This is an automatically generated PDF version of the online resource pakistan.mom-rsf.org/en/ retrieved on 2021/09/25 at 22:11
Reporters Without Borders (RSF) & Freedom Network - all rights reserved, published under Creative Commons Attribution-NoDerivatives 4.0 International License.
Freedom Network LOGO
Reporters without borders

اب تک نیوز

اب تک ٹی وی اردو زبان کا 24/7 نیوز اور حالات حاضرہ کا چینل ہے۔ جس گروپ کی یہ چینل ملکیت ہے وہ تین دیگر چینل بھی چلاتا ہے۔ پنجابی زبان کا 27/7 نیوز اور حالات حاضرہ کا اپنا اور دو موسیقی کے – 8 ایکس ایم اور جلوہ۔ چینل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بھارتی ٹی وی چینل ’آج تک‘ کی لوگو اور گرافک ڈیزائین کی حد تک’نقل‘ کرتا ہے۔ اب تک ریاست یا فوج اور عدلیہ جیسے ریاستی اداروں کی مخالفت نہ کرنے کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔

اہم حقائق

سامعین کا حصہ

3%

ملکیت کی نوعیت

نجی

جغرافیائی کوریج

بین الاقوامی

رابطے کی نوعیت

مفت مواد

معلومات عوامی سطح پر دستیاب

ملکیت کے بارے میں معلومات باآسانی دیگر ذرائع جیسے کہ پبلک رجسٹریاں

2 ♥

میڈیا کمپنیاں/گروپس

اپنا ٹی وی چینل (پرائیویٹ) لیمٹڈ

ملکیت

ملکیت کا ڈھانچہ

اپنا ٹی وی چینل (پرائیویٹ) لیمٹڈ اب تک ٹی وی چینل چلاتی ہے۔ سید سجاد حسین شاہ اور سید فہد علی کے درمیان شیئر 50 50 فیصد تقسیم ہیں۔ دونوں کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔

ووٹ کا حق

ووٹوں کی مساوات کی صورت میں چاہے ہاتھوں کے شو یا ایک سروے پر اجلاس کے چیئرمین، جس پر ہاتھوں کا شو کیا ہوتا ہے، یا جس پر سروے کا مطالبہ کیا جاتا ہے، ہو گا مشق اور دوسرییا کاسٹنگ ووٹ.

انفرادی مالک

میڈیا کمپنیاں/گروپس
حقائق

عام معلومات

قیام کا سال

2013

بانی کے جڑے ہوئے مفادات

سید سجاد حسین شاہ

نے اپنا ٹی وی چینل کی بنیاد رکھی، ان کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔ انہوں نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد خاندان کا میڈیا سے جڑا کاروبار اختیار کیا۔ انہوں نے پاکستان میں پہلی کمپوٹر ربن بنانے کا کارخانہ لگایا۔ انہوں نے اپریل 2004 میں اپنا ٹی وی چینل (پرائیوٹ) لمیٹڈ شروع کیا۔

سی ای او کے جڑے ہوئے مفادات

سید سجاد حسین شاہ

اپنی ٹی وی چینل کے سی ای او ہیں۔ اوپر مزید معلومات کے لیے دیکھیں۔

مدیر اعلی کے جڑے ہوئے مفادات

شہاب محمود

ڈایریکٹر نیوز کی حیثیت سے اب تک ٹی وی پر نشر ہونے والے مواد کے کلیدی اہم اہلکار ہیں۔ وہ چینل کی اداراتی پالیسی کے نفاذ کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کراچی سے 1991 میں ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کیا اور ٹی وی اور پرنٹ صحافت کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔انہوں نے اپنے کیرئر کا آغاز پرنٹ میڈیا سے کیا لیکن جلد ٹی وی صحافت کی جانب پاکستان میں نشریات کے آذاد کئے جانے کے بعد 2002 آگئے۔
محمود کا ٹی وی صحافت میں کیرئر انڈس ٹی وی میں بطور نیوز اینکر کے شروع ہوا۔ اس کے بعد وہ سرکاری پاکستان ٹیلیوژن چلے گئے جہاں انہوں نے پانچ سال تک نیوز اور حالات حاضرہ کے شعبے میں کام کیا۔ 2011 میں اب تک چینل میں بطور ڈایئریکٹر نیوز تعیناتی سے قبل ایکسپریس نیوز اور آج نیوز چینل میں بھی کام کیا۔ وہ اس چینل کے بانی اراکین میں سے ایک ہیں۔
محمود کے کمپنی کے کاروبار میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ وہ ایک پیشہ ور صحافی ہیں جو اداراتی انتظام میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کے ساتھیوں کے مطابق وہ اپنے کام سے مخلص صحافی ہیں۔

