This is an automatically generated PDF version of the online resource pakistan.mom-rsf.org/en/ retrieved on 2020/12/05 at 05:48
Reporters Without Borders (RSF) & Freedom Network - all rights reserved, published under Creative Commons Attribution-NoDerivatives 4.0 International License.
Freedom Network LOGO
Reporters without borders

Dawn.com

Dawn.com نے روزنامہ ڈان کے ڈیجیٹل ایڈیشن کے طور پراپنا سفر شروع کیا، ابتدائی طور پر اس پر مواد فارمیٹ کی شکل میں تھا جس میں اخبارکو مختلف نیوز پیجز اور سیکشنز کے درمیان کسی فرق کے بغیر سادہ انداز میں پیش کیاگیا جبکہ مواد کو تاریخ یا عنوان سے تلاش نہیں کیا جاسکتاتھا۔

یہ فارمیٹ تقریباً ایک عشرہ تک جاری رہا لیکن 2007 میں ڈان کے اس وقت کے ایڈیٹر عباس ناصر نے ویب سائٹ صحیح طرح سے آن لائن پلیٹ فارم بنانے کے مقصد کے تحت اس کی تشکیل نو کیلئے بی بی سی کے تربیت یافتہ صحافیوں کی خدمات حاصل کیں، اس ٹیم میں مصدق سانول بھی شامل تھے جنہیں ویب سائٹ کا ایڈیٹر مقرر کیاگیا، اس وقت سے ڈان ڈاٹ کام خبروں کا سب سے قابل اعتماد ذریعہ بن گیا ہے جس کے پاکستان اور دنیا بھر سے لاکھوں قاری ہیں۔

ڈان ڈاٹ کام پذیرائی بھی حاصل کی جبکہ تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا، اس کے فالوررز نے عمومی طور پر انسانی حقوق خصوصاً خواتین اور بچوں کے حقوق کی مسلسل کوریج پراسے بے حد سراہا۔ویب سائٹ کے متعدد ملٹی میڈیا پراجیکٹس کا دنیا بھر میں اعتراف کیاگیاجن میں 2016 میں پشاور کے ایک سکول پردہشتگردحملہ جہاں 140 کے قریب بچوں کو شہید کردیاگیا۔

دوسری جانب اس کی سیاسی اور علاقائی تعلقات کی کوریج کو پاکستان میں مخصوص سیاستدانوں کے حوالے سے انتہائی نرم گوشہ رکھنے اور بھارت کے ساتھ امن سے متعلق بہت زیادہ دیکھا جاتاہے۔بعض اوقات ویب سائٹ کو بہت ایلیٹ اور پاکستان میں زمینی حقائق سے بے خبرجانا گیا ۔

 

اہم حقائق

سامعین کا حصہ

4.96%

ملکیت کی نوعیت

نجی

جغرافیائی کوریج

بین الاقوامی

رابطے کی نوعیت

مفت مواد

معلومات عوامی سطح پر دستیاب

ملکیت کے بارے میں معلومات باآسانی دیگر ذرائع جیسے کہ پبلک رجسٹریاں

2 ♥

میڈیا کمپنیاں/گروپس

ڈان میڈیا گروپ

ملکیت

ملکیت کا ڈھانچہ

روزنامہ ڈان پاکستان ہیرالڈ پبلی کیشنز پرائیویٹ لمیٹڈ کی ملکیت ہے جودو دوسری فرموں ہارون سنز پرائیویٹ لمیٹڈ اور پیرا مڈ میڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ کی ملکیت ہے۔
ہارون سنز پرائیویٹ لمیٹڈ پاکستان ہیرالڈ پبلی کیشنز پرائیویٹ لمیٹڈ میں 4.14 فیصد جبکہ دوسری فرم پیرا مڈ میڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ85.71 فیصد حصص کی مالک ہے، پاکستان ہیرالڈ پبلی کیشنز پرائیویٹ لمیٹڈ میں باقی زیادہ تر حصص امبر ہارون سہگل کے 0.10فیصد، ان کی بیٹیوں زینا سہگل راجی کے4.51 فیصد اورنا آفرین سہگل لاکھانی کے 5.53فیصد حصص ہیں۔
ہارون سنز پرائیویٹ لمیٹڈ کے 9 حصص، ناز آفرین سہگل لاکھانی کے 82.28 فیصد، امبر ہارون سہگل کے 9.20فیصد، زینا سہگل راجی کے5 فیصد،اصغر ٹھیکیدار کے 2 فیصد، ضیا محمود علی کے 1 فیصد، حمید ہارون کے 0.40 فیصد،جبکہ باقی 0.12 حصص شبیر گانگ، غلام مرزا اورعبدالعزیز میں برارکے حصہ مالک ہوں گے۔
پیرامڈ میڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ کے حصص میں امبر ہارون سہگل کی ملکیت55.10 فیصد اور ان کی بیٹی زینا سہگل راجی کے 44.90 فیصد حصص ہیں، ہیرالڈ پبلی کیشنز کو زیادہ تر امبر ہارون سہگل کنٹرول کرتی ہے،اوپر ذکر کی گئی دو کمپنیوں کے 47.70 فیصد، زینا راجی کے 43.20 فیصد اور ناز آفرین سہگل لاکھانی کے فیصد حصص ہیں۔

