This is an automatically generated PDF version of the online resource pakistan.mom-rsf.org/en/ retrieved on 2021/05/06 at 22:11
Reporters Without Borders (RSF) & Freedom Network - all rights reserved, published under Creative Commons Attribution-NoDerivatives 4.0 International License.
Freedom Network LOGO
Reporters without borders

روزنامہ مشرق

مشرق کوانگریزی میں ایسٹ کہتے ہیں، روزنامہ مشرق کاشمارصوبہ خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اخبارات میں ہوتاہے۔

اس اخبار کا آغاز 1963 میں عنایت اللہ خان نے کیاتھا،1964 میں جنرل ایوب خان کی فوجی حکومت نے ملک میں آزادانہ صحافت کا گلا گھونٹنے اور اخبارات کو قومی سطح پر چلانے کیلئے نیشنل پریس ٹرسٹ قائم کی، روزنامہ مشرق کا بھی کنٹرول فوجی حکومت نے لے لیا اور اخبار کو قومیا دی گیا۔ نیشنل پریس ٹرسٹ نے 1976 میں اخبار کا دوبارہ آغاز کیا، اسی سال کراچی ایڈیشن اور 1972 میں کوئٹہ ایڈیشن کا بھی آغاز کیا۔ 1994 میں بینظیر بھٹو کی حکومت کی جانب سے نیشنل پریس ٹرسٹ کے خاتمہ تک اخبار کا کنٹرول حکومت کے پاس رہا اور حکومت کے کنٹرول میں مشرق سمیت تمام اخبارات کی نجکاری کردی گئی۔اس وقت سے یہ موجودہ مالکان کے ہاتھوں میں ہے۔

خیبرپختونخوا میں اخبار کی سب سے زیادہ سرکولیشن اور مقبولیت نے اسے پالیسی اور فیصلہ سازوں میں بااثر بنا دیا ہے۔ اخبارعلاقائی ملکوں افغانستان،بھارت اور ایران سمیت بین الاقوامی امور پر ریاستی پالیسیوں کی حمایت کرتا ہے اور سیاسی، معاشی اورعوام کو درپیش مسائل کو اجاگر کرکے توازن پیدا کرنے کی کوشش بھی کرتاہے۔

 

اہم حقائق

سامعین کا حصہ

3%

ملکیت کی نوعیت

نجی

جغرافیائی کوریج

مقامی (خیبرپختونخوا)

رابطے کی نوعیت

زرتعاون (20 روپے))

معلومات عوامی سطح پر دستیاب

ملکیت کے بارے میں معلومات باآسانی دیگر ذرائع جیسے کہ پبلک رجسٹریاں

2 ♥

میڈیا کمپنیاں/گروپس

مشرق گروپ آف نیوزپیپرز

ملکیت

ملکیت کا ڈھانچہ

یہ گروپ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں ہے اورایم او ایم پاکستان کو گروپ کے ملکیتی ڈھانچہ کے حوالہ سے کومصدقہ دستاویزات نہیں ملیں۔ اس لئے ملکیت حصص پر انحصار نہیں کرتی لیکن جو معلومات اخبار کے آخری صفحہ پر شائع پرنٹ لائن میں دی گئی ہے اس سے اشارہ ملتا ہے کہ بادشاہ فیملی کے سید ایاز علی گروپ کے مالک ہیں۔

ووٹ کا حق

ڈیٹا موجود نہیں

انفرادی مالک

میڈیا کمپنیاں/گروپس
حقائق

عام معلومات

قیام کا سال

1963

بانی کے جڑے ہوئے مفادات

عنایت اللہ خان

بذات خود ایک صحافی تھے، انہوں نے روزنامہ کوہستان میں مینجنگ ڈائریکٹرکے طور پرکام کیا،انہوں نے حصص مالکان کے ساتھ اختلافات کے بعد دوسرے کئی ساتھیوں کے ہمراہ روزنامہ کو چھوڑ دیا اور 1963 میں مشرق اخبار شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔

سی ای او کے جڑے ہوئے مفادات

سید ایاز بادشاہ

انہوں نے 1996 میں مشرق اخبار کی ذمہ داریاں سنبھالیں حالانکہ ان کا کوئی تجربہ نہیں تھا جبکہ ان کے عمررسیدہ والد اور مالک سید تجمیر شاہ انتقال کرنے سے قبل بیمار ہوگئے۔ سید ایاز بادشاہ نے اخبار کو مضبوط بنانے اور صوبہ خیبرپختونخوا کے اخبارات میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والا اخبار بنانے میں اپنے والد کو مایوس نہ کیا۔
سید ایاز بادشاہ نے اپنے میڈیا گروپ کو وسعت دینے میں زیادہ وقت نہیں لگایا اور 2002 میں پشاور سے انگریزی روزنامہ دی سٹیٹسمین کا آغاز کیا تاکہ 2000 میں ڈیلی فرنٹیئر پوسٹ کی بندش کے باعث پیداہونے والے خلا کو پر کیا جاسکے،1999 میں توہین آؐمیز خط شائع کرنے کے نتیجہ میں ڈیلی فرنٹیئر پوسٹ پرکئی ماہ تک پابندی لگا دی گئی جبکہ مالی بحران کے باعث عملے کے اہم افراد نے اخبار کو چھوڑ کرروزنامہ دی سٹیٹسمین میں شمولیت اختیار کرلی۔
بادشاہ کی فیملی پشاور میں تاجربرادری میں خاصی مشہور اور طاقتور سمجھتی جاتی تھی، ان کے چچا مرحوم سید پھول بادشاہ کریمی انڈسٹریز کے بانی تھے اور انہوں نے صوبے میں پہلا نجی بینک قائم کیا تھا۔ ان کے والد نے اپنے بھائی پھول بادشاہ کی شراکت سے تعمیراتی کمپنی کارکون بھی کامیابی سے قائم کی ۔
ایاز بادشاہ کی زیادہ تر توجہ میڈیا انڈسٹری میں فیملی کے کاروبارپر تھی۔14 اگست 2016 کو بادشاہ نے صوبے میں بولی جانے والی پشتو زبان میں مشرق ٹی وی چینل شروع کیا جو خیبر نیوز کے بعدعلاقائی زبان میں دوسرا بڑا چینل ہےا۔

