This is an automatically generated PDF version of the online resource pakistan.mom-rsf.org/en/ retrieved on 2021/09/16 at 19:59
Reporters Without Borders (RSF) & Freedom Network - all rights reserved, published under Creative Commons Attribution-NoDerivatives 4.0 International License.
Freedom Network LOGO
Reporters without borders

روزنامہ امت

روزنامہ امت ایک سخت اسلامی سوچ کا حامل اخبار تھا جس کا ادارتی رجحان جہاد کی جانب مائل تھا۔ اس نے مقبوضہ کشمیر اور افغانستان میں غیرملکی اتحادی افواج کے خلاف جہاد کی کھلے عام ترجمانی کی۔ روزنامہ امت میں دنیا بھر کے مسلمانوں کی حالت زار اور ان کی حقیقی تصویر کرتے ہوئے مسلسل لکھا گیا اور رپورٹس شائع کی گئیں۔

اخبار نے ملک میں توہین مذیب کی روک تھام اور شریعت کے نفاذ کے حوالے سے قانون سازی کی بھرپور حمایت کی۔ اخبار کی ادارتی پالیسی میں سماجی و اقتصادی مسائل اور احمدیوں سے متعلق معاملات کو اجاگر کیاجاتاہے۔

اس نعرے کے ساتھ کہ " جو دوسرے چھپاتے ہیں ہم سب کچھ دکھائیں گے"، روزنامہ امت نے خبروں کی کوریج کے حوالے سے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں چھوڑا۔کئی برسوں تک اخبار میں کراچی میں جرائم، نسلی ولسانی تشدد اور سیاست کے درمیان تعلیق سے متعلق لکھا جاتارہا اور متحدہ قومی موومنٹ پر برملا الزام لگایا کہ کراچی کے حالات کی ذمہ دار یہ جماعت ہے۔ ایم کیو ایم کیخلاف ایجنڈا کے تحت یہ الزامات بھی لگائے گئے کہ عبدالرفیق افغان کے سسر مولانا صلاح الدین کو ایم کیوایم کے کارندوں نے قتل کیا۔

1980 میں طلبہ سیاست کا ہی نتیجہ تھا کہ آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے اآخر کار ایم کیوایم کو جنم دیا اور جماعت اسلامی جس کی اس وقت عبدالرفیق افغان بھی حمایت کررہے تھے، کراچی بھر میں کیمپسوں کے تقدس کیلئے جدوجہد کی۔

روزنامہ امت کا نظریاتی رجحان بہت ہی واضح ہے، اخبار نے روشن خیال ، لبرل اور بائیں بازو کی شخصیات کی ریاست اور معاشرے کیلئے خدمات کے باوجود انہیں ہمیشہ منفی انداز میں ہی پیش کیا۔اخبار نے کبھی اپنے پسندیدہ گرپوں اور شخصیات سے متعلق کبھی کوئی چیز نہیں لکھی اور اس بات کابھی خیال نہ رکھا کہ وہ اسلام پسند سیاستدان، انتہاپسند مبلغین ، جہادی یا شیعہ مخالف عناصر ہیں۔

روزنامہ امت مسلسل مذہبی مسائل پر لوگوں کو متحرک کرنے کیلئے پہلے صفحہ پر اشتہارات شائع کرتاہے، اس کی حالیہ مثال یہ ہے کہ اخبار نے کراچی کے لوگوں پر زور دیا کہ وہ شہرکی انتظامیہ کی جانب سے شہید کی گئی مسجد پر دوبارہ دعویٰ کردیں، انتظامیہ کا موقف تھا کہ یہ مسجد ایک پبلک پارک کی قبضہ کی گئی جگہ پر غیرقانونی طور پر تعمیر کی گئی۔

 

اہم حقائق

سامعین کا حصہ

1%

ملکیت کی نوعیت

نجی

جغرافیائی کوریج

قومی

رابطے کی نوعیت

زرتعاون (18 روپے )