ووٹ کا حق

معلومات دستیاب نہیں

انفرادی مالک

میڈیا کمپنیاں/گروپس
حقائق

عام معلومات

قیام کا سال

1997

بانی کے جڑے ہوئے مفادات

حمید ہارون

1970 کے آخر میں روزنامہ ڈان کی ملکیت پاکستان ہیرالڈ پبلی کیشنز پرائیویٹ لمیٹڈکے ڈپٹی چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کاآغازکیا ،انہوں نے 1990 کے آخر میں کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں۔انہوں نے ملک کے اخباری مالکان کی نمائندہ تنظیم آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (APNS) کے صدر کی حیثیت سے کئی برس کام کیا۔
گزشتہ چالیس برسوں کے دوران حمید ہارون نے شام کے اخبارڈیلی سٹار، ایڈورٹائزنگ میگزین Aurora اور ایک ٹیکنالوجی میگزین Spider (جو2015 میں بندہوگیا) سمیت ،ئی مطبوعات شروع کیں۔ انہنوں نے 1990 کے آغاز میں کمپنی کے اولین میگزین ہیرالڈ کو ایک سوسائٹی جریدے سے حالات حاضرہ کے جریدے میں تبدیل کردیا، اس وقت سے یہ میگزین ملک میں خبروں، آرا اور تجزیوں کا انتہائی مستند ذریعہ بن گیاہے۔
فنون لور ثقافت کے حصہ کے طور پر حمید ہارون نے کراچی میں کئی تاریخی عمارتوں کی بحالی میں کلیدی کرداراداکیا، انہوں نے سٹی ایف ایم 89 ریڈیو اسٹیشن پر میوزک شو کی میزبانی بھی کی اور دنیا کے معروف پینٹر صادقین اور عالمی سطح پر مشہور شاعر فیض احمد فیض سمیت دیگر شعرا پر مشتمل کتابوں کے ایڈیشنز کو مرتب کرکے اسے شائع کیا۔
حمید ہارون کے دادا حاجی سر عبداللہ حسین ہارون برطانوی دور کے انڈیا میں ایک ممتازتاجر اورسیاستدان تھے، وہ کراچی بلدیہ کے دومرتبہ رکن(1913-16 اور1921-34) ، انڈین نیشنل کانگریس کے رکن (1917-19) اور مسلم لیگ سندھ کے صدر (1920-30) رہے۔
حمید ہارون کے چچا محمود عبداللہ ہارون نے پاکستان ہیرالڈ پبلی کیشنز پرائیویٹ لمیٹڈ کی بنیاد رکھی جو ڈیلی ڈان اور دوسری کئی مطبوعات کی مالک ہے۔ محمود عبداللہ ہارون (1954-55) کراچی کے میئر،(1978-84) وفاقی وزیرداخلہ،(June-December 1988) وفاقی وزیردفاع ،( (1990-1993 اور 1994-95)) میں گورنرسندھ اور انگریزی زبان میں ڈیلی خلیج ٹائمز کے شریک بانی بھی رہے جو 1978 کو دبئی سے شروع کیا گیا۔
طویل عرصہ تک ایڈیٹر رہنے والے الطاف حسین کے پاکستان کے پہلے فوجی آمر جنرل ایوب خان کی کابینہ کے وزیر بننے کے بعد حمید ہارون کے ایک اور چچا یوسف عبداللہ ہارون نے 1966 میں ڈان کے چیف ایڈیٹر کی حیثیت سے مختصر عرصہ کیلئے کام کیا، یوسف عبداللہ ہارون برطانوی انڈیا کی آخری مرکزی قانون ساز اسمبلی کے رکن، جناح کے ایڈ ڈی کیمپ، مغربی پاکستان کے گورنر(March–September 1969) اور سندھ کے وزیراعلیٰ (1949-50) بھی رہے۔
حمید ہارون کے والد سعید عبداللہ ہارون نے 1950 کے وسط میں ایسٹرن فلم اسٹوڈیو قائم کیا، وہ 1959 میں شروع کئے گئے ایک ماہانہ میگزین ایسٹرن فلم کے بانی ایڈیٹر بھی تھے جو پاکستان کے سینما کی سرگرمیاں کور کرتا تھا۔ حمید ہارون کے والد اور چچا یوسف عبداللہ ہارون، محمود عبداللہ ہارون اور سعید عبداللہ ہارون 1964 میں موٹر آئل کے درآمد کنندہ اور تقسیم کار تھے جنہوں نے ہارون آئل کی بنیاد رکھی تھی۔
حمید ہارون کی چچا زاد بہن امبر ہارون سہگل ڈان میڈیا گروپ کی چیئرپرسن ہیں جس میں پاکستان ہیرالڈ پبلی کیشنز پرائیویٹ لمیٹڈ اور دوسری کئی کمپنیاں شامل ہیں۔
حمید ہارون کے بڑے بھائی حسین ہارون پاکستان کے وزیرخارجہ (May-August 2018) ، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب (2008-12) اور سندھ اسمبلی کے اسپیکر (1985–86) رہ چکے ہیں۔

