This is an automatically generated PDF version of the online resource pakistan.mom-rsf.org/en/ retrieved on 2020/09/24 at 22:14
Reporters Without Borders (RSF) & Freedom Network - all rights reserved, published under Creative Commons Attribution-NoDerivatives 4.0 International License.
Freedom Network LOGO
Reporters without borders

آزاد پیپرز پرائیویٹ لمیٹڈ

یہ کمپنی دوبھائیوں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انڈسٹریل اکائونٹس کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر عبدالمتین انصاری اورکراچی میں ڈرائی کلین بزنس کے پروپرائٹرفضل مبین احمد نے 1969 میں قائم کی ، کمپنی نے دونوں کے 50 ، 50 فیصد حصص ہیں۔

یہ باضابطہ دستاویزات سے واضح نہیں ہے کہ کمپنی کی ملکیت اکیڈمی تحقیقات اسلامی اور دیگر مالکان کو کب اور کیسے منتقل کی گئی، یہ معلوم نہیں کہ روزنامہ جسارات کے بانی چوہدری غلام محمد نے اس حوالے سے کیا کردار کیا جن کا یہ کمپنی قائم کرنے میں بڑا ہاتھ ہے۔

اہم کردار ادا کیا۔

 

اہم حقائق

کلیدی کمپنی

آزاد پیپرز پرائیویٹ لمیٹڈ

کاروبار فارم

نجی

قانونی فورم

محدودانحصار والی کمپنی

کاروباری شعبے

پرنٹنگ اینڈ پبلشنگ

ملکیت

انفرادی مالک

اکیڈمی تحقیقات اسلامی

اکیڈمی تحقیقات اسلامی ایک تھنک ٹینک ہے جو نظریاتی طور پر جماعت اسلامی سے منسلک ہے، یہ سوسائیٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860 کے تحت غیر منافع بخش اور غیر سرکاری تنظیم کے طور پر رجسٹرڈ ہے، اس کا ہیڈکوارٹرز کراچی میں ہے اور ایک پبلشنگ ہائوس بھی چلاتی ہے جو کتابیںم تحقیقی مضامین اوراردو زبان میں تحقیقی رسالہ معارف شائع کرتے ہیں جبکہ اس کی ایک بک شاپ بھی ہے،اکیڈمی جماعت اسلامی کے بانی ابو الاعلیٰ مودودی کی کتابیں اورمضامین بھی شائع کررہی ہے۔

98.4%

میاں مسلم پرویز

میاں مسلم پرویز جماعت اسلامی کے ایک سینئر رکن ہیں، انہوں نے 2001 اور 2005 کے درمیان کراچی کی منتخب سٹی کونسل میں اپنی پارٹی کے کونسلرز کی قیادت کی جب جماعت اسلامی کے ایک اور رہنما نعمت اللہ خان نے سٹی ناظم (میئر) کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں۔ مسلم پرویز نے روزنامہ جسارت کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے طور پر بھی کام کیاہے۔

0.6%
میڈیا آوٹ لٹس
Other Media Outlets

دیگر آن لائن آوٹ لٹس

https://www.jasarat.com

حقائق

عام معلومات

قیام کا سال

1969

بانی کے منسلک مفادات

چوہدری غلام محمد

دائیں بازوکی اسلامی سیاسی پارٹی جماعت اسلامی کے سینئر رہنما ہیں، وہ 1960 میں پاکستان کے پہلے فوجی حکمران جنرل ایوب خان کی حکومت کے خلاف حزب اختلاف کی تحریک میں سیاسی طور پر کافی فعال تھے۔
اس عشرے کے آخر میں وہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں جماعت اسلامی کے امیر مقرر ہوئے، وہ ایک کھلی سوچ کے حامل تھے، جماعت اسلامی کی اعلیٰ قیادت نے انہیں درخواست کی کہ جماعت کے نکتہ نظر کو عوام میں عام کرنے کیلئے روزنامہ اخبار شروع کرنے کیلئے مالی معاونت کریں، ان کے زیادہ ترعطیات کی وجہ سے روزنامہ جسارت کااجرا ہوا۔

ملازمین

ڈیٹا موجود نہیں

رابطہ

سید ہائوس، تیسری منزل، بالمقابل بمبئے ہوٹل بلڈنگ

آئی آئی چندری گڑھ روڈ، کراچی

ٹیلی فون: 92-(0)21-32630391-4

فیکس: 92-(0)21-32629344

ویب سائٹ:www.jasarat.com

 

ٹیکس/آئی ڈی نمبر

0003035

معاشی معلومات

آمدن (معاشی معلومات/اختیاری

ڈیٹا موجود نہیں

جاری آمدن (ملین ڈالرز میں)

ڈیٹا موجود نہیں

اشتہارات (مجموعی فنڈنگ کا فیصدی)

ڈیٹا موجود نہیں

انتظامیہ

ایگزیکٹو بورڈ + مفاد ایگزیکٹو بورڈ

ڈاکٹرعبدالواسع شاکر

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال میں ایک فزیشن رہے، وہ پاکستان سوسائٹی آف نیورولوجی کے صدر اور جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر کے عہدوں پر بھی تعینات رہے۔

دیگر بااثر لوگ + دیگر بااثر لوگوں کے مفادات

اطہر ہاشمی

وہ 1960 اور 1970 کے درمیاں کراچی میں ممتاز اردو اخبار حریت سمیت مختلف اخبارات میں کرچکے تھے، وہ روزنامہ جسارت کے ساتھ 30 برس یا اس سے زائد عرصہ تک منسلک رہ چکے ہیں۔

مزید معلومات

معلومات عوامی سطح پر دستیاب

ملکیت کے بارے میں معلومات باآسانی دیگر ذرائع جیسے کہ پبلک رجسٹریاں

2 ♥

میڈیا ڈیٹا

میڈیاگروپ کو 14 جنوری 2019 کو ایک کوریئر کمپنی اور ای میل کے ذریعہ معلومات کی درخواست بھیجی گئی۔ یکم فروری 2019 کو کوریئر اور 4 فروری 2019 کو ای میل کے ذریعہ یاددہانی درخواست کے باوجود جواب نہیں دیا گیا۔ روزنامہ جسارت کی ملکیت کے ڈھانچہ اور اس کی مالی حیثیت کے حوالے سے آن لائن معلومات کی تصدیق نہیں ہوئی۔
ایس ای سی پی سے حاصل کیا گیا ڈیٹا بھی مالی حیثیت کی تازہ ترین صورتحال سے متعلق معلومات فراہم نہیں کرتا۔
روزنامہ جسارت کی مالک کمپنی آزاد پیپرز پرائیویٹ لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ایک ممبر شاہد ہاشمی اور روزنامہ جسارت کے ادارتی بورڈ کے ایک سینئر رکن مظفر اعجاز سے انٹرویو کئے گئے۔

  • منصوبہ از
    Logo Freedom Network
  •  
    Reporters without borders
  • فنڈ دیئے
    BMZ