This is an automatically generated PDF version of the online resource pakistan.mom-rsf.org/en/ retrieved on 2021/09/16 at 16:20
Reporters Without Borders (RSF) & Freedom Network - all rights reserved, published under Creative Commons Attribution-NoDerivatives 4.0 International License.
Freedom Network LOGO
Reporters without borders

روزنامہ جنگ

روزنامہ جنگ پہلی دفعہ جنگ عظیم دوئیم کے دوران شائع ہوا، پہلے یہ ہفت روزہ شروع ہوا جس میں زیادہ تر برطانوی انڈیا میں رہنے والے مسلمانوں کے درمیان سیاسی آگاہی پیدا کی جاتی تھی۔

1947 میں قیام پاکستان کے بعد ایک نوجوان میر خلیل الرحمن نئے ملک کے ابتدائی دارالحکومت کراچی میں اولین اخبار شائع کرنے والوں میں سے ایک بن گئے۔

پاکستان میں اپنی اشاعت کے آغاز سے ہی روزنامہ جنگ ایک قدامت پسند، مصلحت پسند اور ماکیٹ کو جانچنے والا اخباررہاہے، میر خلیل الرحمن نے رنگین اشاعت، نمایاں لے آئوٹ اور نئی ٹیکنالوجیز کو متعارف کرایا اور وہ سیاسی تنازعات میں براہ راست الجھنے سے گریزاں رہتے تھے،

ان کے بیٹے میر شکیل الرحمن 1980 سے پاکستانی خبروں کی صنعت میں تبدیلی کی اصل طاقت ہیں، انہوں نے بیرون ملک لندن سمیت کراچی میں ہیڈکوارٹرز سے باہر شہروں میں بھی روزنامہ جنگ کے کئی ایڈیشن شروع کئے بلکہ انہوں نے دوسرے کئی نیوز پلیٹ فارمز کاآغازبھی کیا، اس کے ساتھ انہوں نے مختلف سیاسی تنازعات میں بھی کود پڑے۔

1990 کے آخر میں اس وقت کی سویلین حکومت کے وزیراعظم نوازشریف کے ساتھ ان کی حکومت کی تنقیدی کوریج پرشدید تنازع کھڑا ہوگیا اور روزنامہ جنگ اور اس کی دیگر مطبوعات پر پابندیاں عائد کردی گئیں۔میر شکیل الرحمن اور ملیحہ لودھی جو اس وقت دی نیوز انٹرنیشنل کی ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کررہی تھیں اور جنگ گروپ کے بعض دوسرے ارکان اورعملے کونوازشریف کو ناپسند خبریں اور نظریات شائع کرنے پرغداری کے الزامات کاسامنا کرناپڑا۔

2007 میں میر شکیل الرحمن کا حکومت کے ساتھ ایک اور ٹاکرا پڑا، اس دفعہ صدر پرویز مشرف کی سربراہی میں فوجی حکومت کی مخالفت کی گئی، نتیجتاً میر فیملی کی ملکیت نیوز چینل جیو نیوز کی نشریات مختصر عرصہ کیلئے روک دی گئیں اور ایک ٹاک شو کے سینئر میزبان حامد میر کے پروگرام پر پابندی عائد کردی گئی۔

2008 میں مشرف کے اقتدار سے علیحدہ ہونے کے بعد سے میر شکیل الرحمن اور ان کے گروپ کونوازشریف کی پارٹی مسلم لیگ ن کی حمایت حاصل ہوگئی اور نوازشریف کے حق میں خبریں چلانے پر اعلیٰ عدلیہ کی ناراضگی مول لی۔ روزنامہ جنگ اور اس سے منسلک میڈیا کے اداروں نے بھی سیاست میں فوج کی مداخلت کی کھل کر تنقید کی۔ وزیراعظم عمران خان اور ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کو بھی میر شکیل الرحمن اوران کی فیملی کی ملکیت نیوز اداروں کی جانب سے اکثر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

فوج کے حوالے سے ان کی محازآرائی پر مبنی سوچ نے عوام میں اس وقت زیادہ سر اٹھایا جب انہوں نے فوج کی سربراہی میں خفیہ ادارے کے سربراہ پر اپریل 2016 میں چینل کے بہترین ٹاک شو کے میزبان حامد میر پر فائرنگ کرکے انہیں زخمی کرنے کاالزام لگا دیا، جس کے نتیجہ میں گروپ کے اخبار کی سرکولیشن متعدد بار روکی گئی اور جیو ٹی وی نیٹ ورک کی نشریات غائب کردی گئیں اوراسے آخری نمبروں پر دھکیل دیاگیا۔