سی ای او کے جڑے ہوئے مفادات

حمید ہارون

ڈان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں، مزید تفصیل کیلئے اوپر دیکھیئے۔

مدیر اعلی کے جڑے ہوئے مفادات

جہانزیب حق

وہ 2010 سے صحافی اور تحقیق کار ہیں، انہوں نے پاکستان کی سیاسی اور سماجی توجیہات پر تبصرہ کرنے والی آن لائن مزاحیہ سیریز Jay’s Toons بھی بنائی۔ ڈان میڈیا گروپ میں شمولیت سے پہلے انہوں نے انگریزی روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون کی ویب سائٹ www.tribune.com.pkبنانے میں کردار ادا کیا ، جو اپنے اجرا کے فوری بعد آن لائن خبروں کاپاکستان کا سب سے بڑا ذریعہ بن گئی ۔
انہوں نے 2015 میں Dawn.com کے پہلے ایڈیٹر مصدق سانول کی وفات کے بعد اس کا چارج سنبھالا اور ویب سائٹ کے مواد اور اس کے لے آئوٹ ڈیزائن دونوں کو تبدیل کردیا، جس سے یہ ویب سائٹ زیادہ یوزر دوست بن گئی اور قارئین کے پڑھنے اور دیکھنے کیلئے وسیع قسم کا مواد فراہم کیا۔
جہانزیب حق نے Dawn.com کے مواد کو سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز کے ذریعہ پھیلانے پر توجہ دی جس نے وایب سائٹ کو ملک کاآں لائن خبروں کی رسائی والا سب سے بڑا ذریعہ بنا دیا، انہوں نے ویب سائٹ کو ملٹی میڈیا پلیٹ فارم بھی بنا دیاجہاں لکھے ہوئے مواد کے ساتھ آڈیو ویڈیو مواد بھی فراہم کیا جارہاہے۔
ڈان میڈیا گروپ کے چیف ڈیجیٹل اسٹریٹیجسٹ کی حیثیت سے انہوں نے ڈان نیوز ٹیلی وژن، اڑوڑا میگزین اور سٹی FM 89 ریڈیو اسٹیشن کی ویب سائٹس بناتے ہوئے گروپ کے اآن لائن مواد کے دائر کو وسیع کیا۔ جہانزیب حق تسلسل کے ساتھ انٹرنیٹ فریڈم کے حوالے سے لکھتے ہیں اور سائبر سپیس کے حوالے سے معلومات اور اظہار کے حق اور انسانی حقوق کی صورتحال پر تحقیق کرتے ہیں۔

