This is an automatically generated PDF version of the online resource pakistan.mom-rsf.org/en/ retrieved on 2021/09/25 at 22:13
Reporters Without Borders (RSF) & Freedom Network - all rights reserved, published under Creative Commons Attribution-NoDerivatives 4.0 International License.
Freedom Network LOGO
Reporters without borders

میرفیملی

میرفیملی

میر شکیل الرحمن کی سربراہی میں میر فیملی پاکستان میں نیوز میڈیا کی پہلی فیملی ہے۔گزشتہ چار عشروں سے زائد اس فیملی نے اپنا سیاسی اور کاروباری اثر و رسوخ بتدریج بڑھایا ہے، دوسری جانب فیملی کے سربراہ میر شکیل الرحمن ایک اہم سیاسی کھلاڑی بن گئے ہیں جنہیں کوئی دوسرا شخص نظر انداز نہیں کرسکتام اگرچہ اس شخص کوان کے اوران کی فیملی کے ملک کے سب سے بڑے نیوز میڈیا ادارے کی جانب سے اہمیت نہیں دی جارہی یامنفی انداز میں پیش کیا جارہاہے۔ دوسری جانب انہوں نے پاکستان کے چوٹی کے بعض سیاستدانوں اور کاروباری افراد کے ساتھ اہم اور ذاتی تعلقات قائم کئے ہیں اوراکثراپنے دوستوں اور اتحادیوں کو فائدہ دینے کیلئے نیوز پلیٹ فارم کو استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔

یہ دونوں پہلو 2017 کے موسم گرما میں اس وقت یکجا ہوئے جب انہوں نے اطلاع کے مطابق اکتالیس سالہ کاروباری نوجوان علی جہانگیرصدیقی کو وزیراعظم کا خصوصی معاون تعینات کرانے میں اہم کردار ادا کیا اور بعد میں 2018 کے اوائل میں اسے امریکہ میں پاکستان کاسفیر بھی مقرر کیاگیا، علی جہانگیر صدیقی جہانگیر صدیقی کاصاحبزادہ ہے جوایک بینک سمیت متعدد مالیاتی اداروں کا ملک ہے اور اس کے دوسرے صاحبزادے کی شادی میر شکیل الرحمن کی بیٹی سے ہوئی۔

میر فیملی کے اصل سربراہ میر شکیل الرحمن نہیں بلکہ

 

ان کے والد میر خلیل الرحمن ہیں جنہوں نے دلی میں ایک ہفت روزہ گردشی اخبار جنگ شروع کیا جبکہ آپ اس وقت طاالب علم تھے۔ وہ تمام اخباری مواد خوداکٹھا کرتے اور بعدمیں اسے شائع کرکے خود ہی بیچنے نکل جاتے۔ 1947 میں پاکستان وجود میں آگیا تو دلی کے مسلمان انہیں پہلے ہی ایک پبلشر اور ایڈیٹر کے طور پر جانتے تھے جنہوں نے برطانوی انڈیا میں مسلمانوں کیلئے ایک نئی ریاست کے قیام میں حمایت کی۔

پاکستان کے وجود میں آنے کے فوری بعد میر خلیل الرحمن نے کراچی سے جنگ کی روزنامہ کے طور پر اشاعت کا آغاز کردیا اوردلی اور اردگرد سے ہجرت کرکے نئے ملک میں مقیم ہونے والوں میں قارئین کی توجہ حاصل کرلی۔

میر خلیل الرحمن کے وارث ان کے بیٹے میر شکیل الرحمن نے 1970 میں نیوز میڈیا کی انڈسٹری میں اپنی آمد کے بعد سے کئی اخبارات اور میگزین شروع کئے، ان میں انگریزی روزنامہ دی نیوز انٹرنیشنل، تین مختلف شہروں سے ایڈیشن، کراچی سے شام کااردواخبار روزنامہ عوام، لاہور سے شام کااردواخبارانقلاب، لاہور سے ایک کم قیمت کاااردواخبار آواز شامل ہیں۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے نجکاری کے بعد 1989 میں انگریزی اخبار ڈیلی پاکستان ٹائمز بھی خریدا اور علیم خان سے 2000 کے وسط میں اردو اخبار روزنامہ وقت حاصل کرلیا، علیم خان بلڈر اور ریئل اسیٹیٹ ڈویلپر ہے جو فروری 2019 میں کرپشن الزامات کے تحت گرفتار ہونے سے قبل پنجاب حکومت میں وزیرتھا،( پاکستان ٹائمز اب بھی ڈمی کاپی کے طور پر شائع ہورہاہے جبکہ مالی وسائل کی وجہ سے دسمبر 2018 میں عوام، انقلاب ،ڈیلی نیوز اور وقت اخبارات بند کردیئے گئے۔

آج میر فیملی کا روزنامہ جنگ پاکستان میں نہ صرف سب سے زیادہ فروخت ہونے والے اخبار ہے بلکہ ملک میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا ٹی وی چینل جیو نیوز بھی اس کی ملکیت ہے،ملک کا نجی شعبہ کا واحد اسپورٹس چینل جیو اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ کے دو چینل جیو کہانی اور جیو انٹرٹینمنٹ بھی میر فیملی کے ہیں،متعدد میگزین اور اخبارات جبکہ سب سے زیادہ دیکھی جانے والی دس پاکستانی نیوز ویب سائٹس میں سے تین www.jang.com.pk، www.thenews.com.pkاورGeo.tvبھی میر فیملی کی ملکیت کمپنیاں چلارہی ہیں۔