 

اہم حقائق

سامعین کا حصہ

27%

ملکیت کی نوعیت

نجی

جغرافیائی کوریج

قومی

رابطے کی نوعیت

زرتعاون (20 روپے)

معلومات عوامی سطح پر دستیاب

ملکیت کے بارے میں معلومات باآسانی دیگر ذرائع جیسے کہ پبلک رجسٹریاں

2 ♥

میڈیا کمپنیاں/گروپس

جنگ گروپ

ملکیت

ملکیت کا ڈھانچہ

جنگ گروپ انڈیپنڈنٹ نیوزپیپرز کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ کی ملکیت ہے، کمپنی کے 1975 کے حصص مالکان کی فہرست میں میر جاوید رحمن، میر شکیل الرحمن اور ایس جرارحسین شامل ہیں جو برابر 33.33%حصص کے مالک ہیں، ملکیت کے تازہ ترین ڈھانچہ میں قرضہ لینے والوں کو بھی شامل کیا گیا ہے اورملکیت ڈھانچہ کی بنیاد اسی پرہے۔
جنگ پبلی کیشنز پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی میں سب سے زیادہ قرض لینے والا ہے جو 88%دستاویز مقروضیت کا حامل ہے، اس کے بعد میر شکیل الرحمن (6.90%)، ان کے بھائی میر جاوید رحمن (5%)اور جنگ گروپ میں بزنس ایگزیکٹو منصور رحمن (0.10%)دستاویز مقروضیت رکھتے ہیں۔
جنگ پبلی کیشنز پرائیویٹ لمیٹڈ میں سب سے زیادہ 62.8% حصص کی ملکیت کمبائنڈ انویسٹمنٹس لمیٹڈ کی ہے، باقی حصص میں جنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کے حصص (29.27%)، میر جاوید رحمن کے (1.36%)اور میر شکیل الرحمن کے (6.08%)ہیں۔ کمبائنڈ انویسٹمنٹس لمیٹڈ کی جانب سے میر جاوید رحمن 24.34%حصص اور میر شکیل الرحمن 75.35%حصص کے مالک ہیں۔ جنگ پرائیویٹ لمیٹڈ دو بھائیوں کی ملکیت ہے، ان میں سے ایک کے حصص کی تعداد 223,452ہے۔
میر شکیل الرحمن اور میر جاوید رحمن انڈیپنڈنٹ نیوزپیپرز کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ کے کم از کم 99.90%حصص کا کنٹرول رکھتے ہیں۔

ووٹ کا حق

ڈیٹا موجود نہیں ہے

انفرادی مالک

میڈیا کمپنیاں/گروپس
حقائق

عام معلومات

قیام کا سال

1939

بانی کے جڑے ہوئے مفادات

میر خلیل الرحمن

لاہور کے شمال میں تقریباً 50 کلومیٹر دور واقع شہر گوجرانوالہ میں 1927 میں پیدا ہوئے لیکن ان کے والدین جنگ عظیم دوئم کے آغاز پر دلی منتقل ہوگئے۔ انہوں نے دلی میں ایک ہفت روزہ گردشی اخبار جنگ شروع کیا جبکہ آپ اس وقت طاالب علم تھے۔ وہ تمام اخباری مواد خوداکٹھا کرتے اور بعدمیں اسے شائع کرکے خود ہی بیچنے نکل جاتے۔ 1947 میں پاکستان وجود میں آگیا تو دلی کے مسلمان انہیں پہلے ہی ایک پبلشر اور ایڈیٹر کے طور پر جانتے تھے جنہوں نے برطانوی انڈیا میں مسلمانوں کیلئے ایک نئی ریاست کے قیام میں حمایت کی۔
پاکستان کے وجود میں آنے کے فوری بعد میر خلیل الرحمن نے کراچی سے جنگ کی روزنامہ کے طور پر اشاعت کا آغاز کردیا اوردلی اور اردگرد سے ہجرت کرکے نئے ملک میں مقیم ہونے والوں میں قارئین کی توجہ حاصل کرلی۔
1962 میں میر خلیل الرحمن نے کراچی سے شام کاانگریزی اخبار ڈیلی نیوز شروع کیا۔ 1967 میں انہوں نے اخبارجہان کی بنیاد رکھی جو پاکستان میں اردو زبان میں حالات حاضرہ کا سب سے زیادہ بکنے والا ہفت روزہ جریدہ بن گیاہے۔وہ حالات حاظرہ کے ہفت روزہ انگریزی جریدہ MAG کے بھی بانی ہیں جو 1980 کے اوائل میں کراچی شائع ہوا۔
آج ان کے بیٹے میر شکیل الرحمن اور میر جاوید رحمن جنگ گروپ کے تحت ان پبلی کیشنز، چند ٹی وی چینلز اور بعض نیوز ویب سائٹس کو چلارہے ہیں۔

