموں پر بھی فعال ہیں۔ اس حوالے سے ان کا سب سے حالیہ اقدام دوسرے کئی صحافیوں، ایڈیٹروں اور اخبار ناشرین کے ساتھ مل کر مارچ 2019 میں پاکستان نیوز میڈیا ایسوسی ایشن(PNMA) کا قیام ہے۔ اس ایسوسی ایشن کا مقصد نیوز میڈیا انڈسٹری کی مختلف کیٹگریز اور ذیلی شعبوں میں عامل افراد کے درمیان رابطہ، تعاون اور نیٹ ورکنگ کو فروغ دینا ہے۔ وہ 2017-18 میں کونسل آف پاکستان نیوزپیپرز ایڈیٹرز(CPNE) کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔

ملازمین

ڈیٹا موجود نہیں

رابطہ

12 لارنس روڈ لاہور، پاکستان

ٹیلی فون: 92-42-111-55-88-55

فیکس: 92-42-6372500, 92-42-6314658

ای میل: Daily.khabrain@gmail.com

ویب سائٹ:epaper.dailykhabrain.com.pk

ٹیکس/آئی ڈی نمبر

0024852

معاشی معلومات

آمدن (معاشی معلومات/اختیاری

ڈیٹا موجود نہیں

جاری آمدن (ملین ڈالرز میں)

ڈیٹا موجود نہیں

اشتہارات (مجموعی فنڈنگ کا فیصدی)

ڈیٹا موجود نہیں

انتظامیہ

ایگزیکٹو بورڈ + مفاد ایگزیکٹو بورڈ

ضیا شاہد

چیف ایگزیکٹو آفیسر اور لبرٹی پیپرز پرائیویٹ لمیٹڈ کے ڈائریکٹر ہیں، وہ روزنامہ خبریں اور اسی کمپنی کی ملکیت بعض دوسرے اخبارات کے بانی اور ایڈیٹر انچیف ہیں۔

دیگر بااثر لوگ + دیگر بااثر لوگوں کے مفادات

حمیرااویس شاہد

ضیا شاہد کے بڑے صاحبزادے عدنان شاہد کی بیوہ ہیں، وہ 2007 میں اپنے خاوند کی موت کے بعد خبریں گروپ کے ملکیت انگریزی اخبار ڈیلی دی پوسٹ کی ایڈیٹربنیں لیکن جلد ہی اخبار کی اشاعت روک دی گئی۔ وہ خواتین کی مخصوص نشست پر2002 سے 2007 کے درمیان پنجاب اسمبلی کی پانچ سال کیلئے رکن بھی رہ چکی ہیں۔2009-2010 میں وہ ایک تحقیقی عہدہ Rita E Hauser فیلو بن گئیں جس کیلئے ہاورڈ یونیورسیٹی کی انسانی حقوق اسٹڈیزکمیٹی نے تعاون فراہم کیا تھا۔2014 میں انہوں نے امریکی صحافی Kelly Horan کے ساتھ مل کراپنی کتاب Devotion and Defiance: My Journey in Love, Faith and Politics لکھی۔

مزید معلومات

معلومات عوامی سطح پر دستیاب

ملکیت کے بارے میں معلومات باآسانی دیگر ذرائع جیسے کہ پبلک رجسٹریاں

2 ♥

میڈیا ڈیٹا

میڈیا ادارے کو 14 جنوری 2019 کو بذریعہ کورئیر کمپنی اور ای میل معلومات کے حصول کیلئے درخواست بھیجی گئی لیکن یکم فروری 2019 کو کوریئر اور 4 فروری 2019 کو ای میل کے ذریعہ یاددہانی کے باوجود جواب تک نہیں دیاگیا۔ روزنامہ خبریں کی ملکیت کے ڈھانچہ اور اس کی مالی حیثٰت سے متعلق آن لائن تصدیق شدہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

ایس ای سی پی سے حاصل کیا گیا ڈیٹا صرف اس کی ملکیت کے ڈھانچہ کو ظاہر کرتا ہے اوراس کی موجودہ مالی صورتحال کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔یہ ڈیٹا متعدد بے ترتیب دستاویز سے اخذ کیاگیاہے، یہ وفات پا جانے والے کئی حصص مالکان کے ناموں پر مشتمل ہے، بعض حصص مالکان کو فہرست میں ایک سے زیادہ مرتبہ لکھا گیا ہے، خط وکتابت کے بعض پتے غلط لکھے گئے ہیں، مظفر گڑھ شہر کو کئی مرتبہ مظفرآباد لکھا گیا ہے، بعض حصص مالکان کو آزادکشمیر میں واقع بنگلہ دیش کا رہائشی لکھا گیا۔

  • منصوبہ از
    Logo Freedom Network
  •  
    Reporters without borders
  • فنڈ دیئے
    BMZ