معلومات عوامی سطح پر دستیاب

ملکیت کے بارے میں معلومات باآسانی دیگر ذرائع جیسے کہ پبلک رجسٹریاں

2 ♥

میڈیا کمپنیاں/گروپس

امت پبلی کیشنز پرائیویٹ لمیٹڈ

ملکیت

ملکیت کا ڈھانچہ

روزنامہ امت ، امت پبلی کیشنز پرائیویٹ لمیٹڈکی ملکیت ہے۔ 95%حصص عبدالرفیق افغان کے ہیں جبکہ باقی حصص اس کے بھائی عبدالناصرافغان کے ہیں۔

ووٹ کا حق

ڈیٹا موجودہیں

انفرادی مالک

میڈیا کمپنیاں/گروپس
حقائق

عام معلومات

قیام کا سال

1996

بانی کے جڑے ہوئے مفادات

عبدالرفیق افغان

جماعت اسلامی کے طلبہ تنظیم سے منسلک تھے، انہوں نے 1980 کے اوائل میں پہلے اپنے آپ کوایک طالبعلم رہنما کے طور پرمنوایا۔ وہ افغانستان میں سویت فوجوں کیخلاف اسلامی مزاحمت کے زبردست حامی تھے۔ ان کے بارے میں اطلاع ہے کہ وہ لڑائی میں حصہ لینے کیلئے افغانستان بھی گئے۔
تعیلمی سلسلہ مکمل کرنے کے بعد عبدالرفیق افغان نے کراچی میں شائع ہونے والے جہاد کے حامی ایک ہفت روزہ جریدے تکبیر کے ساتھ کام کرنا شروع کیا ۔ بعد میں انہوں نے جریدے کے بانی مولانا صلاح الدین کی اکلوتی صاحبزادی کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے،مولانا صلاح الدین عالمی اسلامی تحریکوں کے سب سے بڑے چیمپیئن اور بائیں بازو اور لبرل سیاست کے سخت خلاف تھے۔
1980 میں تکبیر کے اجراسے پہلے مولانا صلاح الدین جماعت اسلامی کے ترجمان اخبار روزنامہ جسارت کے ایڈیٹرتھے۔ انہیں کراچی کی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں کی جانب سے ان کے آفس کے باہر مبینہ طور پر قتل کردیاگیا۔مولانا صلاح الدین کے قتل کے بعد تکبیر کے ادارتی عملے کے سینئر اراکین نے جریدے کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔انہوں نے عبدالرفیق افغان کو بھی اپنے ادارتی بورڈ سے نکال دیا۔ان کو نکالے جانے کے بعد کچھ سال کیلئے عبدالرفیق افغان اور ان کی اہلیہ سعدیہ صلاح الدین میں کشیدگی رہی۔
سعدیہ صلاح الدین نے ابتدائی طور پر الزام بھی عائد کیا کہ انہوں نے میڈیا ہائوس پر قبضہ کرنے کی غرض سے میرے والد کو قتل کرایا۔اس سے پہلے کہ ان دونوں میں علیحدگی ہوجاتی ، مولانا صلاح الدین کے قریبی دوست اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل نے مداخلت کرتے ہوئے دونوں میں صلح کرائی۔اس کے بعد تکبیر کو عبدالرفیق افغان چلانے لگے جو پہلے ہی روزنامہ امت کی اشاعت کاآغاز کرچکے تھے۔ وہ اردوزبان میں ایک اور میگزین غازی بھی شائع کرتے ہیں اگرچہ اس کی سرکولیشن انتہائی کم ہے۔

سی ای او کے جڑے ہوئے مفادات

عبدالرفیق افغان

امت پبلی کیشنز پرائیوٹ لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں۔ تفصیل اوپر دی گئی ہے۔

مدیر اعلی

مدیر اعلی کے جڑے ہوئے مفادات

نصیر ہاشمی

1980 کے اوائل سے ایک صحافی ہیں، وہ ابتدائی طورپر روزنامہ جنگ کے ساتھ منسلک تھے جہاں وہ محنت سے ڈپٹی ایڈیٹر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 1990 کے اوائل میں جنگ چھوڑنے کے بعد وہ کراچی سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ اردو نیوز کے ایڈیٹربن گئے۔ان کا شمار روزنامہ امت کی ادارتی ٹیم کے بانی ارکان میں سے ہوتاہے