سی ای او کے جڑے ہوئے مفادات

میر شکیل الرحمن

جنگ گروپ کے بانی میر خلیل الرحمن کے دوصاحبزادوں میں چھوٹے بیٹے ہیں جو عمومی طور پر ایم ایس آر کے نام سے جانے جاتے ہیں، انہوں نے اپنے والد کے اخبار کی اشاعت کے کاروبار کو گزشتہ چالیس برسوں میں اربوں روہے کے میڈیا ادارے میں تبدیل کردیا ہے اور پاکستان کا سب سے بڑا اور انتہائی میڈیا ٹائیکون بن رہاہے۔
میر شکیل الرحمن جنہوں نے اپنا زیادہ تر وقت دبئی میں گزارا، پاکستان میں آن لائن نیوز کا پلیٹ فارم مہیا کرنے والے اولین افراد میں شمارہوتے ہیں۔1996 میں روزنامہ جنگ ملک کا پہلا اخبار بن گیاجس کا اپنا انٹرنیٹ ایڈیشن تھا،اس وقت سے یہ ایڈیشن اردو زبان میں مکمل نیوز ویب سائٹ میں تبدیل کردیا گیا اورخبروں کے آن لائن ذرائع میں ملک کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی ویب سائٹ بن گئی ہے۔اس وقت میر شکیل الرحمن اور ان کی فیملی کی ملکیت تمام نیوز پلیٹ فارم کی اپنی ویب سائٹس ہیںجن میں سے ہر ایک ویب سائٹ کے بڑی مقدار میں قارئین وناظرین ہیں۔
انہوں نے ٹیلی وژن کی صنعت میں بھی اسی اولین جذبے کامظاہرہ کیا اورکئی ٹی وی چینلز قائم کئے۔ان میں پاکستان کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے اردو چینل جیو نیوز اور ملک کے نوجوانوں کے واحد چینل آگ (جو 2002 میں اپنے آغاز کے دو برس بعد ہی بند کرنا پڑا) شامل ہیں۔
میر شکیل الرحمن کی خبروں کی صنعت میں پہلی آؐمد اس وقت ہوئی جب وہ 1970 کے آخر میں اپنی تعلیم مکمل کرکے وطن لوٹے، تو انہیں شام کے انگریزی اخبار ڈیلی نیوز کو چلانا تھا۔انہوں نے اس کے انتظامی امور سنبھالنے کے بعد جلد ہی ڈیلی نیوز کو کراچی کا شام کا سب سے بڑا فروخت ہونے والا اخبار بنادیا۔
وہ اخباری مالکان کی نمائندہ تنظیم آؒل پاکستان نیوزپیپرزسوسائٹی کے اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں،انہوں نے پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن (ُُPBA) کی تشکیل میں کلیدی کرداراداکیا جو پاکستان میں ٹیلی وژن چینلز اور ریڈیو اسٹیشن چلانے والے اداروں اور افراد کی نمائندہ تنظیم ہے۔
ان کے والد سیاست میں براہ راست ملوث ہونے سے بہت زیادہ کتراتے تھے لیکن میر شکیل الرحمن نے سیاستدانوں، سیاسی جماعتوں حتیٰ کہ حکومتوں سے ٹکر لینے سے ہچکچاہٹ کا کبھی مظاہرہ نہیں کیا،1990 کے آخر میں اس وقت کی سویلین حکومت کے وزیراعظم نوازشریف کے ساتھ ان کی حکومت کی تنقیدی کوریج پرشدید تنازع ہوگیا اور روزنامہ جنگ اور اس کی دیگر مطبوعات پر پابندیاں عائد کردی گئیں۔میر شکیل الرحمن اور ملیحہ لودھی جو اس وقت دی نیوز انٹرنیشنل کی ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کررہی تھیں اور جنگ گروپ کے بعض دوسرے ارکان اورعملے کونوازشریف کو ناپسند خبریں اور نظریات شائع کرنے پرغداری کے الزامات کاسامنا کرناپڑا۔
2007 میں میر شکیل الرحمن کا حکومت کے ساتھ ایک اور ٹاکرا پڑا، اس دفعہ صدر پرویز مشرف کی سربراہی میں فوجی حکومت کی مخالفت کی گئی، نتیجتاً میر فیملی کی ملکیت نیوز چینل جیو نیوز کی نشریات مختصر عرصہ کیلئے روک دی گئیں اور ایک ٹاک شو کے سینئر میزبان حامد میر کے پروگرام پر پابندی عائد کردی گئی۔
2008 میں مشرف کے اقتدار سے علیحدہ ہونے کے بعد سے میر شکیل الرحمن اور ان کے گروپ کونوازشریف کی پارٹی مسلم لیگ ن کی حمایت حاصل ہوگئی اور نوازشریف کے حق میں خبریں چلانے پر اعلیٰ عدلیہ کی ناراضگی مول لی۔ روزنامہ جنگ اور اس سے منسلک میڈیا کے اداروں نے بھی سیاست میں فوج کی مداخلت کی کھل کر تنقید کی، یہ کڑی تنقید اس وقت زیادہ ہوگئی جب جیو نیوز نے فوج کی سربراہی میں خفیہ ادارے کے سربراہ پر اپریل 2016 میں چینل کے بہترین ٹاک شو کے میزبان حامد میر پر فائرنگ کرکے انہیں زخمی کرنے کاالزام لگا دیا، جس کے نتیجہ میں گروپ کے اخبار کی سرکولیشن متعدد بار روکی گئی اور اس کے ٹی وی چینل کی نشریات غائب کردی گئیں اور اسے آخری نمبروں پر دھکیل دیاگیا۔