دیگر اہم لوگوں کے جڑے ہوئے مفادات

سید فہد علی شاہ

ان کے خاندان کی میڈیا میں دوسری نسل کی نمائندگی کرتے ہیں۔ وہ سید سجاد حسین شاہ کے بھتیجے ہیں۔ وہ اپنا ٹی وی چینل پرائیویٹ لیمٹڈ کے 50 فیصد شیئرز کے مالک ہونے کے علاوہ وہ ملک میں سرکردہ پنجابی ٹی وی چینل اپنا ٹی وی چینل کا انتظام بھی چلاتے ہیں۔ پنجابی پاکستان میں سب سے بڑی مقامی زبان ہے جسے نو کروڑ لوگ بولتے ہیں۔

رابطہ

اپنا ٹی وی بلڈنگ،

پلاٹ 22, سیکٹر 14, کورنگی انڈسٹریل ایریا, کراچی

ٹیلیفون.: +92-(0)21-35123546-8

ویب سائٹ: abbtakk.tv/en/

 

 

معاشی معلومات

آمدن (ملین ڈالرز میں)

امریکی ڈالر 8.94 ملین/ پاکستانی روپے 932 ملین (2015-16)

آپریٹنگ منافع (ملین ڈالرز میں)

امریکی ڈالر0.079 ملین / پاکستانی روپے6.82ملین (2015-16)

اشتہارات (مجموعی فنڈنگ کا فیصدی)

معلومات دستیاب نہیں

مارکیٹ میں حصہ

معلومات دستیاب نہیں

مزید معلومات

میٹا ڈیٹا

چینل کو 15 فروری 2019 کو معلومات کی درخواست کوریئر کمپنی کو ای میل میں روانہ کی گئی۔ تاہم چینل نے جواب نہیں دیا۔ یادہانی بھی کوریئر کمپنی کے ذریعے یکم فروری 2019 کو ارسال کی گئی جو 4 فروری 2019 کو ای میل بھی کی گئی۔ آج تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ سندھ محکمہ اطلاعات کو اطلاعات کی رسائی آر ٹی آئی کے تحت درخواست دی گئی تاکہ سندھ حکومت کی جانب سے چینل کو 2017-18 میں دیئے جانے والے اشتہارات کی تعداد معلوم کی جاسکے۔ سندھ کے محکمہ اطلاعات نے ایم او ایم پاکستان کی ٹیم کی آر ٹی آئی کی مقررہ 15 دن میں جواب نہیں دیا۔ 5 مارچ 2019 کو سندھ انفارمیشن کمشنر کو سندھ کے محکمہ اطلاعات کے خلاف آر ٹی آئی عمل درآمد نہ کرنے کی شکایت درج کروائی۔کمشنر نے 6 مئی 2019 تک جواب نہیں دیا۔ سٹیشن کی ویب سائٹ پر ’ایباوٹ اس‘ کا بٹن کام نہیں کر رہا ہے۔ تاہم اس سٹیشن کا چلانے والی کمپنی کی معلومات سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان سے میسر ہیں۔ ایس ای سی پی کو پیش کی گئی کمپنی کی جولائی 2010 سے جون 30، 2011 تک مالی امور سے متعلق رپورٹ مہیا کی۔ سامعین کا ڈیٹا برائے سال 2018 گیلپ نے مہیا کیا۔ 25 فروری 2019 کو شہاب محمود کے ساتھ فون پر انٹرویو کیا گیا۔

ذرائع میڈیا پروفائل

  • منصوبہ از
    Logo Freedom Network
  •  
    Reporters without borders
  • فنڈ دیئے
    BMZ