This is an automatically generated PDF version of the online resource pakistan.mom-rsf.org/en/ retrieved on 2021/05/06 at 22:13
Reporters Without Borders (RSF) & Freedom Network - all rights reserved, published under Creative Commons Attribution-NoDerivatives 4.0 International License.
Freedom Network LOGO
Reporters without borders

قاضی فیملی

Tقاضی فیملی نے پاکستان میں سندھی پریس کی راہ ہموار کی۔ کاوش گروپ آف پبلی کیشنز نہ صرف اخبارات شائع کررہاہے بلکہ یہ سندھی زبان میں ٹی وی براڈکاسٹنگ کا بھی مضبوط ترین گروپ ہے، یہ فیملی 1990 کے اوائل سے میڈیا بزنس میں ہے جب تینوں بھائیوں میں سے سب سے بڑے بھائی محمد اسلم قاضی نے سندھی زبان میں کاوش اخبار شروع کیا۔ پاکستان میں کوئی بھی میڈیا گروپ علاقائی سیاست میں نہ صرف اتنا بااثرہے بلکہ بعض حوالے سے قومی سیاست میں بھی اثر اندازہوتاہے۔اسی طرح یہ فیملی خبروں اور حالات حاضرہ اور انٹرٹینمنٹ ٹی وی چینلز KTN نیوز، KTN انٹرٹینمنٹ اور کاوش کا ایک کامیاب نیٹ ورک چلا رہی ہے۔ یہ فیملی دنیا بھر میں سندھی زبان بولنے والے افراد کی ترجمان کے طور پرخود کو چیمپیئن گردانتی ہے اورصوبائی اور وفاقی حکومتوں کو ناراض کرتے ہوئے جارح ادارتی پالیسی کے تحت اخباری شہ سرخیاں نکالتی ہے۔ تین بھائیوں میں اسلم قاضی بیٹے کے 25% حصص سمیت 50% حصص کے مالک ہیں جبکہ باقی 50% حصص دوسرے دو بھائیوں کے ہیں۔محمد علی قاضی 2018 کے عام انتخابات سے پہلے اپنی سیاسی جماعت تشکیل دیتے ہوئے قوم پرست رہنمائوں کی صف میں شامل ہوگئے تاہم وہ رائے دہندگان کا اعتماد حاصل نہ کرسکے اور اپنی سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم سے کوئی سیٹ جیتنے میں ناکام رہے۔

میڈیا کمپنیاں/گروپس
میڈیا آوٹ لٹس
حقائق

کاروبار

پبلی کیشنز

کاوش پبلی کیشنز پرائیویٹ لمیٹڈ

خاندان اور دوست

خاندان کے اراکین دوستوں کے جڑے ہوئے مفادات

محمد اسلم قاضی

کاوش گروپ آف پبلی کیشنز کے سابق چیف ایگزیکٹوآفیسر ہیں، وہ تین بھائیوں میں سب سے بڑے اورگروپ کے بانی رکن ہیں۔ انہوں نے اپنے والد کی دوسری شادی کے بعد اپنا اخبارشروع کرنے کیلئے اپنے بچوں کوترغیب دلائی۔ اس سے پیلے ان کے بھائی اکبرقاضی اورعابدقاضی ایک کامیاب اخبار عبرت چلا رہے تھے۔ 2018 میں اسلم قاضی کواخباری مالکان کی نمائندہ جماعت آل پاکستان نیوزپیپرزسوسائٹی(اے پی این ایس) کی ایگزیکٹوکمیٹی کا2018-19 کے عرصہ کیلئے رکن منتخب کرلیاگیا۔ معاشیات میں ماسٹرڈگری رکھنے والے اسلم قاضی اس سے پہلے روزنامہ سندھ نیوز اور انگریزی اخبار سندھ آبزرور کے ایڈیٹر بھی رہ چکے تھے۔انہوں نے 1990 میں روزنامہ کاوش اور اس کے تھوڑے عرصہ بعد KTN ٹی وی چینل کاآغٖاز کیا۔
محمد علی قاضی

چیف ایگزیکٹوآفیسر کے بھائی ہیں،کاوش اخبارکے ایڈیٹرانچیف کے عہدے سے پہلے ایوب قاضی اس کے مینجنگ ایڈیٹر تھے اور سرکولیشن اور مارکیٹنگ کے شعبوں سمیت گروپ کے انتظامی امور کودیکھتے ہیں۔انہوں نے 1990 میں روزنامہ کاوش اخبارکے اجراکے ساتھ ہی صحافتی سفرشروع کیا۔

مزید معلومات

معلومات عوامی سطح پر دستیاب

ملکیت کے بارے میں معلومات باآسانی دیگر ذرائع جیسے کہ پبلک رجسٹریاں

2 ♥

میٹا ڈیٹا

14 جنوری 2019 کو ایک کوریئر کمپنی اور ای میل کے ذریعہ میڈیا ادارے کو معلومات کیلئے ایک درخواست بھیجی گئی لیکن میڈیا ادارے کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیاگیا، میڈیا ادارے نے ایک نجی کمپنی کے ذریعہ ایم کیو ایم پاکستان کی درکار معلومات کی درخواست قبول کرنے سے انکار کردیا اور اسے واپس لوٹا دیا، یکم فروری 2019 کو ایک کوریئر کمپنی اور ای میل کے ذریعہ یاد دہانی کا پیغام بھجوایاگیا،لیکن اخبار نے پھر کوئی جواب نہیں دیا اوراس یاددہانی پیغام کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسے ایم اوایم پاکستان کی ٹیم کو واپس بھجوا دیا،حکومت سندھ کے محکمہ اطلاعات نے 12 فروری 2019 کو جاننے کے حق کی ایک درخواست جمع کرائی تاکہ 2018 کے دوران اخبارات کو جاری کئے گئے اشتہارات کی تفصیلات معلوم کی جاسکیں۔ سندھ انفارمیشن کمشنرکی جانب سے 15 روز میں جواب نہیں دیاگیا جبکہ قانون میں ڈیٹا فراہم کرنے یا معلومات تک رسائی نہ دینے کی وجہ بیان کرنے کیلئے 15 دن کا عرصہ مقررہے۔پندرہ روز کے بعد محکمہ اطلاعات سندھ کے خلاف 15 مارچ 2019 کو انفارمیشن کمشنر کومطلوبہ ڈیٹا فراہم نہ کرنے پرایک شکایت جمع کرائی گئی لیکن کمشنر نے آج تک کوئی جواب نہیں دیا۔قاضی فیملی سے متعلق مختصر آن لائن معلومات دستیاب ہیں۔
اس تحقیقی کام کیلئے جن ذرائع سے انٹرویوکیاگیاانہوں نے گروپ کے مالکان کے ساتھ کسی بھی تنازع سے بچنے کیلئے شناخت ظاہر کرنے کی خواہش نہیں کی۔حیدرآباد میں مقیم ایک سینئر صحافی علی حسن کے ساتھ اخبار کی ادارتی پالیسی اورمالکان کے خاندانی پس منظر سے متعلق انٹرویوکیاگیا۔گروپ کی تاریخ، ادارتی پالیسی اور مالکان کی فیملی کے پس منظر سے متعلق حیدرآبادمیں مقیم ایک نامعلوم سندھی صحافی سے انٹرویوکیاگیا۔

ذرائع

ای پیپر پاہنجی اخبار 2019، رسائی 21 فروری 2019

  • منصوبہ از
    Logo Freedom Network
  •  
    Reporters without borders
  • فنڈ دیئے
    BMZ