This is an automatically generated PDF version of the online resource pakistan.mom-rsf.org/en/ retrieved on 2020/09/24 at 22:14
Reporters Without Borders (RSF) & Freedom Network - all rights reserved, published under Creative Commons Attribution-NoDerivatives 4.0 International License.
Freedom Network LOGO
Reporters without borders

کاوش گروپ

کاوش پبلی کیشن لمیٹڈ کاوش گروپ آف پبلی کیشنز کا حصہ ہے جو پاکستان میں سندھی پریس میں نمائندگی کرنے والا سب سے بڑا میڈیا گروپ ہے۔ یہ کمپنی عمومی طور پرپاکستان اور خاص طور پر صوبہ سندھ جہاں سندھی زبان بولنے والے افراد کی اکثریت ہے، میں سندھی زبان میں صحافت کی سرخیل ہے۔قاضی فیملی کی ملکیت یہ گروپ دوبااثرسندھی اخبارات کاوش اور کوشش چلا رہاہے۔

اہم حقائق

کاروبار فارم

نجی

قانونی فورم

لمیٹڈ لائبیلٹی کمپنی (LLC)

کاروباری شعبے

پبلی کیشنز: ٹی وی براڈکاسٹنگ

ملکیت

انفرادی مالک

قاضی فیملی

تین بھائی اور بڑے بھائی کا بیٹامساوی حصص رکھتے ہیں۔ محمد اسلم قاضی، محمد اطہرقاضی، محمد علی قاضی اور محمد ایوب قاضی کمپنی کے برابر 25، 25 فیصد حصص کے مالک ہیں۔

100%
میڈیا آوٹ لٹس
Other Media Outlets

دیگر ٹی وی آوٹ لٹس

KTN انٹرٹینمنٹ

دیگر آن لائن آوٹ لٹس

www.thekawish.com

حقائق

میڈیا کاروبار

پبلی کیشنز

کاوش پبلی کیشنز پرائیویٹ لمیٹڈ

ٹی وی براڈکاسٹنگ

کاوش ٹیلی وژن نیٹ ورک پرائیویٹ لمیٹڈ

عام معلومات

قیام کا سال

2006 (incorporation)

بانی کے منسلک مفادات

ڈیٹا موجودنہیں

ملازمین

ڈیٹا موجودنہیں

رابطہ

پوسٹ بکس نمبر43، حیدرآباد،سندھ

ٹیلی فون : 022-2784822, 2780027

ویب سائٹ:www.thekawish.com

ای میل:kawish12@gmail.com

 

ٹیکس/آئی ڈی نمبر

Missing Data

معاشی معلومات

آمدن (معاشی معلومات/اختیاری

3.86 ملین ڈالر /374 ملین روہے (2012-13)

جاری آمدن (ملین ڈالرز میں)

USD 0.0008 Million / PKR 0.08 Million (2012-13)

اشتہارات (مجموعی فنڈنگ کا فیصدی)

ڈیٹا موجودنہیں

انتظامیہ

ایگزیکٹو بورڈ + مفاد ایگزیکٹو بورڈ

ڈیٹا موجودنہیں

دیگر بااثر لوگ + دیگر بااثر لوگوں کے مفادات

محمد اسلم قاضی

کاوش گروپ آف پبلی کیشنز کے سابق چیف ایگزیکٹوآفیسر ہیں، وہ تین بھائیوں میں سب سے بڑے اورگروپ کے بانی رکن ہیں۔ انہوں نے اپنے والد کی دوسری شادی کے بعد اپنا اخبارشروع کرنے کیلئے اپنے بچوں کوترغیب دلائی۔ اس سے پیلے ان کے بھائی اکبرقاضی اورعابدقاضی ایک کامیاب اخبار عبرت چلا رہے تھے۔ 2018 میں اسلم قاضی کواخباری مالکان کی نمائندہ جماعت آل پاکستان نیوزپیپرزسوسائٹی(اے پی این ایس) کی ایگزیکٹوکمیٹی کا2018-19 کے عرصہ کیلئے رکن منتخب کرلیاگیا۔ معاشیات میں ماسٹرڈگری رکھنے والے اسلم قاضی اس سے پہلے روزنامہ سندھ نیوز اور انگریزی اخبار سندھ آبزرور کے ایڈیٹر بھی رہ چکے تھے۔انہوں نے 1990 میں روزنامہ کاوش اور اس کے تھوڑے عرصہ بعد KTN ٹی وی چینل کاآغٖاز کیا۔

مزید معلومات

معلومات عوامی سطح پر دستیاب

ملکیت کے بارے میں معلومات باآسانی دیگر ذرائع جیسے کہ پبلک رجسٹریاں

2 ♥

میڈیا ڈیٹا

14 جنوری 2019 کو ایک کوریئر کمپنی اور ای میل کے ذریعہ میڈیا ادارے کو معلومات کیلئے ایک درخواست بھیجی گئی لیکن میڈیا ادارے کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیاگیا، میڈیا ادارے نے ایک نجی کمپنی کے ذریعہ ایم کیو ایم پاکستان کی درکار معلومات کی درخواست قبول کرنے سے انکار کردیا اور اسے واپس لوٹا دیا، یکم فروری 2019 کو ایک کوریئر کمپنی اور ای میل کے ذریعہ یاد دہانی کا پیغام بھجوایاگیا،لیکن اخبار نے پھر کوئی جواب نہیں دیا اوراس یاددہانی پیغام کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسے ایم اوایم پاکستان کی ٹیم کو واپس بھجوا دیا،حکومت سندھ کے محکمہ اطلاعات نے 12 فروری 2019 کو جاننے کے حق کی ایک درخواست جمع کرائی تاکہ 2018 کے دوران اخبارات کو جاری کئے گئے اشتہارات کی تفصیلات معلوم کی جاسکیں۔ سندھ انفارمیشن کمشنرکی جانب سے 15 روز میں جواب نہیں دیاگیا جبکہ قانون میں ڈیٹا فراہم کرنے یا معلومات تک رسائی نہ دینے کی وجہ بیان کرنے کیلئے 15 دن کا عرصہ مقررہے۔پندرہ روز کے بعد محکمہ اطلاعات سندھ کے خلاف 15 مارچ 2019 کو انفارمیشن کمشنر کومطلوبہ ڈیٹا فراہم نہ کرنے پرایک شکایت جمع کرائی گئی لیکن کمشنر نے آج تک کوئی جواب نہیں دیا۔قاضی فیملی سے متعلق مختصر آن لائن معلومات دستیاب ہیں۔
اس تحقیقی کام کیلئے جن ذرائع سے انٹرویوکیاگیاانہوں نے گروپ کے مالکان کے ساتھ کسی بھی تنازع سے بچنے کیلئے شناخت ظاہر کرنے کی خواہش نہیں کی۔حیدرآباد میں مقیم ایک سینئر صحافی علی حسن کے ساتھ اخبار کی ادارتی پالیسی اورمالکان کے خاندانی پس منظر سے متعلق انٹرویوکیاگیا۔گروپ کی تاریخ، ادارتی پالیسی اور مالکان کی فیملی کے پس منظر سے متعلق حیدرآبادمیں مقیم ایک نامعلوم سندھی صحافی سے انٹرویوکیاگیا۔

ذرائع

ای پیپر پاہنجی اخبار 2019، رسائی 21 فروری 2019

  • منصوبہ از
    Logo Freedom Network
  •  
    Reporters without borders
  • فنڈ دیئے
    BMZ