مدیر اعلی کے جڑے ہوئے مفادات

میر شکیل الرحمن

جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف ہیں۔ (مزید تفصیل کیلئے اوپر دیکھئے)

دیگر اہم لوگوں کے جڑے ہوئے مفادات

میر جاوید رحمن

میر شکیل الرحمن کے بڑے بھائی ہیں جو جنگ گروپ کے چیئرمین کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں، وہ میڈیا گروپ کے اداروں کو نہ تو روزانہ کی بنیاد پردیکھتے ہیں اور نہ ہی مالیاتی امور کو ڈیل کرتے ہیں، ان کی اولاد نہیں ہے اور میر شکیل الرحمن کی اولاد میں سے ایک بچہ لے پالک ہے۔

رابطہ

پرنٹنگ ہائوس

اسماعیل ابراہیم چندری گڑھ روڈ کراچی

ٹیلی فون: +92-(0)21-32637111-19

فیکس:+92(0)21-32636066

ویب سائٹ:jang.com.pk

 

معاشی معلومات

آمدن (ملین ڈالرز میں)

54.36 ملین ڈالر /4.28 ارب روپے2008-09))

آپریٹنگ منافع (ملین ڈالرز میں)

4.03 ملین ڈالر/ 318 ملین روپے( 2008-09) )

اشتہارات (مجموعی فنڈنگ کا فیصدی)

0.039 ملین ڈالر/ 3.1 ارب روپے (72.43%) (2008-09)

مارکیٹ میں حصہ

ڈیٹا موجود نہیں

مزید معلومات

میٹا ڈیٹا

میڈیاگروپ کو 14 جنوری 2019 کو ایک کوریئر کمپنی اور ای میل کے ذریعہ معلومات کی درخواست بھیجی گئی۔ یکم فروری 2019 کو کوریئر اور 4 فروری 2019 کو ای میل کے ذریعہ یاددہانی درخواست کے باوجود جواب نہیں دیا گیا۔روزنامہ جنگ کی ملکیت کے ڈھانچہ اور اس کی مالی حیثیت کے حوالے سے آن لائن معلومات کی تصدیق نہیں ہوئی۔
میڈیا گروپ کی اس پروفائل کیلئے مالی معلومات ایک رپورٹ سے اخذ کی گئی ہیں جو انڈیپنڈنٹ نیوزپیپرز کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ نے مالی سال 2018-19 سے متلعق سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کو جمع کرائی تھیں۔
ذکر کی گئی آمدن اور منافع صرف روزنامہ جنگ کیلئے نہیں بلکہ اس میں انڈیپنڈنٹ نیوزپیپرز کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ کی بعض دوسری اخباری مطبوعات بھی شامل ہیں۔

  • منصوبہ از
    Logo Freedom Network
  •  
    Reporters without borders
  • فنڈ دیئے
    BMZ