دیگر اہم لوگوں کے جڑے ہوئے مفادات

مصدق سانول

ڈان ڈاٹ کام کے پہلے ایڈیٹر بننے سے پہلے، ویب سائٹ روزنامہ ڈان کا ڈیجیٹل ایڈیشن تھا،انہوں نے ڈان انٹرنیٹ ایڈیشن سے ڈان ڈاٹ کام کی جانب سفر کی نگرانی کی۔
انہوں نے روزنامہ ڈان سے الگ اپنا نیوز روم قائم کیا جو دن رات تازہ ترین خبریں شائع کرتا اور جب ضرورت پڑی اس کے مواد کا اپنا پیج لے آئوٹ ڈیزائن کیا، اس کے موادکے نظام کیلئے پرعزم رہے اور اسے ڈان میڈیا گروپ کی دوسری مطبوعات اور پلیٹ فارم جیسے ہیرالڈ میگزین اور ڈان نیوز ٹیلی وژن سے منسلک کردیا۔
مصڈق سانول 1962 میں پیدا ہوئے، نیشنل کالج آف آرٹس لاہور سے پڑا لیکن کبھی گریجویشن نہ کرسکے،انہیں سیاسی سرگرمیون کی وجہ سے کالج چھوڑنا پڑا۔ انہوں نے جنرل ضیا الحق کی فوجی حکومت جنہوں نے زیادہ تر اسی کی دہائی میں حکومت کی، کے خلاف طلبہ احتجاج میں بھرپور حصہ لیا، بائیں بازو کے نظریات رکھنے کی وجہ سے دائیں بازو کی طلبہ تنظیم اسلامی جمیعت طلبہ نے ان پر حملہ کردیا۔
1980 کے آخرمیں مصدق سانول کراچی منتقل ہوگئے جہاں انہوں نے ایک اشتہاری کمپنی میں شمولیت اختیار کرنے سے پہلے کئی عجیب و غریب نوکریاں کیں، وہ ایک گلوکار، تھیٹر اداکار،ڈرامہ نگار اور شاعر بھی تھے، انہوں نے کراچی کے ثقافتی منظر نامے میں اپنی ممتاز جگہ بنانے کیلئے اپنی تمام صلاحیتوں کو استعمال کیا۔
1990 کے آخرمیں مصدق سانول بی بی سی کے ساتھ کام کرنے کیلئے لندن گئے اور 2007 میں صرف ڈان ڈاٹ کام کو دوبارہ جوائن کرنے کیلئے وطن لوٹ آئے۔ وہ 2015 میں گردے کے سرطان کے باعث انتقال کرگئے۔

رابطہ

ہارون ہائوس،

ڈاکٹر ضیا الدین احمد روڈ، کراچی

ٹیلی فون: +92(0)-21-111-444-777

فیکس: +92(0)-21-35637278

ای میل: jahanzaib.haque@dawn.com

ویب سائٹ:www.dawn.com

 

معاشی معلومات

آمدن (ملین ڈالرز میں)

2 کروڑ 80 لاکھ ڈالر/ 3 ارب روپے

آپریٹنگ منافع (ملین ڈالرز میں)

0.36 ملین ڈالر/ 3 کروڑ 80 لاکھ روپے

اشتہارات (مجموعی فنڈنگ کا فیصدی)

2 کروڑ 20 لاکھ ڈالر/ 2 ارب 33 کروڑ روپے (78.57%)

مارکیٹ میں حصہ

معلومات دستیاب نہیں

مزید معلومات

میٹا ڈیٹا

ڈان کو 15 جنوری 2019 کو ایک کیریئر کمپنی اور ای میل کے ذریعہ معلومات کی درخواست بھیجی گئی،یکم فروری 2019 اور 4 فروری 2019 کو یاددہانی کے باوجود جواب نہیں دیاگیا لیکن مختصر معلومات فراہم کردی گئیں، اس کی مالیاتی اور انتظامی معلومات آن لائن دستیاب نہیں ہے۔
اس میڈیا ادارے کی پروفائل میں استعمال کی گئی مالیاتی معلومات مالی سال 2017-18 سے متعلق ایک رپورٹ سے حاصل کی گئی جو پاکستان ہیرالڈ پبلی کیشنز پرائیویٹ لمیٹڈ نے ایس ای سی پی کو جمع کرائی۔
اوپر ذکر کی گئی آمدن اور منافع صرف ڈیلی ڈان کیلئے نہیں بلکہ پورے پاکستان ہیرالڈ پبلی کیشنز ہرائیویٹ لمیٹڈ کااحاطہ کرتاہے۔

ذرائع میڈیا پروفائل

  • منصوبہ از
    Logo Freedom Network
  •  
    Reporters without borders
  • فنڈ دیئے
    BMZ