This is an automatically generated PDF version of the online resource pakistan.mom-rsf.org/en/ retrieved on 2021/09/25 at 22:11
Reporters Without Borders (RSF) & Freedom Network - all rights reserved, published under Creative Commons Attribution-NoDerivatives 4.0 International License.
Freedom Network LOGO
Reporters without borders

بول نیوز

بول نیوز کی نشریات شروع کرنے سے پہلے شعیب احمد شیخ نے پاکستان پرائیویٹ میڈیا کے منظرنامے میں انقلاب لانے کا وعدہ کیا، انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ نہ صرف صحافیوں کو تنخواہیں دیں گے جو کسی پبلشر یا براڈ کاسٹر نے نہیں دیا ہوگا بلکہ اس نے صحافیوں کو مراعات دینے کااعلان بھی کیا جس میں قیمتی گاڑیاں، کام کے دوران فائیوسٹار کھانا، آفس جم، پرائیویٹ کلب ممبرشپ، ادائیگی پر بیرون ملک چھٹیاں شامل ہیں اوراس سے بڑھ کر ادارے میں مالی مفاد جس کیلئے وہ کام کریں گے۔۔

ان کا مقصد سیٹھ کلچر کی میڈیا انڈسٹری سے چھٹکارہ تھا جہاں ایک امیر آدمی یا سیٹھ اوراس کی فیملی کے پاس فیصلہ سازی کے تمام اختیارات ہوں اورصحافی صرف اس کی خوشنودی کیلئے کام کریں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کے میڈیا ادارے مکمل طور پر عامل صحافی چلائیں گے، وہ اسے بہتر بنائیں کیونکہ انہیں اپنی ماہانہ تنخواہ سے زیادہ مالی فائدہ ملے گا۔

ان وعدوں کے ساتھ جب شعیب شیخ نے متعدد الیکٹرانک، ڈیجیٹل اور پرنٹ میڈیا ادارے شروع کرنا کا اعلان کیا تو وہ بڑی تعداد میں نامی گرامی صحافیوں کی توجہ حاصل کرنے کے قابل ہوگیا، اس کی بدقسمتی کہ اس کے میڈیا اداروں میں سے صرف دو ہی بول نیوز اور بول انٹرٹینمنٹ ہی اپنی نشریات شروع کرسکے، باقی بہتر کارکردگی نہ دکھانے کے بعدیا تو بند ہوگئے یا ان کی نشریات ہی شروع نہ کی گئیں۔

شعیب شیخ نے یہ بھی وعدہ کیا تھاکہ ان کے ٹی وہ چینلز نہ تو اشتہارات پر چلیں گے اور نہ ناظرین کی ریٹنگ کے چکر میں پڑیں گے بلکہ خبروں اور پروگراموں میں ساری توجہ تجارتی فوائد حاصل کرنے کی بجائے مفاد عامہ پر دی جائے لیکن جب اس کی ٹی وی چینلز مکمل طور پر چلنا شروع ہوگئی تو 2015 میں نیویارک ٹائمز کی ایک اسٹوری میں کہاگیا کہ ان کی رقم ایگزیکٹ سے آرہی ہے جو اربوں ڈالر مالیت کا جعلی ڈگریوں کا عالمی نیٹ ورک چلا رہاہے،اس کے بعد بول نوز سے صحافیوں کی بڑی تعداد چھور کر چلی گئی۔

نیوزچینل اپنے اعلیٰ اخلاقی اور انتہائی قوم پرستانہ رجحان کی وجہ سے جانا جاتا ہے، اس کا ایک شدید مذہبی اور قدامت پسند نکتہ نظر ہے اور بعض دوسرے ٹی وی چینلز کے مالکان اور سینئر سٹاف کیخلاف سر عام مہم بھی چلائی گئی، انہیں غیرملکی ایجنٹس اور ریاست دشمن عناصرکہا گیا، اس نے اسی طرح اسلام اور پاکستان مخالف انسانی حقوق کے کارکنوں اور بعض سیاستدانوں کیخلاف بھی کھلے حملے کئے۔

اس طرح کے حملے اکثر عامر لیاقت حسین کی جانب سے کئے گئے اور اس شکوک وشبہات کو ختم کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان کے خفیہ ادارے اپنے ناقدین کو کنارے لگانے کیلئے بول نیوز کو مبینہ طور پرخفیہ فنڈ دے رہی ہیں۔ تاہم کئی ایسے مواقع پرقانون نافذ کرنے والے اداروں نے بول نیوز کواخلاقیات اور صحافتی حدود سے گرا ہواپایا، ٹی وی چینل اور اس کے بعض شوز گزشتہ پانچ سال سے زائدعرصہ سے بند پڑے ہیں۔