یہ سارے چلنے والے بزنس میرشکیل الرحمن، ان کے بھائی میر جاوید رحمن اور اپنے بیٹے میر ابراہیم رحمن کی مشترکہ ملکیت ہیں۔

میر شکیل الرحمن کا پاکستانی نیوز میڈیا میں جاتے لانے کے حوالے سے بڑا اثر و رسوخ ہے، اس کی ایک مثال یہ ہے کہ انہوں نے ادارتی مواد کی کمپوزنگ(سپیشل اردو فونٹ نوری نستعلیق بنایاگیا) کیلئے کمپیوٹر اوررنگین چھپائی متعارف کرائی ، ان کے والد نے 1980 کے اوائل میں لاہور سے روزنامہ جنگ کا ایک ایڈیشن نکالنے کا ٹاسک دیا تھا۔

انہوں نے ایسا ہی کیا جب انہوں نے جیو نیوز اور اور اس سے منسلک ٹی وی چینل شروع کئے،انہوں نے پروڈکشن، پیکجنگ اور مواد کو پیش کرنے کیلئے اپنے عملے کی تربیت کیلئے بیرون ملک سے انتہائی ماہر انسٹریکٹرزکی ٹیم کو بلوایا۔اسی طرح انہوں نے اعلیٰ ٹیکنالوجی کے حامل اسٹوڈیوز قائم کرنے میں خطیر سرمایہ کاری کی اور اس مقصد کیلئے جدید کیمرے، سائونڈ اور لائٹنگ کے آلات خریدے گئے۔

میر شکیل الرحمن نیوز انڈسٹری میں کئی منفی رجحانات بھی متعارف کرائے ،ان میں سب سے اہم ادارتی سٹاف کی اہمیت کو ختم کردیاگیا، انہوں نے ابتدائی طور پراسپیشل انویسٹی گیشن سیل قائم کرکے ادارتی حکام پر کاری ضرب لگادی ، یہ سیل براہ راست ایڈیٹرز کی بجائے میر شکیل کو براہ راست رپورٹ کریں گے، پھر انہوں نے ادارتی فیصلہ سازی کو سینٹرلائزڈ کردیا جہاں انہیں ہدایات جاری کی جاتیں کہ کون سی خبر کو اخبار کے کس حصے میں اجاگر کرنا ہے اور کس خبر کو دبا کر یا ختم کرنا ہے۔انہوں نے اپنے بزنس مینجرز اور مارکیٹنگ کے شعبوں کو ادارتی امور میں بہت زیادہ مداخلت کرنے کا موقع دیا اور انہیں اپنی کمپنیوں کے کاروباری مفادات کیخلاف نقصان دہ سمجھی جانے والی خبروں کو سنسر کرنے یا انہیں روکنے کا اختیار تک دیا۔

وقت گزرنے کے ساتھ جیونیوز بھی آگیا، مییر شکیل اور ان کے بیٹے میر ابراہیم رحمن سمیت قریبی ساتھی جو تمام ادارتی کالیں کرتے تھے، چینل کا نیوز روم چلانے والوں کے ہاتھوں میں تھوڑا بہت اختیار دے دیا۔ انہوں نے ٹاک شوز کے میزبانوں کو تاریخ کی سب سے بڑی تنخواہیں بھی دیں جو چینل کے اوسط رپورٹر یا سب ایڈیٹر کی تنخواہ سے کئی گنا زیادہ تھی۔

 

میڈیا کمپنیاں/گروپس
میڈیا آوٹ لٹس
حقائق

کاروبار

پبلشنگ وپرنٹنگ

جنگ پرائیویٹ لمیٹڈ

براڈ کاسٹنگ

انڈیپینڈنٹ میڈیا کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ

فلم پروڈکشن

انڈیپینڈنٹ موشن پیکچرزپرائیویٹ لمیٹڈ

ٹیلی وژن پروڈکشن

جیو اے اینڈ بی پروڈکشنز پرائیویٹ لمیٹڈ

خبریں جمع کرنا اوراشاعت

یونائیٹڈ نیوز نیٹ ورک پرائیویٹ لمیٹڈ
پرنٹنگ اور پیکجنگ

http://پاکستان انک اینڈ پیکجنگ انڈسٹریز پرائیویٹ لمیٹڈ

سرمایہ کاری

کمبائنڈ انویسٹمنٹس پرائیویٹ لمیٹڈ

خاندان اور دوست

خاندان کے اراکین دوستوں کے جڑے ہوئے مفادات

میرجاوید رحمن

وہ جنگ گروپ کے چیئرمین اورمیر شکیل الرحمن کے بڑے بھائی ہیں۔

مزید معلومات

معلومات عوامی سطح پر دستیاب

ملکیت کے بارے میں معلومات باآسانی دیگر ذرائع جیسے کہ پبلک رجسٹریاں

2 ♥

میٹا ڈیٹا

میڈیاگروپ کو 15 جنوری 2019 کو ایک کوریئر کمپنی اور ای میل کے ذریعہ معلومات کی درخواست بھیجی گئی۔ یکم فروری 2019 کو کوریئر اور 4 فروری 2019 کو ای میل کے ذریعہ یاددہانی درخواست کے باوجود جواب نہیں دیا گیا۔کمپنی کی ملکیت کے ڈھانچہ اور اس کی مالی حیثیت کے حوالے سے آن لائن معلومات کی تصدیق نہیں ہوئی۔

  • منصوبہ از
    Logo Freedom Network
  •  
    Reporters without borders
  • فنڈ دیئے
    BMZ