مدیر اعلی کے جڑے ہوئے مفادات

سید ایاز بادشاہ

مشرق گروپ آف نیوز پیپرز کے ایڈیٹر انچیف ہیں۔ (مزید تفصیلات کیلئے اوپر دیکھیئے)

دیگر اہم لوگوں کے جڑے ہوئے مفادات

سید ظاہرعلی شاہ

سید ایازبادشاہ کے چچا زاد بھائی اور مشرق کے چیف ایڈیٹرہیں، وہ صوبہ خیبرپختونخوا میں 2008-13 میں سابق وزیراعلیٰ امیر حیدرخان ہوتی کی کابینہ میں صحت کے وزیر تھے۔
وہ مرحوم رکن پارلیمنٹ اور تاجر سید ظفر علی شاہ کے صاحبزادے ہیں، ظاہر علی شاہ سید تجمیر شاہ کے دااماد اورسید ایازبادشاہ کے بہنوئی بھی ہیں، ظاہر شاہ سیاست میں زیادہ سرگرم ہیں اور انہوں نے پشاور میں بینظیر بھٹو شہید کی پاکستان پیپلزپارٹی کو زندہ رکھنے میں اہم کرداراداکیا اور صوبے میں پارٹی کو بحران سے نکالنے کیلئے صوبائی صدر کے عہدے پر فائز رہے کیونکہ طاقتور رہنما آفتاب احمد شیرہائو نے مرکزی قیادت کے ساتھ اختلافات کے بعد 2012 میں پارٹی کو چھوڑ دیا تھا۔
ان بھائیوں اور چچا زادبھائیوں نے اس حقیقت کے باوجود فیملی کے تعلق کو مضبوط رکھا کہ ان کے بزرگوں نے اپنی زندگی میں اپنے بیٹوں کے درمیان کاروبار تقسیم کردیا تھا اور ظاہر شاہ کو تعمیراتی کمپنی کارکون کا کنٹرول دے دیا تھا۔

رابطہ

روزنامہ مشرق، بلال ٹائون، گرینڈ ٹرنک روڈ، پشاور

ٹیلی فون: +92-(0)91-2584583

فیکس: +92-(0)91-2651682

ویب سائٹ:www.mashriqtv.pk/E-Paper/peshawar/2019-02-12/page-1

 

 

معاشی معلومات

آمدن (ملین ڈالرز میں)

ڈیٹاموجود نہیں

آپریٹنگ منافع (ملین ڈالرز میں)

ڈیٹاموجود نہیں

اشتہارات (مجموعی فنڈنگ کا فیصدی)

ڈیٹاموجود نہیں

مارکیٹ میں حصہ

ڈیٹاموجود نہیں

مزید معلومات

میٹا ڈیٹا

کمپنی کو11 جنوری 2019 کو ایک کوریئر کمپنی اورای میل کے ذریعہ معلومات کی درخواست بھیجی گئی لیکن جواب نہیں ملا۔ یکم فروری 2019 کو کوریئر اور4 فروری 2019 کو ای میل کے ذریعہ یاددہانی کاپیغام بھیجا گیا لیکن اس بار بھی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ 12 فروری 2019 کو جاننے کے حق کے قانون کے تحت خیبرپختونخوا حکومت کے انفارمیشن کمیشن ک درخواست دی گئی تاکہ 2018 میں اخبار کو جاری ہونے والے اشتہارات کی تفصیلات معلوم کی جاسکیں۔ انفارمیشن کمیشن نے متعلق اتھارٹی کو جاننے کے حق کے قانون کے تحت معلومات فراہم کرنے کاحکم دیا لیکن صوبائی انفارمیشن کمیشن کی ہدایت کے باجود تفصیلات نہیں دی گئیں،اس ضمن میں 5 مارچ 2019 کو خیبرپختونخوا حکومت کے کمشنر انفارمیشن کو ایک شکایت درجہ کرائی گئی جس میں متعلقہ حکام کی جانب سے معلومات کی فراہمی پر پورا نہ اترنے کا کہا گیا۔ کمشنر نے دوبارہ متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ قانون کے تحت تفصیلات دی جایہں لیکن 3 مئی 2019 تک کوئی تفصیلات موصول نہیں ہوئیں۔
مشرق اخبار کے چیف نیوز ایڈیٹر محمد ارشاد کے ساتھ 18 فروری 2019 کو اخبار کی تاریخ اور اس کی ملکیت کے ڈھانچہ کو جاننے کیلئے انٹرویو کیا گیا تھا۔

دستاویزات

  • منصوبہ از
    Logo Freedom Network
  •  
    Reporters without borders
  • فنڈ دیئے
    BMZ