This is an automatically generated PDF version of the online resource pakistan.mom-rsf.org/en/ retrieved on 2021/05/06 at 22:11
Reporters Without Borders (RSF) & Freedom Network - all rights reserved, published under Creative Commons Attribution-NoDerivatives 4.0 International License.
Freedom Network LOGO
Reporters without borders

کاوش

کاوش اخبارپاکستان سمیت دنیا بھر میں سندھی زبان بولنے والوں کے ترجمان کے طور پر ثابت کرنے کیلئے اپنی دلیرانہ اور جارح ادارتی پالیسی کے باعث بسائو اوقات خبروں میں رہتاہے۔اخبار کو اکثراوقات قانونی مقدمات کاسامنا کرناپڑا اور سرکاری اشتہارات پر پابندی بھی لگی۔روزنامہ کاوش سندھی زبان کا انتہائی مقبول اور طاقتور میڈیا ہائوس سمجھا جاتاہے۔ یہ اخبار کاوش گروپ آف پبلی کیشنز کا مرکزی اخبار ہے، اس کے علاوہ روزنامہ کوشش اور ایوننگر شام بھی چل رہے ہیں جبکہ خبروں، حالات حاضرہ، انٹرٹینمنٹ اورموسیقی کے تین ٹی وی چینلز بھی ہیں۔ کاوش اخبار سندھ میں تمام اخبارات کی مشترکہ سرکولیشن سے بھی زیادہ فروخت ہوتاہے۔

اہم حقائق

سامعین کا حصہ

5%

ملکیت کی نوعیت

نجی

جغرافیائی کوریج

صوبہ سندھ

رابطے کی نوعیت

زرتعاون(25 روپے)

معلومات عوامی سطح پر دستیاب

ملکیت کے بارے میں معلومات باآسانی دیگر ذرائع جیسے کہ پبلک رجسٹریاں

2 ♥

میڈیا کمپنیاں/گروپس

کاوش گروپ

ملکیت

ملکیت کا ڈھانچہ

کاوش پبلی کیشنزپرائیویٹ لمیٹڈ کاوش اخبار کو چلاتاہے۔ تین بھائی اور بڑے بھائی کا بیٹامساوی حصص رکھتے ہیں۔ محمد اسلم قاضی، محمد اطہرقاضی، محمد علی قاضی اور محمد ایوب قاضی کمپنی کے برابر 25، 25 فیصد حصص کے مالک ہیں۔

ووٹ کا حق

ڈیٹا موجود نہیں

انفرادی مالک

میڈیا کمپنیاں/گروپس
حقائق

عام معلومات

قیام کا سال

1990

بانی کے جڑے ہوئے مفادات

محمد اکرم

پرنٹ میڈیا کیلئے حکومت کے قواعدوضوابط کے مطابق محمد اکرم اخبار کا مالک ہے جیسا کہ ڈیکلیئریشن یا لائسنس ان کے نام سے ہی جاری کیاگیا۔ وہ ادارے کے شعبہ مالیات کے سربراہ کے طورپرخدمات سرانجام دے رہے ہیں، ایسا غیرقانونی تو نہیں ہے، اخبار کے اصلی مالک قاضی فیملی ہے لیکن سربراہی ایک پراکسی مالک کی جانب سے کی گئی،محمد اکرم 1990 سے اس گروپ کے ساتھ منسلک ہیں اور روزنامہ کوشش اور روزنامہ کاوش کے مالیاتی اور انتظامی شعبوں کیلئے خدمات دے رہے ہیں، یہ دونوں شعبے کاوش گروپ آف پبلی کیشنزکاحصہ ہیں۔ ان کے چچا مشتاق سہیل بھی کراچی میں گروپ کے صدر دفترمیں کئی سال تک ملازم رہ چکے ہیں، قاضی فیملی ان پر بھرپوراعتماد کرتی ہے۔
محمد علی قاضی

http://نے 1990 میں اکیس برس کی عمر میں اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز اپنے بڑے بھائی اسلم کے ساتھ کیا اور حیدرآبادسے روزنامہ کاوش کااجرا کیا۔ 2002 میں کاوش گروپ نے تاریخ میں پہلی مرتبہ سندھی زبان میں سیٹلائٹ ٹی وی چینل KTN کا آغازکیا اورعلی نے اس کے چیف ایگزی

سی ای او کے جڑے ہوئے مفادات

محمد اطہر قاضی

نے قاضی فیملی کی تیسری نسل کی نمائندگی کی اور میڈیا بزنس کاحصہ بن گئے۔ وہ تین بھائیوں میں محمد ایوب قاضی اورمحمد علی قاضی سے سب سے بڑے بھائی محمد اسلم قاضی کے صاحبزادے ہیں، اطہر قاضی نے کراچی میں ممتاز ادارے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن سے انویسٹمنٹ بینکنگ میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے کاوش گروپ آف پبلی کیشنز سے مارکیٹنگ ڈائریکٹر کی حیثیت سے اپنا کیریئر شروع کیا۔ اپنے والد کی ریٹائرمنٹ کے بعد کاوش گروپ آف پبلی کیشنزکے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھال لیں، اس میں پورے گروپ کی پرنٹ پبلی کیشنز اور ٹی وی چینلز شامل تھے۔اس کا خاندان سندھ کی بااثر سیاسی فیملی حیدرآبادکے قاضیوں سے تعلق رکھتا ہے۔