اہم حقائق

سامعین کا حصہ

5%

ملکیت کی نوعیت

نجی

جغرافیائی کوریج

بین الاقوامی

رابطے کی نوعیت

مفت مواد

معلومات عوامی سطح پر دستیاب

ملکیت کے بارے میں معلومات باآسانی دیگر ذرائع جیسے کہ پبلک رجسٹریاں

2 ♥

میڈیا کمپنیاں/گروپس

لبیک پرائیویٹ لمیٹڈ

ملکیت

ملکیت کا ڈھانچہ

بول نیوز لبیک پرائیویٹ لمیٹڈ کی ملکیت ہے، لبیک فیملی کے حصص تین فیملی یونٹس میں تقسیم ہیں جن میں شعیب احمد شیخ کے 25 فیصد حصص اور عائشہ شعیب شیخ کے بھی 25 فیصد حصص ہیں جو ایک جیسا پتہ اور پہلا نام رکھتے ہیں۔وقاص عتیق اور ثروت بشیر کے بھی 25، 25 فیصد حصص ہیں ، 70 لاکھ حصص میں سے صدیق اسماعیل اور سلمان کا ایک ایک شیئر ہے۔

ووٹ کا حق

معلومات دستیاب نہیں

انفرادی مالک

گروپ / انفرادی مالک

وقاص عتیق

وقاص عتیق سے متعلق زیادہ معلومات نہیں سوائے اس بات کے کہ وہ اور کمپنی کے ایک حصص مالک ثروت بشیر کا گھر کا پتہ ایک ہی ہے۔

25%
میڈیا کمپنیاں/گروپس
حقائق

عام معلومات

قیام کا سال

2013

بانی کے جڑے ہوئے مفادات

شعیب احمد شیخ

بول نیوزچینل کی بنیاد رکھی جہاں ملازمین کیلئے پرکشش پیکج، اور ایلکٹرانک میڈیا میں اہم حریفوں سے مقابلے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کااستعمال کیاگیا، بول نیوز چینل میں شامل ہونے والے بڑے ٹی وی چینلز کے بڑوں ناموں کو پرکشش پیکج دیئے گئے، چالیس سال سے زائد عمر کے شعیب شیخ کراچی میں مقیم
کاروباری شخصیت ہیں جنہوں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کمپنی ایگزیکٹ 1990 میں قائم کی ، ان کے کاروبار کی اٹھان کو ایک بڑی پاکستانی کامیاب اسٹری کے طور پر اس وقت دیکھا گیا جب فینلی سرمایہ کے بغیر ایک نوجوان نے اپنی کاروباری مہارتوں اور سخت محنت کے بل بوتے پر اسے ایک بڑا ادارہ بنا دیا۔
2000 کے آخر میں ایگزیکٹ پاکستان میں سب سے بڑا سافٹ ویئر ایکسپورٹرزبن گیا جس نے ہر سال غیرملکی زرمبادلہ میں لاکھوں ڈالرز کمائے۔ یہ کمپنی اپنے عملے کو انتہائی پرکشش تنخواہیں اور انہیں اعلیٰ مراعات دینے کے حوالے سے بھی مشہور تھا جن میں بیش قیمت آرام دہ گاڑیاں اور چھٹیاں بیرون ملک گزارنے کے پیکج شامل تھے۔
2015 میں نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی رپورٹ میں الزام لگایا گیا کہ ایگزیکٹ کئی برسوں سے اربوں ڈالر مالیت کے جعلی تعلیمی ڈگریوں کے دھندے میں ملوث ہے، اس وقت سے پاکستان میں شعیب شیخ کیخلاف دھوکہ دہی، منی لانڈرنگ اور سائبر قوانین کے متعدد مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ ایگزیکٹ امریکہ میں ببھی جعلی ڈگریوں کی فروخت اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کے متعدد کیسز بھگت رہا ہے۔
2015 میں شعیب احمد شیخ کو اس کی کمپنی کے کئی اعلیٰ عہدیداروں کے ہمراہ گرفتار کرلیا گیا اور مختلف عدالتوں میں کیس چلائے گئے، جولائی 2018 میں ایک ٹرائل کورٹ نے منی لانڈرنگ کے الزامات میں انہیں بیس سال جیل قید کی سزا سنائی لیکن اسلام آباد ہائیکورٹ نے سزا معطل کردی اور اس کی سزا کیخلاف اپیل کی حتمی سماعت ہونے تک ضمات پر اس کی رہائی کا حکم دے دیا۔