دیگر اہم لوگوں کے جڑے ہوئے مفادات

سعدیہ صلاح الدین

عبدالرفیق افغان کی اہلیہ اور مولانا صلاح الدین کی اکلوتی صاحبزادی ہیں، مولانا صلاح الدین کا تعلق دائیں بازو کی جماعت اسلامی سے تھا اور وہ جماعت کے ترجمان اخبار جسارت کے بانی ایڈیٹر تھے۔
مولانا صلاح الدین کو 1994 میں مبینہ طور پر متحدہ قومی موومنٹ کے ارکان نے ان کے ہفت روزہ جریدے تکبیر کے دفتر کے باہر قتل کردیا، روزنامہ جسارت چھوڑنے کے بعد اس جریدے کی بنیاد انہوں نے 1980 میں رکھی تھی، مولانا کا بیٹا نہ ہونے کی وجہ سے میگزین کے ادارتی عملے نے جریدے کا چارج سنبھال لیا اور انہوں نے عبدالرفیق افغان کو اپنے ادارتی بورڈ سے خارج کردیا۔
تکبیرسے نکالے جانے کے بعد سعدیہ صلاح الدین کے کچھ سال تک اپنے خاوند عبدالرفیق افغان سے تعلقات کشیدہ رہے، سعدیہ صلاح الدین نے ایک دفعہ یہ الزام بھی عائد کیاتھا کہ انہوں نے میڈیا ہائوس پر قبضہ کرنے کی غرض سے میرے والد کو قتل کرایا۔اس سے پہلے کہ ان دونوں میں علیحدگی ہوجاتی ، مولانا صلاح الدین کے قریبی دوست اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل نے مداخلت کرتے ہوئے دونوں میں صلح کرائی۔
صلح کے بعد تکبیر کے تمام معاملات عبدالرفیق افغان چلانے لگے ،اگرچہ اس پر اب بھی سعدیہ صلاح الدین کے والد اور والدہ کے جریدے کے بانی اور پیٹرن انچیف کے طورپر نام شائع ہوتے ہیں۔

رابطہ

روم 1، 2 ، 3 وی آئی پی بلاک IV

ہاکی کلب آف پاکستان اسٹیڈٰم

لیاقت بیرکس، کراچی

ٹیلی فون:+92-21-35655270-2

فیکس: +92-21-35655275-6

ویب سائٹ: ummat.net/ummatindex18062019.html

 

 

معاشی معلومات

آمدن (ملین ڈالرز میں)

ڈیٹا موجود نہیں

آپریٹنگ منافع (ملین ڈالرز میں)

ڈیٹا موجود نہیں

اشتہارات (مجموعی فنڈنگ کا فیصدی)

ڈیٹا موجود نہیں

مارکیٹ میں حصہ

ڈیٹا موجود نہیں

مزید معلومات

شہ سرخیاں

نفرت کااکٹھ، روزنامہ کا شیعہ فوبیا 2012، LUBP، رسائی 27 فروری 2019

میٹا ڈیٹا

اخبار کو 15 جنوری 2019 کو ایک کوریئر کمپنی کے ساتھ بذریعہ ای میل کے ذریعہ معلومات کی درخواست بھیجی گئی۔ یکم فروری 2019 کو کوریئرکے ذریعہ اور 4 فروری 2019 کو ای میل سے یاددہانی بھی کرائی گئی لیکن اخبار نے جواب نہیں دیا۔اخبار کی ملکیت کے ڈھانچہ اور اس کی مالی حیثیت سے متعلق کوئی آن لائن معلومات دستیاب نہیں ہے۔ ایس ای سی پی سے لئے گئے ڈیٹا سے اس کا صرف ملکیت کا ڈھانچہ واضح ہوتاہے لیکن موجودہ مالی حیثیت کے بارے میں کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔

  • منصوبہ از
    Logo Freedom Network
  •  
    Reporters without borders
  • فنڈ دیئے
    BMZ