مدیر اعلی کے جڑے ہوئے مفادات

محمد ایوب قاضی

چیف ایگزیکٹوآفیسر کے بھائی ہیں،کاوش اخبارکے ایڈیٹرانچیف کے عہدے سے پہلے ایوب قاضی اس کے مینجنگ ایڈیٹر تھے اور سرکولیشن اور مارکیٹنگ کے شعبوں سمیت گروپ کے انتظامی امور کودیکھتے ہیں۔انہوں نے 1990 میں روزنامہ کاوش اخبارکے اجراکے ساتھ ہی صحافتی سفرشروع کیا۔

دیگر اہم لوگوں کے جڑے ہوئے مفادات

محمد اسلم قاضی

کاوش گروپ آف پبلی کیشنز کے سابق چیف ایگزیکٹوآفیسر ہیں، وہ تین بھائیوں میں سب سے بڑے اورگروپ کے بانی رکن ہیں۔ انہوں نے اپنے والد کی دوسری شادی کے بعد اپنا اخبارشروع کرنے کیلئے اپنے بچوں کوترغیب دلائی۔ اس سے پیلے ان کے بھائی اکبرقاضی اورعابدقاضی ایک کامیاب اخبار عبرت چلا رہے تھے۔ 2018 میں اسلم قاضی کواخباری مالکان کی نمائندہ جماعت آل پاکستان نیوزپیپرزسوسائٹی(اے پی این ایس) کی ایگزیکٹوکمیٹی کا2018-19 کے عرصہ کیلئے رکن منتخب کرلیاگیا۔ معاشیات میں ماسٹرڈگری رکھنے والے اسلم قاضی اس سے پہلے روزنامہ سندھ نیوز اور انگریزی اخبار سندھ آبزرور کے ایڈیٹر بھی رہ چکے تھے۔انہوں نے 1990 میں روزنامہ کاوش اور اس کے تھوڑے عرصہ بعد KTN ٹی وی چینل کاآغٖاز کیا۔

رابطہ

پوسٹ بکس نمبر43، حیدرآباد،سندھ

ٹیلی فون : 022-2784822, 2780027, 2108307, 2729703

ای میل:kawish12@gmail.com

ویب سائٹ: www.thekawish.com/beta/

معاشی معلومات

آمدن (ملین ڈالرز میں)

USD 3.86 Million / PKR 374 Million (2012-13)

آپریٹنگ منافع (ملین ڈالرز میں)

USD 0.0008) Million / PKR 0.08 Million (2012-13)

اشتہارات (مجموعی فنڈنگ کا فیصدی)

ڈیٹا موجود نہیں

مارکیٹ میں حصہ

ڈیٹا موجود نہیں

مزید معلومات

شہ سرخیاں

سندھ کی سیاست میں نئی لہریں2012 ،،، ڈان، 21 فروری 2019 کر رسائی

میٹا ڈیٹا

14 جنوری 2019 کو ایک کوریئر کمپنی اور ای میل کے ذریعہ میڈیا ادارے کو معلومات کیلئے ایک درخواست بھیجی گئی لیکن میڈیا ادارے کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیاگیا، میڈیا ادارے نے ایک نجی کمپنی کے ذریعہ ایم کیو ایم پاکستان کی درکار معلومات کی درخواست قبول کرنے سے انکار کردیا اور اسے واپس لوٹا دیا، یکم فروری 2019 کو ایک کوریئر کمپنی اور ای میل کے ذریعہ یاد دہانی کا پیغام بھجوایاگیا،لیکن اخبار نے پھر کوئی جواب نہیں دیا اوراس یاددہانی پیغام کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسے ایم اوایم پاکستان کی ٹیم کو واپس بھجوا دیا،حکومت سندھ کے محکمہ اطلاعات نے 12 فروری 2019 کو جاننے کے حق کی ایک درخواست جمع کرائی تاکہ 2018 کے دوران اخبارات کو جاری کئے گئے اشتہارات کی تفصیلات معلوم کی جاسکیں۔ سندھ انفارمیشن کمشنرکی جانب سے 15 روز میں جواب نہیں دیاگیا جبکہ قانون میں ڈیٹا فراہم کرنے یا معلومات تک رسائی نہ دینے کی وجہ بیان کرنے کیلئے 15 دن کا عرصہ مقررہے۔پندرہ روز کے بعد محکمہ اطلاعات سندھ کے خلاف 15 مارچ 2019 کو انفارمیشن کمشنر کومطلوبہ ڈیٹا فراہم نہ کرنے پرایک شکایت جمع کرائی گئی لیکن کمشنر نے آج تک کوئی جواب نہیں دیا۔قاضی فیملی سے متعلق مختصر آن لائن معلومات دستیاب ہیں۔
اس تحقیقی کام کیلئے جن ذرائع سے انٹرویوکیاگیاانہوں نے گروپ کے مالکان کے ساتھ کسی بھی تنازع سے بچنے کیلئے شناخت ظاہر کرنے کی خواہش نہیں کی۔حیدرآباد میں مقیم ایک سینئر صحافی علی حسن کے ساتھ اخبار کی ادارتی پالیسی اورمالکان کے خاندانی پس منظر سے متعلق انٹرویوکیاگیا۔گروپ کی تاریخ، ادارتی پالیسی اور مالکان کی فیملی کے پس منظر سے متعلق حیدرآبادمیں مقیم ایک نامعلوم سندھی صحافی سے انٹرویوکیاگیا۔

ذرائع میڈیا پروفائل

ای پیپر پاہنجی اخبار 2019، رسائی 21 فروری 2019

  • منصوبہ از
    Logo Freedom Network
  •  
    Reporters without borders
  • فنڈ دیئے
    BMZ