سی ای او کے جڑے ہوئے مفادات

شعیب احمد شیخ

بول نیوزچینل نیوز کے بانی اور چیف ایگزیکٹو ہیں۔ (مزید تفصیلات کیلئے اوپر دیکھیئے)

مدیر اعلی کے جڑے ہوئے مفادات

نذٰیر لغاری

ایک سینئر صحافی ہیں جنہوں نے 2015 میں بول نیوز میں شمولیت اختیار کی ، ان کی پہلی نوکری 1981 میں لاہور میں قائم اردو اخبار نوائے وقت میں تھی، وہ 1985 میں اردو اخبار روزنامہ جنگ کاحصہ بن گئے اور1993 تک اس کے مختلف شعبوں میں کام کیا لیکن پھر نذیر لغاری اور ایک سینئر صحافی نے اپنا اردو اخبار روزنامہ پبلک قائم کیا، یہ اخبار نہ چل سکا اور انہوں نے روزنامہ جنگ میں دوبارہ نوکوی شروع کردی۔1994 میں وہ جنگ میڈیا گروپ کی جانب سے شائع ہونے والے شام کے اخبار روزنامہ انجمن کے ایڈٹر بن گئے،2012 میں انہیں روزنامہ جنگ کا ایڈیٹر بنادیا گیا۔

دیگر اہم لوگوں کے جڑے ہوئے مفادات

فیصل عزیزخان

انٹرنیشنل ریلیشنز میں گریجویٹ ہیں،انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز 2002 میں جنگ نیوز سے بطور صحافی کیاجب انہوں نے 2014 میں بول نیوز میں شمولیت اختیار کی تو وہ جیونیوز چینل کے کراچی میں بیوروچیف تھے، وہ ایم کیو ایم کی قیادت کے انتہائی قریب جانے جاتے تھے، نذیر لغاری کی طرح وہ بھی ان چند صحافیوں میں شامل ہیں جو اب بھی بول نیوز کے ساتھ کام کررہے ہیں جبکہ باقی جعلی ڈگری کیس کی وجہ سے چینل کو چھوڑ گئے۔

رابطہ

بولستان، بول روڈ

کورنگی کریک کنٹونمنٹ کراچی

ٹیلی فون: +92(0)21-37170265

ویب سائٹ:www.bolnews.com

 

 

معاشی معلومات

آمدن (ملین ڈالرز میں)

معلومات دستیاب نہیں

آپریٹنگ منافع (ملین ڈالرز میں)

معلومات دستیاب نہیں

اشتہارات (مجموعی فنڈنگ کا فیصدی)

معلومات دستیاب نہیں

مارکیٹ میں حصہ

معلومات دستیاب نہیں

مزید معلومات

میٹا ڈیٹا

میڈیاگروپ کو15 جنوری 2019 کو ایک کوریئر کمپنی اور اس سے اگلے دن 16 جنوری 2019 کوای میل کے ذریعہ معلومات کی درخواست بھیجی گئی لیکن جواب نہیں دیاگیا۔یکم فروری 2019 کو کوریئر اور 4 فروری 2019 کو ای میل کے ذریعہ یاددہانی درخواست کے باوجود پھرجواب نہیں دیا گیا۔کمپنی کی ملکیت کے ڈھانچہ اور اس کی مالی حیثیت کے حوالے سے آن لائن معلومات کی تصدیق نہیں ہوئی۔
ایم او ایم پاکستان نے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان(SECP) سے لبیک پرائیویٹ لمیٹڈ سے متعلق دستایزات حاصل کیں جو بول نیوز چینل کی مالک ہے لیکن اس میں سالانہ مالی رپورٹ شامل نہیں ہے۔ بول نیوز نیٹ ورک اور اس کے مالک شعیب احمد شیخ سے متعلق آن لائن پر کافی معلومات پڑی ہیں۔

ذرائع میڈیا پروفائل

  • منصوبہ از
    Logo Freedom Network
  •  
    Reporters without borders
  • فنڈ دیئے
    BMZ